مختصر سیرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ 4/4

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مختصر سیرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ

قسط نمبر : 3

از قلم : مقصود الحسن فيضي

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

پچھلی قسط کے آخری سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خلاصہ یہ کہ شیخ رحمہ اللہ امام اہل السنہ امام احمد بن حنبل کے عقیدے پر تھے اور امام احمد رحمہ اللہ کا عقیدہ سلف کے عقیدہ کے عین مطابق تھا۔ ہمارے ہند و پاک کے لوگ کئی جگہوں میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کے اس عقیدہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:

۱- استوی علی العرش

سلف کی اقتداء میں شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی عرش پر مستوی اور قرار پکڑے ہوئے ہے۔ اس کی ذات عرش پر ہے البتہ وہ اپنے علم کے ذریعہ پوری دنیا میں موجود ہے، جبکہ ہمارے یہاں کے اہل علم عام طور پر یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالی ہر جگہ موجود ہے۔

شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ اپنی کتاب الغنیۃ میں لکھتے ہیں:

چاہئے کہ اللہ کے لئے استواء یعنی عرش پر قرار پکڑنے، جلوہ افروز ہونے کی صفت کو بغیر تاویل کے مانا جائے اس طرح کہ وہ اپنی ذات کے لحاظ سے عرش پر مستوی ہے اس کا معنی ہماری طرح بیٹھنا اور اس سے چمٹے رہنا نہیں ہے جیسا کہ مجسمہ اور کرامیہ لیتے ہیں اور نہ ہی اس کا معنی علو و رفعت ہے جیسا کہ اشعریہ کہتے ہیں اور نہ ہی اس کا معنی تسلط و غلبہ کے ہے جیساکہ معتزلہ کہتے ہیں کیونکہ نہ تو شریعت مین ایسی کوئی بات موجود ہے اور نہ ہی صحابہ اور اہل حدیث اور سلف تابعین سے کچھ مروی ہے بلکہ ان سے یہی منقول ہے کہ اس اپنے اطلاق ہی پر باقی رکھا جائے۔ [الغنیہ ۵۶/۱]۔

شیخ رحمہ اللہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ قرآن و حدیث میں یہ تو آیا ہے کہ اللہ تعالی عرش پر مستوی ہے لیکن وہ کس طرح مستوی ہے نہ تو یہ قرآن و حدیث میں ہے اور نہ ہی صحابہ و تابعین کے یہاں کچھ ملتا ہے۔ اس لئے ہم یہی کہیں گے کہ وہ عرش پرمستوی ہے وہ اپنی ذات کے لحاظ سے عرش پر ہے البتہ اس کی کیفیت کیا ہے اس بارے میں ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں۔

الفتح الربانی میں کہتے ہیں کہ :

ہمارا رب عرش پر مستوی ہے اور تمام ملک کو اپنے قبضہ میں کئے ہوئے ہے اس کا علم تمام اشیاء کو گھیرے میں لئے ہے اس معنی میں قرآن مجید کی سات آیتیں دلالت کرتی ہیں تیری جہالت اور گھمنڈ سے میرا اسے مٹادینا ممکن نہیں ہے۔ [الفتح الربانی صفحہ ۱۴۵، مجلس ۳۵]۔

ان اقتباسات اور اس قسم کے درزنوں اقتباسات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت شیخ کے نزدیک اللہ تبارک و تعالی اپنی ذات کے لحاظ سے تو عرش پر قرار پذیر ہے لیکن اپنے علم کے ذریعہ ہر چیز کو محیط ہے وہ ہے تو عرش پر لیکن سمندر کی تہہ میں جو مچھلی ہے اس کا علم اسے اچھی طرح ہے۔ ایک طرف شیخ کے اس عقیدہ کو دیکھیں اور دوسری طرف ان کو’غوث پاک’ کہنے والوں کا عقیدہ دیکھیں کہ اللہ تعالی کو ہر جگہ موجود ہے، کیا دونوں میں کوئی مناسبت ہے؟

۲- اللہ تعالی کی صفات

اہل سنت و جماعت کا عقیدہ رہا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کی عظیم صفتیں ہیں اور اس کی تمام صفتیں اعلی و عمدہ ہیں جیسے ہاتھ، چہرہ، قدم، ہنسنا، غصہ ہونا، سننا، دیکھنا، اترنا وغیرہ۔ یعنی اللہ تبارک و تعالی کا ہاتھ ہے جیسا کہ وہ قرآن مجید میں فرماتا ہے : ید اللہ فوق ایدیھم ۔ اس کا چہرہ بھی ہے ، جیسے فرمایا : فاینما تولوا فثم وجہ اللہ، لیکن اس ہاتھ اور چہرے کی کیفیت کیا ہے اسے اللہ تعالی کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا۔ ہم یہ تو مانتے ہیں کہ اللہ تعالی کے ہاتھ ہیں اور حقیقی ہاتھ ہیں ہم یہ نہیں کہتے کہ ہاتھ سے مراد قدرت ہے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا ہاتھ کسی مخلوق کے ہاتھ کے مشابہ ہے کیونکہ اس نے ہمیں یہ تو بتلایا ہے کہ اس کے ہاتھ ہیں، چہرہ ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کا ہاتھ کیسا ہے لہذا اس کے ہاتھ کی کیفیت و مثال کے بارے میں ہم خاموشی اختیار کرتے ہیں، اسی پر دوسری تمام صفات کو قیاس کرنا چاہئے ۔ اس کا ارشاد ہے: لیس کمثلہ شیء وھو السمیع العلیم۔ اسکے مثل کوئی چیز نہیں ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔

شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کا یہی عقیدہ رہا ہے چنانچہ وہ فرماتے ہیں:

نفی کرو، پھر ثابت کرو اس طرح کہ ہر وہ صفت جو اللہ کے لائق نہ ہو اس کا انکار کرو اور جو صفات اللہ کے لائق ہوں انہیں ثابت مانو اور یہ وہی صفات ہیں جنہیں اللہ نے اپنے لئے پسند کیا ہے اور اس کے رسول نے اس کے لئے پسند کیا ہے۔ الخ ۔ [الفتح الربانی صفحہ ۸۰]۔

غنیۃ الطالبین میں لکھتے ہیں کہ [اللہ تعالی کی اسمائ و صفات میں} ہم کتاب اللہ اور سنت رسول سے تجاوز نہیں کرتے ہم آیت و حدیث پڑھتے ہیں اور جو کچھ {صفات} اسمیں بیان ہوئی ہیں ان پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی کیفیت کو اللہ کے حوالے کردیتے ہیں۔ [الغنیۃ ۵۷/۱]

الفتح الربانی میں ایک جگہ بڑے جذبات میں آکر کہتے ہیں: تمہیں شرم نہیں آتی کہ اللہ تعالی نے اپنے آپ کو جن صفات سے موصوف کرتا ہے اور اپنے لئے پسند بھی فرماتا ہےاور تم تاویل کرکے اس کا رد کردیتے ہو، کیا تمہارے لئے وہی طریقہ کافی نہیں ہے جو طریقہ صحابہ وتابعین کا تھا، ہمارا رب عرش پر ہے جیسا کہ اس نے کہا ہے، ہم بغیر کسی تاویل و تحریف اور تشبیہ کے {اسے قبول کرتے ہیں}۔ [الفتح الربانی صفحہ ۹۹، مجلس ۲۱]۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ شیخ نے الفتح الربانی میں بار بار درج ذیل آیت ذکر کی ہے خاص کر جہاں کہیں اللہ کی صفات کا ذکر آیا ہے : [لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ] {الشُّورى:11} دیکھئے علی سبیل المثال صفحہ ۳۰، ۶۴، ۸۰، ۸۸

ایمان

اہل سنت و جماعت کے نزدیک ایمان دل کے اعتقاد زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل کا نام ہے طاعت کے کام سے ایمان میں زیادتی ہوتی ہے اور گناہوں کے ارتکاب سے ایمان میں نقص واقع ہوتا ہے ، شیخ جیلانی رحمہ اللہ کا یہی عقیدہ تھا۔ چنانچہ وہ اپنی مشہور کتاب غنیۃ الطالبین میں لکھتے ہیں:

ونعتقد ان الایمان قول باللسان و معرفۃ بالجنان و عمل بالارکان۔ ۶۳/۱

ہمارا عقیدہ ہے کہ ایمان زبان کے اقرار دل کی معرفت اور اعضاء سے عمل کا نام ہے۔

اور اس کے فورا بعد لکھتے ہیں کہ :

یزید بالطاعۃ و ینقص بالعصیان

ایمان طاعت کے عمل سے بڑھتا ہے اور نافرمانی کے عمل سے گھٹتا ہے۔

شیخ کا اہل سنت و جماعت کی موافقت میں حضرت شیخ رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ

"کسی کے لئے ایسا کہنا جائز نہیں ہے کہ میں یقینی مومن ہوں بلکہ واجب ہے کہ یہ کہے میں ان شاء اللہ مومن ہوں۔ [الغنیہ ۶۳/۱]

ان اقوال سے حضرت شیخ نے اشعریہ و حنفیہ اور مرجئہ وغیرہ کی تردید کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ ایمان میں کمی و زیادتی نہیں ہوتی بلکہ ہمارا ایمان حضرت جبریل و میکائیل کے ایمان کی طرح ہے [نعوذ باللہ من ذلک]۔

بلکہ حضرت شیخ اور علمائے اہل سنت و جماعت کا عقیدہ ہے کہ مومن اپنے ایمان میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں بطور استدلال شیخ نے غنیۃ الطالبین میں کئی آیتیں نقل کی ہیں۔ جیسے

[فَأَمَّا الَّذِينَ آَمَنُوا فَزَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَهُمْ يَسْتَبْشِرُونَ] {التوبة:124}

"سو جو لوگ ایماندار ہیں اس سورت نے ان کے ایمان کو اور زیادہ کیا ہے اور وہ خوش ہورہے ہیں”

یہ آیت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ بھی ظاہر ہے کہ جس چیز میں اضافے کا امکان ہوتا ہے اس میں کمی کی بھی گنجائش ہوتی ہے ۔۔۔

پھرمزید چند آیات نقل کرنے بعد لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس، ابو ہریرہ اور ابو درداء رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایمان میں کمی و زیادتی ہوا کرتی ہے ، مگر ابو الحسن اشعری کے پیروکاروں نے ایمان کے گھٹنے سے انکار کیا ہے۔ [غنیۃ الطالبین اردو ص۱۵۳]۔

اور شیخ اس مسئلہ میں اس قدر سخت تھے کہ حنفیہ کو باطل و گمراہ فرقوں میں شمار کیا ہے ۔ دیکھئے غنیۃ الطالبین اردو ص ۲۰۴۔

اسی طرح معتزلہ اور ماتریدیہ وغیرہ کا کہنا ہے کہ کسی کو یہ کہنا جائز ہے کہ میں ان شاء اللہ مومن ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ میں حقیقت میں اور یقینا مومن ہوں۔ حالانکہ شیخ عبد القادر کی رائے یہ ہے کہ کسی مسلمان کے لئے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ میں یقینا مومن ہوں بلکہ واجب ہے کہ یوں کہے میں ان شاء اللہ مومن ہوں۔ دیکھئے الغنیہ اردو ص ۱۵۵۔ عربی ۶۳/۱

شیخ عبد القادر جیلانی اور کرامتیں

کسی نیک و صالح اور متبع سنت شخص سے اگر کوئی خارق عادت امر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہتے ہیں۔ اگر یہی چیز کسی نبی سے ظاہر ہو تو معجزہ کہتے ہیں اور اگر کسی فاسق و فاجر اور کافر و مشرک سے ظاہر ہو تو اسے استدراج کہا جاتا ہے۔

کرامت کے سلسلے میں یہ نکتہ ذہن نشین رہنا چاہئے کہ اولا تو کرامت کا ظاہر کرنا کسی ولی کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی سچا ولی اس کا دعویدار ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات کرامت کا ظہور ہوجاتا ہے اور ولی کو اس کی خبر بھی نہیں ہوتی، یہ وقت اس موضوع کو چھیڑنے کا نہیں ہے۔

ثانیا: کرامت کا ظہور ولایت کے لئے شرط نہیں ہے اور نہ ہی یہ شرط ہے کہ جس ولی سے جس قدر زیادہ کرامات کا ظہور ہو وہ اتنا ہی بڑا لی ہو بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بندہ اللہ کا بہت بڑا ولی ہو اور اس سے کسی بھی کرامت کا ظہور نہ ہو، جیسا کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین جو اللہ کے اولیاء اور دنیا کے تمام اگلے پچھلے ولیوں سے بہت اونچے مقام پر فائز تھے اس کثرت سے کرامات کا ظہور نہیں ہوا ہے جس قدر بعد کے ولیوں سے ہوا ہے۔

لیکن چونکہ بعد کے لوگوں نے ولی و کرامت سے متعلق ان اصول و ضوابط کو سامنے نہیں رکھا، یا یہ کہا جائے کہ وہ انہیں جانتے ہی نہیں ہیں لہذا بہت سے ایسے کام جو کرامت نہیں ہیں بلکہ استدراج و امتحان اور اتفاق ہیں انہیں اپنے خود ساختہ ولیوں کی کرامت شمار کرلیا۔

ثالثا : یہ امر بھی مبنی بر حقیقت ہے کہ اللہ تعالی نے شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ کو کرامتوں سے نوازا تھا بلکہ اس میں اللہ تعالی کی کوئی بہت بڑی حکمت ہی ہے کہ دوسرے ولیوں و بزرگوں کے مقابلے میں انہیں زیادہ کرامتوں سے نوازا تھا چنانچہ انکے تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ شیخ سے بارہا کرامات کا ظہور ہوا ہے ۔ چنانچہ سلطان العلماء حضرت العز بن عبد السلام رحمہ اللہ نے فرمایا: بنقل تواتر جسقدر ہم تک شیخ عبد القادر کی کرامات پہنچیں ہیں کسی اور کی نہیں پہنچی ۔ [السیر ۴۴۳/۲۰، شذرات الذہب ۲۰۰/۴، ذیل الطبقات ۲۹۲/۱]۔

مشہور حنبلی امام موفق الدین ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں جس قدر کرامات حضرت شیخ عبد القادر رحمہ اللہ کی بیان کی جاتی ہیں اسقدر کرامات کسی اور کی ہمیں سننے میں نہیں آئیں۔ [ذیل الطبقات ۲۹۲/۱، شذرات الذہب ۱۹۹/۴]۔

اسی طرح امام ذہبی اور ابن رجب رحمہہما اللہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ [السیر ۴۴۹/۲۰، ذیل الطبقات ۲۹۷/۱]۔

حتی کہ بعض لوگوں نے یہاں تک مبالغہ کیا ہے کہ شیخ کی کرامات اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں اعداد و شمار میں نہیں لایا جاسکتا۔ [شذرات الذہب ۱۹۹/۴]۔حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے ۔

شیخ کی کرامات کے سلسلے میں جہاں بہت سے لوگ حد اعتدال کو پار کر گئے ہیں وہیں کچھ لوگوں نے حضرت شیخ رحمہ اللہ کی کھلی حق تلفی کی ہے۔

چنانچہ بعض متشددین اور کم علم و کم فہم لوگوں نے تو شیخ پر دجل و فریب وغیرہ کا الزام لگایا ہے حالانکہ شیخ کی ذات دجل و فریب اور کذب بیانی وغیرہ سے ویسے ہی بری ہے جیسے حضرت یوسف علیہ السلام کے خون سے بھیڑیا بری تھا۔

اس جماعت کے برخلاف ایک دوسری جماعت نے شیخ کے بارے میں غلو سے کام لیا اور ان کی طرف بعض ایسی کرامتیں بھی منسوب کردیں ہیں جو شیخ کے مقام و مرتبہ سے مناسبت نہیں رکھتیں۔ حتی کہ اسمیں سے بعض ایسی کرامتیں ہیں جو شریعت سے کھلے طور پر ٹکراتی ہیں سچ کہا ہے امام ذہبی رحمہ اللہ نے کہ مشائخ میں جس قدر کرامات و احوال شیخ عبد القادر کے بیان کئے جاتے ہیں کسی اور کے نہیں بیان کئے جاتے ہیں لیکن یہ بات بھی حق ہے کہ ان میں سے بہت سی کرامتیں جھوٹی ہیں اور بعض کرامتوں میں تو محال چیزوں کا ذکر ہے۔ [السیر ۲۵۰/۲۰]۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت شیخ کے تذکرہ اور کرامات سے متعلق وہ کتاب جو ابو الحسن الشطنوفی المصری نے لکھی ہے اس پر علماء نے سخت نکیر کی ہے حتی کہ بعض علماء نے اس کتاب کی بنیاد پر خود شطنوفی کو متہم اور جھوٹا قرار دیا ہے۔ [دیکھئے ذیل الطبقات ۲۹۳/۱، الدرر الکامنہ ۱۴۲/۳]۔

مثال کے طور پر دو ایک ایسی کرامتیں ملاحظہ کر لیں جسے لوگوں نے جھوٹ اور غلط شیخ کی طرف منسوب کردیا ہے۔

عمر البزار بیان کرتے ہیں کہ ایک بار میں شیخ عبد القادر کے ساتھ جامع مسجد کی طرف نکلا، دیکھا یہ کہ آج کوئی بھی شخص شیخ سے سلام نہیں کر رہا ہے ، مجھے تعجب ہوا کہ ہر جمعہ کو جب ہم نکلتے تھے تو سلام کرنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے راستہ چلنا مشکل ہوجاتا تھا ابھی میرے دل میں یہ خیالات گھوم ہی رہے تھے کہ کہ شیخ مسکراتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سلام کرنے کے لئے اس قدر لوگ ٹوٹ پڑے کہ میرے اور شیخ کے درمیان آڑ بن گئے میں نے اپنے دل میں سوچا اس سے بہتر تو وہی حالت تھی جو پہلے تھی کہ شیخ سے کوئی سلام نہیں کر رہا تھا شیخ مسکراتے ہوئے دوبارہ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے عمر تم ایسا سوچ رہے ہو؟ کیا تجھے معلوم نہیں کہ لوگوں کا دل میرے ہاتھ میں ہے جب چاہوں تو اپنی طرف پھیرلوں اور جب چاہوں اپنے سے دور کردوں۔ [بھجۃ الاسرار ۷۶]۔

۲- ابو حفص عمر الکیسانی بیان کرتے ہیں کہ شیخ عبد القادر لوگوں کے سامنے ہوا میں چلا کرتے تھے اور کہتے تھے سورج طلوع ہونے سے قبل مجھ سے سلام کرتا ہے ، کوئی بھی نیا سال آنے سے پہلے مجھ سے سلام کرتا اور مجھے یہ بتلادیتا ہے کہ سال بھر میں کیا کیا ہونے والا ہے، کوئی بھی نیا مہینہ آنے سے قبل مجھ سے سلام کرکے پورے مہینہ میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دے دیتا ہے ، اسی طرح ہفتہ آنے سے قبل مجھ سے سلام کرکے ہفتہ بھر پیش آنے والے واقعات کی خبر دے دیتا ہے اور دن آنے سے پہلے مجھ سے سلام کرتا ہے اور پورے دن میں پیش آنے والے واقعات کی مجھے اطلاع دیتا ہے۔ نیز فرماتے : میرے رب کے عزت کی قسم نیک بختوں اور بدبختوں کے نام جو لوح محفوظ میں درج ہیں میری آنکھوں کے سامنے پیش کئے جاتے ہیں میں علم الہی اور اس کے مشاہدات کے سمندر میں غوطہ لگاتا ہوں میں تم تمام لوگوں میں اللہ کی حجت اور اس کے رسول کا نائب اور وارث ہوں۔ صفحہ ۴۰

۳- اسی طرح کی ایک اور جھوٹی کرامت پڑھئے ۔

ایک مرتبہ شیخ عبد القادر جیلانی لوگوں کے سامنے بڑے ہی حضور قلب سے تقریر کر رہے تھے کہ آپ نے فرمایا: میرا یہ قدم ہر ولی کی گردن پر ہے یہ سن کر شیخ علی الھیثمی کھڑے ہوئے اور کرسی پر چڑھ کر شیخ کے قدم کو اپنی گردن پر رکھ لیا اور ان کے دامن میں داخل ہوگئے یہ دیکھ کر تمام حاضرین نے اپنی گردن جھکا دی۔ صفحہ ۳

اسی پر بس نہیں بلکہ اس مولف نے یہاں تک لکھ دیا ہے کہ جب شیخ عبد القادر نے یہ کلمات کہے تو ان کے دل میں حق تعالی کی تجلی نازل ہوئی اور مقرب فرشتوں کی ایک جماعت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک خلعت خلافت لیکر آئی اور تمام گزرے ہوئے اور آنے والے ولیوں کی موجودگی میں زندہ ولی اپنے جسموں سمیت حاضر تھے اور مردہ ولیوں کی روحیں حاضر ہوئیں سب کے سامنے خلعت خلافت پہنادیا ، اس وقت فرشتے اور رجال غیب ہوا میں صفیں باندھے کھڑے تھے حتی کہ ان سے سارا افق بھرا ہوا تھا۔ صفحہ ۹

ان تینوں کرامتوں پر کسی حاشیہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے ،کیونکہ ان کا توحید کے خلاف ہونا بالکل ظاہر ہے، ہر شخص جو معمولی علم بھی رکھتا ہے وہ ان کے کذب و دجل ہونے کے بارے میں شبہ نہیں کرسکتا، یہی وجہ ہے کہ امام ذہبی اور ابن رجب رحمہمااللہ وغیرہ نے شیخ کی طرف منسوب بہت سی کرامتوں کے جھوٹے ہونے کی صراحت کی ہے۔ [ذیل البطقات ۲۹۳/۱، السیر ۴۵۰/۲۰]۔

دیکھئے الشیخ عبد القادر جیلانی و آراؤہ الاعتقادیہ والصوفیہ صفحہ ۵۷۵ اور اس کے بعد۔

البتہ شیخ رحمہ اللہ کی جو کرامات ثابت ہیں ان سے انکار کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی عقیدہ اہل سنت و جماعت کے خلاف ہے ان میں سے بعض کرامات کا ذکر امام ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء اور حافظ ابن رجب رحمہ اللہ نے ذیل طبقات حنابلہ میں کیا ہے ۔

اب آخر میں شیخ کے محبین کے لئے ایک قادری تحفہ اور پھر شیخ رحمہ اللہ کی ایک دعا پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں۔

شیخ رحمہ اللہ چند نصیحتی کلمات کے بعد فرماتے ہیں:

توحید فرض ہے ، طلب حلال فرض ہے ، ضروری علم کا حاصل کرنا فرض ہے ، عمل میں اخلاص فرض ہے ، {شرعی} عمل پر بدلہ نہ لینا فرض ہے ، اس لئے تم فاسقوں اور منافقوں کی مجلس سے دور بھاگو ، سچے اور نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرو اگر ایک نیک صالح اور منافق کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوجائے تو رات کو اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھو اور اللہ کے حضور یہ دعا کرو، اے میرے رب اپنے نیک و صالح بندوں تک مجھے پہنچا، میری رہنمائی اس بندے تک کر جو میری رہنمائی تیری طرف کرے، جو مجھے تیرا رزق {مراد پاک رزق} کھلائے تیرا پانی پلائے اور میری آنکھوں میں تیرے قرب کا سرمہ لگائے اور جو حق وہ دیکھ رہا ہے ظاہری طور پر، تقلیدی طور پر نہیں مجھے بتلائے۔[الفتح الربانی صفحہ ۱۱۹ مجلس ۲۶]۔

کا شکہ شیخ کا نعرہ لگانے والے ان سے محبت کا دعوی کرنے والے حضرات جب انہیں کوئی مشکل مسئلہ درپیش ہوتا اور حق وباطل میں تمیز مشکل ہوجاتی تو اس نسخہ قادریہ کو اپناتے۔

اس مجلس نمبر ۲۶ کے آخر میں ہے کہ شیخ مجلس کی ابتداء میں یہ دعا پڑھتے پھر اپنی بات شروع کرتے۔

الحمد لله رب العالمين (تين بار) عدد خلقه وزنة عرشه ورضا نفسه ومداد كلماته ومنتهى علمه وجميع ما شاء خلق و ذرأ و برأ ، عالم الغيب والشهادة الرحمن الرحيم الملك القدوس العزيز الحكيم وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو حي لا يموت بيده الخير وهو على كل شيء قدير وإليه المصير وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أرسله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله ولو كره الكافرون .

اللهم صل على محمد وعلى آل محمد و احفظ الإمام والأمة والراعي والرعية وألف بين قلوبهم في الخيرات و ادفع شر بعضهم عن بعض

اللهم وأنت العالم بسرائرنا فأصلحها وأنت العالم بحوائجنا فاقضها وأنت العالم بذنوبنا فاغفرها وأنت العالم بعيوبنا فاسترها ، لا ترنا حيث نهيتنا لا تفقدنا حيث أمرتنا ، لا تنسنا ذكرك ولا تؤمنا مكرك لا تحوجنا إلى غيرك ، لا تجعلنا من الغافلين . اللهم ألهمنا رشدنا وأعذنا من شر أنفسنا ، اشغلنا بك عمن سواك ، اقطع عنا كل قاطع يقطعنا عنك ، ألهمنا ذكرك وشكرك وحسن عبادتك

پھر دائیں طرف متوجہ ہوکر فرماتے :

لا إله إلا الله ما شاء الله ، لا حول ولا قوة لنا إلا بالله العلي العظيم

پھر یہی کلمات سامنے کی طرف رخ کرکے فرماتے ، پھر بائیں طرف متوجہ ہوکر یہی کلمات دہراتے ، پھر فرماتے :

لا تبدأ أخبارنا ولا تهتك أستارنا ولا تؤاخذنا بسوء أعمالنا ، لا تحينا في غفلة ولا تأخذنا على غرة:

[لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى القَوْمِ الكَافِرِينَ] {البقرة:286}

ختم شدہ

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }