مسلمان کے دن و رات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مسلمان کے دن و رات

از قلم : شیخ محمد طیب سلفی حفظہ اللہ

{ناشر شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

قارئین کرام

اللہ تعالی نے ایک مسلمان کے لئےدن رات میں کچھ ایسے اعمال مشروع کر رکھے ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے رب کا تقرب، ایمان کو قوی اور پختہ کر سکتا ہے نیز وہ اعمال خوداس کی حفاظت وسلامتی کا باعث،برائیوں کے مٹانےنیکیوں کے دوگنا کرنے اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے، وہ اعمال درج ذیل ہیں:

{۱} روزانہ چالیس رکعات نماز کی ادئیگی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دن و رات میں ان چالیس رکعات نماز کی پابندی کیا کرتے تھے ،اس سلسلہ میں آپ ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں ان چالیس رکعات کی تفصیل اس طرح ہے:

سترہ رکعات فرض ، بارہ رکعات موکدہ سنتیں اور گیارہ رکعات نما ز تہجد، یہ ٹوٹل چالیس رکعات ہوئے ،عام نفل اور چاشت کی نمازوں کو چھوڑ کر۔

{۲}روزانہ ٍصبح وشام ،سونے اورجاگنے، کھانے اور پینے ،گھر میں داخل ہونے اور نکلنے ،مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائیں اور نماز سے سلام پھیرنے کے بعد کی دعاوں کا اہتمام: اور یہ ساری دعائیں کتب اذکار وادعیہ میں موجود ہیں،ان دعاوں کو اگر پابندی سے پڑھی جائیں توایک مسلمان جنات اور شیطان کےشروروفتن سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

{۳} قرآن کریم میں سے جس قدر ممکن ہو تلاوت کی جائے اور بہتر یہ ہےکہ روزانہ ایک پارہ قرآن مجید کی تلاوت کی جائے، اور یہ یاد رکھیں کہ قرآن مجید کی تلاوت کا بڑا اجر ہے:

فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے "من قرأ حرفا من كتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر أمثالها لا أقول آلم حرف ولكن ألف حرف ولام حرف وميم حرف”” جس نے اللہ تعالی کی کتاب سے ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہے، آلم سے مراد ایک حرف نہیں بلکہ الف ایک حرف ،لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے” { سنن ترمذی باب فیمن قرا حرفا من القرآن من الاجر}

قرآن مجید کی تلاوت اللہ اور اس کے رسول سے محبت کاذریعہ ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے {من سرہ ان یحب اللہ ورسولہ فلیقرء فی المصحف}” جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرنا چاہے اسے قرآن مجید کی تلاوت کرنی چاہئے” {اسے ابونعیم نے حلیہ میں نقل کیا ہے}

اس لئے بہتر یہ ہےکہ قرآن مجید کی تلاوت کے لئے روٹین بنالیا جائے اورروزانہ قرآن کریم میں سے کچھ حصہ ضرور پڑھا جائے۔

{۴}دن ورات توبہ واستغفار پڑھتے رہا کریں، کیوں کہ انسان خطا ونسیان کا پتلا ہے ہر انسان سے غلطی اور خطا ہوسکتی ہے اور اکثر ہوتی رہتی ہے ،اس لئے ہر مسلمان کا شیوہ ہے کہ جب ان سے غلطی ہوجائے تو فورا اللہ کے حضور جھک جائے اور اللہ سے توبہ واستغفار کرے ، اللہ تعالی کافرمان ہے ،[وَتُوبُوا إِلَى اللهِ جَمِيعًا أَيُّهَا المُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ] {النور:31} ” اے مومنو تم سب کے سب اللہ سے توبہ واستغفار کرو تاکہ تم کامیاب ہوسکو”

فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں توبہ واستغفار کے بہت زیادہ فضائل آئے ہوئے ہیں،جیسے:

استغفار کی برکت سے گناہ دھل جاتے ہیں اور خطائیں معاف ہوجاتی ہیں:

ارشاد ہے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا” بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے ،اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کردی جاتی ہے اور اگر توبہ کی بجائے گناہ پر گناہ کئے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے حتی کہ اس کے پورے دل پر چھاجاتی ہے، یہی وہ رین ہے جس کاذکر قرآن مجید میں ہے” { سنن ترمذی باب تفسیر سورۃ المطففین، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے}

توبہ واستغفار سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حال:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے : (يا أيها الناس توبوا إلى الله فإني أتوب في اليوم مائة مرة.)

” اے لوگو تم سب اللہ سے توبہ کرواس لئے کہ میں روزانہ سو مرتبہ اللہ سےتوبہ کرتا ہوں” {صحیح مسلم}

ایک دوسری روایت میں ہے کہ ( إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي كل يَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ ) ” میں روزانہ سو مرتبہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں” { صحیح مسلم}

معلوم ہوا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ سو مرتبہ توبہ واستغفار کرتے تھے ، اورہم تو بہت زیادہ گنہگار ہیں پھر ہمیں روزانہ کتنی مرتبہ اللہ کے سامنےتو بہ واستغفار پڑھنے کی ضرورت ہے۔

اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندوں کو استغفار کےلئے آواز دے رہا ہے:

ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہےکہ اللہ تعالی فرماتا ہے ( يَا عِبَادِى إِنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا فَاسْتَغْفِرُونِى أَغْفِرْ لَكُمْ)” اے میرے بندو ۱ تم رات دن گناہ کرتے ہو میں تمام گناہوں کو بخش دینے والا ہو ںمجھ سے بخشش طلب کرو میں تمہیں بخش دوں گا” { صحیح مسلم باب تحریم الظلم}

توبہ واستغفار گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے:

اللہ تعالی فرماتا ہے(يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك ولا أبالي)” اے آدم کے بیٹے اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک بھی پہنچ جائیں اور پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں تیرے گناہ معاف کردوں گا اور مطلق پرواہ نہ کروں گا” { سنن ترمذی باب فی فضل التوبۃ والاستغفار}

توبہ واستغفار آخرت میں آدمی کی خوشی اور کامیابی کاذریعہ ہے:

{ من احب ان تسرہ صحیفتہ ، فلیکثر فیھاالاستغفار} "جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کردے اسے اس میں استغفار کثرت سے شامل کرنا چاہئے” { مسند احمد بن حنبل، علامہ البانی رحمہ اللہ نےاس حدیث کو حسن قرار دیا ہے}

ابن صبیح رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے حسن بصری رحمہ اللہ سےخشکی اور بارش کی کمی کی شکایت کی توآپ نے اس سے کہا ا للہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، دوسرے نے کہا اللہ سے دعا کردیجئے کہ وہ مجھے اولادعطا فرمائے،تو آپ نے اس سے بھی یہی کہا کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرو، تیسرے شخص نے اپنے کھیت کی خشکی کی شکایت کی ،تو آپ نے اس سے بھی یہی کہا اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو، ابن صبیح کا بیان ہے کہ میں نے آپ سے عرض کیاسبہوں کے جواب میں آپ نے کیوں فرمایاکہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو ،تو آپ نے جواب دیا کہ میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا ہے یہ تو خوداللہ تعا لی فرماتا ہے { فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَار}”اور کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگو کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے وہ تم پر آسمان سے لگاتار مینہ برسائے گا اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد فرمائے گا اور تمہیں باغ عطا کرے گا اور ان میں تمہارے لئے نہریں بہا دے گا ” {نوح آیت:۱۲،۱۰

{۵} ہر لمحہ اپنی زبان اور دل سے کھڑے ،بیٹھے اور پہلو کے بل لیٹے بکثرت اللہ کا ذکر کیاجائے:

فرمان الہی ہے { فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُواْ لِي وَلاَ تَكْفُرُونِ} { البقرہ آیت : ۱۵۲}

” تم لو گ مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا”

{ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىَ جُنُوبِهِمْ} { آل عمران آیت: ۱۹۱}

” جو کھڑے بیٹھے اور اپنے پہلو کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں ” یعنی وہ کسی حال میں بھی اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتے”

[وَالذَّاكِرِينَ اللهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا] {الأحزاب:35}{الاحزاب آیت: ۳۵}

"اور اللہ کو خوب یاد کرنے والے مردوں اور اللہ کو خوب یاد کرنے والی عورتوں کے لئے اللہ تعالی نے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے”

اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہی کی فضیلت بیان کیہے اور اپنی امت کو ذکر کے ذریعہ ہمیشہ رطب اللسان رہنے کی تاکید کی ہے، ذیل میں اس سلسلہ کی چند احادیث پیش کی جاتی ہیں:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے { ما عمل آدمی عملا انجی لہ من عذاب اللہ من ذکر اللہ } ” اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے آدمی کا کوئی عمل ذکر الہی سے بڑھ کر نہیں” { مسند احمد ، علامہ سیوطی نے اس حدیث کی صحت کی طرف اشارہ کیا ہے}

آپ کا یہ بھی فرمان ہے {مثل الذی یذکر ربہ والذی لا یذکر ربہ مثل الحی والمیت}” اس آدمی کی مثال جو اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کی جو اسے یاد نہیں کرتا ہے زندہ اور مردہ کی ہے” { بخاری ومسلم }

ناظرین کرام اگرآپ مسنون اذکار وادعیہ پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوجائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت وجلوت اٹھتے بیٹھتے ، سوتے اور جاگتے ہر حال میں اللہ کو ہی یاد کرتے تھے۔

{۶} اللہ کے مراقبہ ونگرانی کا خیال رکھا جائے:

اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائےا ور یہ مستحضر رکھاجائے کہ اللہ تعالی ہمیں دیکھ رہا ہے اور ہماری باتوں کو سن رہا ہے اور ہمارے دل کی بھیدوںکو جانتا ہے اور ہمارے تمام کاموں پر نگراں ہے، جس پر ہمارا کوئی کام مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے، لوگوں کی نگاہیں ہم سے اوجھل ہوجائیں، لیکن اللہ کی نگاہ ہم سے اوجھل نہیں ،ساری آنکھیں سوجائیں لیکن یاد رکھیں کہ اللہ کی آنکھ نہیں سوتی، اللہ تعالی فرماتا ہے : {ان اللہ لایخفی علیہ شئ فی الارض ولا فی السماء} [ آل عمران آیت: ۵]

” یقینا اللہ تعالی پر زمین وآسمان کی کوئی چیز پوشیدہ نہیں”

نیز اللہ کا یہ بھی فرمان ہے۔{یعلم خائنۃ الاعین وماتخفی الصدور}[غافر آیت:۱۹ ]

” وہ آنکھوں کی خیانت کو اور سینوں کی پوشیدہ باتوں کو خوب جانتا ہے ”

کیا انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے جب کہ اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے؟ کیا اسے یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کی نافرمانی کرے جب کہ وہ اس کی پیدا کی ہوئی زمین پر زندگی بسر کر رہا ہے؟اس کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے رہ رہا ہے؟ اور اس کی دی ہوئی روزی کھارہا ہے ؟کیا کوئی عقلمندانسان اپنے خالق ومالک کی نافرمانی کی جراءت کرسکتا ہے جب کہ وہ اسے دیکھ رہا ہو تا ہے؟ کیا کسی عقلمند انسان کے لئے مناسب ہے کہ وہ حرام چیزیں دیکھیں اور حرام کاموں سے لطف اندوز ہو اور اس کا مالک ومولی اسے دیکھ رہا ہو؟

اس لئے انسان کو چاہئے کہ جب اللہ کے علم واحاطہ کا یہ حال ہے تو اس کی نافرمانی سے اجتناب اور صحیح معنوں میں اس کا خوف اپنے اندر پیدا کرے۔

عبد اللہ بن دینار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکۃ المکرمہ نکلا ،راستہ میں ہم نے رات کے وقت ایک جگہ پڑاو کیا ، پہاڑ کی طرف سے بکری کا ایک چرواہا نمودار ہوا ،آپ نے اس سے کہا اے چرواہا اس ریوڑ میں سے تو ایک بکری بیچ دے؟ تو اس نے کہا میں غلام ہوں ،تو آپ نے فرمایا جا اپنےمالک سے کہنا کہ اس کو بھیڑیے نے کھالیا ، تو غلام نے جواب دیا ،اللہ تو دیکھ رہا ہے؟ یہ سن کر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رو پڑے ،پھر صبح ہوتے ہی اس غلام کے پاس آئے اور اس کو اس کے مالک سے خرید کر آزاد کردیا اور فرمایا کہ میں نے تمہاری اس بات سے دنیا میں تم کو آزاد کردیا مجھے امید ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں [جہنم ]سےآزاد کرا دیگی ۔ [ دیکھئے کتاب احیاء علوم الدین للغزالی ج۴/ ۳۹۶]

ناظرین کرام آج ہمیں اپنے ظاہر وباطن میں کس قدر مراقبہ الہی کے خیال کی ضرورت ہے۔

{۷} کثرت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرصلاۃ وسلام بھیجا جائے:

قرآن کریم میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام بھیجنے کا حکم دیا ہے،فرمان الہی ہے [إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا] {الأحزاب:56}

” اللہ تعالی اور اس کے فرشتے اس نبی پر رحمت بھیجتے ہیں ، اے ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجتے رہا کرو”

احادیث میں درود کی بڑی فضیلت وارد ہے:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :{ من صلی علی صلاۃ واحدۃ صلی اللہ علیہ عشر صلوات}” جو میرے اوپر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس کے اوپر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے ” { صحیح مسلم الصلاۃ ،باب الصلاۃ علی النبی بعد التشہد}

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے : { اولی الناس بی یوم القیامۃ اکثرھم علی صلاۃ } ” جو شخص مجھ پر بکثرت درود بھیجتا ہے قیامت کے روز سب سے زیادہ میرے قریب ہوگا”{سنن ترمذی}

اس لئے ہمیں بکثرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنا چاہئے کیوں کہ درود پڑھنا خود ہمارےگناہوں کی معافی، رحمتوں کے نزول اور درجات کی بلندی کا باعث ہے۔

{۸} اللہ تعالی کی حمد وثنا بیان کی جائے ، اس کا شکر بجالایا جائے اور اس سے دعا مانگی جائے۔

اللہ کافرمان ہے [وَقُلِ الحَمْدُ للهِ] {الإسراء:111} ” اور یہ کہدیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں”

[وَمَنْ شَكَرَ فَإِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهِ] {النمل:40} ” جو شکر بجالاتا ہے اپنے ہی نفع کے لئے شکر گزاری کرتا ہے ”

[ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ] {إبراهيم:7} ” اگر تم شکر گزاری کروگے تو بیشک میں تمہیں زیادہ دوں گا”

[وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ] {غافر:60} ”تمہارا رب کہتا ہے تم مجھے پکارو میں تمہاری پکار کو سنوں گا ”

اللہ تعالی مجھے اور آپ تمام مسلمان بھائیوں کو روزانہ ان اعمال خیر پر محافظت و پابندی کی توفیق کی توفیق عطا فرمائے۔

ختم شدہ

{ناشر شعبہ توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }