بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*پچیسواں پارہ(الیہ یرد)*
پچیسویں پارے میں پانچ سورتیں ہیں؛ سورۃ فصلت کا بقیہ حصہ اور سورۃ الشوری، سورۃ الزخرف، سورۃ الدخان اور سورۃ الجاثیہ کامل ۔
o ( سورہ فصلت کی)آیت47اور 48میں اللہ تعالی کے کمال علم کی وسعت کا بیان ہے ،نیز کفار کی اس خام خیالی کا جواب بھی ہے جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اولا قیامت آئے گی ہی نہیں، اور ثانیا آئی بھی تو ہمارے معبود لازماًہمارا ساتھ دیں گے۔
اس مقام پر اس حقیقت کو بھی بیان کر دیا گیا ہے کہ قیامت کا علم اللہ کے پاس ہے، او ر یاد رکھو جب قیامت آئے گی تو تمہارے باطل معبود تمہارے کسی کام نہ آئیں گے۔
o آیت49تا5۱میں خصوصی طور پر جو کافر و فاسق انسان آخرت سے بے پرواہ ہوتا ہے اس کے حال و مقال اور تصرفات کا ذکر ہے۔ جیسے:
ا- ہرانسان اپنے دنیوی فائدے کی چیزیں جیسے مال ودولت اور اولادو جائیداد حاصل کرنے سے نہ اکتاتا ہے اور نہ ہی اس سے اس کا پیٹ بھرتا ہے ، لیکن جب اسے کوئی ناپسندیدہ صورتِ حال درپیش ہوتی ہے تو اللہ کے بارے میں بد گمانی کا شکار ہوکر مایوس ہوجاتا ہے۔
ب- یہ اس کی ایک خام خیالی ہے کہ وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ اگر اسے اس دنیا میں امن و امان حاصل ہے او ردنیا کی نعمتیں ملی ہوئی ہیں تو یہ سب کچھ اسے آخرت میں بھی ملنے والا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالی نے اس کے لئے درناک عذاب تیار کر رکھاہے۔
ج- عملی طور پر اس کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ جب اسے نعمتیں ملتی ہیں اور اسے خوشحالی حاصل ہوتی ے تو اکڑتا اور عبادت سے دور رہتا ہے اور جب مشکل وقت آتا ہے تو اسے اللہ یاد آتا ہے اور لمبی لمبی دعائیں مانگتا ہے ۔
o اس سورت کی آخری آیات میں اس کی ابتدائی آیات کی طرح کلام کا رخ کفار کی طرف ہے ۔ ان آیت میں ان سے تین خاص باتیں کہی گئی ہیں۔
1) تم اس بات پر بھی غور کرو کہ یہ قرآن جسے تم سننے اور اس پر غور کرنے کے لئے تیار نہیں ہو، اگر یہ سچ نکلا تو اس کی مخالفت سے تم کس بدبختی کا شکار ہو رہے ہو؟۔
2) کفار کو کائنات اور خود ان کے اپنی آپ میں موجود نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے۔ اور یہ کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان پر یہ واضح ہو جائے گا کہ قرآن برحق ہے ۔
3) کفار مکہ کی اصل بیماری یہ ہے جس کی وجہ سے یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں کہ یہ لوگ آخرت کے بارے میں شکو ک وشبہات کا شکار ہیں ۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے ، اس نےاپنے علم وقدرت کے لحاظ سے ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، وہ جو کچھ چاہے گا اور جب چاہے گا کر گزرے گا۔ پھر اس وقت انہیں اس سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا ۔
سورت الشورى:
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا بنیادی موضوع عقیدہ ہے ۔ یعنی عقیدہ توحید و رسالت اور بعث بعد الموت۔
o ابتدائی آیتوں میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اللہ تعالی جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کی طرف وحی کرتا رہا ہے اسی طرح اس نے آپ کی طرف وحی کرکے نبوت سےسرفراز فرمایا ہے ۔ اور جن باتوں خصوصا توحید و آخرت کی وحی آپ کی طرف کر رہا ہے ،انہی تمام باتوں کی وحی دیگر انبیاء کی طرف کرتا رہا ہے۔
o انہی آیات میں اللہ تعالی کی عظمت کا بھی بیان ہے کہ آسمان و زمین کی ملکیت اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ بہت ہی بلند و عظمت والا ہے ۔اس کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ اس کی ہیبت سے آسمان خود اپنے ہی اوپر پھٹ پڑیں ۔ فرشتے ہر دم اس کی عظمت کے گن گاتے رہتے ہیں اور یہ خوف کھاتے رہتے ہیں کہ کہیں اللہ کا غضب اہل زمین کی نافرمانی کی وجہ سے ان پر پھٹ نہ پڑے ۔ لہذا وہ فرشتے اہل زمین کے لئے مغفرت و رحمت کی التجا کرتے رہتے ہیں۔
o آگے فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو اپنے لئے ولی و مددگار بنا رکھا ہے، اللہ تعالی ان کے اعمال کو ضبط کر رہا ہے ،وہی اس کا بدلہ دے گا۔آپ ان پر نگراں نہیں ہیں۔
o آیت7تا9میں آپ ﷺ کی رسالت کے عام ہونے او راس کا مقصد یعنی آخرت پر ایمان کی دعوت کا بیان ہے کہ جس طرح ہم نے دیگر انبیاء کی طرف انہی کی قوموں کی زبان میں وحی کی اسی طرح ہم نے اس قرآن کو عربی میں اتارا ہے تاکہ آپ اہل مکہ اور ان کے ارد گرد کے لوگوں کو اس جمع ہونے کے دن سے ڈرائیں جس دن لوگ دو حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے ،ایک گروہ جنت میں او ردوسرا جہنم میں جائے گا۔لیکن تعجب اس بات پر ہے کہ ان حقائق کے واضح ہو جانے کے بعد بھی لوگ اختلاف کرہے ہیں۔
o پھر آیت نمبر 10تا12میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جس مسئلہ میں بھی اختلاف ہو، اس کا حل اللہ کے پاس ہے، وہی فیصلہ کا حق رکھتا ہے۔لہذا اسی پر بھروسہ کرو اور اسی کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
o کیونکہ وہ بڑی عظمتوں والا ہے کہ اس نے تمہارے جوڑے بنائے اور چوپایوں کے بھی جوڑے بنائے اور اس طرح تمہاری او ر چوپایوں کی نسل کو پھیلا رہا ہے۔آسمان و زمین کا مالک وہی ہے، روزی وہی دیتا ہے او ر ہر چیز کا علم اس کے پاس ہے۔
o آیت13اور 14میں وحدت دین کی وضاحت ہے کہ ہر نبی کا دین جو توحید،رسالت اور آخرت پر مشتمل ہوتا ہے ایک ہی رہا ہے، او رہر نبی کی یہی تعلیم رہی ہے کہ اس دین کو قائم کریں اور تفرقہ بازی سے بچیں۔ نیز واضح فرمایا کہ یہ دعوت مشرکین پر بھاری پڑ رہی ہے اور یہ ان کو گوارا نہیں ان کی رہنمائی کے لئے آپ جیسا کوئی بشر ہو۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے اللہ تعالی اس منصب کے لئے جس کا چاہتا ہے انتخاب کرتا ہے۔
o پھر اگلی آیت میں اس بات پر تنبیہ کی گئی ہے کہ لوگوں نےدین کےبنیادی امور میں اختلاف کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کا سبب عناد اور حسد رہا ہے۔
o آیت15اور 16میں نبی ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ استقامت،عزیمت اور جرأت کے ساتھ دین کی دعوت میں لگے رہیں او ر جو لوگ آپ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ اپنے آپ کو اللہ کے غضب کے حوالے کر رہے ہیں۔
o آیت نمبر 17تا19میں آخرت پر ایمان پر زور اور اللہ کی قدرت کا بیان ہے ، جن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جولوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یا اس کے بارے میں شک کا شکار ہیں وہی اس کے بارے میں جلدی مچاتے ہیں ، اور جو اس کی حقیقت کو جانتے ہیں انہیں ہر دم اس کا خوف لاحق رہتا ہے۔
o پھر آیت نمبر20میں آخرت کے لئے کوشش کرنے اور نیت کو اللہ کے لئے خاص کرنے پر توجہ دلائی گئی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا طالب ہوگا تو اس کے عمل میں برکت ہوگی اور نہ صرف یہ کہ اللہ تعالی اسے اس کی کوشش بھر دے گا بلکہ بڑھا کر دے گا۔ البتہ جس شخص کی سعی وکوشش دنیا کے لئے رہے گی اسے آخرت سے تو کچھ ملنے والا نہیں ہے۔
o آیت نمبر ۲۱ میں اللہ کے قانونِ شریعت کے مقابلے میں کسی اورکوقانون سازی کا اختیار دینے والوں کو بڑے سخت انداز میں دھمکی دی ہے کہ یہ اتنی بڑی جسارت ہے کہ ایسے لوگوں پر تو اللہ کا عذاب پھٹ پڑنا چاہئے، لیکن چونکہ اس دنیا میں عموما اللہ کا قانونِ "امہال” جاری ہے،یعنی مہلت دینے کا قانون چلتا ہے اس لئے وہ بچے ہوئے ہیں۔ نیز اس لئے بھی کہ شاید عبرت حاصل کرلیں۔
o آیت نمبر22سے کلام کا رخ ان ظالموں کی طرف کیاہے جن کا ذکر سورت کی ابتداء میں آ چکا ہے۔انہیں بڑے جامع انداز میں نصیحت کی گئی ہے او راللہ کی طرف پلٹنے کی دعوت ہے کہ جس دین کو وہ حق سمجھے ہوئے ہیں اورجسے ان کے شرکاء نے ایجاد کیا ہے قیامت کے دن وہ ان کے کسی کا م آنے والا نہیں ہے،اس دن کامیابی صرف ایمان اور عمل صالح کی بنیاد پر ملے گی۔
بعض مفسرین نے کہا کہ یہاں اہل جنت کی فضیلت کئی حیثیت سے بیان ہوئی ہے۔ اس پر غور کریں ۔
1) اول- وہ جنتوں کے باغات میں ہوں گے۔
2) دوم- ان کو وہ سب کچھ ملےگا جو وہ چاہیں گے۔
3) سوم- یہ کہ وہ اللہ تعالی کے پڑوس میں رہیں گے۔
4) چہارم یہ کہ انہیں اللہ کا بہت بڑا فضل حاصل ہے ۔
o آیت نمبر ۲۳ میں چار اہم باتیں بیان ہوئی ہیں۔
1- رسول کی تعلیم پر ایمان لانے اور اس کی پیروی پر اجرِ عظیم کی بشارت۔
2- نبی ﷺ کو یہ حکم ملا ہےکہ اہلِ مکہ کو خبر دار کردیں کہ اگر تم میری رسالت کو قبول نہیں کرتے تو نہ کرو۔ لیکن ہمارے تمہارے درمیان جو قرابت کا رشتہ ہے اس کا لحاظ رکھتے ہوئے مجھے جھٹلانے میں جلدی نہ کرو اور مجھے اذیت دینے تو رکے رہو۔
3- لوگوں کو اللہ کا یہ پیغام دیا ہےکہ جو لوگ اس رسول کی تعلیم کو قبول کر کے نیک عمل کریں گے ہم ان کی نیکوں میں اضافہ کرکے اسے دیں گے۔
4- اللہ تعالی دو مبارک ناموں ” غفور” اور "شکور”کا ذکر ہے،جس سے بندوں میں اللہ سے امیداور اس کی طرف شوق کا جذبہ ہوتا ہے کہ وہ گناہوں کو معا ف کرنے والا اور نیکیوں کی قدر کرنے والا ہے۔
آیت نمبر ۲۴ میں مشرکین مکہ کے اس دعوی کی تردید ہے جو وہ قرآنِ مجید کے بارے میں رکھتے تھے اور یہ کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد ﷺ کا گھڑا ہوا کلام ہے، حالانکہ یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ یہ ایسا جرم ہے جسے اللہ تعالی قبول نہیں کرتا ۔ بلکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ بھی یعنی محمدﷺ اللہ کے عذاب سے محفوظ نہ پاتے۔
آیت نمبر ۲۵و ۲۶ میں ترغیب و ترہیب کا اسلوب استعمال کرکے لوگوں کو توبہ کی دعوت دی گئی کہ اللہ تعالی ہی ہے جو توبہ قبول کرتا اور گناہوں کو معاف فرماتا ہے، وہ ایمان لانے والوں کی دعا کو قبول کرتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے مزید نوازتا ہے۔ البتہ کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔
آیت نمبر ۲۷ میں اللہ تعالی اپنے نظام معیشت سے متعلق ایک شبہے کا جواب دیا ہے کہ اگر مومن اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں تو کافروں کے مقابلے میں ان کی روزی میں وسعت کیوں نہیں ہوتی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالی کی بہت بڑی حکمت ہے ، وہ اپنے بندوں کے بارے میں پوری معلومات رکھتا ہے اور جانتا ہے کہ کس کے حق میں روزی میں وسعت مناسب ہے اور کس کے حق میں روزی میں تنگی ہی بہتر ہے۔ کیونکہ عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ روزی میں وسعت ہونا زمین میں بگاڑ کا سبب ہی بنتا ہے ۔
آیت ۲۸- ۲۹ میں الوہیت کے بعض دلائل کا ذکر ہے، جیسے بارش کے نازل کرنے کی قوت اسی کے پاس ہے،اور آسمان او ر زمین کی پیدائش اور ان میں بے شمار مخلوق کو پیدا کرنے ، اور پھر جب چاہے گا تو انہیں اکٹھا کرنے پر اسی کو قدرت واختیار حاصل ہے ۔
اس کا مقصد مکہ کے لوگوں کو ایمان لانے کی دعوت دینا ہے۔
o آیت نمبر30سے 35تک۔ ان آیات میں کفار کو تنبیہ کی گئی کہ اگر تم نے رسول کی مخالفت کی تو تمہارے اوپر مصیبت آکر رہے گی اور تم اسے دور نہ کر سکو گے اور نہ اس وقت تمہارا کوئی مددگار ہو گا۔اللہ کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ یہ محل نما کشتیاں جو چل رہی ہیں اگر انہیں چلانے والی ہواؤں کو روک لے تو کوئی چلا نہیں سکتا، یا ایسی ہوا بھیج دے کہ وہ ہلاک ہو جائیں تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا۔یہ سب دعوت ہے اللہ پر ایمان لانے کی۔
o آیت 36سے 43تک۔ ان لوگوں کی صفات بیان ہوئی ہیں جو اللہ کے حقیقی بندے، اس کے رسول کے سچے پیرو کار او رآخرت پر ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ او ر ظالموں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ تمہیں جو نعمتیں ملی ہیں ان کی حیثیت صرف عارضی سامان کی ہے۔ البتہ حقیقی نعمتیں تو ان کو ملنے والی ہیں جن میں درجِ ذیل صفات پائی جاتی ہیں:
1)ایمان۔ 2)اللہ تعالی پر توکل ۔ 3)کبائر او ر فواحش سے پرہیز۔ 4)غصہ میں آئے تو معاف کر دیا۔ 5)اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی فوری تعمیل 6)نماز قائم کرنا ۔7)باہم مشورہ کرنا۔ 8) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ 9)جب ظلم ہوتاہے تو صرف برابر کا بدلہ لیتے ہیں اور ظلم و زیادتی سے کام نہیں لیتے۔ یعنی اصل تو یہ کہ وہ معاف کر دیتے ہیں لیکن بسا اوقات بدلہ لینا ضروری ہو جاتا ہے تو ایسی حالت میں بھی وہ صرف بدلہ لیتے ہیں، اس پر کوئی اضافہ نہیں کرتے ۔
o آیت 44سے 46تک نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ پریشان نہ ہوں،ان کی تباہ کاریوں کے عوض اللہ تعالی اس دنیا میں اگرچہ انہیں عذاب نہیں دینا چاہتا،لیکن یاد رکھیں وہ دن دور نہیں ہے جب ان کی مدد کرنے والا کوئی نہ ہو گا ۔
چنانچہ اللہ تعالی نےان مجرموں سے متعلق پانچ اہم حقائق بیان کئے ہیں۔
1) ان کی مجرمانہ حرکات کی وجہ سے اللہ تعالی نے انہیں توفیق سے محروم رکھا ہے۔
2) قیامت کے دن جب عذاب پر پیش کئے جائیں گے تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اس وقت تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں دوبارہ جانے کی کوئی سبیل ہوتی۔
3) اس وقت ان کی کیفیت اس مجرم کی ہوگی کہ جس کےہاتھ پیر باندھ کر اس کی گردن مارنے کے لئے حاضر کیا جائے، جہاں وہ شرم وخوف سے سرجھکائے گردن پر تلوار چلنے کا منتظر ہو اور رہ ر ہ کرکن کھیوں سے یہ دیکھتا ہے کہ کب اس پر تلوار پڑنے والی ہے۔
4) اس کی ذلیل حالت پر اہلِ ایمان اسے عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ یہ ہے حقیقی خسارہ جس سے تم خود بھی دوچار ہو رہے ہو اور اپنے اہل وعیال کو بھی دوچار کیا ہے۔ افسوس کہ دنیا میں تم نے اس کو سمجھ لیا ہوتا۔
5) قیامت کے دن ان کے آقا ومشکل کشا ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔
o آیت نمبر47میں کھل کر کافروں کو قیامت سے قبل ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے، اور خبردار کیا گیا ہےکہ وہ ایسا دن ہوگا کہ نہ تو کوئی اسے ٹال سکتا ہے، نہ ہی کسی کو اللہ کے علاوہ کوئی جائے پناہ ملے گی ، نہ ہی کوئی وہاں سے بھاگ کر چھپ سکے گا اور نہ ہی کسی کو اپنے کئے سے انکار کی گنجائش ہوگی۔
o پھر بھی اگر وہ لوگ ایمان نہ لائیں تو آیت نمبر ۴۸ میں رسول اللہ ﷺ کو دو طرح سے تسلی دی گئی ہے۔
1) آپ کا کام صرف پہنچانا ہے،آپ ان پر حفیظ و نگران (تھانیدار)نہیں ہیں۔
2) انسان کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ مغرور ہوتا ہے، خاص کر جب اسے کچھ نعمت حاصل ہوجاتی ہے تو اللہ تعالی کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔
o آیت نمبر4۹میں اللہ تعالی کی صفت ملک و تدبیر کا ذکر ہے کہ زمین و آسمان ہر چیز کا مالک وہی ہے ، اور اس کی مالکیت ہی کا مظہر ہے وہی نر و مادہ پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے، بیٹا اور بیٹی دینا یہ صرف اسی کے اختیار میں ہے، وہ جسے چاہے بیٹی دے ، جسے چاہے بیٹا دے ، جسے چاہے بیٹا وبیٹی دونوں دے اور جسے چاہے اولاد سے محروم کردے ۔
o اس سورت کی آخری آیتوں میں پھر وہی موضوع بیان ہوا ہے جس سے اس سورت کی ابتداء ہوئی تھی یعنی وحی و رسالت اور بعث بعد الموت۔
o چنانچہ سب سے پہلے ان لوگوں کی تردید کی گئی جو یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالی ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا، یا ہم اللہ کو کیوں نہیں دیکھتے؟ ہم یہ کیسے قبول کر لیں کہ یہ کتاب اللہ کی دی ہوئی ہے؟ اس کے جواب میں اللہ تعالی نے یہ واضح کیا کہ اللہ اپنی ذات اور شان کے لحاظ سے اس سے بہت بلند ہے کہ اس کو کوئی دیکھے یا بالمشافہہ گفتگو کرسکے۔ بلکہ وہ اگر اپنے برگزیدہ بندوں میں سے کسی کو وحی کرنا چاہتا ہے تو اس کے کئی طریقے ہوتے ہیں ۔ یہاں ان میں سےتین طریقوں کا ذکر کیا ہے ۔
1) وحی (القاء و الہام )کے ذریعے۔
2) پردے کی اوٹ میں اللہ گفتگو کرے۔
3) یا فرشتے کو بھیج کر کچھ بتلائے ۔
o آخری دوآیتوں میں اولا– بظاہر نبی کریمﷺ کو خطاب کرکے انسانوں پر اللہ کے اس احسان کو ذکر کیاہے جو قرآنِ کریم اور نبیﷺ کی ہدایات کی شکل میں عطا ہوئے ہیں، اور جس کے ذریعے لوگوں کو صراطِ مستقیم کی رہنمائی ملتی ہے۔
o ثانیا—یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ہی اس آسمان اور زمین کا مدبر و انتظام کرنے والا ہے، اور اس کی تدبیر ہی کا مظہر ہے کہ یہ نبی تمہیں صراطِ مستقیم کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ لہذا اسے قبول کرلو، ورنہ سب کو اسی کی طرف جانا ہے اور ہر ایک کواس کے اعمال کا بدلہ ملے گا ۔
o یعنی نمبر54میں اللہ تعالی نے وحی کو روح قرار دیا ،پھر اسے نور سے تعبیر کیا۔
روح اس لئے کہ اس سے انسانی روح کو غذااور انہیں ایمان والی زندگی نصیب ہوتی ہے جو حقیقی زندگی ہے، اور نور اس لئے کہ اس کے ذریعے انسان اللہ تک پہنچنے کا صحیح راستہ معلوم کر لیتا ہے۔
نیزاس آیت میں جو یہ کہا گیا کہ "آپ کو کتاب اور ایمان کا علم نہیں تھا” اس سے مراد اصل ایمان نہیں ہے۔ کیونکہ نبیِ کریمﷺ ہمیشہ مومن رہے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کی تفصیل (جس کا ذکر حدیث جبریل میں ہے)کا علم آپ کو نہیں تھا۔
اور یہ بھی ہو سکتا ہے اس سے اصطلاحی ایمان مراد ہو جو عقیدہ،قول اورعمل پر مشتمل ہوتاہے ۔واللہ اعلم
سورت الزخرف:
یہ سورت بھی مکی سورتوں میں سے ایک ہے۔
اس سورت کا موضوع بھی عقیدہ ہے ۔ خصوصا عقیدہ رسالت پر زیادہ زور ہے۔
o سورت کی ابتداء قرآن اور نبوت و رسالت کی حقانیت سے ہوئی ہے۔
o تیسری اور پانچویں آیت میں خطاب مکہ کے مشرکین سے ہے کہ یہ کتاب تمہاری زبان میں بڑے بلیغ انداز میں نازل ہوئی ہے، تاکہ تم اس کو سمجھنے کی کوشش کرو، اور اگر تم اس سے منی موڑتے ہو تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ ہم اس کتاب کو نازل کرنا بند کردیں گے، یا نبی کو تمہیں سنانے سے روک دیں گے۔
o آیت نمبر 6تا8میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہم ہر قوم میں اسی طرح رسول بھیج کر ان پر حجت قائم کرتے ہیں، جس طرح تمہارے پاس رسول آیا ہے۔اگر تم ایمان نہ لائے تو یاد رکھو تم سے زیادہ طاقت و قوت رکھنے والوں کو بھی ہم نے ہلاک کر دیا تھا۔
o آیت 9تا14میں اللہ تعالی نے اپنی قدرت کاملہ کے مختلف شواہد– جن کو وہ خود بھی مانتے ہیں– پیش کرکے اپنی وحدانیت کے اقرار کی دعوت دی ہے۔جیسے:
1) آسمان او ر زمین کو پیدا کرنا۔
2) زمین کو رہنے سہنے اور اسےتعمال کے قابل بنانا۔
3) ایک متعینہ مقدار میں آسمان سے بارش نازل کرنا ۔
4) پھر اس سے مختلف قسم کے سبزے اگانا۔
5) ہر چیز کے جوڑے بنانا۔
6) دو قسم کی سواریاں عطا کرنا :بحری و بری ۔یا ایک وہ جسے تم خود بناتے ہو جیسے کشتی وغیرہ اور دوسری قسم وہ بہت سی چیزیں جو اللہ تعالی بطور سواری کے پیدا کی ہیں۔ جیسے سواری کے جانور۔
7) او ر سب سے اہم یہ کہ تمہارے لئےان اسباب کو پیدا فرمایا اور جانوروں کو تمہاری خدمت پر لگ دیا۔
o آیت13اور 14میں سواری پر سوار ہونے کی وہ دعا مذکور ہے جس کا اہتمام نبی ﷺ فرماتے تھے۔
o آیت 15تا۱۹میں مکہ کے مشرکین کے اس باطل عقیدے کی تردید کی ہے جو اللہ تعالی کے لئے بیٹیوں کا تصور قائم کئے ہوئے تھے۔ نیز اس کے ساتھ انہیں توحید کی بھی دعوت دی گئی ہے۔
o ان کے اس عقیدے کی تردید عقلی دلیل سے کی گئی ہے۔
1) جو چیز تم اپنے لئے پسند نہیں کرتے اسے اللہ کے لئے کیسے پسند کرتے ہو؟ یعنی اپنے لئے تو بیٹی پسند نہیں کرتے، بلکہ اس کی پیدائش پر اس قدر شدید نفرت کا اظہار کرتے ہو کہ سارے دن غم سے بھرے اور منہ چھپائے پھرتے ہو، تو پھر اپنے لئے وسیلے کی خاطربیٹی کیوں قبول کرتے ہو؟ یہ تو بڑی نا انصافی ہے۔
2) عموما مرد کے مقابلے میں عورت کمزور ہوتی ہے، حتی کہ زورِ بیان میں بھی عورت مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔
3) تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ، کیا جب اللہ تعالی نے فرشتوں کو پیدا فرمایا اس وقت تم حاضر تھے؟ ظاہر بات ہے کہ جواب نہیں میں ہوگا۔ اس لئے انہیں دھمکی بھی دی گئی کہ تمہاری اس غیر منطقی بات کو نوٹ کیا جارہا ہے اور قیامت کے دن اس سے متعلق سوال بھی ہوگا ۔
o آیت ۲۰ –۲۵ میں اللہ تعالی نے مشرکین کی طرف سےفرشتوں کی عبادت سے متعلق اس شبہے یا دلیل کا جواب دیا ہے ۔ کافر کہتے تھے کہ ہم ان کی عبادت اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے کرتے ہیں ، اگر اللہ کو یہ منظور نہ ہوتا توہم ان کی عبادت کیسے کر پاتے؟ گویا وہ لوگ اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے سارا الزام تقدیر پر رکھ دیتے تھے۔
اس کے جواب میں اللہ تعالی نے سب سے پہلے ان کو جھٹلایا کہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی عقلی وہ نقلی دلیل نہیں ہے، سوائے اس کے کہ یہ باتیں وہ اپنے باپ دادا کی تقلید میں کہہ رہے ہیں، جس طرح کہ ان سے پہلے کی امتیں اپنے شرک پر یہی دلیل پیش کیاکرتی تھیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب انہوں نے رسولوں کے سمجھانے پر بھی اپنے شرک کو نہیں چھوڑا تو اللہ تعالی نے انہیں ہلاک کر دیا۔ لہذا انہیں چاہئے کہ ان کافروں کے انجام سے عبرت حاصل کریں ۔
o آیت 26سے 45تک ان آیات میں اہل مکہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کی متعدد گمراہیوں اور ہٹ دھرمیوں کا ذکر ہے۔
سب سے پہلے تو ان کافروں کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی میراث یاد دلائی گئی ہے، جو وہ توحید کی دعوت اور شرک سے لا تعلقی کی شکل میں چھوڑ کر گئے تھے ۔
o لیکن ان لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی امن و امان کی نعمت کو بھلا کر شرک کو اپنایا یہاں تک کہ جب انہیں ڈرانے کے لئے رسول آیا تو اس کا مذاق اڑانے لگے ۔
o دوسری بات یہ ہے کہ کافر یہ سمجھتے تھے کہ نبوت و رسالت بھی دنیا کی حکومت کی طرح کسی بڑے سردار کو ملنی چاہئے۔اللہ تعالی نے اس کی تردید اس طرح کی کہ یہ کام اللہ کا ہے وہ جسے چاہے اس مقام کے لئے منتخب کرتا ہے۔
o نیز اس بات پر متنبہ کیا کہ مال ودولت میں کمی وبیشی کا فرق ہی اس دنیا کا نظام چلانے کے لئے زیادہ مناسب ہے۔ البتہ جہاں تک نبوت کا تعلق ہے وہ خالص کا فضل ہے جوروح کی پاکیزگی اخلاق کی بلندی اور انسانی خوبیوں میں عالی مقام لوگوں کو ہی دی جاتی ہے،بھلے وہ شخص مال میں کم ہی کیوں نہ ہو ۔
o اسی مناسبت سے اللہ تعالی نے آخرت کی اہمیت اوردنیا کی حقارت کو واضح کیا ہےکہ اگر اس چیز کا خدشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ کافر و ناشکرے ہو جائیں گے تودنیا کی بے قدری کی وجہ سے اللہ تعالی ان کافروں کے گھروں اور دروازوں کو سونے کا بنا دیتا۔لیکن یہ چیزیں دنیاوی ساز وسامان کے علاوہ اور کچھ نہیں ، جبکہ آخرت جو ایک لازوال نعمت ہے وہ اللہ کے متقی بندوں ہی کو ملنے والی ہے۔
o اس کے بعدکی آیت میں اہل مکہ کو خبر دار کیا ہے آج جو لوگ اللہ کے ذکر سے غفلت برت رہے ہیں او ر رسول اللہ ﷺکی لائی ہوئی تعلیم سے روگردانی کر رہے ہیں یہ سب شیطان کا دھوکے میں ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان ان کے پیچھے لگا ہوا ہے اور انہیں حق سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اور انہیں اس دھوکے میں رکھے ہوئے ہے کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں۔ لیکن جب اللہ کے ہاں حاضری ہوگی تو دونوں یعنی شیطان اور انسان جسے شیطان نے گمراہ کیا ہے ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش دنیا میں ہمارے مابین مشرق و مغرب کی دوری ہوتی ۔ یاد رکھو ! آج اس لا تعلقی اور لعن طعن سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ہی کسی کے عذاب میں کوئی کمی واقع ہوگی۔
o آیت ۴۰ اور اس کے بعد کی آیات میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی ہے کہ شیطان کے چکر میں پڑ کریہ لوگ بہرے و گونگے ہو گئے ہیں جو آپ کی بات پر کان دھرنے والے نہیں ہیں، لہذا انتظار کریں آپ کی زندگی میں یا آپ کی وفات کے بعد ہم انہیں ضرور ضرورعذاب سے دوچار کریں گے۔
o پھر آپ ﷺ کو مخاطب کر کے کہا گیاکہ کافروں کے اس رویے سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں ، کیونکہ وحی کا راستہ ہی صراط مستقیم کا راستہ ہے۔ لہذا آپ اس پر ثابت قدم رہیں۔ اور یہ دھیان رہے کہ یہ قرآن آپ او ر آپ کی قوم کیےلئے ذکر و شرف کا باعث ہے، اور یہ بھی دھیان رہے کہ اس نعمت سے متعلق آپ سے اور آپ کی قوم سے سوال بھی ہوگا کہ اس کا حق کہاں تک ادا کیا ۔
o آیت 46 میں اللہ تعالی نے واضح کیا ہے کہ محمدﷺ جو توحیدِ عبادت کی دعوت دے رہے ہیں ، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ وہی چیز ہے جو تمام نبیوں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں میں قدرِ مشترک رہی ہے۔
o آیت ۴۷– 56تک آیتوں میں حضرت موسی علیہ السلام او رفرعون کا ذکر ہے۔ جس س کے ذریعے اہل مکہ کو دو باتوں پر متنبہ کیا گیا ہے۔
پہلی تو تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ نبوت کے لئے کسی مال ودنیاوی جاہ و منصب والا ہونا چاہئے ،جس کی مثال حضرت موسی اور فرعون کا واقعہ ہے۔ کیونکہ موسی علیہ السلام فرعون کے مقابلے میں مال وجاہ کے لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔
دوسری یہ کہ اگر تم لوگوں نے بھی اس نبی کی اطاعت قبول نہ کی تو تمہارا حشر بھی فرعون کے حشر جیسا ہوگاکہ ہم نے اسے غرق کر کے نشان عبرت بنا دیا ۔
o آیت 57تا66میں حضرت عیسی بن مریم کا ذکر خیر ہے او ران سے متعلق تین باتوں کی خصوصی وضاحت ہے۔
1) حضرت عیسی بن مریم کے ذکر سے آپ کی قوم کے لوگ چڑتے ہیں کہ ہم اگر فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے ہیں تو آپ اعتراض کرتے ہیں جب کہ نصرانی عیسی بن مریم کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو آپ ان کی عزت کرتے ہیں۔
اس کا جواب یہ دیا گیا کہ عیسی علیہ السلام بھی ہمارے ایک بندے ہیں او ر ہم نے ان کو بنو اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا، اور اس لئے کہ وہ بنو اسرائیل کے لئے ایک نمونہ بنیں، نہ یہ کہ اللہ کو چھوڑ کر عیسی علیہ السلام کی عبادت کی جائے۔
2) آخر زمانے میں حضرت عیسی علیہ السلام کا نزول قیامت کی نشانی کے طور پر ہوگا۔
3) اسی مناسبت سے اہلِ مکہ کو قیامت پر ایمان لانے کی دعوت دی اور شیطان کے بہکاوے میں آکر اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہونے روکا ۔
4) حضرت عیسی کی دعوت بھی خالص توحید پر مبنی تھی ۔
5) حضرت عیسی علیہ السلام کی اس واضح تعلیم کے باوجود ان کی قوم گمراہی کا شکار ہوئی ، اور ان کے بارے میں گروہوں میں بٹ گئے، کسی نے انہیں اللہ کا رسول مانا، کسی نے ان کو جھٹلایا اور کسی نے غلو کرکے انہیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔
o آیت 64 سے سورت کے خاتمے تک قیامت اور اس کی ہولناک مناظر اور آخرت میں نیک و بد کے انجام کا ذکر ہے۔
o اولا اہلِ جنت کا ذکر فرمایا اور ان سے متعلق چند امور واضح فرمائے۔
1) اس مقام پر جب دلی دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے تو نیک لوگ اور متقی حضرات اس سے محفوظ ہوں گے۔
2) اہل ایمان کو اطمینان دلایا جائے گا اور انہیں تسلی دی جائے گی۔
3) ایمان وعملِ صالح والے لوگوں کو جنت میں داخلہ ملے گا اور انہیں دائمی زندگی نصیب ہوگی۔
4) عملِ صالح کے عوض انہیں جنت میں ہر قسم کی نعمتیں وافر مقدار میں حاصل ہوں گی ۔
o دوسری جانب باطل پرست یعنی مجرموں کا ذکر ہے ، جہاں وہ ابدی ،ہمیشہ جاری رہنے والے اور رسوا کن عذاب سے دوچار ہوں گے۔
o اس عذاب کی تاب نہ لاکر مایوسی کے عالم میں مجرم لوگ جب جہنم کے داروغہ مالک کے سامنے گڑگڑ کر عرض کریں گے کہ اپنے رب سے گزارش کردو کہ وہ ہمارا خاتمہ کردے تو اس کی طرف سے جواب ملے گا کہ اب تمہیں اسی حال میں رہنا ہے ، کیونکہ تمہارے سامنے حق واضح ہو گیا تھا، پھر بھی تم نے اسے قبول نہیں کیا۔
o آیت ۷۹،۸۰ میں کلام کا رخ مشرکین کی طرف ہے کہ اگر تم لوگ یہ فیصلہ کر بیٹھے ہو کہ نبی پر ایمان نہیں لاو گے تو ہمارا بھی فیصلہ ہے کہ ہم اپنے نبی کی مخالفت کا بدلہ لے کر رہیں گے۔ اور یہ بات کان کھول کر سن لوکہ تمہارا یہ گمان نہ رہے کہ ہمارے نبی کے خلاف جو پوشیدہ مشورے کرتے ہو وہ ہم سے پوشیدہ ہے،نہیں! ہرگز نہیں بلکہ ہمارے فرشتے سب کچھ لکھ رہے ہیں ۔
o آیت نمبر ۸۱ سے اللہ کی توحید کی طرف دعوت ہے۔ کہ اللہ تعالی اولاد سے پاک ہے، زمین و آسمان میں صرف وہی عبادت کئے جانےکا حق رکھتا ہے۔زمین وآسمان بلکہ ساری کائنات کا بلا شرکتِ غیر وہی مالک ہے، اس کی ملکیت کا ایک اہم مظہر یہ ہے کہ قیامت کے دن صرف اسی کو شفاعت کا حق ملے گا ۔جو علم وداش کی بنیاد پر کلمہ حق کی گواہی دے گا اور اسی کے لئے شفاعت منظور کی جائے گی جو اس کلمہ کا اقرار کرنے والا ہوگا۔
o آخری دو آیتوں میں رسول اللہﷺ کو اللہ کی طرف سے ایک تسلی دی گئی ہے، اور ایک ہدایت ہے۔ تسلی یہ دی جارہی ہے کہ آپ اپنی قوم کےجھٹلانےاور بد سلوکی کا جو شکوہ کرتے ہیں، اللہ تعالی کو اس کاخوب علم ہے اور کافروں ومشرکوں سے بدلہ لینے پر قادر ہے، اوروقت آنے پر ان سے اس بدلہ لے گا بھی۔
اور ہدایت یہ کہ آپ ان کی بد سلوکیوں پر صبر کریں، ان کے ساتھ درگزر کرنے اور عفو کا معاملہ کریں، نیز سلام کہتے ہوئے ان کے پاس سے گزر جائیں ۔ وہ وقت دور نہیں جب وہ اپنے انجامِ بد کو دیکھ لیں گے ۔
سورت الدخان:
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے ۔ یعنی عقیدہ رسالت او رموت کے بعد کی زندگی ۔
o ابتدائی آٹھ آیتوں میں اس کتاب کی فضیلت،نزول کا وقت اور مقصد بیان ہوا ہے۔
o اس کی فضیلت یہ ہے کہ یہ کتاب مبین ہے، یعنی واضح احکام وبیان پر مشتمل ہے اور اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
o نزول کا وقت مبارک رات یعنی شبِ قدر ہے، جو اس کتاب کی برکت پر بھی دلیل ہے۔
o نزول کا مقصد لوگوں کو ان کی بد عملی خصوصا شرک سے ڈرانا ہے۔
o نیز لیلۃ القدر کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بیان فرمایا کہ اس کتاب کا نزول، اور نزول کی رات میں تمام فیصلے ہونا یہ سب تیرے رب کی رحمت کا مظہر ہے۔
o آیت ۷و۸ میں اللہ کی کامل ربوبیت سے اس کی الوہیت بلکہ توحید الوہیت پراستدلال ہے۔
یعنی وہ رب جو آسمان و زمین کا مالک اور تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے، عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے ۔
o آیت 10تا16میں قیامت کی ایک نشانی دخان(دھواں) کا ذکر ہے۔ یہ دھواں ایسا عظیم ہوگا کہ تمام لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔
o اس عذاب کے ذکر کر کا مقصد اہل مکہ کو توبہ کی طرف دعوت دیناہے۔ اس لئےکہ جب وہ عذاب آئے گا تو اس دن لوگ اللہ سے اس عذاب کو ٹالنے کی دعا کریں گے، لیکن وہ عذاب نہ ٹلے گا۔ کیونکہ ان لوگوں نے اللہ کے رسول کا کہنا نہیں مانا تھا ۔
o آیت 17تا33میں حضرت موسی علیہ السلام اور قوم فرعون کا ذکر ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے رسول (موسی علیہ السلام)کو جھٹلایا تو اللہ تعالی نے انہیں سمندر میں ڈبو کر بعد میں آنے والوں کے لئے عبرت کا نشان بنادیا۔
جس سے اہل مکہ کے لئے مثال پیش کرنا مقصود ہے کہ قبل اس کے کہ تمہارا بھی وہی انجام ہو جو قومِ فرعون کا ہوا،اس رسول کی اتباع کر لو اور اس پر ایمان لے آو۔
o یہاں موسی علیہ السلام کے واقعے کا ایک ایسا پہلو بیان ہوا جو شاید کہیں اور نہیں بیان ہوا ہے ۔ وہ یہ کہ موسی علیہ السلام جب بحکم الہی سمندر پار کر گئے اور پیچھے مڑ کر دیکھا کہ ابھی سمندر کا راستہ ویسے ہی ہے جیسے وہ گزر رہے تھے۔ یہ دکھ کر موسی علیہ السلام کو خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں فرعون بھی پیچھے نہ آجائے۔ لہذا وہ جلدی جلدی پانی پر اپنی چھڑی مارنے لگے، یہ سوچ کر کہ جس طرح میرے چھڑی مارنے سے پانی دو حصوں میں بٹ گیا ہے، شاید میرے دوبار مارنے سے پانی دوبارہ مل جائے۔ لیکن اللہ تعالی نے فرمایا: اس کو خشک ہی چھوڑ دو، فرعون او راس کا لشکر اسی میں غرق ہونے والے ہیں ۔
o آیت ۳۰ سے ۳۳ میں بنی اسرائیل پر ان احسانات کاذکر ہےجو اللہ کی طرف سے انہیں دئے گئے تھے۔ جیسے فرعون کےلئے رسوا کن عذاب، فرعون کو غرق کرنےکے بعد اس زمین پر خلافت،نبوت و ملوکیت سے نواز کرسارے عالم پر فضیلت بخشی،اور دیگر بڑے بڑے احسانات۔
اس سے ایک طرف اہلِ مکہ کو خبر دار کرنا اور دوسری طرف کمزور مسلمانوں کو تسلی دینا مقصود ہے۔
o آیت 34تا39میں آخرت سے متعلق قریش کے ایک شبہ پر تنبیہ کی گئی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ مر کرسڑگل جانے کے بعدہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا۔ اور اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھاؤ۔
اس کے جواب میں اللہ تعالی نے انہیں دو طرح سےغور وفکر کرنے کی دعوت دی :
1) تم سے پہلے قوم تبع او ر بہت سی قومیں گزری ہیں ، تو کیا ان کی سرکشی انہیں اللہ کے عذاب اور ہلاکت سے بچا سکی؟
2) آسمان و زمین کا یہ نظام او ران کی پیدائش بے مقصد نہیں ، بلکہ ان کی پیدائش کے بڑے عظیم مقاصد ہیں اور انہیں میں سے ایک آخرت کا قیام بھی ہے۔نیز جو ذات اتنی عظیم مخلوقات کو پیدا کر سکتی ہے وہ ان لوگوں کو دوبارہ بھی پیدا کر سکتی ہے۔
o آیت 41سے سورت کے آخر تک قیامت کے دن کے دو مناظر پیش کئے گئے ہیں، جو پڑھنے اور غور کرے کے لائق ہے۔
o پہلا منظر قیامت کی ہولناکی کا کہ جہنم میں مجرموں کا برا حال ہوگا ۔ اعوان و اصحاب سے ان کا تعلق ٹوٹ چکا ہوگا،اسی بے حالی میں انہیں گھسیٹ کر بیچ وبیچ جہنم میں ڈال دیا جائے گا، جہاں ” زقوم” جیسا کڑوا پھل کھانے کو ملے گا۔ جیسےہی وہ اسےکھائیں گے ان کے پیٹ میں ابلنا شروع کر دے گا، پھر ان کے سر پر سخٹ کھولتا ہواپانی ڈالا جائے گا، اور طنز ومذاق اڑانے کے انداز میں ان سے کہا جائے گہ یہ لو، کھانے پینے کے مزے لو۔ یہ اس زعم وکبر کا بدلہ ہے جس کا اظہار تم دنیا میں کیاکرتے تھےاور اسی کےبل بوتے پر قیامت کو جھٹلاتے تھے۔
o دوسرا منظر جنت میں متقین یعنی نیک لوگوں کی رہائش کا ہے۔ کہ وہاں وہ بڑے امن وامان میں ہوں گے، جنتوں اور باغات میں انہیں داخلہ ملے گا، جس میں کھانے پینے، لباس اور قسم قسم کے پھلوں سے ان کی میزبانی کی جائےگی۔ پھر مزید نعمتوں کی تکمیل کے طور پر انہیں بیویاں اور حور وغلمان سے نوارزا جائیگا۔ اور سب سے اہم یہ کہ ان کے رب کا فضل ان کے ساتھ ہوگا۔
o پھر جس طرح اس کتاب کے نزول سے اس سورت کی ابتدا ہوئی تھی اب آخری دوآیتوں میں اولا اس کتاب کی حقانیت کا ذکرہے اور اہلِ مکہ کو اس پر ایمان کی دعوت ہے، ثانیا نبی کریم کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب کی حقانیت کو نہیں مانتے تو انتظار کیجئے ہم خود ہی ان سے انتقام لے لیں گے ۔
سورت الجاثیہ
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس سورت میں بھی گفتگو عقیدہ سے متعلق ہے۔ خاص کر دیگر سورِ حوامیم کی طرح عقیدہ توحید، رسالت و انزالِ کتب اور آخرت پر ایمان۔
o ابتدا قرآن مجید کے نزول اور اس کے عظمت سے ہوئی ہے۔
o آیت ۳–۶ میں اس کائنات میں توحید کے جو دلائل پائے جاتےہیں ان کا بیان ہے کہ ان دلائل میں عقل او رسمجھ رکھنے والوں کے لئے بہت سی عبرتیں ہیں۔زمین و آسمان کے چپہ چپہ میں موجود نشانیاں،انسان کی خلقت،رات اور دن کی آمد و رفت،بارش کا نزول،زمین کی برکات ،ہواؤں کی گردش ۔ اس سب میں ایسی نشانیاں ہیں جو عقل و سمجھ رکھنے والوں کے لئے کافی ہیں، اور انہیں دعوت دیتی ہیں کہ وہ توحید کا اقرار کر یں ۔اور اگر لوگوں کو ان میں بھی توحید نظر نہ آئے تو پھر اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے؟۔
o آیت 7تا11میں آخرت کے منکرین اور اس پر اعتراضات اٹھانے والوں کو تنبیہ کی ہے، جو دین کا مذاق اڑاتے ہیں،قرآن سن کر اس سے منہ موڑتے ہیں اور حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد بھی محض تکبر کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے۔ وہ یاد رکھیں کہ جہنم ان کا انتظار کر رہی ہے ،اور وہاں ان کے باطل معبودوں میں سے کوئی ان کے کام نہیں آئے گا ۔
o یاد رکھو، ہدایت کا راستہ یہی ہے، اور جو اس سے منہ موڑے گا اس کے لئے دردناک عذاب ہے۔
o آیت 12تا15میں اس دنیا میں اللہ تعالی کی متعدد نعمتوں کا ذکر ہے جن سے لوگ خوب خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔
o پھر ان پر غور وفکر کی دعوت ہے کہ اللہ تعالی نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کردیا ،تاکہ اس میں کشتیاں چلاو او ر تجارت او ر شکار کے لئے اس پر سوار ہو۔ نیز زمین و آسمان کی ہر چیز کو تمہارے لئے مسخر کیا تاکہ تم غور و فکر سے کام لو ۔
o اسی ضمن میں اہلِ ایمان کو یہ حکم ہے کہ اگر کافر لوگ اللہ کی نشانیوں پر غور نہیں کرتے اور ایمان نہیں لاتے تو ان سے دل برداشتہ نہ ہوں اور نہ ان سے چھیڑ چھاڑکریں ۔ کیونکہ ہر شخص اپنے اعمالِ خیر وشرکا خودذمے دار ہے۔
o آیت نمبر 16تا20میں بنی اسرائیل کا ذکر آیا ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں کس قدر اور قسم قسم کی نعمتوں سے نوازا تھا، خصوصا نبوت، حکومت ، کتاب الہی اور اہلِ عالم پر فضیلت۔اس کے باوجود انہوں نے اللہ کی ناشکری کی۔ جس کا ایک مظہر یہ بھی ہے کہ وہ اس نبی پر ایمان نہیں لائے۔ لہذا مسلمانوں کو ان کے طریق سے پرہیز کرنا چاہئے اور اس شریعت کی اتباع میں جٹ جانا چاہئے۔ کیونکہ اب یہ نعمت ان سے چھین کر تمہارے پاس آئی ہے ۔
o نیز آیت نمبر 20 میں قرآن کی فضیلت کا بیان ہے کہ اس میں لوگوں کیلئے بصیرت اور یقین رکھنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت کا سامان ہے۔
o آیت نمبر21، ۲۲ میں قیامت کی دوعقلی دلیلیں دی ہیں ۔
پہلی دلیل۔ اللہ تعالی کے نزدیک فرمانبردارو نا فرمان برابر نہیں ہوسکتے۔ ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ اولامجرم ہر قسم کی آزادی میں رہتا ہے اور ثانیا دھوکہ، جھوٹ اور چالبازی جیسےبہت سے جرموں کی سزا نہیں پاتا، جبکہ اس دنیا میں ایک مومن اپنی سادگی اور حکمِ الہی کی پابندی کی وجہ سے بہت سی نعمتوں سے محروم رہ جاتا ہے، بلکہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھی بھگتتا ہے ۔ اب اگر کوئی ایسا دن نہ ہو جس میں مجرم کو اس کے جرموں کی سزا اور مومن کو اس کے اعمالِ خیر کی جزا ملے تو یہ بہت بڑی ناانصافی ہوگی جو اللہِ عزیز وحکیم کی عزت وحکمت سے بعید ہے۔
دوسری دلیل۔ جو ذات آسمان وزمین جیسی عظیم مخلوقات کو پیدا کرنے پر قادر ہے وہ ان کو فنا کرکے دوبارہ وجود میں لانے پر بھی قادر ہے۔ اسی لئے فرمایا: ﵟوَلِتُجۡزَىٰ كُلُّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡ وَهُمۡ لَا يُظۡلَمُونَ (٢٢)” تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو اس نے کمایا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا ۔
o اور آیت نمبر 23 سے کلام کا رخ آخرت کے اثبات اور منکرین اور و دہریوں کے شبہات کے جواب کی طرف ہے، نیز وقوع قیامت کے دلائل اس کی بعض ہولناکیوں کا ذکر ہے ۔
o اولا—یہ واضح کیا کہ گمراہی کا اصل سبب ان کی ہوا پرستی اور خواہش کی پیروی ہے، اسی وجہ سے اللہ تعالی نے ان کے کانوں پر مہر لگا دی کہ وہ وعظ سنتے ضرور ہیں لیکن سمجھتے نہیں، ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا کہ وہ دیکھتے ضرور ہیں لیکن نگاہِ عبرت سے محروم ہیں، ان کے دلوں پر مہر لگا دی کہ علم کے باوجود ان کی عقل کام نہیں کرتی ۔
o ثانیا—خواہشات کی پیروی کے نتیجے میں ان کے اندر کئی اعتقادی خرابیوں نے جنم لیا ہے۔ جیسے بعث بعد الموت کا انکار۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مرنے اور جینے کا سبب زمانہ کی گردش اور رات ودن کی آمد ورفت ہے۔ چنانچہ کچھ لوگ پیدا ہوتے ہیں اور کچھ لوگ مر جاتے ہیں، اور اسی طرح یہ زندگی ختم ہوجائے گی۔ اس کا جواب اللہ تعالی نے یہ دیا کہ اس بارے میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، یہ صرف گمان و اندازےسے کام لے رہے ہیں۔آیت ۲۴
اسی طرح رسول کی زبانی قیامت کے بارے میں آیاتِ الہیہ سن کران کا یہ کہنا کہ آج تک ہم نے نہیں دیکھا کہ ایک شخص مر کر دوبارہ اس دنیا میں آیا ہو۔ اگر اپنے دعوی میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کر کے دکھلا دو۔
اس کا جواب اللہ تعالی نے یہ دیا کہ یہ کام اللہ تعالی کا ہے، تم خود بھی اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہ آتےہو اور نہ ہی اپنی زندگی سے مرتے ہو۔ موت اور زندگی یہ صرف اللہ تعالی کا کام ہے ۔ البتہ جو بات یقینی ہے وہ یہ کہ اسی نے تمہیں زندی دی، پھر موت دے گا اور بھر تم سب کو جب چاہے گا حساب وعذاب کے لئے زندہ کرکے جمع کرلے گا۔لیکن چونکہ تم عقل سے کام نہیں لیتے اس لئے تمہاری سمجھ میں نہیں آتا۔1یت ۲۵، ۲۶
o آیت ۲۷—۳۲ میں قیامت کی بعض ہولناکیوں کو بیان کرکے کفار کو خبر دار کیا گیا ہے۔
1) قیامت آئے گی تو مدد کرنے اور تعلق نبھانے کےسارے وسائل ٹوٹ جائیں گے۔ آیت ۲۷
2) اس موقف کی سختی کی وجہ سے ہر نیک وبد اپنا فیصلہ سننے کے لئے گھٹنوں کے بل دو زانو ہو کر بیٹھا ہوگا۔
3) ہر شخص کو اس کا نامہ اعمال پڑھنے کے لئے دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ لو اپنا نامہ خود ہی پڑھ لو۔ آیت:۲۸
o آیت ۳۰—۳۲ میں نیک وبد کے انجام کا مختصر تذکرہ ہے کہ نیک لوگ تو اپنی نیکیوں کے سبب اللہ کی رحمت اور بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔
o جب کہ کافروں کو ذلیل کرتے ہوئے کہا جائے گا کہ یہی دن ہے کہ جب تمہیں اس سے متعلق آیات سنائی جاتی تھیں تو تم ان کا مذاق اڑاتے ہوئے متکبرانہ انداز میں انہیں جھٹلا دیتےتھے۔
o لہذااس تکبر اور تمسخر کا انجام آج تمہارے سامنے ہے، اور اللہ تعالی تمہیں اسی طرح بھلارہا ہے جس طرح دنیا میں تم اسے بھولے ہوئے تھے۔
o آخر کی دو آیتوں میں اللہ کی عظمت ، اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر ہے،اور جس طرح اللہ کی تمجید وتسبیح سے اس سورت کی ابتدا ہوئی تھی اسی طرح اسی حمد وثنا پر اس سورت کا خاتمہ ہوارہا ہے۔
فَلِلَّهِ ٱلۡحَمۡدُ رَبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَرَبِّ ٱلۡأَرۡضِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ (٣٦) وَلَهُ ٱلۡكِبۡرِيَآءُ فِي ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلۡأَرۡضِۖ وَهُوَ ٱلۡعَزِيزُ ٱلۡحَكِيمُ (٣٧) "پس اللہ کی تعریف ہے جو آسمانوں اور زمین اور تمام جہان کا پالنہار ہے۔تمام (بزرگی اور) بڑائی آسمانوں اور زمین میں اسی کی ہے اور وہی غالب اور حکمت واﻻ ہے”۔