قیامت کے دن  عزت واکرام سے سرفراز ہونے والے (2)

قیامت کے دن  عزت واکرام سے سرفراز ہونے والے

 اور ذلت واہانت سے دوچار ہونے والے لوگ (۲)

پہلا خطبہ:

الحمدللهالمتفردبالجلالوالبقاء،والعظمةوالكبرياء،نَحمَدهعلىنِعمهالجِسام،وأعظمهاعلينانعمةالإسلام،وأشهدأنْلاإلهإلااللهوحدهلاشريك،لهملكفعدلوأحكم،وأرسلالرُّسلوعلَّم،وأشهدأنمحمدًاعبداللهورسوله،بلَّغالرسالةوأدىالأمانة،ونصحالأمة،وجاهدفياللهحقجهاده،صلىاللهوسلموباركعليه،وعلىآلهوأصحابهوأتباعهإلىيومالدين،وسلمتسليمًاكثيرًا.

حمد وثنا کے بعد!

میں آپ کو اور اپنے آپ کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے اور اپنے اعمال پر نظر رکھنے کی وصیت کرتاہوں،  ہمارے جو اعمال اچھے ہیں، ہمیں انہیں کثرت سے انجام دینا چاہئے اور اللہ سے قبولیت کی دعا کرنی چاہئے، اورہمارے جو اعمال برے ہیں، ان سے ہمیں توبہ کرنا چاہئے اور اللہ سے مغفرت کی دعا کرنی چاہئے، کیوں کہ ہم اور آپ ابھی آخرت کے لیے عمل کرنے کی دنیا میں ہیں،  اللہ جل شانہ کا ارشاد ہے:﴿ مَنْكَانَيُرِيدُالْعَاجِلَةَعَجَّلْنَالَهُفِيهَامَانَشَاءُلِمَنْنُرِيدُثُمَّجَعَلْنَالَهُجَهَنَّمَيَصْلَاهَامَذْمُومًامَدْحُورًا * وَمَنْأَرَادَالْآخِرَةَوَسَعَىلَهَاسَعْيَهَاوَهُوَمُؤْمِنٌفَأُولَئِكَكَانَسَعْيُهُمْمَشْكُورًا * كُلًّانُمِدُّهَؤُلَاءِوَهَؤُلَاءِمِنْعَطَاءِرَبِّكَوَمَاكَانَعَطَاءُرَبِّكَمَحْظُورًا * انْظُرْكَيْفَفَضَّلْنَابَعْضَهُمْعَلَىبَعْضٍوَلَلْآخِرَةُأَكْبَرُدَرَجَاتٍوَأَكْبَرُتَفْضِيلًا ﴾ [الإسراء: 18 – 21].

ترجمہ: جس کا اراده صرف اس جلدی والی دنیا (فوری فائده) کا ہی ہو اسے ہم یہاں جس قدر جس کے لئے چاہیں سردست دیتے ہیںبالآخر اس کے لئے ہم جہنم مقرر کردیتے ہیں جہاں وه برے حالوں دھتکارا ہوا داخل ہوگا *اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی* ہر ایک کو ہم بہم پہنچائے جاتے ہیں انہیں بھی اور ا نہیں بھی تیرے پروردگار کے انعامات میں سے۔ تیرے پروردگار کی بخشش رکی ہوئی نہیں ہے * دیکھ لے کہ ان میں ایک کو ایک پر ہم نے کس طرح فضیلت دے رکھی ہے اور آخرت تو درجوں میں اور بھی بڑھ کر ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے۔

ایمانی بھائیو! شریعت الہی پر قائم ودائم رہنے کے سلسلے میں دنیا کے اندر لوگوں کے حالات باہم متفاوت ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی ان کے حالات متفاوت اور درجات مختلف ہوں گے:﴿ أَمْنَجْعَلُالَّذِينَآمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحَاتِكَالْمُفْسِدِينَفِيالْأَرْضِأَمْنَجْعَلُالْمُتَّقِينَكَالْفُجَّار ﴾ [ص: 28].

ترجمہ: کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمانﻻئے اور نیک عمل کیے ان کے برابر کر دیں گے جو (ہمیشہ) زمین میں فساد مچاتے رہے، یا پرہیزگاروں کو بدکاروں جیسا کردیں گے؟

معزز حضرات! میدان محشر میں دونوں فریق کے جو حالات ہوں گے، ان کی ہلکی سی جھلک پیش کرکے آئیے ہم اپنے دلوں میں (ایمان وعمل کی ) تحریک پیدا کریں:

جن اعمال کی بدولت قیامت کے دن بندہ نجات سے سرفراز ہوگا ان میں  مسلمانوں کی ضروریات کی تکمیل میں کوشاں  رہنا، حاجت مندوں کی مدد کرنا اور تنگ دستوں کے ساتھ آسانی کرنا بھی شامل ہیں،آپ علیہ الصلاۃ والسلام کی حدیث ہے: (جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے)۔صحیح مسلم

بخاری  اور مسلم نے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (ایک تاجر شخص لوگوں سے قرض کا لین دین کرتا تھا۔ جب وہ دیکھتا کہ کوئی تنگ دست آدمی ہے تو اپنے اہل کاروں سے کہتا کہ قرض معاف کردو، شایداللہ ہمیں معاف کردے تو اللہ تعالیٰ نے اس سے درگزر کا معاملہ فرمایا)۔

قیامت کے دن جو لوگ عزت واکرام  سے سرفراز ہوں گے ان میں وہ لوگ بھی ہوں گے جو اپنے فیصلے میں عدل پر قائم رہتے ہیں،اپنے اہل وعیال اور ماتحتوں کے ساتھ انصاف کرتے ہیں، ایسے لوگ قیامت کے دن بلند وبالا مقام پر ہوں گے، رحمن کی دائیں جانب  نور کے منبروں پر جلوہ افروز ہوں گے، اور  اللہ تعالی کے دونوں ہاتھ دائیں  ہیں، صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمرو بن العاص  سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (عدل کرنے والے اللہ کے ہاں رحمٰن عزوجل کی دائیں جانب نور کے منبروں پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں۔ یہ وہی لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں، اپنے اہل و عیال اور جن کے یہ ذمہ دار ہیں ان کے معاملے میں عدل کرتے ہیں)۔

قیامت کے روز جو لوگ عزت واکرام سے سرفراز ہوں گے ان میں شہداء بھی ہوں گے، چنانچہ شہید کو اس دن کوئی خوف نہ ہوگا جس دن عام  لوگ خوف کے عالم میں ہوں گے، سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں مقدام بن معدی کرب سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کے نزدیک شہید کے لیے چھ انعامات ہیں:

(۱) خون کاپہلا قطرہ گرنے کے ساتھ ہی اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

(۲) وہ جنت میں اپنی جگہ دیکھ لیتا ہے۔

(۳) عذاب قبرسے محفوظ رہتاہے۔

(۴) فزع اکبر (عظیم گھبراہٹ والے دن) سے مامون رہے گا۔

(۵) اس کے سرپر عزت کا تاج رکھا جائے گاجس کا ایکیاقوت دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہترہے۔

(۶) بہتر (۷۲) جنتی حوروں سے اس کی شادی کی جائے گی، اور اس کے ستر رشتہ داروں کے سلسلے میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی) ۔ اس حدیث کو البانی نے صحیح کہا ہے۔

قیامت کے دن شہید کو جس عزت واکرام سے نوازا جائے گا اس میں یہ بھی ہوگا کہ اللہ تعالی اس حال میں اسے قبر سے اٹھائے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ  رہا ہوگا اور اس کی خوشبو کستوری کی  ہوگی، مسلم نے ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (کوئی شخص اللہ کی راہ میں زخمی نہیں کیا گیا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کی راہ میں کسے زخمی کیا گیا مگر وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے زخم سے خون امڈ رہا ہو گا، رنگ خون  کا ہو گا اور خوشبو کستوری کی)۔

ابن حجررقم طراز ہیں: "اس حال میں اسے اٹھائے جانے کی حکمت یہ ہے کہ اس کے ساتھ (یہ کیفیت)  ایک گواہ کی شکل میں  ہوگی جو اس کی فضیلت وبرتری اور طاعت الہی کی خاطر اپنی جان قربان کردینے کی گواہی دے رہی ہوگی”۔

مجھے اور آپ کو اللہ تعالی کتاب وسنت  اور ان میں موجود آیت وحکمت سے فائدہ پہنچائے۔آپ سب اللہ سے مغفرت طلب کیجئے ، یقیناً وہ خوب معاف کرنے والا ہے۔

دوسرا خطبہ:

الحمدللهربالعالمين،الرحمنالرحيم،مالكيومالدين،وصلىاللهوسلمعلىصاحبالحوضالمورودوالمقامالمحمود،وعلىآلهوصحبه.

حمد وصلاۃ کے بعد:

معزز حضرات!  میں آپ کو اور اپنے آپ کو اطاعت کے کام کرنے، محرمات سے گریزاں رہنے اور ازسر نو توبہ کرتے رہنے کی وصیت کرتاہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: (لوگو! اللہ کی طرف توبہ کیا کرو کیونکہ میں اللہ سے  ایک دن میں سو بار توبہ کرتا ہوں)۔صحیح مسلم

میرے ایمانی بھائیو! دینا میں بندوں کے اعمال متفاوت اور مختلف ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی ان کے حالات اور درجات متفاوت ہوں گے، جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے:﴿ أَمْحَسِبَالَّذِينَاجْتَرَحُواالسَّيِّئَاتِأَنْنَجْعَلَهُمْكَالَّذِينَآمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحَاتِسَوَاءًمَحْيَاهُمْوَمَمَاتُهُمْسَاءَمَايَحْكُمُونَ ﴾ [الجاثية: 21].

ترجمہ:کیا ان لوگوں کا جو برے کام کرتے ہیںیہ گمان ہے کہ ہم انہیں ان لوگوں جیسا کردیں گے جو ایمانﻻئے اور نیک کام کیے کہ ان کا مرنا جینایکساں ہوجائے، برا ہے وه فیصلہ جو وه کررہے ہیں۔

ہم نے خطبہ اولی میں ان خوش نصیبوں کے بعض حالات سماعت کیے جنہیں قیامت کے دن عزت واکرام سے سرفراز کیا جائے گا، آئیے اب ان لوگوں کے حالات پر روشنی ڈالتے ہیں جنہیں حساب وکتاب کے دن ذلت واہانت سے دوچار کیا جائے گا۔

اس دن جن لوگوں کو ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں یہ وعید آئی ہے کہ اللہ تعالی ان سے نہ ہم کلام ہوگا اور نہ کو پاک وصاف کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، ان میں وہ پادری اور یہودی  راہب بھی شامل ہوں گے جو اللہ کی نازل کردہ کتابوں کو چھپاتے ہیں   اور وہ علماء بھی جو حاکم کو خوش کرنے کے لیے یا دنیاوی غرض وغایت کے لیے   علم   چھپاتے ہیں،  مثال  کے طور پر یہودیوں کے علماء اور نصاری کے راہب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان صفات کو چھپاتے ہیں جن سے وہ آشنا ہیں اور آپ کی نبوت کا انکار کرتے ہیں ،جب کہ اللہ نے ان کے بارے میں یہ خبر دی کہ: ﴿ يَعْرِفُونَهُكَمَايَعْرِفُونَأَبْنَاءَهُمْ ﴾ [البقرة: 146]

ترجمہ: وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے۔

اللہ پاک نے مزید فرمایا: ﴿ إِنَّالَّذِينَيَكْتُمُونَمَاأَنْزَلَاللَّهُمِنَالْكِتَابِوَيَشْتَرُونَبِهِثَمَنًاقَلِيلًاأُولَئِكَمَايَأْكُلُونَفِيبُطُونِهِمْإِلَّاالنَّارَوَلَايُكَلِّمُهُمُاللَّهُيَوْمَالْقِيَامَةِوَلَايُزَكِّيهِمْوَلَهُمْعَذَابٌأَلِيمٌ ﴾ [البقرة: 174].

ترجمہ: بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کی اتاری ہوئی کتاب چھپاتے ہیں اور اسے تھوڑی تھوڑی سی قیمت پر بیچتے ہیں،یقین مانو کہ یہ اپنے پیٹ میں آگ بھر رہے ہیں، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، بلکہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔

یہ وعید دوسرے گناہ گاروں کو بھی شامل ہے، صحیح بخاری کی حدیث میں آیا ہے: (تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے بات نہیں کرے گا اور نہ ان کی طرف نظر رحمت ہی سے دیکھے گا: ایک وہ شخص جس نے سامان فروخت کرتے وقت قسم اٹھائی کہ اس کی قیمت مجھے ا س سے کہیں زیادہ مل رہی تھی، حالانکہ وہ اس بات میں جھوٹا تھا۔ دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد جھوٹی قسم اٹھائی تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے۔ تیسرا وہ شخص جوفالتو پانی سے لوگوں کو منع کرے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: آج کے دن میں تجھ سے اپنا فضل روک لیتا ہوں جیسا کہ تو نے اس چیز کا فضل روکا تھا جس کو تیرے ہاتھوں نے نہیں بنایا تھا)۔

معزز حضرات! اللہ کی نافرمانی ہر حال میں ایک قبیح عمل ہے، لیکن اس کی قباحت وشناعت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اسباب وعوامل کمزور ہوں ، اس کے باوجود آپ اس کا ارتکاب کریں، یہی وجہ ہے کہ عمر رسیدہ زانی کے تعلق سے، فقیر ومحتاج متکبر  کے تعلق سے، اور جھوٹے بادشاہ وحاکم کے تعلق زیادہ سخت  وعید آئی ہے، چنانچہ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے : (تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک فرمائے گااور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور  ان کے لیے دردناک عذاب ہے: بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران اور تکبر کرنے والا عیال دار محتاج)۔

یہی وعید دوسرے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنے والوں کے تعلق سے بھی آئی ہے، چنانچہ مسلم نے اپنی صحیح میں ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نہ کلام کرے گا، نہ انہیں دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ (مذکورہ) جملے ارشاد فرمائے تو حضرت ابوذ   ر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو ناکام ہو گئے اور خسارے میں رہے۔ آپ نے فرمایا:  جو شخص اپنا تہ بند (زمین پر یا اپنے ٹخنوں سے نیچے) لٹکاتا ہے، جو شخص اپنے عطیے کا احسان جتلاتا ہےاور جو شخص اپنا سامان جھوٹی قسم کھا کر بیچتا ہے )۔

ٹخنوں سے نیچے تہ بند لٹکانے پر جو وعید آئی ہے،اسے علمائے کرام نے ایسے شخص کے ساتھ خاص کیا ہے جو تکبر کے ساتھ لٹکائے، جیسا کہ ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: (اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا جو تکبر کرتے ہوئے اپنے کپڑے کو زمین پر گھسیٹ کر چلتا ہے)۔صحیح بخاری وصحیح مسلم

نووی فرماتے ہیں 🙁 یعنی ان سے اس طرح بات نہیں کرے گا جس طرح خیرو بھلائی کرنے والوں کے ساتھ اظہار رضامندی کے ساتھ بات کرے گا، بلکہ ناراضگی اور غیظ وغضب کے ساتھ  ان سے ہم کلام ہوگا، ان کی طرف نظر التفات نہیں کرے بلکہ ان سے اعراض برتے گا، کیوں کہ اس کا اپنے بندوں کی طرف نظر کرنا رحمت اور لطف وکرم کا باعث ہوگا، اور اللہ تعالی ان کو پاک نہیں فرمائے گا، یعنی : گناہوں کی غلاظت سے انہیں پاک صاف نہیں کرے گا، ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ: ان کی تعریف نہیں کرے گا)۔

اے اللہ! ہمیں اور ہمارے احباب کو قیامت کے دن فوز وفلاح اور عزت واکرام سے سرفراز ہونے والوں میں شامل فرما۔

صلى اللہ علیہ وسلم

 

از قلم:

فضیلۃ الشیخ حسام بن عبد العزیز الجبرین