*پندرہواں پارہ(سبحان الذی)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

*پندرہواں پارہ(سبحان الذی)*

پندرہویں پارے کے دو حصے ہیں؛پہلا حصہ مکمل سورہ بنی اسرائیل، جبکہ دوسرا حصہ سورہ کہف کے اکثر حصے پر مشتمل ہے۔ یعنی آیت 1 تا 74 تک ۔
سورت بنی اسرائیل
یہ سورت مکی ہے ۔
مکی سورتوں کی طرح اس سورت کا موضوع عقیدہ ہے۔جس میں عقیدہ رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے موضوع پر خصوصی توجہ ہے۔
نیز قرآن مجید کی اہمیت، اس کی شان اور اس کی حقیقت پر تفصیلی بحث ہے۔ کتاب اور قرآن کا ذکر جس قدر اس سورت میں ہوا ہے کسی اور سورت میں نہیں پایا جاتا۔ نیزاس سورت میں بعض اجتماعی اور معاشرتی مسائل پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔
o پہلی آیت میں واقعہ اسراء و معراج کی طرف اشارہ ہے جس میں اس کا مقام اور اس کی حکمت کا بیان ہے۔
اسراء کا مقام مسجدحرام سے مسجد اقصی تک ہے۔ مسجد اقصی کو وہ حیثیت ہے کہ اس کے ارد گرد کی زمین مبارک ہی مبارک ہے۔
اسراء کی حکمت یہ ہے کہ نبی ﷺ کو عجائب قدرت اور رب کائنات کی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کرایا جائے۔ نیز ایک معنوی حکمت یہ بھی کہ اب ان دونوں مسجدوں کی سر پرستی واختیار امت مسلمہ کے ہاتھوں آنے والا ہے۔
o دوسری آیت میں حضرت موسی علیہ السلام ، انہیں دی گئی کتاب "تورات” او راس میں توحید کی تعلیم کا ذکر ہے ۔
گویا یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ دعوت جو محمد ﷺ پیش کر رہے ہیں یہ کوئی نئی دعوت نہیں ہے۔
o تیسری آیت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام رسولوں کے اس سلسلے کی کڑی ہیں جو سلسلہ حضرت نوح علیہ السلام سے شروع ہوا۔ پھر یہ بھی خبر دی گئی کہ یہ سلسلہ نبوت و رسالت حضرت نوح علیہ السلام سے چلتا ہوا حضرت موسی و عیسی علیہما السلام تک پہنچا ہے ،اور اب اس کی ایک کڑی محمد ﷺ ہیں ، اور اب یہ وراثت انہیں کی طرف منتقل ہوئی ہے ۔
o آیت 4 سے 8 تک بنی اسرائیل سے متعلق اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ ان پر اللہ کی مار کیوں پڑی؟
o اس بارے میں اللہ تعالی نے انہیں تورات میں پہلے ہی آگاہ کر دیا تھا کہ تم ایسے ایسے فساد مچاؤ گے ، جس کے نتیجے میں تمہیں ذلیل و خوار ہونا پڑے گا ، حتی کہ تمہیں شہر بدر بھی کیا جائے گا ۔اور بالکل ایسا ہی ہوا۔
o مورخین کے مطابق جب پہلی بار 600 سال قبل مسیح میں بخت نصر نے فلسطین میں یہودیوں کا قتل عام کیا اور انہیں تتر بتر کیاتھا۔
لیکن جب انہوں نے توبہ کر لی اور اپنے حالات سدھار لئے تو انہیں ایک فارسی حاکم کے ذریعے بیت المقدس کی حکمرانی اور اختیار ملا۔لیکن دوسری بار جب انہوں نے بڑا فساد مچایا اور حضرت زکریا علیہ السلام کو قتل کیا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو سولی دینا چاہا تو 70 عیسوی میں رومی بادشاہ ٹیٹس نے ان کا قتل عام کیا،مسجدِ اقصی کی بے حرمتی کی اور انہیں تتر بتر کر دیا۔
o آیت نمبر 7 اور 8 میں اللہ تعالی نے جزا و سزا کا ایک قانون بتلایا ہے۔ إِنْ أَحْسَنْتُمْ أَحْسَنْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ وَإِنْ أَسَأْتُمْ فَلَهَا” اگر تم نے اچھے کام کئے تو اپنے ہی فائدے کے لئے، اور اگر تم نے برائیاں کیں تو بھی اپنے ہی لئے”۔
وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا” اگر تم پھر بھی وہی کرنے لگے تو ہم بھی دوبارہ ایسا ہی کریں گے۔یعنی ’’جیسے کرنی ویسے بھرنی‘‘۔
o آیت نمبر 9 اور 10 میں اللہ تعالی نے قرآن کی صفت اور اس کی دعوت بیان فرمائی ہے۔
o اس کی صفت یہ کہ یہ سب سے زیادہ سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ”اقوم ” یعنی وہ راستہ جو منزل مقصود تک پہنچانے کا سب سے قریب ،آسان اور بے خطر راستہ ہے۔
o اور قرآن کی دعوت یہ ہے کہ سیدھے راستے کو قبول کرنے والوں کے لئے جنت کی خوشخبری ہے ،اور اس کی دعوت کو رد کرنے والوں کو دردناک عذاب کی خبر ہے ۔
o آیت 11 تا 17 میں کائنات میں پائی ناے والی بعض نشانیاں جیسے دن اور رات کی آمد او راس کے فوائد ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اہل مکہ کو خبردار کیا ہے کہ یہ قدرت والا رب تمہارے سارے اعمال کو جمع کر رہا ہے او ر ایک دن آئے گا کہ تم اسے اپنے سامنے کھلی کتاب کی شکل میں پاؤ گے۔
o لہذا ہدایت کا راستہ قبول کر لو اسی میں تمہاری بھلائی ہے،تمہارے پاس اللہ کی واضح دلیل آ چکی ہے۔اب اس کے بعد کسی اور دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
o اور یاد رکھو کہ اللہ کے نزدیک کسی قوم کے ہلاک کرنے کا اصول یہی ہے کہ وہ ان کے سامنے واضح دلائل پیش کر دیتا ہے،اور انہیں خیر و بھلائی کا حکم دیتا ہے۔ لیکن لوگ اللہ کے رسول کی پیروی کی بجائے اپنے بڑوں اور لیڈروں کے پیچھے چل پڑتے ہیں، تو یہی چیز ان کی تباہی کو سبب بنتی ہے۔
o آیت 18 سے 21 تک دنیا و آخرت اور ان کے لئے کوشش کرنے والوں کا ذکر ہے۔
o اللہ تعالی نے فرمایا کہ دنیا کے لئے کوشش کرنے والوں کو ہم اتنا ہی دیتے ہیں جتنا ہم چاہتے ہیں، اور جس کو چاہتے ہیں صرف اسی کو دیتے ہیں۔البتہ جو لوگ ایمان و اخلاص اور اتباع کے ساتھ آخرت کی جستجو میں لگے رہتے ہیں تو ان کی کوشش کی قدر کی جائے گی۔
o آیت نمبر 22 میں اللہ تعالی نے توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا اور اس کا انجام بیان کیا ہے ۔
o آیت 18 سے 21 تک اللہ تعالی نے بیس کے قریب ان اصول اور معاشرتی واجتماعی آداب کا ذکر کیا ہے جو کسی پر امن معاشرے کے لئے بہت اہم اور ضروری ہوتےہیں۔ جو مختصراً درج ذیل ہیں
o 1- اللہ واحد کی عبادت کا حکم دیا۔ 2- والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ۔ آیت:23تا 25
o 3- رشتے داروں کا حق ا ا کرنے کا حکم دیا ۔ 4- مسکینوں پر خرچ کا حکم دیا۔ 5- مسافروں پر خرچ کا حکم دیا۔ 6-فضول خرچی کی ممانعت کی ۔،بلکہ اسے شیطانی عمل قرار دیا اور ایسا کرنے والوں کو شیطان کا بھائی بتایا۔ آیت:26، 27 ۷- صدقہ پر عدم مقدرت کی صورت میں نرمی اور خوش اسلوبی سے معذرت کا حکم دیا۔ آیت:28
o 8- خرچ (حتی کہ صدقہ کرنے) میں اعتدال اور میانہ روی کا حکمدیا۔ آیت:29
o 9- روزی کی تنگی کے ڈر سے اولاد کے قتل کی ممانعتکی ، بلکہ اسے بہت بڑی غلطی سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ آیت:31
o 10- زنا اور اس کے وسائل سے منع کیا ہے۔ آیت:32
o 11- نا حق خون کرنے کی ممانعت کی، بلکہ یہ بھی کہا گیا کہ جو شخص ظلماً قتل ہوگا اللہ تعالی اس کے ولی کی مدد کی جائے گی۔آیت:33
o 12- یتیم کا مال ہڑپنے کی ممانعت کی۔ 13- ایفائے عہد کا حکم دیا، بلکہ اس میں کوتاہی پر دھمکی دی گئی ہے۔ آیت: 34
o 14- ناپ اور تول میں کمی کرنے کی ممانعت کی ہے۔ آیت:35
o 15- بلا علم کوئی بات کہنے اور جس کا علم نہیں اس کے پیچھے پڑنے کی ممانعت کی ہے۔ بلکہ خبر دار کردیا کہ یاد رکھو! کان ، آنکھ اور دل سے متعلق قیامت کے دن سوال ہوگا۔ آیت:36
o 16- زمین میں اکڑ کر چلنے کی ممانعت کی ہے۔ آیت:37
o 17- شرک کے ارتکاب سے روکا اور اس پر جہنم کی دھمکی دی ہے۔ آیت:39
o ان امور کے آخر میں یہ تنبیہ کہ یہ ساری حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے وحی کے ذریرےبھیجی ہیں ، اور ان کی مخالفت اللہ تعالی کو بہت ہی ناپسندیدہ ہے ۔
o آیت نمبر 40 کے بعد کلام کا رخ مشرکین کی بعض گمراہیوں اور پھر ان کی اصلاح کی طرف پھیر دیا گیاہے۔جیسے:
o وہ اپنے لئے توبیٹے اور اللہ کے لئے بیٹیاں پسند کرتے ہیں۔ یہ کیسی بے عقلی ہے؟
o وہ ایک سے زائد معبودوں کے قائل ہیں۔ حالانکہ ایک سے زائد حاکم باعث فساد اور ایک دوسرے سے لڑائی کا سبب ہوتے ہیں ۔
o اللہ تعالی کی ذات تو وہ عظیم ذات ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس کی تابعداراور اپنے اپنے انداز میں اس کی حمد و ثناء میں لگی ہوئی ہے۔ یہ اللہ کی عظمت کی دلیل ہے۔
o حالانکہ قرآن ہر قسم کی ہدایت اور ہر قسم کے دلائل سے مالامال ہے، اس کےباوجود کیوں مشرکین اس سے عبرت حاصل نہیں کرپاتے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر طرح سمجھانے کے باوجود جب مشرکین اپنی بے ایمانی پر اڑے رہے تو اللہ تعالی نے ان کے اور ان کے نبی کے درمیان ایسا ایک معنوی پردہ حائل کردیا جس کی وجہ سے وہ سننے اور دیکھنے کے باوجود بہرے اور نابینا بنے ہوئے ہیں ۔
o آیت : 47، 48 میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے سردار خود تو چھپ چھپ کر قرآن کو سنتے ہیں اور دوسروں کو اس سے روکنے کے لئے مختلف بہانے ڈھونڈھتے ہیں۔ کبھی مجنون ، کبھی سحرزدہ اور کبھی پاگل کہتے ہیں۔
o مشرکین کو یہ ایک شبہ تھا کہ ہم جب مر کر سڑ گل جائیں گے تو دوبارہ کیسے زندہ کئے جائیں گے؟۔
o اللہ تعالی نے فرمایا کہ مٹی ہی نہیں بلکہ اگر تم پتھر او ر لوہا بن جاؤ ،یا کوئی اور چیز بن جاوجس میں دوبارہ تمہیں زندگی بعید محسوس ہو ۔ لیکن یاد رکھو جس رب نے تمہیں پہلی بار جب تم کچھ نہ تھے تو وجود بخشا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرلے گا۔
o اور یہ بھی یاد رکھو! اس دن جب وہ تمہیں بلائے گا تو اس کی فرمانبرداری میں اس ی کا گن گاتے ہوئے حاضر ہو جاوگے۔
o آیت نمبر 53 میں مسلمانوں کو تین بڑی اہم نصیحتیں کی گئی ہیں۔
1) اچھی اور بھلی باتیں ہی بولا کریں ۔
2) بھلی بات نہ کہنے او ر بد کلامی کی وجہ سے شیطان درمیان میں کود پڑتا ہے،اورباہم لڑائی کردیتا۔
3) یاد رکھو ! شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے جس سے بچنے کی اشد ضرورت ہے۔
o آیت نمبر 54، 55 میں مشرکین کو تنبیہ ونصیحت کی گئی ہے کہ اللہ تعالی کو تمہارے بارے میں خود تم سے زیادہ علم اور قدرت حاصل ہے وہ تمہیں عذاب بھی دے سکتا ہے اور تمہارے اوپر رحم کرکے تمہیں ایمان کی توفیق بھی بخش سکتا ہے۔ نیز نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ آپ تسلی رکھیں اگر یہ لوگ ایمان نہ لائیں تو اس کی باز پرس آپ سے نہ ہوگی۔
o آیت 56 اور 57 میں کفار کے باطل عقیدہ وسیلہ ممنوعہ کا رد ہے کہ اپنے جن معبودوں کو تم وسیلہ سمجھ کر پکارتے ہو وہ تمہارے لئے کسی بھی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ بلکہ وہ تو خود کسی ایسےعمل صالح کے وسیلہ کی تلاش او ر کوشش میں رہتے ہیں جو انہیں ان کے رب کے قریب کر دے۔
o آیت 5۸ اور 5۹ میں اہل مکہ کو خبر دار کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالی کا یہ فیصلہ ہے کہ جو بستی بھی ظلم پر ڈٹ جاتی ہے ہم اسے یا تو ہلاک کر دیتے ہیں یا سخت عذاب دیتے ہیں، یہ بات اللہ تعالی کی طرف سے طے شدہ ہے۔
o لہذا تمہیں اپنے بچاؤ کی فکر کرنی چاہئے۔ اور جہاں تک تمہارے مطالبے کے باوجود نشانیاں ظاہر نہ کرنے کا تعلق ہے تو اس کا سبب تم پر رحم کرنا ہے ۔ورنہ جب قوم ثمود نے نشانیاں طلب کیں اور پھر ایمان نہ لائے تو انہیں ہلاک کر دیا گیا۔
o آیت نمبر 60 میں واقعہ معراج کی طرف اشارہ ہے ،جو ایک طرف کمزور ایمان والوں کے لئے آزمائش کا سبب تھا اور دوسری طرف کافروں کیلئے بھی آزمائش تھی کہ جب آپﷺ نے بیان فرمایا کہ میں نے جہنم میں ایک درخت(زقوم) دیکھا ہے ( تو انہیں تعجب ہوا کہ آگ میں درخت کیسے اگ سکتا ہے۔وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِي أَرَيْنَاكَ إِلَّا فِتْنَةً لِلنَّاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا (60)” اور جو رؤیا(عینی رؤیت) ہم نے آپ کو دکھائی تھی وہ لوگوں کے لئے صاف آزمائش تھی اور اسی طرح وہ درخت بھی جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے، ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ، لیکن یہ ڈرانا بھی انہیں اور بڑی سرکشی میں بڑھا رہا ہے۔
o آیت 61 سے 65 تک حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جب شیطان نے آدم علیہ السلام کوسجدہ کرنے سے انکار کر دیا ۔اس کا ذکر ہے۔
o نیز اس میں انسانوں کے ساتھ شیطان کی دشمنی اور اس کی باریک اورمستقل چلی جانے والی چالوں کو بیان کیا گیا ہے جو ہمارے لئے باعث عبرت ہے کہ ہم کس طرح اس کے مکر و فریب سے بچ سکتے ہیں۔
o اس مقام پر دو چیزیں خصوصی طور پر توجہ طلب ہیں:
1) ” وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا” (شیطان کے وعدے فریب ہیں) ۔گویا کہ جو بھی شیطانی کام ہیں وہ بظاہر بڑے اچھے، خوبصورت او ر مفید لگتے ہیں لیکن نتیجہ کے لحاظ سے دھوکہ ہوتے ہیں ۔
2) ” إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ وَكَفَى بِرَبِّكَ وَكِيلًا (65)” ( بلا شبہہ میرے سچے اور مخلص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں، اورتیرارب کاسازی کرنے والا کافی ہے) یعنی شیطان سے بچاؤ کی واحد راہ” عبادی” یعنی اللہ کے خاص بندوں میں داخل ہونا ہے۔گویا جو شخص عبادت کے جتنا قریب ہوگا وہ شیطان سے اتنا ہی بچا رہےگا۔
3) اس سلسلے میں یہاں ایک تیسری یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ فرمان الہی:”وَشَارِكْهُمْ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ”( اور ان کے مال واولاد میں ان کا شریک بن جا” –
اولا– اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان ہمارے تمام چھوٹے بڑے معاملات میں دخل دیتا ہے ۔
ثانیا- مال میں شریک ہونے اور اولاد میں شریک ہونے کا کیا معنی ہے؟ یہ چیز قابل توجہ ہے۔ تو دھیان رہے کہ مال میں شیطان کی شرکت میں فضول خرچی بھی داخل ہے اور اولاد میں شیطان کی شرکت میں ان کی غلط تربیت بھی داخل ہے۔
o آیت 66 تا 69 میں اللہ کی بعض نعمتوں کا ذکر کے شرک سے بچنے اور توحید کو اپنانے کی دعوت دی گئی ہے۔
o ایک اہم نعمت سمندر کا ان کے لئے مسخر کردینا ہے، جس میں ان کے لئے کھانے اور زینت کی چیزوں کی وافر مقدار میں موجودگی کے ساتھ ساتھ لاکھوں ٹنوں سے لدا جہاز ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں لے جانے کی سہولت بھی شامل ہے۔
o لیکن یہ انسان کی بدقسمتی ہے کہ جب وہ سمندر میں کسی مصیبت کا شمار ہوتا ہے تو صرف اللہ کے سامنے روتا اور گڑگڑاتا ہے، لیکن جب سمندر سےباہر آتا ہے تو اسی اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ حالانکہ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ تعالی اسے خشکی میں بھی ہلاک کرسکتا ہے اور دوبارہ سمندر میں لے جاکر بھی ڈبو سکتا ہے۔ کیونکہ صحراء وسمندر میں ہر جگہ اسی کا حکم نافذ ہے ۔
o آیت نمبر 70 میں انسان کی عزت افزائی اور اس پر اللہ کے فضل کا ذکر ہے کہ اللہ تعالی نے اسے قابلِ احترام قرار دیاہے،خشکی و تری میں اس کی آمد و رفت کا انتظام کیا ہے، اسے پاکیزہ چیزوں سے روزی دی ہے،او ر اسے دیگر بہت سی مخلوقات سے بہتر بنایا ہے۔
o آیت 71 اور 72 میں قیامت کے بعض مناظر بیان ہوئے ہیں،جیسے نامہ اعمال کی تقسیم ۔
o کہ جن لوگوں کو نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں ملے گا وہ بخوشی اپنا نامہ اعمال پڑھیں گے اور ان پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا۔
o ان کے بر خلاف جنہیں نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں ملے گا وہ نابینا اٹھائے جائیں گے اور دنیاوی زندگی سے سے بھی زیادہ لاچار ومجبور ہونگے ۔
o آیت 74 تا 77 میں نبی ﷺ کو اپنے کام میں لگے رہنے ، دین پر ثابت قدمی اور مخالفین کی باتوں میں نہ آنے کی تعلیم دی گئی ہے ۔
o ان آیات میں ایک طرف پیار بھرے انداز میں یہ دھمکی دی ہے اور دوسری طرف یہ تسلی بھی دی گئی ہےکہ اللہ تعالی اپنے نبی کی ہر میدان میں مدد کرتا ہے۔
o اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اللہ تعالی کی سنت ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نبی کو اپنے شہر سے نکال دیتی ہے تو پھر ان کی بھی کوئی خیر باقی نہیں رہتی ۔
o آیت 78 اور 79 میں اللہ تعالی نے اپنے نبی کو نماز کا حکم دیا ہے۔
o ان آیات سے علماء نے پنج وقتہ نمازوں کے اوقات ثابت کئے ہیں ۔
o نیز یہاں نماز کے ذکر کا ایک مقصد یہ ہے کہ ہرمشکل وقت میں نماز سکون و اطمینا ن اور اللہ کی مدد کا بہت بڑا ذریعہ ہے ۔
o نیز آیت نمبر78سے نماز فجر کی فضیلت ثابت ہو رہی ہے۔ اس طرح کہ اس وقت فرشتوں کی حاضری ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ لفظ ” قُرْآنَ الْفَجْرِ” سے نماز فجر میں طویل قراءت کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے۔
o آیت نمبر 80 میں جو دعا مذکور ہے(وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا) ۔
اس سے ہجرت کی طرف اشارہ ہے کہ اب مکہ مکرمہ سے ہجرت کا وقت قریب ہے اور ہجرت کے بعد اللہ کی طرف سے اچھے ٹھکانے اور مدد کا بھی وعدہ ہے۔
نیز اس کے بعد والی آیت سے فتح مکہ کی طرف اشارہ فرمایا۔ چنانچہ آپ کو حکم ہوا کہ مشرکین سے کہہ دیجئے کہ حق آگیا اور باطل ملیا میٹ ہوگیا ، یقینا باطل تھا بھی ملیامیٹ ہونے والا ۔
o آیت 82 تا 84 میں قرآن مجید کی عظمت کا بیان ہے کہ وہ تمام روحانی اور ساتھ ہی ساتھ جسمانی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ لیکن اس سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو اسے صاف دل سے پڑھے گا۔
o اور قرآن کے معجزہ ہونے کا ذکر ہے ۔بلکہ یہ ایسا چیلنج ہے جو آج تک قبول نہیں کیا جا سکا کہ اگر ساری دنیا کے جن وانس جمع ہوکر بھی قرآن کا مثل لانا چاہیں تو وہ نہیں لاسکتے ۔
o آیت نمبر 85 میں قریش یا یہود کے ایک سوال کا جواب ہے جو وہ روح سے متعلق کرتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ روح کی حقیقت کوئی نہیں جانتا۔ صرف یہی کافی ہے کہ روح میرے رب کے حکم سے ہے ۔
o آیت 90 تا 96 میں کافروں کے ایک طویل مطالبے کا جواب ہے جو وہ نبی ﷺ سے کرتے تھے۔
جیسے یہ کہ زمین سے چشمے جاری کرنا۔آپ کے لئے باغ اور کھیت جیسی کوئی جائیداد ہو۔نہریں جاری کرنا ۔اور آسمان سے عذاب نازل کرنا وغیرہ۔
قرآن نے ان کےاس مطالبے کاتین جواب دیے ہیں۔
1) سمجھنے اور رسول کی صداقت کے لئے قرآن کی وہی مثالیں کافی ہیں جو اس میں بار بار بیان کی گئی ہیں،لیکن یہ ظالم لوگ کفر و اعراض سے باز نہیں آئیں گے۔
2) نشانیاں اور معجزات ظاہر کرنا اللہ کا کام ہے۔پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔
3) اس قسم کے مطالبے کوئی نئی بات نہیں ہے ،بلکہ ہر زمانے کے کافروں اور نبی کے مخالفین کے شبہات یہی رہے ہیں۔ س
o اس کے بعد نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ہدایت دینا اور گمراہ کرنا یہ اللہ کا کام ہے آپ اس کے لئے پریشان نہ ہوں۔ یہ اپنے خاندانی زعم میں اس قدر گم ہیں کہ اللہ کی رحمت کو بھی اپنے ہی ساتھ خاص کردینا چاہتے ہیں۔
o آیت 101 تا 103 میں حضرت موسی علیہ السلام کے ذکر سے نبی ﷺ کو تسلی دی ہے کہ موسی علیہ السلام نو واضح نشانیاں لائے لیکن پھر بھی فرعون نے یہ کہکر ان کی دعوت کو ٹھکرا دیا کہ میں تو تمہیں جادوگر سمجھتا ہوں۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس پر رد کرتے ہوئے فرمایا: اے فرعون! میں تو سحرزدہ نہیں ہوں، جیسا کہ تونے بھی نشانیاں دیکھ کر سمجھ لیا ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ تیری ہٹ دھرمی یہ بتا رہی ہے کہ تیرے دن اب قریب ہیں ۔
o اس سے گویا اللہ تعالی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اے نبی! یہ لوگ جو آپ کی بات قبول نہیں کر رہے ہیں اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ سمجھ نہیں رہے ہیں۔ بلکہ وہ دشمنی اور ضد پر اڑے ہوئے ہیں،جس طرح فرعون نے جان بوجھ کر حضرت موسی علیہ السلام کی نشانیوں کو رد کر دیا۔
o آیت 104 سے 110 تک قرآن کی حقانیت کا بیان ہے۔”وَبِالْحَقِّ أَنْزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ”اور ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ بھی حق کے ساتھ اترا۔
o اور اس کے پڑھنے کے بعض آداب کا ذکر ہے۔
1) جس میں ایک ادب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کرپڑھا جائے ، کیونکہ اس طرح قرآن کا پڑھنا استقامت اور قرآن فہمی میں مددگار ثابت ہوتا ہے "لِتَقْرَأَهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُكْثٍ ” کہ آپ اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کا سنائیں۔ آیت:106
2) دوسرا دب یہ کہ قرآن پڑھتے ہوئے رونا ،یا رونے کی کیفیت ہونی چاہئے جس سے محسوس ہوکہ بندہ خشوع وخضوع سے قرآن پڑھ رہا ہے۔ "وَيَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا” اور وہ روتے ہوئے اپنی ٹھڑیوں کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں اور یہ قرآن ان کی عاجزی اور خشوع بڑھا دیتا ہے ۔
3) تیسرا ادب یہ کہ قرآن مجید میں جہاں سجدے کی آیت آئے وہاں سجدہ کرے۔
4) چوتھاادب یہ کہ قرآن کی تلاوت درمیانی آواز سے کی جائے ” وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا”، نہ تو اپنی نماز بلند آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ ، بلکہ اس کے درمیان کا راستہ تلاش کر۔
نیز ان آیات میں قرآن پر ایمان لانے والوں کی صفات کا بھی بیان ہے ۔
1) قرآن جیسی نعمت پراللہ کا شکر بجا لاتے ہیں۔
2) خشوع وخضوع سے کام لیتےاور اللہ تعالی کے سامنے گریہ وزاری کرتےہیں۔
3) اللہ تعالی کی بڑائی بیان کرنے میں تسبیح وتحمید ان کا شیوہ ہوتا ہے۔
o آخر میں یہ سورت اسی طرح اللہ کی توحید ، حمد اور کبریائی پر ختم ہو رہی ہے جس طرح کہ اس سورت کی ابتداء اللہ کی تسبیح سے ہوئی تھی ۔

سورت الکھف:
یہ سورت بھی مکی ہے۔ اور ان پانچ سورتوں(الفاتحہ،الانعام،الکہف،سبا اور فاطر) میں سے ایک ہے جو الحمد سے شروع ہوتی ہیں ۔
اس سورت کا بنیادی موضوع عقیدہ ہے خصوصا عقیدہ توحید، رسالت اور آخرت ۔
بلکہ دوسری طرف اس سورت کا ایک موضوع فتنوں سے نجات کاہے۔
اس سورت میں چار فتنوں اور ان سے بچنے کے وسائل کا ذکر ہے؛دین کا فتنہ،مال کا فتنہ،علم کا فتنہ اور سلطنت کا فتنہ۔
حدیثوں میں اس سورت کے بڑے فضائل وارد ہیں۔
اس سورت میں اصحابِ کہف کا عجیب وغریب اور عبرت ونصیحت سے بھر پور واقعہ بیان ہوا ہے ، اس لئے اسے "سورۃ الکہف” کہتے ہیں۔
o آیت 1 تا 5 میں قرآن کی صفات کا بیان ہےکہ اس ( کے الفاظ ومعانی )میں نہ کوئی کجی ہے نہ کوئی اختلاف ، بلکہ یہ قرآن بالکل سیدھی راہ دکھاتا ہے۔
o نیز اس کے نزول کا مقصد بھی بیان ہوا ہے کہ اہل ایمان کو بشارت دینا اور کافروں کو ڈرانا، خاص کر ان لوگوں کو جنہوں نے اللہ تعالی کے ساتھ یہ گستاخی کی کہ اللہ کے لئے اولاد کا افسانہ گھڑ لیا۔
o آیت 7 اور 8 میں نبی ﷺ کے ان جذبات کی ترجمانی ہے جو ایک خیرخواہ نبی اور مخلص استاد کے دل میں اپنے پیروکاروں او ر شاگردوں کے لئے ان کے بارے میں ہوتے ہیں ۔ یعنی یہ کہ لوگ کس قدر جلد اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔
o پھر آپ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ اطمینان رکھیں ،ان کے لئے اپنے آپ کو گھو گھول کرہلاک نہ کریں۔ آپ کی دعوت اور کوشش میں کوئی کمی نہیں ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زیب و زینت کے پیچھے دیوانہ ہیں او راسی میں مست ہیں۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں ایک آزمائش ہیں۔
o آیت نمبر 9 سے اصحاب کہف کا واقعہ شروع ہوتا ہے۔ ابتداء کی تین آیتوں میں تو صرف خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور اس کے بعد آیت نمبر 26 تک ان کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ۔
o اس قصے میں آج کےدیندارنوجوانوں کے لئے گویا یہ سبق ہے کہ فتنوں کے دور میں دو چیزیں انسان کے دین کو محفوظ رکھ سکتی ہیں: 1)فتنوں سے دوری۔ 2)صدق دل سے دعا ۔
یہ ان چار فتنوں میں سے پہلا فتنہ ہے جس کا ذکر اس سورت میں ہوا ہے، یعنی دین کا فتنہ۔ پھر چونکہ سب سے اہم فتنہ دین کا ہوتا ہے اس لئے اسے مقدم کیا گیا ہے۔
o آگے آیت نمبر 27سے 31تک اس قصے پر تبصرہ ہے اور دین کے فتنے میں پڑنے سے بچنے کے وسائل کا ذکر ہے:
o 1)نبی ﷺ کو حکم ہے کہ دولت اور دولت والوں سے کنارہ کش ہو کر آپ اپنے پاس موجود غریب اور نادار اور مخلص ساتھیوں کی صحیح تربیت کیجئے ،تاکہ ان کا دین فتنے کا شکار نہ ہو۔
o 2)کتاب الہی کو پڑھنا۔ وَاتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا (27)”اور تیری جانب جو تیرے رب کی کتاب وحی کی گئی ہے اسے پڑھتا رہ، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں،تو اس کے سوا ہر گز کوئی جائے پناہ نہ پائے گا”۔
o 3)نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنا۔
o 4)صبح و شام اللہ کا ذکر کرنا۔
o 5)اخلاص کو لازم پکڑنا۔
o 6)آخرت کی یادتازہ رکھنا۔
وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا (28) ” اور اپنے آپ کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کروجو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح وشام اسے پکارتے ہیں، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو، کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟۔ کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کروجس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور اور جس نے اپنی خواپش نفس کی پیروی اختیار کرلی ہےاور جس کا طریق کار افراط اور تفریط کا شکار ہے”۔
o آیت نمبر 29سے 31تک دین سے متعلق فتنے میں پڑ جانے والوں اور اس سے اپنے آپ کو بچا لینے والوں کا انجام بیان ہوا ہے کہ اس فتنے میں مبتلا ہونے والوں کے لئے آگ جبکہ اس سے بچنے والوں ہمیشہ کے باغات ہیں ۔
o آیت نمبر 32سے 44تک ان دو ساتھیوں کا قصہ ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالی نے انگوروں او ر کھجوروں کے دو باغ دئیے تھے اور اس کے پاس ہر قسم کی آسائش کا سامان موجود تھا لیکن اس نے ناشکری کی ۔
o ۔ یہ مال کے فتنے کا ذکر ہے۔
اس واقعہ کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالی نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے اس میں چند وہ امور بتلائے ہیں جن کا اہتمام کرنے سے مال کے فتنے سے بچا جا سکتا ہے۔
1- ان میں سب سے اہم یہ کہ توحید کو اپنایا جائے۔
2- نعمت عطا کرنے والے کا شکر ادا کیا جائے۔
3- اور نعمت کا استعمال اس کی اطاعت میں کیا جائے۔
o آیت نمبر 45 میں اللہ تعالی نے دنیا کی حقیقت کو سمجھاتے ہوئے اس کی مثال کھیتی سے دی ہے کہ جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو کھیتی لہلہا اٹھتی ہے، پودوں او ر درختوں میں ایک نئی زندگی دوڑ جاتی ہے، دیکھنے والوں کو کس قدر اچھی لگتی ہے؟ لیکن جلدہی وہ وقت آجاتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھر بھوسہ اور راکھ بن جاتی ہے اور وہ جگہ پھر چٹیل میدان بن جاتی ہے۔ ایسا کبھی پانی کی کمی کی وجہ سے اور کبھی کھیتی پک جانے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
o آیت نمبر 46 میں عمل صالح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور یہ کہ عمل صالح میں مشغولیت بندے کو مال کے فتنے سے بچا لیتی ہے۔چنانچہ فرمایا: الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ أَمَلًا (46) "مال واولاد تو دنیا ہی کی زینت ہے،اور (ہاں) البتہ باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے نزدیک از روئے ثواب اور آئندہ کی توقع کے بہتر ہیں”۔
یعنی نیک اعمال بطور بدلہ بھی اچھے ہیں اور بطور امید کے بھی۔
o آیت نمبر 46سے 49تک قیامت کے بعض مناظر پیش کئے گئے ہیں، کیونکہ مال کے فتنے سے بچنے کیلئے "باقیات صالحات” کو جب اچھا کہا گیا تھا تو سوال ہے کہ اس کا اظہار کہاں ہوگا ؟ جواب ہے کہ قیامت کے دن جب سب کے سامنے ان کے اعمال نامے پیش کئے جائیں گے۔
ان مناظر کا نقشہ جن الفاظ میں پیش کیا گیا ہے وہ پڑھنے اور غور کرنے کے لائق ہے ۔خاص طور پر:
1) یہ کہ وہاں سب لوگ جمع ہوں گے کوئی بھی بچ نہ پائے گا۔وتَرَى الْأَرْضَ بَارِزَةً وَحَشَرْنَاهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ أَحَدًا (47) "اور زمین کو تو صاف کھلی ہوئی دیکھے گا اور ہم تمام لوگوں کو اکٹھا کریں گے، پھر ہم ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے”۔
2) ہر شخص تن تنہا آئے گا۔وَعُرِضُوا عَلَى رَبِّكَ صَفًّا لَقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ: 48″اور سب کے سب تیرے رب کے سامنے صف بستہ حاضر کئے جائیں گے، انہیں کہا جائے گا یقینا تم ہمارے پاس اسی طرح (تن تنہا )آئے ہو جس طرح ہم نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا تھا”۔
3) ہر ایک کو اس کا نامہ اعمال سونپا جائے گا ۔
4) اس کتاب میں ان کا ہرعمل اور ان کی چھوٹی بڑی ہرکوتاہی و گناہ درج ہوں گے۔ وَوُضِعَ الْكِتَابُ فَتَرَى الْمُجْرِمِينَ مُشْفِقِينَ مِمَّا فِيهِ وَيَقُولُونَ يَاوَيْلَتَنَا مَالِ هَذَا الْكِتَابِ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا وَوَجَدُوا مَا عَمِلُوا حَاضِرًا وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا (49) ” اور نامہ اعمال سامنے رکھ دئے جائیں گے ، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ وہ اس کی تحریر سے خوزدہ ہورہے ہونگے اور کہہ رہے ہوں گے : ہائے ہماری کمبختی! یہ کیسی کتاب ہے جس نے کوئی چھوٹا بڑا عمل شمار کئے بغیر نہیں چھوڑا ، اورجو انہوں نے کیا تھا سب موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم وستم نہیں کرے گا”۔
o آیت نمبر 50 اور اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام او ر ابلیس کے واقعہ کا مختصر بیان کرکے مشرکین کو خصوصا او ر تمام لوگوں کو عموما یہ خبر دار کیا گیا ہے کہ شیطان کی دشمنی تم سب کو معلوم ہے اور اس کی دھوکہ دہی کا اچھی طرح علم ہے توپھر بھی تم اس کی پیروی کیوں کرتے ہو؟ یہ تو بہت ہی برا بدلہ اور کھلا ظلم ہے۔
o آیت :51- 53 میں اللہ تعالی خالقیت اور لائق عبادت ہونے کو ثابت کرنے کے ساتھ ان لوگوں پر نکیر اور ان کے برے انجام (جہنم) کا ذکر ہے جو شیطان کی پیروی میں شرک کرتے رہے ہیں۔
o آیت نمبر 54 اور اس کے بعد قرآن مجید کے دلیل وسند ہونے کا بیان ہے ،اور حجت واضح ہو جانے کے بعد مخالفین کی باطل حجتوں کا ذکر ہے۔
o لوگ ہمیشہ یہی حجت پیش کرتے ہیں کہ پچھلی قوموں کی طرح ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا۔
o یا وہ اس وقت تک ایمان نہ لائین گے جب تک آخرت کا وہ عذاب جس کی آپ دھمکی دے رہے ہیں ، اسے ہم دیکھ نہ لیں۔
o اس کے جواب میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ رسولوں کاکام صرف ڈرانا اور خوشخبری دینا ہے ،عذاب لانا یا نہ لانا ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو کافروں کی بد بختی ہے کہ ان کی نصیحت جو خوشخبری دینے اور خبر دار کرنے کی شکل میں ہے اس کا مقابلہ جھگڑے اور کج بحثی سے کرتے ہیں ۔
o آیت نمبر 57 میں اللہ کے ذکر سے اعراض کرنے والوں کو بہت بڑی دھمکی دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہ بہت بڑے ظالم ہیں اور ان کے منہ موڑنے لینے کی وجہ سے اللہ تعالی ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اور پھر انہیں ہدایت کی طرف بلایا بھی جائے تب بھی وہ اس کی طرف نہیں آتے۔
o یہ تو اللہ تعالی کی رحمت ہے کہ عذاب کو ان سے ٹالے ہوئے ہے، لیکن اگر انہوں نے عبرت کے ناخن نہ لئے تو ان کی ہلاکت کا ایک دن مقرر ہے، جیسا کہ ان سے قبل قوموں کا یہی حشر ہوچکا ہے۔
o آیت نمبر 60 اور اس کے بعد حضرت موسی و خضر علیہما السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے جس میں حضرت موسی علیہ السلام کے حضرت خضر علیہ السلام کی طرف سفر کرنے کا ذکر ہے ۔
o
o اس قصے میں ہمارے لئے بہت سے اسباق ہیں :
1)کسی کو اپنے علم پر غرور نہیں کرنا چاہئے۔
2) کسی سے ایسی بات پوچھی جائے جس کا علم نہ ہو تو اسے کہنا چاہئے: اللہ اعلم ۔
3)علم کے لئے صبر ،تواضع اور مسلسل کوشش کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں