*نوواں پارہ(قال الملأ)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

*نوواں پارہ(قال الملأ)*

نو ویں پارے کے دو حصے ہیں؛پہلا حصہ سورہ  اعراف کی آیت88تا206   پر مشتمل ہے،اور دوسرا حصہ سورہ انفال   کی آیت1 تا 40پر مشتمل ہے۔

  • اس پارے کا ابتدائی حصہ حضرت شعیب علیہ السلام کے قصے  کی تکمیل  ہے  جو آٹھویں پارے کے آخر میں شروع ہوا تھا کہ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو جب توحید کی دعوت دی اور ان کے سرمایہ دارانہ نظام میں اصلاح کی کوشش کی تو قوم کے شریر اور متکبر لوگوں نے حضرت شعیب کو اور آپ کے ساتھیوں کو اپنے پہلے دین  میں واپس آنے پر زور دیا ، نہیں تو شہر سے نکال دینے کی دھمکی دی ۔ آیت:88
  • پھر حضرت شعیب اور ان کی قوم کے درمیان جو بات چیت ہوئی اس کا ذکر ہے ۔آیت: 89، 90
  • شعیب علیہ اسلام نے ان کے جواب میں فرمایا کہ  بعد اسکے کہ اللہ تعالی نے تمہارے باطل معبودو سے ہمیں نجات دی ، اب ہمارے لئے اس راہ پر آنا بہت مشکل ہے، لہذا اس معاملے کو اللہ کے سپرد کرتے اور اسی سے فیصلہ چاہتے ہیں۔
  • بالآخر قوم پر اللہ کا عذاب آکر ہی رہا۔ چنانچہ ایک ہی چیخ میں پوری کی پوری قوم ماضی کا حصہ بن گئی۔آیت :91
  • پانچ نبیوں کے قصے بیان کرنے کے بعد ان پر ایک اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور رسولوں کی مخالفت کرنے  والوں کے ساتھ اللہ تعالی کیا معاملہ رہا ہے ؟ اس کا ذکر کیا گیا ہے ،یعنی پہلے پہل   ایسے لوگوں کو مشکلات  اور پریشانیوں میں مبتلا کیا جاتا ہے۔پھر ڈھیل کے طور پر ان کے لئے وسعت رزق  و اسباب کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ اور پھر انہیں حالتِ غفلت میں دبوچ لیا جاتا ہے۔آیت:94، 95
  • پھر اللہ تعالی نے ایک اصول بیان کیا ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان لاتے اور تقوی اختیار کرتے تو ان کے ساتھ ایسا معاملہ پیش نہ آتا[الاعراف:96] ۔
  • آیت 97 تا 100 میں ان لوگوں کو جو دنیا کی عیش وراحت میں پڑ کر اللہ تعالی کو بھلا بیٹھے ہیں انہیں خبر دار کیا جارہا ہے کہ اللہ کے عذاب سے اپنے آپ کو دور نہ سمجھیں ، بلکہ اللہ کا عذاب رات اور دن کےکسی بھی وقت آسکتا ہے۔جیسا کہ پچھلی قوموں کے واقعات سے ظاہر ہے۔ معارف القرآن 4/16
  • پھر اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے اور شاید سورۃ طہ کے علاوہ قرآن مجید کے کسی اور مقام پر موسی علیہ السلام کا قصہ اس قدر تفصیل سے بیان نہیں ہوا ہے۔
  • اسی ضمن میں اس سورت کے اندرمختلف پہلوؤں سے بنی اسرائیل کی پوری تاریخ بیان کر دی گئی ہے۔
  • سب سے پہلے حضرت موسی علیہ السلام کا فرعون کو دعوت دینے کا ذکر ہے۔جس پر فرعون نے دلیلیں طلب کیں تو حضرت موسی علیہ السلام نے عصا[لاٹھی} او رید  بیضاء{چمکتا ہاتھ] کا معجزہ پیش کیا[1]۔
  • جس کے نتیجے میں موسی علیہ السلام اور جادوگروں کےدرمیان مقابلے کا واقعہ پیش آیا۔ جادو گروں کا جادو کوئی معمولی قسم کا جادو نہ تھا ، لیکن اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کی دستگیری فرمائی اور انہیں علی الاعلان فتح نصیب فرمائی[2]۔
  • اس مقابلے کی نتیجے میں جادو  گر مغلوب ہوئے اور حضرتِ موسی علیہ السلام پر ایمان لائے ۔ پھر کیا تھا؟ جادو گروں پر  سختیاں شروع ہوگئیں۔ آیت : 123–126
  • ایمان کی تاثیر اور دلوں میں اس کےرچ بس جانے کے بعد ثابت قدمی سے متعلق اس واقعے میں   بڑی عبرت ونصیحت  ہے۔سب سے بڑی عبرت  و نصیحت یہ کہ ہر مشکل وقت میں دعا ایک مومن کا سہارا رہتی ہے۔
  • جادوگر ایمان لائے تواس کی وجہ سے  قوم موسی پر فرعون کی سختیاں اور بھی بڑھ گئیں ۔
  • چنانچہ اس مقابلے میں ناکامی کے بعد فرعون نے بنی اسرائیل پر اپنا قبضہ او ر سخت کر دیا۔ حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش تک تو یہ اصول تھا کہ ایک سال  بنو اسرائیل کےبچوں  کو قتل کیا جاتا اور ایک سال چھوڑ دیا جاتا، تاکہ  خدمت کیلئے مرد موجود رہیں ،لیکن جب فرعون کی قوم نے دیکھا کہ اب تو موسی  علیہ السلام اور ان کے ساتھی اور بھی دلیر ہو گئے ہیں  تو  فرعون  کی قوم کے لوگ فرعون سے کہنے لگے کہ کیا  آپ  موسی اور ان کی قوم کو زمین میں فساد پھیلانے کیلئے یونہی کھلاچھوڑ دیں گے ؟۔
  • تب فرعون نے  یہ حکم دیا کہ بنو اسرائیل کے ہر نوزائیدہ لڑکے کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو باقی چھوڑا جائے۔آیت :127
  • اس موقع پر حضرت موسی علیہ السلام نے قوم کو صبرکرنے ،اللہ کی طرف رجوع کرنےکی دعوت دی اور یہ امید دلاتے رہے کہ زمین اللہ کی ہے، اگر تم اس کے اطاعت شعار رہے تو حکومت تمہیں ہی ملے گی۔ آیت: 129
  • فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسی علیہ السلام کی قوم پر ظلم کرنا شروع کیا تو اللہ تعالی نے قوم فرعون پر سختیاں اور عذاب نازل کرنا شروع کردیا ۔جیسے ان پر خشک سالی مسلط کی گئی، جس کی وجہ سے پھل اور کھیتیاں برباد ہو گئیں۔ آیت:130
  • لیکن یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ  سب مصیبتیں موسی علیہ السلام کی نافرمانی کی وجہ سے آئی ہیں،ان مصیبتوں پر ان کا موقف یہ رہا: 1 )  ان مصیبتوں کو حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کی طرف سے بدشگونی سمجھتے تھے [الاعراف:131] ۔             

2 )  حضرت موسی علیہ السلام کو یہ کہتے رہے  کہ کچھ بھی ہو جائے، تم ہم پر جس قدر اپنی جادو گری کا مظاہرہ کرو ہم  تجھ پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ [الاعراف:132]

  • قوم کی اس بد سلوکی پر اللہ تعالی نے ان پر متعدد قسم کے عذاب پے در پے بھیجے۔  133– 136
  • ہر عذاب کے بعد فرعون اور اس کی قوم کے لوگ یہ وعدہ کرتے رہےکہ اے موسی!یہ عذاب ہٹ جائے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ جانے دیں گے۔ لیکن موسی علیہ السلام کی دعا سے عذاب کے دور ہوجانے کے بعد وہ پھر اپنے کفر پر اڑ جاتے [3]۔
  • قوم فرعون پر جن نوعذابوں کا ذکر یہاں پر ہے وہ یہ ہیں:       1- طوفان،          2- ٹڈی دل،            3-  جوئیں،                               4-مینڈک ،                                 5- خون ،               6- خشک سالی ،                                     7-اور پھلوں کی کمی۔

بعض علماء کہتے ہیں باقی  دو نشانیاں عصا او رید بیضاء ہیں جن کا ذکر موسی علیہ السلام کے قصے کی ابتدا میں ہوا ہے۔

اور بعض کہتے ہیں یہ دو عذاب  اگلی آیتوں :135و 136  میں بیان ہوئے ہیں ، یعنی  "رجز”(طاعون) اور سمندر میں ڈبو دیا جانا۔

٭) پھر پے در پے عذاب اور کئی نشانیوں کے بعد بھی فرعون اور اس کی قوم کے لوگ ایمان نہ لائے تو اللہ نے بالآخر انہیں سمندر میں ڈبو دیا [4]۔

٭)اس سورت میں بنی اسرائیل کی بیان شدہ  تاریخ کی یہ پہلی کڑی ہے۔اس مرحلے کے اختتام پر اللہ تعالی نے  آیت نمبر 137 میں کئی چیزوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔

 ارشاد باری تعالی ہے:وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ (137)”اور ہم نے ان لوگوں کو جو بالکل کمزور کر دئے گئے تھےاس سر زمین کے مشرق ومغرب کا مالک بنا دیا، جس میں ہم نے برکت رکھی ہے، اور آپ کے رب کا نیک وعدہ بنی اسرائیل کے حق میںان کے صبر کی وجہ سے پورا ہوگیا، اور فرعون اور اس کی قوم جو(فیکٹریاں اور کارخانے )بناتے تھے اور جو اونچی اونچی عمارتیں اور محلات وہ تعمیر کرتے تھے، سب کو ہم نے درہم برہم کردیا”۔

 1 )   بنی اسرائیل کے بارے میں  یہ نہیں کہا کہ وہ کمزور تھے ۔ بلکہ فرمایا کہ”وہ کمزور کر دئیے گئے تھے”، یا "انہیں کمزور بنا لیا گیا تھا” ۔

کیونکہ جس کے ساتھ اللہ ہو وہ کمزور نہیں ہوتا۔

2 )   صبر کرنے کی وجہ سے انہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات  ملی ۔

تو گویا معلوم ہوا کہ مشکلات میں صبر سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے: وَأَنَّ ‌النَّصْرَ ‌مَعَ ‌الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا "  اور یاد رکھو! مصائب پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے کیونکہ مدد صبر کے ساتھ ہے، کشادگی تنگی کے ساتھ ہے اور آسانی سختی کے ساتھ ہے۔“   مسند احمد:۲۸۰۶  دیکھئے الصحیحۃ:۲۳۸۲

3 )  ارشاد باری تعالی”جو کچھ فرعون اور اس کی قوم نے بنایا تھا وہ سب تباہ وبرباد کردیا گیا”،جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ دنیاوی ترقی اور بلند و بالا عمارتیں کسی کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتیں۔

آیت نمبر: ۱۳۸ سےبنی اسارائیل کی تاریخ کا دوسرا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔

  • سمندر پار کرنے اور قوم فرعون سے نجات پانے کے بعد موسی علیہ السلام کی قوم  کا ایک بت خانے کے پاس سے گزرنے کا ذکر ہے، جہاں قوم کی طرف سے موسی علیہ السلام سے کسی معبود کے مطالبے کا معاملہ پیش آیا۔ موسی علیہ السلام  نے  اسے جہالت قرار دیا  [5]،  اور نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اپنے نعمت بخشنے والے  رب کی یہ کس قدر  ناشکری ہے کہ اس نے اپنی شریعت و احکام کی تعمیل کے لئے تمہارا انتخاب کیا اور تمہیں تمام دنیا میں فضیلت بخشی ، پھر بھی تم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کی تلاش میں ہو۔آیت:140
  • نیز بنی اسرائیل کو ان کی پرانی تاریخ یاد دلائی کہ اللہ تعالی نے تمہیں فرعون کے ظلم سے نجات دلایا اور وہ جو تمہاری تذلیل کرتے تھے ان سے چھٹکارا دلایا،  تو کیا اب  اس کا شکر یہی ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو؟۔
  • آیت: 142، 143 میں اس واقعے کا بیان ہے کہ  اللہ تعالی نے حضرت موسی علیہ السلام کو چالیس  دن کے لئےطور پہاڑ پر بلایا، جہاں انہیں تورات دی گئی۔ وہیں  پرموسی علیہ السلام نے دیدار الہی کی خواہش  ظاہرکی لیکن اللہ تعالی نے یہ کہہ کر ان طلب قبول نہ کی   کہ  "ﵟلَن تَرَىٰنِي”  یعنی اے موسی تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے۔
  • اس موقع پراللہ تعالی نے اپنی قدرت کے اظہار کے طور پر حضرت موسی علیہ السلام سے فرمایا: اے موسی! تم تو مجھے نہیں دیکھ سکتے ، البتہ اس پہاڑ کی طرف دیکھو ، اس پر میں اپنی تجلی ڈالتا ہوں ،اگر وہ اپنی جگہ ثابت رہ جائے تو تم بھی میرا دیدار کر سکتے ہو۔ لیکن جب اللہ تعالی نے اس پہاڑ پر اپنی تجلی فرمائی تو پہاڑ پاش پاش ہوکر زمیں بوس ہوگیا اور خود موسی علیہ لاسلام  بے ہوش کر گر پڑے۔ پھر جب ہوش آیا تو حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی اس جسارت  سے توبہ کی اور اللہ کے قادر مطلق ہونے کا اقرار کیا[6]۔
  • آیت ۱۴۲، ۱۴۳ میں اللہ تعالی کی طرف سےموسی علیہ السلام کو تورات دئے جانے کا ذکر ہے، جس میں بنی اسرائیل کے لئے دین احکام تھے،امر ونہی اور ترغیب وترہیب کی پوری تفصیل تھی۔
  • آیت :144—147 میں اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کو تورات دے کر، ان کے شرفِ انتخاب او ر شرفِ ہم کلامی کا حوالہ دے کر ان سے شکر کا مطالبہ کیا،اور حکم دیا کہ آپ او ر آپ کی قوم کے لوگ اس کتاب کو مضبوطی سے تھامیں اور اس میں جو اچھی اچھی باتیں ہیں ان پر عمل کریں۔
  • یہیں پر اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ حق کو وہی قبول کرتا ہے جس میں درج ذیل صفات پائی جاتی ہیں: 1- تکبر سے پاک ہوتا ہے،         2- نیکی کا طالب ہوتا ہے ،                    3- برائیوں سے پرہیز کرنا چاہتا ہے،               4- اور غفلت کا پردہ اپنے اوپر سے ہٹا دیتا ہے۔

ہاں جس شخص میں تکبر ہو تو اسے قبول حق کی توفیق نہیں ملتی، بلکہ وہ حق کا راستہ دیکھ کر بھی اس سے منہ موڑ لیتا ہے او ر جان بوجھ کر گمراہی کا راستہ اختیار کرتا ہے۔[الاعراف:146] ۔

  • آیت 148 اور اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام کی غیر حاضری میں بنی اسرائیل کی طرف سے بچھڑے کو معبود بنانے  کا ذکر ہے۔پھر جب موسی علیہ السلام  کی واپسی ہوئی تو قوم کی یہ حالت دیکھ کر سخت ناراض  ہوئے اور قوم کی سرزنش کی ،اور تورات کی تختیاں پھینک کر حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور بال پکڑ کر انہیں جھنجھوڑنا شروع کر دیا[7]۔
  • لیکن جب حضرت ہارون علیہ السلام نے عذر پیش کیا  جس کی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کو اس جرم سے روکنے میں ناکام رہے،کہ  ایک  اپنی کمزوری اور دوسرا بنی اسرائِل کا عناد کہ کہیں انہیں قتل نہ کر دیں ، تو موسی علیہ السلام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور ان الفاظ میں دعا گو ہوئے۔  قَالَ رَبِّ ٱغۡفِرۡ لِي وَلِأَخِي وَأَدۡخِلۡنَا فِي رَحۡمَتِكَۖ وَأَنتَ أَرۡحَمُ ٱلرَّٰحِمِينَ (١٥١)" موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے میرے رب! میری خطا معاف فرما اور میرے بھائی کی بھی اور ہم دونوں کو اپنی رحمت میں داخل فرما اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے”۔[8]
  • اسی مقام پر شرک کی قباحت بھی بیان کی گئی ہے کہ بچھڑے کو معبود بنانے پر ان کے رب کا  ان پر غضب نازل ہو گا اور انہیں دنیا کی زندگی میں ذلت ورسوائی سے دوچار ہونا پڑے گا۔ [الاعراف:152] ۔
  • لیکن اللہ کا کرم یہ ہوا کہ اس نے بنی اسرائیل کو توبہ کی دعوت دی   اور ان کے گناہوں کی معافی کا وعدہ کیا۔ آیت:۱۵۳
  • پھر جب حضرت موسی علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا ہوا اور انہوں نے تورات کی تختیوں کو اپنی قوم کے سامنے پیش کیا ،مگر قوم نے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا کہ ہم یہ کیسے مان لیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ  تختیاں ہیں، ہو سکتا ہے آپ نے خود ہی انہیں لکھ لیا ہو۔ اس پر حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کے ستر لوگوں کا انتخاب کیا (تاکہ وہ آپ کے ساتھ طور پہاڑ پر جائیں اور اس کتاب کے نزول کی تصدیق کریں)۔لیکن جب وہ  لوگ پہاڑ پر پہنچے تو زور کا ایک زلزلہ آیا اور سب کے سب وہیں  ڈھیر اور مردہ  ہو گئے۔
  • منظر کو دیکھ کر موسی علیہ السلام گھبرا گئے اور انہی یہ خوف لاحق ہوا کہ قوم کے بدمعاش لوگ ان کے قتل پر ہمیں متہم کریں گے لہذا فورا بارگاہِ الہی میں عرض کیا کہ اے میرے رب! اگر تو چاہتا  تو اس سے پہلے مجھ کو اور ان سب کو ہی ہلاک کر دیا ہوتا ، اس طرح تو میرے اوپر الزام رکھیں گے  ، اے میرے رب یہ تیری طرف سے آزمائش ہے، تو جس کا چاہے اس میں کامیاب کرکے ہدایت دے اور جس کو چاہے گمراہ کردے۔ میں چاہتا ہوں کہ  ہم میں سے چند بے وقوفوں کی گستاخی کے جرم میں ہمیں پلاک نہ کر، بلکہ تو ہی  ہمرا مددگار ہے  اور تو ہی گناہوں کو معاف کرنے والا ہے ۔ لہذا ہمارے گناہون کو معاف فرمادے۔ [9] مفسرین لکھتے ہیں کہ اس دعا کے بعد اللہ تعالی انہیں دوبارہ زندہ کر دیا۔ تفسیر ابنِ کثیر
  • اسی ضمن میں  یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ تورات پر صحیح طریقے سے ایمان لانے والے وہی ہیں جو اللہ کا تقوی اختیار کرتے، نبی امی( محمد ﷺ)  پر ایمان لاتے ہیں اور ان کی تصدیق و پیروی کرتے ہیں۔ آیت:۱۵۷
  • اس آیت میں نبیِ کریمﷺ کی ان سات صفات کا ذکر جو تورات میں مذکور ہیں۔
  • نبیِ امی۔ یعنی وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتا، یا ایسی قوم سے تعلق رکھے گا جن میں ان پڑھ لوگوں کی اکثریت ہوگی۔
  • تورات میں ان کا نام لکھا ہوا ہے۔ یعنی یہود تورات و انجیل میں ان کا نام صراحت کے ساتھ لکھا ہوا پاتے ہیں اور اس نبی کو ایسے ہی پہچانتے ہیں جیسے اپنے بچوں کو پہچانتے ہیں۔
  • بھلائی کا حکم دیتا ہے۔
  • اور برائی سے روکتا ہے۔ یعنی اس نبی کی اہم صفات میں سے یہ صفت بھی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کو بھلے کاموں  کا حکم دیتا ہے، اور برے کاموں سے روکتا ہے۔ چنانچہ وہ انہیں توحید کا، ایک اللہ کی عبادت کا وغیرہ  حکم دیتا ہے اور برے کام جیسے شرک، بت پرستی  وغیرہ سے روکتا ہے۔
  • پاکیزہ چیزوں کو  حلال ٹھہراتا ہے۔
  • خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالی کی حلال کردہ جن پاکیزہ چیزوں کو حرام ٹھہرا دیا ہے، جیسے اونٹ کا گوشت وغیرہ، ان چیزوں کو حلال بتلاتا ہے، اور جن خبیث چیزوں کو حلال کر لیا ہے، جیسے سور کا گوشت وغِرہ انہیں ان کے لئے حرام قرار دیتا ہے۔
  • بوجھ اور طوق کو ان پر سے اتار پھینکتا ہے۔ یعنی ان لوگوں نے یا ان کے علماء نے شریعت میں اپنی طرف سے جو پابندیاں  لگا رکھی تھین جن کی وجہ سے وہ مشقت میں پڑ جاتے تھے، انہیں ہلکی کر دیتا ہے۔
  • اس وضاحت کے بعد اولا اس نبی امی پر ایمان کو کامیابی کا معیار قرار دیا، وہیں دوسری طرف پوری دنیا کے لوگوں کو نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت  بھی دی گئی۔[10]آیت 158
  • آیت نمبر 15۹ میں  یہ بتایا گیا کہ اکثریت کی کجروی اور گمراہی کے باوجود حضرت موسی علیہ السلام کی قوم میں ایک جماعت ایسی ہے جو خود بھی حق پر قائم ہے اور لوگوں کے درمیان بھی حق کے ساتھ فیصلہ کرتی ہے۔

یہ قرآن کا وہی عادلانہ اسلوب ہے کہ جب کسی قوم وجماعت پر تنقید کرتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ ان میں جو خوبی ہو اس کا بھی ذکر کرتا ہے۔

  • آیت 160تا162میں بنو اسرائیل سے متعلقہ بعض ان واقعات کا ذکر ہے جو میدان تیہ میں پیش آئے، جن میں بنو اسرائیل پر اللہ تعالی کی نعمتوں کا اظہار ہے اور انہیں یہ خبردار کیا گیا ہے کہ ان تمام نعمتوں کے شکر کا تقاضا ہے کہ اس نبی امی پر ایمان لائیں۔
  • جیسے جب انہیں پیاس کی شدت محسوس ہوئی   تواللہ تعالی کے حکم سے حضرت موسی علیہ السلام  کے ایک ہی ضرب سے پانی کے بارہ چشموں کا پھوٹ پڑنا۔  جب اس میدان میں بنو اسرائیل کو کھانے کی ضرورت پڑی تو ان کے لئے  من و سلوی کا نزول۔ اور اس کھلے میدان میں دھوپ سے بچنے کے لئے بادل کا سایہ کرنا، وغیرہ۔
  • آیت 163تا166میں بنی اسرائیل کی اس بستی والوں کا ذکر ہے جو سمندر کے کنارے آباد تھےاور مچھلی کا شکار کیاکرتے تھے۔

انہیں بطور آزمائش  ہفتہ کے دن مچھلیوں کے شکار سے  روک دیاگیا تھا، لیکن انہوں نے اس بارے میں حیلہ سازی سےکام لیا۔ یعنی حیلے کے ذریعے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑ کر اللہ کے حکم کی مخالفت کرنے لگے۔

  • اس موقعے پر ان کے تین گروہ بن گئے تھے؛ ایک وہ جوحیلہ کرکے مچھلیاں پکڑتا تھا، دوسرے وہ لوگ جو انہیں اس حرکت سے روکتے تھے اور تیسرے وہ لوگ  جوخاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔پھر جب اللہ تعالی  کا عذاب آیا تو صرف وہی لوگ نجات پا سکے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔باقی دونوں فریق  نہ صرف ہلاک کر دئیے گئے بلکہ ان کی صورتیں بندر وسور کی بن دی گئی[11]۔
  • آیت 168تا170میں بنو اسرائیل کی شرارتوں اور نافرمانیوں کے سبب ان پر اللہ کے بعض عذاب کا ذکر ہے۔جیسے دنیا میں انہیں منتشر کر دینا۔کسی نہ کسی کو ان پر مسلط کردینا جو انہیں ذلیل و رسوا کرتا رہے گا۔
  • آیت نمبر ۱۶۹ میں کتابِ الہی سے متعلق ان کی بعض کرداریوں کا ذکر کرکے انہیں اس سے  باز آنے کی دعوت  دی گئی ہے۔

اصل بات یہ تھی کہ یہود سے کتابِ الہی کو مظبوطی سے تھامے رہنے کی دعوت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے دانستہ طور پراسے دنیا حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیا،  لیکن جب ان پر اعتراض ہوتا تو کہتے کہ ہم اللہ کے چہیتے ہیں اس لئے ہماری اس بدکرداری کو بھی اللہ تعالی بخش دے گا۔  

  • اس لئے اس مقام پر انہیں یہ دعوت دی گئی کہ اگر اللہ کا تقوی اخٹیار کریں ، آخرت کو دھیان میں رکھیں، کتاب الہی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں اور نماز کی پابندی کرتے رہیں تو اللہ تعالی تمہیں ضائع نہیں کرے گا۔آیت:170

یہاں چند باتیں قابل توجہ ہیں۔

  • کتاب و سنت کی پیروی میں پختگی اور پائیداری چاہئے، يُمَسِّكُونَ بِالْكِتَابِ.
  • نماز کا اہتمام  بڑی اہم چیز ہے اور کتاب الہی کو مضبوط تھامے رہنے کی علامت  ہے،وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ
  •   ان دونوں کی پابندی ہی کسی جماعت کو اللہ کے عذاب سے بچا سکتی ہے۔
  • اللہ تعالی کی طرف سے  پیش آمدہ مشکلات سے نجات کے لئے صرف نیک بن جانا کافی نہیں ہے، بلکہ ضروری ہے کہ لوگوں کو نیک بنانے کی کوشش بھی پائی جانی چاہئے۔ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ۔
  • 171/ میں بنو اسرائیل کی اس شرارت کا ذکر جب انہوں نے کتاب الہی پر یہ کہہ کر عمل کرنا چھوڑ دیا کہ اس میں بہت سے احکام ایسے ہیں جن پر عمل کرنا ہمارے لئے  مشکل ہے۔ بلکہ ان احکام کا انکار کیا، تو اللہ نے ان پر طور پہاڑ کو بلند کیا، قریب تھا کہ  ان پر گر پڑتا ، لیکن ان لوگوں نے توبہ کی، تو اللہ تعالی نے ان پر سے اس مصیبت کو ٹالا اورانہیں اپنے احکام کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا  [12][الاعراف:171] ۔
  • آیت 172میں هد الست” کا ذکر  آیا ہے  کہ جب اللہ تعالی  نے وادی نعمان (عرفہ) میں تمام ذریت کو حضرت  آدم علیہ السلام  کی پشت سے باہر نکال کر اپنی ربوبیت کا اقرار کروایا تھا  [13]۔
  • آیت 175تا177میں بطور عبرت اس شخص کا واقعہ ذکر ہوا ہے جسے اللہ کی اپنی آیات کا علم دیا گیا لیکن اس نے اس کی قدر و قیمت  نہ پہچانی ، بلکہ دنیا کی لالچ میں آکر سب گنوا دیا،  اللہ تعالی نے اس کی مثال لالچی کتے سے دی ہے[14]۔
  • آیت 179میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ کی دی ہوئی ہدایت قبول نہیں کرتے۔ ان کی مثال چوپایوں سے بھی بدتر بیان کی گئی ہے،کیونکہ وہ اللہ کے دئیے  دل سے اس کے بارے میں سوچتے نہیں،اس کے دی ہوئی آنکھ سے حق کو دیکھتے نہیں اور اس کے عطا کئے ہوئے کانوں سے حقائق  کو سنتے نہیں۔
  • پھر آیت 180 میں اس کا علاج بھی بتا دیا گیا کہ اس کا علاج صرف یہ ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کیا جائے ،اس کا ذکر کیا جائے اور اس سے دعا کی جائے ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِينَ يُلْحِدُونَ فِي أَسْمَائِهِ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (180)" اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی”۔
  • آیت 181 میں امت محمدیہ کی صفت اور ان کی علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ خود بھی حق(کتاب وسنت) پر قائم رہتے ہیں اور دوسروں کے بارے میں بھی حق ہی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔
  • سورت کے آخر میں مشرکین مکہ کو مخاطب کیا گیا ہے،اور ان سے کچھ اہم باتیں کہی گئی ہیں:
  • 1 ) انہیں نبی کریم ﷺ کی شخصیت پر غور کرنے کی دعوت دی گئی ہے[الاعراف:185] ۔
  • 2 ) انہیں یہ دعوت دی گئی ہے کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت میں غور وفکر کریں کہ کس طرح اس میں تبدیلیاں ہوتی ہیں۔انہیں اس سے سبق لینا چاہئے کہ کہیں ان کی موت قریب  نہ ہو۔آیت:185
  • 3) نبی ﷺ کی حقیقت واضح کی گئی ہے کہ وہ  نہ اپنے لئے کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں اور نہ کسی اور کے لئے، اور نہ ہی اللہ تعالی نے انہیں غیب کا علم دیا ہے اور نہ ہی جس قیامت کے بارے میں تم جلدی مچا رہے ہو اس کا کوئی ان کے پاس ہے۔آیت:187، 188
  • 4)   شرک شیطان کی طرف سے وسوسے اور اس کے دھوکہ دینے سے پیدا ہوا ہے۔
  • جس کی وضاحت اس طرح کی گئی کہ اولا اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام اور ان کے سکون طبع وقلب کے لئے انہی سے ان کی بیوی حوا کو پیدا فرمایااور پھر ان سے انسانی نسل کا سلسلہ جاری کیا۔ اس کا تقاضا تو یہ ہونا چاہئے کہ انسان اس رب کا شکر بجا لاتا اور اس کی توحید کے گن گاتا۔  لیکن یہ ظالم انسان شیطان کے چکر ومکر میں پھنس کر اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگا،  جس کا ایک مظہر یہ ہوا کہ وہ بچہ جو خالص اللہ کی دین ہے اس کی نسبت غیراللہ  کی طرف کرنے لگا[15]۔آیت 189 تا 192  
  • 5 ) اللہ کو چھوڑ کر تم لوگ  جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو وہ  لاچار اور بے بس ہیں، وہ کسی بھی طرح تمہارے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔لہذا ان سب سے کنارہ کش ہو کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔آیت  193 تا 197
  • آیت 199، 200 میں نبی کریمﷺ کو  حسن اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے کہ مخالفین کی کج بحثیوں اور ان کی بے جا مخالفتوں کے جواب میں آپ عفو ودرگزر سے کام لیں،  اپنے مشن یعنی دعوت میں لگے رہیں اور جاہلوں سے اعراض سے کام لیں ۔
  • یہ طریقہ انسانی مخالفین سے بچنے کا ہے ۔ البتہ شیطانی دشمنوں سے بچنے کے لئے آپ اللہ تعالی کی پناہ میں آئیں[16]۔
  • آیت نمبر 101، 102 میں مسلمانوں کو شیطان کے وسوسوں سے ہشیار رہنے کی دعوت ہے۔
  • آیت 204میں قرآن مجید کا ادب بیان کیا گیا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموشی اختیار کرو۔
  • آیت 205میں ذکر الہی سے غفلت پر تنبیہ کی گئی ہے،اور صبح و شام اور سرا و جہرا ہر حال میں عاجزی  کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے[17]۔
  • سورت کی آخری آیت میں اللہ تعالی کے مقرب بندوں کی صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے،اس کی تسبیح بیان کرتے اور اسی کیلئے سجدہ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ قرآن مجید کی  یہ پہلی آیت ہے  جہاں پر سجدہ تلاوت   آیا ہے۔

 

سورت الأنفال

          یہ سورت مدنی ہے او ر غزوہ بدر کے بعد، بلکہ اس غزوہ پر تبصرہ کرنے کیلئے ناز ل ہوئی ہے۔

اس کا نام اس کی پہلی آیت کے لفظ "الأنفال” سے لیا گیا ہے ، "انفال” نفل کی جمع ہے جس کا معنی زیادہ کے ہیں ، اصطلاح میں یہ وہ مال غنیمت  ہوتا ہے جو کافروں کے ساتھ جنگ میں ہاتھ لگتا ہے۔  چونکہ یہ مال پچھلی قوموں پر حرام تھا اور اس امت کیلئے حلال  کیا گیا ہے اس لئے اسے "انفال "کہتے ہیں۔

زمانہ نزول او ر  موضوع:

غزوہ بدر  کے خاتمے کے بعد مال غنیمت کے بارے میں اختلاف کے پس منظر میں نازل ہوئی۔

 اس سورت کا  پورا موضوع اسی  کےارد گرد گھومتا ہے۔اس سورت میں  بعض وہ احکام بیان ہوئے ہیں جو غزوات سے متعلق ہیں۔

  • اس سورت کی پہلی آیت میں تین باتوں کا  حکم دیا گیا ہے: 1 )    تقوی۔2 )    باہمی اتفاق و اتحاد۔3 )    اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت۔

پھر پوری سورت میں انہیں تین باتوں پر زور دیا گیا ہے ،جو کسی بھی معاشرے کی  بقا کے لئے ضروری ہیں۔

  • آیت 2تا4میں سچے اہل ایمان کی صفات بیان ہوئی ہیں:  1 ) اللہ کا خوف ۔                                2 ) اللہ کی آیات سن کر ایمان میں اضافہ ہونا۔                                   3)اللہ پر توکل ۔                                                          4)    نماز  قائم کرنا۔                                                                                                                 5)    اللہ کی راہ میں خرچ کرنا[18]۔
  • آیت نمبر 5 سے جنگ بدر کا ذکر شروع ہوا ہے۔چنانچہ سب سے پہلے جنگ بدر سے متعلق مسلمانوں کو جو تردد لاحق تھا اس کا ذکر ہے،پھر اس بات کا بیان ہے کہ کس طرح اللہ تعالی نے مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی اور اس کے لئے فرشتوں کے نزول اور بارش کے نزول کا حوالہ دیا گیاہے اور غیبی تائید کا ذکر ہے۔آیت 9، 11، 12
  • اور یہ واضح کیاگیا ہے کہ یہ سب صرف تمہارے اطمینان کے طور پر تھا،  ورنہ در حقیقت مدد تو اللہ کی طرف سے ہے۔آیت :10
  • نیز اس مقام پر یہ بھی واضح کیا گیا کہ غزوہ بدر میں کافروں کی ذلت ورسوائی کا اصل سبب اللہ او راس کے رسول ﷺ کی نافرمانی و مخالفت تھی ۔آیت:13، 14

جس سے مسلمانوں کو یہ خبر دار کرنا ہے کہ اگر عزت اور فتحمندی چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے مطیع بن کر  زندگی گزارو۔

  • پھر اس کے بعد مسلمانوں کو میدان جنگ  کے کچھ آداب بتلائے گئے ہیں ،کہ جب کافروں  سے  تمہارا آمنا سامنا ہو تو پیٹھ دکھا  کر مت بھاگو۔آیت:15
  • اور پھر اس بھاگنے کو گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔آیت:16
  • وجہ اس کی یہ ہے کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تم اکیلے ہو،بلکہ یقین رکھو کہ تمہارا رب تمہارے ساتھ ہے۔آیت: 17
  • آیت نمبر 19 میں  قریش کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم اللہ تعالی سے فتح کی دعا کرتے تھے اور یہ کہتے تھے :”اے اللہ ! جو حق پر ہو اسے کامیاب کر” تو اللہ تعالی نے  حق پر قائم گروہ کو کامیاب  کر دیا۔لہذا اگر مستقبل میں خیر چاہتے ہو تو  ابھی بھی وقت ہے ، اپنی نازیبا حرکتوں سےباز آ جاؤ۔ اس رسول پر ایمان لاؤ،  ورنہ  ہم دوبارہ تمہیں رسوا  کر دیں گے۔
  • آیت 20تا29میں مسلمانوں کو بہت سی اہم باتوں پر تنبیہ کی گئی ہے:
  • اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کریں،اور اطاعت کا دم بھر کر نافرمان نہ بنیں۔آیت ۲۰، ۲۱
  •      اللہ او راس کے رسول ﷺ کی طرف سے جو تعلیمات ان کے دل کی زندگی کیلئے دی جائیں انہیں برضا ورغبت  قبول کریں۔ آیت:۲۴
  • مسلمانوں کو ان کی اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے ساتھیوں او ر میل جول والوں کی اصلاح کی بھی دعوت دی گئی ہے۔ ورنہ اس کا انجام بہت برا ہوگا۔آیت:۲۵
  • مال و اولاد کے فتنے سے خبر دار کیا گیا ہے۔کیونکہ رسول کی اطاعت میں یہ چیزیں بڑی رکاوٹ بنتی ہیں۔ آیت:۲۸
  • اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ خیانت یعنی ان کے ساتھ بے وفائی سے روکا گیا ہے۔آیت: ۲۷
  •     تقوی کا خصوصی حکم دیا گیا ہے او ر اس کے فوائد بتائے گئے ہیں کہ اس سے چھوٹے بڑے سبھی گناہ معاف ہوں گے اور اس کے عوض اللہ تعالی تمہیں فرقان (حق اور باطل کے درمیان فرق  کرنے کی صلاحیت)عطا فرمائے گا۔آیت:۲۹
  • اس کے بعد شبِ ہجرت میں کفار نبی ﷺ کے خلاف جو چالیں چل رہے تھے، اس کا حوالہ دیا گیا ہے[19]۔
  • پھر کفار مکہ کو  مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمہارے اوپر یہ اللہ کا کرم ہے کہ محمد ﷺ جیسا نبی تمہارے درمیان موجود ہے، ورنہ قرآن کے ساتھ تمہارا جو سلوک  تھا کہ تم نے اسے پچھلے لوگوں کے قصے کہانیوں سے تعبیر کیا اور یہ  کہا کہ اگر ہم چاہیں تو اس جیسا بنا کر لے آئیں۔ اس کے عوض تمہارے اوپر عذاب آگیا ہوتا۔
  • نیز تم  یہ دعا بھی کرتے تھے کہ اے اللہ ! اگر یہ حق ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا،  یا کوئی دردناک عذاب ہم پر بھیج دے۔

ان سب حرکتوں کے باوجودیہ اللہ کا کرم ہی ہے ورنہ  اب تک تم لوگ نیست و نابود ہو چکے ہوتے ۔لیکن چونکہ تمہارے درمیان نبی موجود ہے اور کسی  نبی کی  موجودگی  میں کسی قوم پر عذاب نہیں آتا  (اس لئے تم بچے ہوئے ہو)۔

اور دوسری بات یہ ہے  کہ تم میں کچھ لوگ موجود ہیں جو اللہ تعالی سے استغفار کر رہے ہیں، خواہ یہ کمزور مسلمان ہوں یا وہ لوگ ہوں جن کے بارے میں اللہ کو علم تھا کہ یہ مسلمان ہوں گے۔(یعنی اگر یہ دونوں چیزیں نہ ہوتیں تو تمہاری ہلاکت یقینی تھی)[20]۔

  • پھر اس پارے کے آخری صفحہ پر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اس غزوہ میں قریش پر جو عذاب ان کے ستر لوگوں کے قتل اور ستر لوگوں کے قیدی بنائے جانے کی صورت میں پیش آیا ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ حقیقت میں وہ اس عذاب کے مستحق بھی تھے۔ کیوں کہ  یہ ان کے ان جرائم کی پاداش میں جو وہ اللہ کے نیک  بندوں کے ساتھ کرتے تھے، جیسے:
  • اللہ کے نیک بندوں کو اللہ کے گھر یعنی مسجد حرام سے روکتے تھے۔
  • اور وہ اپنے طور پر خود کو اللہ کا ولی یعنی مسجد حرام کا متولی کہتے تھے۔یہ ان کی زبردستی ہے، ورنہ در حقیقت وہ اس کے لائق ہی نہیں ہیں ۔کیونکہ یہ گھر اللہ کی توحید کے لئے بنایا گیا ہے نہ کہ شرک کے لئے۔
  • ان کی عبادت (سیٹیاں اور تالیاں بجانا)   فی الواقع عبادت ہی نہیں ،بلکہ یہ تو ایک قسم کا کھیل تماشا ہے۔
  • اور اللہ تعالی نے انہیں جو مال دیا ہے وہ اسے اللہ کے دین کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ حالانکہ اسے اللہ کے دین کی اشاعت کے لئے استعمال ہونا چاہئےتھا۔ اچھی طرح یاد رکھیں یہ چیز ان کیلئے  قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
  • اس پارے کا اختتام دو چیزوں پر کیا گیا ہے:
  • 1 )     کفار کو دھمکی دی گئی ہے  کہ اگر وہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت کریں گے تو  پہلے لوگوں کا طریقہ گزر چکا ہے(یعنی ان کے ساتھ دوبارہ وہی ہوگا جو پہلے ہوا)آیت:38
  • ۔ 2 ) مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے  کہ اگر وہ منہ موڑ لیتے ہیں تو تمہارا مددگار اور کارساز اللہ ہے،جو بڑا بہترین کارساز اور مددگا ر ہے۔آیت:40

[1] — عصا اور یدِ بیضاء یہ دونوں موسی علیہ السلام کے بہت بڑے معجزات میں سے تھے، جنہیں دیکر اللہ تعالی نے انہیں فرعون کے دربار میں بھیجا تھا۔

"عصا” کے معجزہ کی کیفیت یہ تھی کہ جب موسی علیہ السلام اسے زمین میں ڈالتے تھے تو وہ  ایک خوفناک ازدہا  بن  جاتا، جس سے دیکھنے والے خوف وہراس سے بھافنا شروع کر دیتے۔ﵟفَأَلۡقَىٰ عَصَاهُ فَإِذَا هِيَ ثُعۡبَانٌ مُّبِينٌ ( ١٠٧)” پس آپ نے اپنا عصا ڈال دیا، سو دفعتاً وه صاف ایک اﮊدھا بن گیا۔  سورہ طہ میں ہے: ﵟفَأَلۡقَىٰهَا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسۡعَىٰ (٢٠)”پس اسے ڈالا تو وہ سانپ بن کر دوڑنے لگا”۔

"یدِ بیضائ” کی کیفیت یہ تھی کہ حضرتِ موسی علیہ السلام اپنا دایاں ہاتھ بغل میں ڈال کے نکالتے تو وہ چمکتا ہوا نکلتا، جسے دیکھنے والے حیران ہوجاتے۔ ﵟوَنَزَعَ يَدَهُۥ فَإِذَا هِيَ بَيۡضَآءُ لِلنَّٰظِرِينَ (١٠٨)” اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وه یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا۔

[2]—  اس سلسلے میں درج ذیل آیات پڑھنے لائق ہیں:فَلَمَّا أَلْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاءُوا بِسِحْرٍ عَظِيمٍ (116) وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُونَ (117) فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (118) فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوا صَاغِرِينَ (119) "(موسیٰ علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم ہی ڈالو، پس جب انہوں نے ڈاﻻ تو لوگوں کی نظر بندی کر دی اور ان پر ہیبت غالب کر دی اور ایک طرح کا بڑا جادو دکھلایا۔اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا ڈال دیجئے! سو عصا کا ڈالنا تھا کہ اس نے ان کے سارے بنے بنائے کھیل کو نگلنا شروع کیا۔پس حق ﻇاہر ہوگیا اور انہوں نے جو کچھ بنایا تھا سب جاتا رہا۔پس وه لوگ اس موقع پر ہار گئے اور خوب ذلیل ہوکر پھرے”۔

[3]{وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوا يَامُوسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَئِنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِي إِسْرَائِيلَ (134) فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ إِلَى أَجَلٍ هُمْ بَالِغُوهُ إِذَا هُمْ يَنْكُثُونَ (135)” اور جب ان پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے کہ اے موسیٰ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دعا کر دیجئے! جس کا اس نے آپ سے عہد کر رکھا ہے، اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرور ضرور آپ کے کہنے سے ایمان لے آئیں گے اور ہم بنی اسرائیل کو بھی (رہا کر کے) آپ کے ہمراه کر دیں گے۔ پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک کہ اس تک ان کو پہنچنا تھا ہٹا دیتے، تو وه فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔

[4]–  فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَأَغْرَقْنَاهُمْ فِي الْيَمِّ بِأَنَّهُمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَكَانُوا عَنْهَا غَافِلِينَ (136)” پھر ہم نے ان سے بدلہ لیا یعنی ان کو دریا میں غرق کر دیا اس سبب سے کہ وه ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے اور ان سے بالکل ہی غفلت کرتے تھے”۔

[5]ﵟوَجَٰوَزۡنَا بِبَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ ٱلۡبَحۡرَ فَأَتَوۡاْ عَلَىٰ قَوۡمٍ يَعۡكُفُونَ عَلَىٰٓ أَصۡنَامٍ لَّهُمۡۚ قَالُواْ يَٰمُوسَى ٱجۡعَل لَّنَآ إِلَٰهاً كَمَا لَهُمۡ ءَالِهَةٌۚ قَالَ إِنَّكُمۡ قَوۡمٌ تَجۡهَلُونَ (١٣٨)”اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے”۔

 اس واقعے سے ایک اہم فائدہ یہ حاصل ہوا  کہ جہالت سے اگر کوئی  شخص کوئی شرک کی بات کرتا ہے تو یہ عمل ِجہالت تو ہے لیکن اس سے کوئی آدمی مشرک نہیں ہو جاتا۔

 یہاں اس حدیثِ نبوی کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔حضرت ابوواقد لیثی رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حنین کے لئے روانہ ہوئے تو آپﷺ  کا گزر مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے ہوا، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا۔ اس درخت پر مشرکین (تبرک کے لئے)اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئیے جیسا کہ مشرکین کا ایک ذات انواط ہے۔ یہ سن کرنبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "سبحان اللہ! یہ تو وہی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لئے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان مشرکوں کے لئے ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم گزشتہ امتوں کی پوری پوری پیروی کرو گے“۔ سنن الترمذي:2180 ، صحيح الموارد:1540

[6]وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (143) کن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وه اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہوکر گر پڑے۔ پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بےشک آپ کی ذات منزه ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان ﻻنے واﻻ ہوں۔

اس آیت کی روشنی میں اہلِ سنت وجماعت کا عقیدہ ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص حالِ بیداری میں اللہ تعالی کا دیدار نہیں کر سکتا۔

[7] — واضح رہے کہ  یہ  سب ناراضگی صرف اللہ کےلئے تھی ،اس لئے نہ حضرت ہارون علیہ لاسلام نے اس پر ناراضگی ظاہرکی  اور نہ ہی اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام کی کوئی سرزنش کی، جس سے ہمیں سبق ملتا ہے ہر ایسے شخص کی غلطی سے تجاوز کیا جائے جو اپنے ذاتی مفاد کے لئے غلطی کا ارتکاب نہیں کر رہا ہے۔

[8] — اس  واقعہ سے اندازہ لگائیں کہ کس طرح حضرت موسی علیہ السلام ہر چھوٹے بڑے موقع  پر اللہ تعالی سے دعا  کرتے اور اس کی طرف رجوع کا طریقہ اپنائے ہوئے تھے۔ ایک عالم نے کہا کہ حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے بڑی سےبڑی چیز یعنی اس کی رویت کا سوال کیا اور معمولی چیز کا بھی سوال کیا۔ چنانچہ مدین میں پہچنے کے بعد کہا تھا:  ﵟرَبِّ إِنِّي لِمَآ أَنزَلۡتَ إِلَيَّ مِنۡ خَيۡرٍ فَقِيرٌ (٢٤) القصص "اے میرے رب!  تو جو کچھ بھلائی میری طرف نازل کرے میں اس کا محتاج ہوں۔اس سے ایک مسلمان کو عموما اور ایک داعی کو خصوصا یہ سبق ملتا ہے کہ  دعا کا خصوصی اہتمام کرے۔

[9]أَنتَ وَلِيُّنَا فَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَاۖ وَأَنتَ خَيۡرُ ٱلۡغَٰفِرِينَ (١٥٥) وَٱكۡتُبۡ لَنَا فِي هَٰذِهِ ٱلدُّنۡيَا حَسَنَةً وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِ إِنَّا هُدۡنَآ إِلَيۡكَۚ”.” ۔ تو ہی تو ہمارا کارساز ہے پس ہم پر مغفرت اور رحمت فرما اور تو سب معافی دینے والوں سے زیاده اچھا ہے۔ اور ہم لوگوں کے نام دنیا میں بھی نیک حالی لکھ دے اور آخرت میں بھی، ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں”۔

[10]ﵟقُلۡ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّي رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيۡكُمۡ جَمِيعًا ٱلَّذِي لَهُۥ مُلۡكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ يُحۡيِۦ وَيُمِيتُۖ فَـَٔامِنُواْ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِ ٱلنَّبِيِّ ٱلۡأُمِّيِّ ٱلَّذِي يُؤۡمِنُ بِٱللَّهِ وَكَلِمَٰتِهِۦ وَٱتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُونَ (١٥٨)” آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف اس اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہوں، جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے ﻻئق نہیں وہی زندگی دیتا ہے اور وہی موت دیتا ہے سو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے نبی امی پر جو کہ اللہ تعالیٰ پر اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کا اتباع کرو تاکہ تم راه پر آجاؤ”۔

          یہ آیت اس بارے میں نصِ صریح ہے کہ نبیﷺ کی آ٘د کے بعد اب ہدایت کا راستہ یہی ہے کہ آپ ہر ایمان لایا جائے اور اس کی پیروی کی جائے۔

[11]ﵟفَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦٓ أَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذۡنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ بِعَذَابِۭ بَـِٔيسِۭ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ (١٦٥) فَلَمَّا عَتَوۡاْ عَن مَّا نُهُواْ عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ (١٦٦)” سو جب وه اس کو بھول گئے جو ان کو سمجھایا جاتا تھا تو ہم نے ان لوگوں کو تو بچا لیا جو اس بری عادت سے منع کیا کرتے تھے اور ان لوگوں کو جو کہ زیادتی کرتے تھے ایک سخت عذاب میں پکڑ لیا اس وجہ سے کہ وه بےحکمی کیا کرتے تھے۔ یعنی جب وه، جس کام سے ان کو منع کیا گیا تھا اس میں حد سے نکل گئے تو ہم نے ان کو کہہ دیا تم ذلیل بندر بن جاؤ”۔

یعنی اولا  انہیں ایسا عذاب دیا گیا جن سے انہیں عبرت ہو اور وہ اپنی بری عادت سے بعض آجائیں ، لیکن جب ضد پر اڑ گئے اور برائیوں کے ارتکاب پر فخر کرنے لگے تو اللہ تعالی نے ان کی صورتیں بدل دیں۔

اس آیت سے ظاہے کہ نجات صرف انہیں ملی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کر رہے تھے۔

[12] — وَإِذۡ نَتَقۡنَا ٱلۡجَبَلَ فَوۡقَهُمۡ كَأَنَّهُۥ ظُلَّةٌ وَظَنُّوٓاْ أَنَّهُۥ وَاقِعُۢ بِهِمۡ خُذُواْ مَآ ءَاتَيۡنَٰكُم بِقُوَّةٍ وَٱذۡكُرُواْ مَا فِيهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُونَ (١٧١)” اور وه وقت بھی قابل ذکر ہے جب ہم نے پہاڑ کو اٹھا کر سائبان کی طرح ان کے اوپر معلق کر دیا اور ان کو یقین ہوگیا کہ اب ان پر گرا اور کہا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اسے مضبوطی کے ساتھ قبول کرو اور یاد رکھو جو احکام اس میں ہیں اس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ۔

          یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب موسی علیہ السلام ان کے پاس تورات لائے اوراس کے احکام سنائے تو بنیا اسارائیل نے حسبِ عادت ان احکام پر عمل کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ اس میں بہت سے احکام ایسے تھے جو ان کی طبیعت اور سہولت کے خاف تھے، جس پر اللہ تعالی نے طور پہاڑ کو  ان پر بلند کردیا  اور کہا کہ  تم پر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا ، اس انہوں نے جب موت کو سامنے کھڑا دیکھآ تو سجدے میں گر گئے اور  احکامِ تورات کی پابندی کا عہد کیا۔ تفسیر احسن البیان،  معارف القرآن

[13] — حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ تعالی نے وادی نعمان یعنی عرفہ میں آدم علیہ السلام کی پشت سے  میثاق لیا ، اس کی صورت یہ تھی کہ آدم علیہ السلام کی پشت سے ان کی تمام ذریت کو باہر نکالا جنہیں قیامت تک اللہ تعالی نے  پیدا کرنا تھا ، اور ان کے سامنے پھیلا دیا ،پھر  فرمایا: کیا میں واقعی تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے یک زبان ہوکر جواب دیا: کیوں نہیں، ہم شہادت دیتے ہیں ، ( اس پر اللہ تعالی نے فرمایا: ایسا نہ ہو )کہ تم قیامت کے دن کہو کہ  ہم اس سے غافل تھے،یا یہ کہو کہ شرک تو ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا ہی نے کیا تھا اور ہم تو ان کے بعد ایک نسل تھے ، تو (اے اللہ ) کیا ہمیں اس کی وجہ سے ہلاک کرے گا  جو باطل  پرست لوگوں نے کیا تھا۔         مسند احمد 1/ 272، مستدرک الحاکم2/544                             دیکھئے الصحیحۃ :1623

[14] — اس قصے میں جو تربیتی فوائد ہیں وہ  دعوت وتبلیغ کا کام کرنے والوں کے لئے بڑے اہم ہیں۔ ان تربیتی فوائد کے لئے تفسیر معارف القرآن کا مطالعہ بہت مفید رہے گا  ج 4/ص  122، 123

[15] — ضروری دیکھئے تفسیر معارف القرآن ج 4/ ص 150

[16] وَإِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (200)” اور اگر آپ کو کوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آنے لگے تو اللہ کی پناه مانگ لیا کیجئے بلاشبہ وه خوب سننے واﻻ خوب جاننے واﻻ ہے”۔

[17] —  ﵟوَٱذۡكُر رَّبَّكَ فِي نَفۡسِكَ تَضَرُّعاً وَخِيفَةً وَدُونَ ٱلۡجَهۡرِ مِنَ ٱلۡقَوۡلِ بِٱلۡغُدُوِّ وَٱلۡأٓصَالِ وَلَا تَكُن مِّنَ ٱلۡغَٰفِلِينَ (٢٠٥)” اور اے شخص! اپنے رب کی یاد کیا کر اپنے دل میں عاجزی کے ساتھ اور خوف کے ساتھ اور زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح اور شام اور اہل غفلت میں سے مت ہونا۔

اگر غور کریں تو  اس آیت میں اللہ کے ذکر کی تاکید اور اس کے کئی آداب بیان ہوئے ہیں۔ 1-  "فی نفسک” یعنی ذکر دل سے کرے ، صرف زبان چل رہی ہو اور دل حاضر نہ ہو تو کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔       2- "تضرعا” ذکر خوب عاجزی اور گڑگڑا کر کیا جائے۔         3- "خیفۃ” اللہ کا خوف دل پر طاری ہو اور اپنی عملی کوتا ہی  اور اللہ کی گرفت کا ڈر ہو۔      4-  ” دون الجہر من القول”  آواز کے بغیر ہو، نہ بہت آہستہ اور نہ ہی بہت بلند آواز سے ہو،      5-  ” ولا تکن من الغافلین” ذکر ہر وقت  ہوخصوصا صبح وشام کے اوقات میں۔ تفسیر القرآن الکریم  از عبد السلام  1/ 720

[18] — ہمیں بھی اس پر اپنا محاسبہ کرنا چاہئے ،اور یہ اوصاف اپنے اندر پیدا کرنے کی خوب کوشش کرنی چاہئے،کیونکہ انہی اوصاف سے متصف لوگوں کو سچے مؤمن  قرار دیا گیا ہے۔  أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)” سچے ایمان والے یہ لوگ ہیں ،ان کے لیے بڑے درجے ہیں، ان کے رب کے پاس اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے”۔

[19]ﵟوَإِذۡ يَمۡكُرُ بِكَ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ لِيُثۡبِتُوكَ أَوۡ يَقۡتُلُوكَ أَوۡ يُخۡرِجُوكَۚ وَيَمۡكُرُونَ وَيَمۡكُرُ ٱللَّهُۖ وَٱللَّهُ خَيۡرُ ٱلۡمَٰكِرِينَ (٣٠)” اور اس واقعہ کا بھی ذکر کیجئے! جب کہ کافر لوگ آپ کی نسبت تدبیر سوچ رہے تھے کہ آپ کو قید کر لیں، یا آپ کو قتل کر ڈالیں یا آپ کو خارج وطن کر دیں اور وه تو اپنی تدبیریں کر رہے تھے اور اللہ اپنی تدبیر کر رہا تھا اور سب سے زیاده مستحکم تدبیر واﻻ اللہ ہے”۔

          یہاں اس سازش کا تذکرہ ہے جو روسائے مکہ نے دار الندوہ میں تیار کی تھی اور بالآخر یہ طے پایا تھا کہ مختلف قبائل کے نوجوانوں کو آپ کے قتل پر مامور کیا جائے ، تاکہ کسی ایک کو قتل کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے، بلکہ دیت دے کر جان چھوٹ جائے۔ احسن البیان ص:۴۶۷

 نوٹ۔ سند کے لحاظ سے یہ قصہ ثابت نہیں ہے، البتہ قرآن کا ظاہر یہ بتلا رہا ہے کہ ایسی کوئی ظالمانہ مجلس ضرور منعقد ہوئی تھی۔ واللہ اعلم۔

[20]ﵟوَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمۡ وَأَنتَ فِيهِمۡۚ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ يَسۡتَغۡفِرُونَ (٣٣)” اور اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے گا کہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وه استغفار بھی کرتے ہوں”۔

معلوم ہوا کہ کسی قوم رسول کی موجودگی اس قوم پر عذاب میں مانع ہے، اسی لئے پچھلی قوموں پر جب اللہ کا عذاب آنا ہوتا  تو اللہ کے رسول کو وہاں سے نکل جانے کا حکم ہوتا تھا۔

دوسری بات اس آیت سے یہ معلوم ہوئی کہ استغفار ایک ایسی نیکی ہے جو کسی مومن پر سے اللہ کے عذاب کو روکتی ہے۔ چنانچہ اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ  دو امان کی چیزیں تھیں ، ایک رسولﷺ اور دوسرے استغفار۔ رسولﷺ تو چلے گئے، لیکن استغفار رہ گیا  ہے۔ تفسیر ابن کثیر