بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*چودہواں پارہ(ربما)*
چودہواں پارہ دو سورتوں پر مشتمل ہے؛پہلی مکمل سورہ الحجر اور دوسری مکمل سورہ النحل ہے ۔
سورت الحجر۔
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے۔خاص کر عقیدہ رسالت ، مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا اور جزاء وسزا ۔
o آیت 1 تا 5 میں رسول کے مخالفین کو ڈرایا گیا ہے اور ایک وقت مقررہ کے بعد ہلاکت کی دھمکی دی گئی ہے کہ وہ مقررہ تھوڑی سی مدت کیلئے اس دنیا کی زندگی میں موج مستی کرلیں، وہ وقت دور نہیں جب وہ مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ یاد رکھیں: وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا كِتَابٌ مَعْلُومٌ (4) مَا تَسْبِقُ مِنْ أُمَّةٍ أَجَلَهَا وَمَا يَسْتَأْخِرُونَ (5)۔”ہم نے اس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لئے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی،کوئی قوم نہ اپنے وقت مقررہ وقت سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے”۔
o آیت 6 تا 9 میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جو لوگ آپ کو دیوانہ کہہ رہے ہیں، آپ ان کی پرواہ نہ کیجئے، اور اگر وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں تو اس کی طرف توجہ نہ دیجئے۔ رسولوں کی مخالف ظالم قوموں کا ہمیشہ سےیہی شیوہ رہا ہے۔
o اور اگر وہ آپ سے بطور دلیل یا عذاب یا فرشتوں کے لانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو یہ ان کی کج فہمی ہے،کیونکہ فرشتے تو صرف فیصلہ حق لے کر نازل ہوتے ہیں،پھر اس وقت ان کو کوئی مہلت نہ ملے گی۔
o پھر قرآن کی حفاظت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر یہ لوگ قرآن کو جھٹلا رہے ہیں تو آپ اس کی فکر نہ کریں ،ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (9)” ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں”۔
o اگر یہ لوگ اس قرآن کی قدر نہیں کریں گے تو ہم ایسی قوم کو لے آئیں گے جو ان کی طرح اس کی آیات کے ساتھ کفر کرنے والی نہیں ہو گی بلکہ اس پر ایمان لے آئے گی، جیسا کہ سورۃ الانعام میں ارشاد ہے: فَإِنْ يَكْفُرْ بِهَا هَؤُلَاءِ فَقَدْ وَكَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَيْسُوا بِهَا بِكَافِرِينَ (89)”سو اگر یہ لوگ اس کا انکار کریں تو ہم نے اس کے لئے ایسے بہت سے لوگ مقرر کئے ہیں جو اس کے منکر نہیں ہیں”۔
o آیت 10 تا 15 میں نبی ﷺ کو تسلی دینےکے لئے گزشتہ انبیاء کا حوالہ دیا گیا ہے کہ ایسے بدبختوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا تھا اور وہ کس طرح ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آیت:10، 11
o ان کافروں کا حال تو یہ ہے کہ ان کے مطالبے پر اگر ہم ان کے لئے آسمان پر چڑھنے کا بھی کوئی راستہ دے دیں تب بھی ایمان نہیں لائیں گے، بلکہ اپنی بے ایمانی کے لئے کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈ نکالیں گے۔آیت:14
o یا یہ کہیں گے ہماری آنکھوں نے وہ چیزیں دیکھی ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، بلکہ ہم پر تو جادو کر دیا گیا ہے۔آیت:15
o آیت 16 سے 25 تک کائنات کی متعدد اور کھلی نشانیوں کا ذکر کرکے اللہ کی عظمت اور اس کی کمال قدرت کو ظاہر کیا گیا ہے۔جیسے: 1- آسمان میں برجوں کو بنانا۔ 2- ان میں تاروں کو پیدا کرکے انہیں خوبصور بنانا۔ 3- شیطانوں سے آسمان کی حفاظت کرنا۔ 4- زمین کو بچھونا بنایا۔، 5- زمین پربطور میخ پہاڑ وں کا گاڑ دینا، 6- اور زمین میں ہر چیز معین مقدار میں اگانا۔ 7- اس میں لوگوں کے کھانے پینے کا سامان رکھ دینا۔ 8- اور پھر اس زمین کی سیرابی کے لئے آسمان سے بارش نازل کرنے کا ذکر ہے۔ اس قسم کی اور بھی نشانیوں کا تذکرہ۔
o ان تمام چیزوں کا ذکر کرنےکا تین چیزوں کا اثبات ہے۔
1- اولا-اللہ تعالی نے اپنی کمال قدرت کا ثبوت پیش کیا۔
2- ثانیا- ان کو اپنی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیاہے ۔
3- ثالثا آخرت اور مرنے کے بعد کے زندگی کا اثبات ۔ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ (24) وَإِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ (25)” اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں۔آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وه بڑی حکمتوں واﻻ بڑے علم واﻻ ہے”۔
o آیت نمبر 20 اور 21 پر غور کریں تو اللہ تعالی نے رزق کے بارے میں تمام اندیشوں کو دور کر دیا ہے، ” اور اسی میں ہم نے تمہاری معیشت کے اسباب فراہم کئے ہیں ،اور اپنی بہت سی مخلوقات کے لئے بھی جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو”۔
o آیت 26 اور 27 میں انسانوں اور جنوں کی تخلیق،ان کی تخلیق کے وقت اور تخلیق کے مادے کا بھی ذکر ہے۔انسان کو سڑی ہوئی بدبودار کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا گیا ہے، جبکہ جنوں کو انسانوں سے پہلے آگ کی لو (یا اس کے شعلوں)سے پیدا کیا ۔
گویا یہ تعلیم دینی ہے کہ جو اللہ مٹی اور آگ سے ایسے خوبصورت اور عقل و سمجھ رکھنے والے جسموں کو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے وہ انہیں دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔
o آیت 28 سے 42 تک حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا ذکر ہے جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالی نے ابلیس سمیت تمام فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم علیہ السلام کو سجدہ کریں تو ابلیس نے کس طرح تکبر اور سرکشی سے کام لیا۔جس کا سبب آدم علیہ السلام سے اس کا حسد تھا۔
جس سے شاید یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ حق کی عدم قبولیت میں تکبر و حسد کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے، لہذااس سے پرہیز کرنا چاہئے۔
اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان کی ایک چال یہ بھی ہے کہ انسان کے سامنے گناہوں کو خوبصورت کرکے اور مفید بنا کر پیش کرتا ہے۔ شیطان کی اس چال سے بچنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح اس مقام پر یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ شیطان سے بچنے کا واحد راستہ اخلاص ہے۔ یعنی یہ کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ مخلص ہو جائے۔إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ (40) سوا تیرے مخلص بندوں کے ( کہ وہ گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے)
o آیت 43 تا 48 میں اللہ تعالی نے شیطان کی پیروی کرنے والوں اور اس سے اپنے آپ کو بچانے والوں کا انجام بھی بیان فرما دیا ہے کہ اس کی پیروی کرنے والے جہنم میں جائیں گے، جبکہ اس سے اپنے آپ کو بچانے والوں کیلئے باغات اور چشمے ہوں گے ۔
o آیت 47و 48 میں جنت اور جنت والوں کی تین بڑی اہم صفتیں بیان ہوئی ہیں۔
1- جنت میں جنتیوں کے مابین نہ کوئی عداوت ہوگی اور نہ حسد وکینہ۔ بلکہ جنت میں داخلہ سے قبل ہی ان کے دلوں سے اس کدورت کو نکال باہر کیا جائے گا۔
2- جنتی جنت میں نہ تکان محسوس کریں گے اور نہ کمزوری وپریشانی۔
3- جنت کی نعمتیں اور راحتیں دائمی و ابدی ہوں گی ۔
o آیت 49 اور 50 میں ترغیب و ترہیب کا عجیب اسلوب استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالی نے فرمایا کہ” میرے بندوں سے کہہ دو میں بڑا بخشنے والا او ر نہایت رحم کرنے والا ہوں اور (ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتلا دو کہ) میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔
اس میں ہمارے لئے یہ اہم سبق ہے کہ ہماری کیفیت امید اور خوف کے درمیان درمیان ہونی چاہئے۔ صرف اس کی رحمت کی امید بھی ہلاکت کا باعث ہے اور امید کےبغیر صرف خوف اور ڈر بھی موجب تباہی ہے۔
o آیت 51 تا 84 میں بعض نبیوں کے واقعات مذکور ہیں۔ تاکہ ان کے پڑھنے اور سننے والوں میں بلند درجات کےحصول کا جذبہ پیدا ہو اور اللہ کی نافرمانی کا خوف بھڑکے۔
o سب سے حضرت ابراہیم علیہم السلام کا واقعہ ہے کہ فرشتے ان کے پاس مہمانوں کی صورت میں آئے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مہمان نوازی کے طور پران کے سامنے کھانے کی چیز پیش کی، جب دیکھا کہ وہ کھانے سے اعراض کر رہے ہیں تو گھبرا گئے،لیکن جلد ہی فرشتوں نے حقیقت کو واضح کیا کہ ہم اللہ کے فرشتے ہیں ، ہمارے آنے کا دو مقصد ہے۔ ایک تو یہ کہ آپ کو ایک سمجھدار بیٹے کی بشارت دیں اور دوسرے یہ کہ لوط علیہ السلام کی مجرم قوم کی ہلاکت کے لئے بھیجا گیا ہے۔
o حضرت لوط کا قصہ قدرے تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ لوط علیہ السلام کے واقعے کے ضمن میں چند باتیں قابل غور ہیں۔
1- آیت 72 میں ارشاد باری تعالی ہے: لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ (72) "تیری عمر کی قسم! یہ تو اپنی مستی میں سر گرداں ہیں”۔
بہت سے مفسرین کے نزدیک اس میں خطاب رسول اللہﷺ کو ہے۔ اس طرح یہ نبیِ کریمﷺکی یہ خصوصیت ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کی عمر کی قسم کھائی ہے ،آپ کے علاوہ یہ فضیلت کسی اور نبی کو حاصل نہیں ہے۔
2- اللہ تعالی کا فرمان ہے: إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ (75) ” بلا شبہہ اس میں صاحب فراست اور غور وفکر کرنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں”۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حادثات و واقعات سے عبرت ونصیحت صرف وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو صاحبِ ایمان و فراست ہوتے ہیں، دنیا اور دنیا کی چکا چونگ میں بدمست لوگ عبرت سے محروم رہتے ہیں۔
3- سب سے پہلے ضمناً حضرت ابراہیم اور ان کے بیٹے حضرت اسحاق کی بشارت کا بھی ذکر ہے، بلکہ قرآن مجید میں قوم لوط کی ہلاکت کے ذکر سے قبل عموما حضرت ابراہیم اور ان کے لئے حضرت اسحاق علیہما السلام کی بشارت کا ذکر آتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہی فرشتے جو قوم لوط پر عذاب لے کر آئے تھے وہی پہلےحضرت ابراہیم علیہ لاسلام کے پاس بطور مہمان آئے اور حضرت اسحاق کی پیدائش کی بشارت دی۔
4- حضرت لوط علیہ السلام کے قصے میں اہل مکہ کیلئے عبرت کے دو نمایاں پہلو ہیں: 1-تم محمد ﷺ سے فرشتوں کے نزول کا مطالبہ کرتے ہو۔ دیکھ لو کہ فرشتوں کا نزول کس مقصد کے لئے اور کس طرح ہوتا ہے۔
1- قوم لوط کی بستی ایسی راہ پر ہے جہاں سے ہمیشہ قافلے گزرتے رہتے ہیں اور تم بھی قوم لوط کی بستیوں پر صبح و شام گزرتے ہو، پھر بھی تم کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے ؟۔
o اور حضرت شعیب او ر حضرت صالح علیہم السلام کا قصہ مختصراً بیان ہوا ہے ۔
o اس سورت کے آخر میں اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے چند امور کو لازماً اپنانے کا حکم دیا ہے جو آج کے ماحول میں ہمارے لئے بھی قابل توجہ ہیں:
1) آپ ان لوگوں کی مخالفت اور عناد کی وجہ سے غمزدہ نہ ہوں، ان کے لئےفیصلے کا ایک دن متعین ہے۔بلکہ آپ بہترین طریقے اور خوبی کے ساتھ ان کی مخالفتوں سے درگزر کیجئے۔آیت:85
2) آپ کو سورہ فاتحہ جیسی عظیم نعمت ملی ہے، لہذا آپ کافروں کو ملنے والی طرح طرح کی نعمتوں پر نظر نہ رکھیں۔ یہ سب جلد ہی ضائع ہونے والی چیزیں ہیں۔آیت:87
3) اپنے مومن ساتھیوں کغ لئے اپنا بازو جھکا دیں ۔ یعنی ان کی تربیت پر خصوصی توجہ دیجئے اور ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔88
4) جو لوگ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں(کہا جاتا ہے وہ قریش کے پانچ بڑے تھے)ہم ان سے مقابلہ کرنے کیلئے کافی ہیں۔ یعنی وہ آپ کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ لہذا بلا جھجک آپ اپنا کام کرتے رہیں۔آیت:94، 95
5) اپنے دل کے سکون اور ضمیر کے اطمینان کے لئے ان عبادتوں پر خصوصی توجہ دیں؛ 1-اللہ کے ذکر کا اہتمام کرنا۔ 2-نماز کی پابندی کرنا۔ 3- اور استقامت سے اپنے کام میں لگے رہنا۔ آیت: 99
واضح رہے کہ یہ عبادتیں دل کی تنگی،الجھن اور پریشانی کا کامیاب روحانی علاج ہیں۔ اور اسے وہی سمجھ سکتا ہے جو ان پر ایمان رکھتا ہے۔
سورت النحل
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس سورت کا مرکزی موضوع بھی عقیدہ ہے۔ خصوصا عقیدہ توحید الوہیت و رسالت اور آخرت۔ ان امور پر زیادہ تر زور ایسےعقلی دلائل سے دیا گیا ہے جنہیں ہرانسان محسوس کرتا ہے۔
• ابتدائی دو آیتوں میں توحید ورسالت پر زور ہے،لیکن مشرکین کودھمکی دینے کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ ہوشیار ہو جاؤ، وہ عذاب جس کا تم مطالبہ کررہے ہو وہ آنے والا ہے، اسے مذاق نہ سمجھو، بلکہ جلدی توبہ کرکے اللہ کی توحید اختیار کر لو۔ أَتَى أَمْرُ اللَّهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ (1)”اللہ کا حکم آپہنچا ، اب اس کی جلدی نہ مچاؤ، تمام پاکی اسی کے لئے ہے ،وہ بر تر ہے ان سب سے جنھیں یہ اللہ کا شریک بتلاتے ہیں”۔
o دوسری آیت میں رسالت کا اثبات ہے کہ اللہ تعالی اپنے جس بندے کو چاہتا ہے اسے رسالت کے لئے چن لیتا ہے۔ اور جتنے بھی رسول اس دنیا میں آئے ہیں ان سب کا مقصد لوگوں کو توحید خصوصا توحید عبادت کی دعوت دینا تھا۔أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ (2) ” یہ کہ تم لوگوں کو آگاہ کرو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ، پس تم مجھی سے ڈرو”۔
o آیت 3 تا 9 میں اللہ تعالی نے چند فطری امور کے ذکر سے اپنی قدرت اور توحید کا ثبوت پیش کیا ہے۔
1- آسمان و زمین کی پیدائش۔
2- ایک حقیر نطفے سے انسان کی تخلیق۔
3- مختلف فوائد کے لئے چوپایوں کی تخلیق۔ جیسےان پر سواری کرکے لمبی مسافت طے کرنا،ان کے بالوں سے مستفید ہونا اور بطور زینت ان کا استعمال کرنا وغیرہ) ۔
o آیت 8 کا آخری جملہ ” وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ:”اور بھی بہت سی ایسی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمھیں علم بھی نہیں ہے”۔ جس سے اس روئے زمین پر موجود بلکہ سمندروں میں بھی وہ تمام جانور آجاتے ہیں جن کا علم انسان کو ہر نئے دن ہورہا ہے۔
اسی طرح اس میں وہ تمام وسائل نقل وحمل بھی آجاتے ہیں جنہیں انسان اللہ تعالی کی دی ہوئی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر بناتا ہے ۔ جیسے بس، ریل گاڑیاں، بحری جہاز اور ہوائی جہاز وغیرہ۔
o آیت نمبر 9 میں اس اہم امر کی طرف رہنمائی ہےکہ کسی کو ہدایت کے راستے پر لانا اور کسی کو گمراہ کرنا یہ بھی اللہ ہی کا کام ہے۔
o آیت 10 سے 19 تک اللہ تعالی نے اپنی متعدد نعمتوں کا شمار کرکے اپنی توحید کی دعوت دی ہے۔
o جیسے اللہ ہی نے بارش کے ذریعے تمہارے حیوانوں کے لئے پانی اور چارے کا انتظام کیا ہے۔تمہارے لئے مختلف قسم کے پھل پیدا کئے ہیں۔ تمہارے کام کاج اور آرام وسکون کے لئے دن رات کا نظام بنایا ہے۔ تروتازہ گوشت اورزیورات کے لئے سمندر کو مسخر کر دیا ہے۔ زمین پر پہاڑوں کا گاڑنا اور اس میں نہروں اور وادیوں کو جاری کر دینا، یہ سب کچھ اللہ ہی کی قدرت ہے۔ اسی طرح آسمان میں تاروں کو جڑنا جن کی مدد سے رات کی تاریکی میں راستے معلوم کئے جاتے ہیں۔
ان تمام نعمتوں کاذکر کرکے لوگوں کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ جس ذات نے یہ گو نا گوں نعمتیں تمہیں دی ہیں وہی عبادت کے لائق ہے۔ اسی لئے فرمایا: أَفَمَنْ يَخْلُقُ كَمَنْ لَا يَخْلُقُ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ (17)” تو کیا جو پیدا کرتا ہے اس جیسا ہے جو پیدا نہیں کرتا ، کیا تم بالکل ہی نہیں سوچتے”
نیزیہ بھی سوچو کہ ان کے علاوہ ایسی کتنی نعمتیں ہیں تم جن کو شمار میں نہیں لا سکتے۔ لہذا اللہ سے توبہ کرو اور یاد رکھو اللہ تعالی تمہاری تمام ظاہر و پوشیدہ حرکتوں کو جانتا ہے۔
o آیت 20 تا 23 میں مشرکین کی کج فہمی اور کج روی کا ذکر ہے اور انہیں توحید کو اختیار کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ نیز اس بات کو ان پر واضح کیا گیا ہے کہ تمہارے باطل معبود نہ کچھ پیدا کر سکتے ہیں اور نہ کچھ اختیار رکھتے ہیں بلکہ ان کی بے بسی اور لا چاری کا عالم تو یہ ہے کہ وہ مردہ ہیں زندہ نہیں ہیں اور انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ انہیں دوبارہ کب اٹھایا جائے گا۔ لہذا تم اب تکبر چھوڑو اور آخرت کا خوف کرتے ہوئے حق قبول کر کے توحید کو اپنا لو ۔
o آیت 24 تا 29 میں قرآن کو نہ ماننے والے ،اسے بے بنیاد قصے کہانیاں قرار دینے والے اور اپنے ساتھ دوسرے لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کا برا انجام بیان ہوا ہے۔ جیسے:
1) انہیں قیامت کے دن رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔آیت: 27
2) وہ خود اپنے اور جنہیں گمراہ کیا ہوگا ان سب کے ذمہ دار ہوں گے۔آیت:25
3) وہ جو بھی مکر کر رہے ہیں اللہ تعالی خود ان کے برے اعمال کو ان کی تباہی کا سبب بنائے گا۔آیت:26
4) ان کے ساتھی و پیشوا ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔آیت:27
5) فرشتے ان کی روح قبض کرتے وقت ان کے ساتھ برا سلوک کریں گے تو وہ مکمل تابعدار بننا چاہیں گے۔ مگر اس وقت کوئی فائدہ نہ ہوگا۔آیت:28
6) پھر آخر میں انہیں جہنم کے دروازوں میں داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا۔آیت:29
o آیت 30 تا 32 میں جن لوگوں نے اس قرآن کو قبول کیا اور رسالت کا اقرار کیا ،ان پر اللہ تعالی کی طرف سے انعامات کا ذکر ہوا ہے:
1) آخرت کی عمدہ زندگی سے پہلے انہیں دنیا میں بھی سکون و اطمینان والی زندگی ملے گی۔آیت:30
2) موت کے وقت فرشتوں کا ان کے ساتھ حسن سلوک اور انہیں جنت کی خوشخبری دینا۔آیت: 32
3) اور آخرت میں دائمی جنت میں داخلہ۔آیت:31
o آیت 33 اور 34 میں مشرکین کو دھمکی دی ہے کہ اب ایمان لانے میں تاخیر کا تمہارے سامنے کیا عذر ہے؟ حقائق واضح ہوچکےہیں تو اب کس چیز کا انتظار ہے؟ کیا تم اپنی موت یا اللہ کی طرف سے عذاب کا انتظار کر رہے ہو؟ جیسا کہ تم سے پہلے کچھ لوگوں نے کیا۔ یاد رکھو ! انہیں ان کے برے اعمال کی سزا ملی اور جس عذاب کا وہ مذاق اڑاتے تھے اس عذاب نے انہیں گھیر لیا اور وہ کسی طرح سے بچ نہ سکے۔
o آیت 35 سے 40 تک مشرکین کی بعض الٹی سیدھی بحثوں کا ذکر کرتے ہوئے نبی ﷺ کو یہ تسلی دی گئی ہے کہ یہ برا سلوک صرف آپ ہی کے ساتھ نہیں کیا جارہا ہے، بلکہ آپ سے پہلے نبیوں کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔
o مشرکین کی ایک دلیل یہ تھی کہ اگر ہمارا کفر وشرک کرنا اللہ تعالی کو پسند نہیں ہے تو وہ ہمیں اس سے روک کیوں نہیں دیتا؟
اللہ تعالی نے اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے نبیﷺ کو صرف تسلی دی کہ اس قسم کے اعتراض کا مقصد فضول اور بے مقصد بحث ہے۔ حالانکہ وہ لوگ اللہ کی مشیت اور مرضی کے فرق کو جانتے ہیں۔ آپ کا کام صرف اللہ کا پیغام پہنچا دینا ہے۔
o آیت 36 میں ایک اہم حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا، وہ یہ اللہ تعالی نے ہر امت میں اپنے رسول بھیجے ہیں، اور ہر رسول کا مشن ایک ہی رہا ہے کہ لوگوں کو صرف اللہ واحد کی عبادت کی دعوت دیں اور اس کے سوا تمام معبودوں کی عبادت سے روکیں۔ نیز سب رسولوں کے ساتھ یہی معاملہ رہا ہے کہ کچھ لوگ تو ان کی بات مانتے تھے اور بہت سے لوگ گمراہی ہی کو اپنائے رکھتے تھے ۔
o آیت 41 اور 42 میں ایمان لانے والے ان مسلمانوں کو جو حبشہ کی طرف ہجرت کرکے گئے تھے یا جنہیں مکہ مکرمہ سے ہجرت پر ابھارا جا رہا ہے انہیں دنیا و آخرت میں اچھے ٹھکانے اور اجر عظیم کی بشارت سنائی گئی اور یہ بھی کہا گیا کہ ہجرت کے سفر میں تمہیں دو چیزوں کی سخت ضرورت ہے؛ صبر اور توکل۔
o آیت نمبر 43 اور بعد کی چند آیات میں نبی کریمﷺ کی رسالت کی حقانیت کا اثبات اور اہل مکہ کو نبی ﷺ کی رسالت کو قبول کرنے کی دعوت دی جارہی ہے ۔بصورت دیگر انہیں متعدد قسم کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے۔
1) زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔
2) کسی ایسی جگہ سے اللہ کا عذاب آئے گا جہاں سے وہم و گمان بھی نہیں ہوگا ۔جیسے غزوہ بدر میں ہوا۔
3) چلتے پھرتے یعنی سفر میں کوئی قدرتی آفت آجائے۔
4) مال،اولاد اور صحت و فراخی میں کمی آجائے۔
o اللہ کے پاس عذاب کی مزید بھی بے شمار صورتیں ہیں لیکن اس کی شان رحمت وغفران کا تقاضا ہے کہ وہ اہنے بندوں کو مہلت دے اور درگزر سے کام لے۔فَإِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ (47)” اس لئے کہ یقینا تمہارا رب اعلی شفقت اور انتہائی رحم والا ہے”۔
o اس کے بعد کائنات کی دیگر چیزوں حتی کہ سائے کا حوالہ دیکر انہیں توحید کی دعوت دی گئی ہے کہ یہ بے جان چیزیں جب اللہ کو سجدہ کرتی اور اس کی عبادت میں مشغول رہتی ہیں تو اے بنی نوع انسان! تمہیں اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑنا چاہے ۔
o آیت 53 تا 55 میں انسان کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ خود تمہارے نفس اور سوچ میں یہ بات راسخ ہے کہ اس دنیا میں جو نعمتیں بھی حاصل ہیں وہ سب اللہ کی عطا ہیں۔ اسی لئے جب بھی کوئی مشکل گھڑی آتی ہے تواسی کو پکارتے ہو۔
o اب یہ بہٹ بڑی ناانصافی ہے اور ناشکری ہے کہ اللہ کوچھوڑ کر مجبور لوگون کی عبادت کرتے ہو۔
o یاد رکھو ! یہ دنیا چند دن کی ہے، جس میں مزے کرلو، عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (55) آخر کار تمہیں معلوم ہو ہی جائے گا۔
o آیت نمبر 56 تا 62 میں کافروں کی دو بری خرابیوں پر سخت ڈانٹ پلائی گئی ہے:
1) اپنے لئے لڑکی کو ناپسند کرنا۔،صرف یہی نہیں کہ ناپسند کرتے تھے،بلکہ ان کی ناپسندیدگی کا یہ عالم تھا کہ اسے زندہ دفن کردینے کے لئے بھی تیار ہوجاتے تھے۔
2) پھر اسی چیز کو اللہ کے لئے پسند کرنا۔ یعنی اللہ کی طرف بیٹیوں کی نسبت کرنا۔
اور پھر بھی یہ سمجھ رکھاتھا کہ یہ کوئی نیک عمل ہے ۔
o آیت 63، 64 میں نبی کریمﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ کافروں کا آپ کی مخالفت کرنا ،یہ کوئی نئی بات نہیں۔ شیطان ملعون ہمیشہ ہی سے بنی نوع انسان کو حق کے خلاف بھڑکاتا رہا ہے اور آج بھی وہی کام کر رہا ہے۔ لہذا آپ پریشان نہ ہوں ، آپ کو نبوت دینا اور آپ کی طرف اس کتاب کا نازل کرنا ایسے لوگوں پر صرف حجت تمام کردینا ہے۔
o آیت نمبر 65 سے پھر اللہ تعالی نے اپنی مختلف نعمتوں کا ذکر شروع کیا ہے۔
o انہیں اہم نعمتوں میں سے ایک اہم نعمت صاف ستھرا اور عمدہ ذائقے والا دودھ ہے جو خون اور گوبر کے درمیان سے نکلتا ہے۔ آیت: 66
o ایک اہم نعمت کھجور اور انگور کے پھل ہیں جن سے وہ اپنا ایک محبوب مشروب بناتے ہیں۔آیت:67
o ایک اور اہم نعمت شہد ہے جس میں لوگوں کے لئے ذائقہ اور شفاء ہے۔آیت: 69
o حیوانوں سے متعلقہ عجائب کے بعد اللہ تعالی انسان کے نشو ونما سے متعلق اس کی عمر چاروں دور بچپنا، جوانی، ادھیڑ عمری اور بڑھاپے کی طرف اشارہ فرمایا۔ آیت:۷۰
o اسی طرح معاشی طور پر لوگوں میں فرق مراتب کا ذکر فرمایا کہ یہ بھی اللہ کی ایک نعمت ہے، ورنہ انسان اپنی خدمت کرنے والوں سے محروم ہوجا تا۔ آیت:75۔
o بیوی اور اولاد احفاد کی نعمت۔ آیت: 72۔
o ماں کے پیٹوں میں پرورش اورپھر وہاں سے کان و آنکھ اور قلب وجگر کی نعمت لے کر نکلنا۔ آیت:78
o گھروں کی نعمت جو دل وجسم کے سکون کا سبب ہے۔ آیت:80
o سایے، پہاڑوں کے غار اور لباس وقمیص کی نعمت جس سے سردی وگرمی سے بچا جاتا ہے۔ آیت:81
o ان نعمتوں کے ذکر کے فورا بعد لوگوں اور خصوصا اہل مکہ کو ان الفاظ میں ڈانٹ پلائی گئی کہ ” يَعْرِفُونَ نِعْمَتَ اللَّهِ ثُمَّ يُنْكِرُونَهَا وَأَكْثَرُهُمُ الْكَافِرُونَ (83)” ( یہ اللہ کی نعمتیں جانتے ہوئے بھی ان کے انکاری بنے ہوئے ہیں، بلکہ ان میں سے اکثر تو ناشکرے ہیں)
o ان نعمتوں کے ذکر کے دوران جگہ جگہ لوگوں کو توحید کی دعوت اور آخرت پر ایمان لانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
o جیسے اولاد اور قسم قسم کی کھانے کی عمدہ چیزوں کی شکل میں نعمتوں کے ذکر کے بعد ارشاد ہے: أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَتِ اللَّهِ هُمْ يَكْفُرُونَ (72) وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ شَيْئًا وَلَا يَسْتَطِيعُونَ (73) فَلَا تَضْرِبُوا لِلَّهِ الْأَمْثَالَ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ (74) "پھر کیا یہ لوگ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی باطل کو مانتے ہیں، اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں، اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ سے نہ انہیں آسمانوں سے کچھ بھی رزق ملتا ہے نہ زمین سے، اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں۔ لہذا اللہ کے لئے مثالیں نہ گھڑو، اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے”۔
o ایک جگہ ارشاد ہے: وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (77)”آسمانوں اور زمین کا غیب صرف اللہ کو معلوم ہے ، اور قیامت کا امر تو ایسا ہی ہے جیسے آنکھ کا جھپکنابلکہ اس سے بھی زیادہ قریب، بے شک اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے”۔
o آیت 84 سے 89 تک قیامت کی بعض ہولناکیوں کا بیان ہے۔
o مثلا قیامت کے دن کی ایک ہولناکی یہ ہوگی کہ ہر امت کے ساتھ اس کا نبی کھڑا ہوگا اور نبی اس کے خلاف گواہی دے گا کہ اے میرے رب!میں نے آپ کا پیغام بحسن و خوبی ان تک پہنچا دیا تھا لیکن یہ لوگ ضد اور کفر پر اڑے رہے اور میری ایک بھی نہ مانی۔ ایسے وقت میں کافروں کی تباہی کا حال کچھ اس طرح ہو گا کہ:
1) انہیں اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔
2) ان کی عرضی بھی قبول نہیں ہوگی۔آیت:84
3) ان کے عذاب میں کمی نہیں کی جائے گی۔
4) اور نہ ہی انہیں عذاب دینے میں کسی تاخیر سے کام لیا جائے گا۔ نیز نہ ہی توبہ کے لئے مہلت دی جائے گی۔ آیت: 85
5) اسی دوران ان کے باطل معبودوں کو ان کے سامنے ظاہر کیا جائے گا تو ان کی پوجا کرنے والےانہیں دیکھ کر خوش ہوں گے کہ ہم ان کے اوپر الزام لگا کر چھوٹ جائیں گے ۔ لیکن ان کے باطل معبود یہ کہکرفورا ان کی تردید کر دیں گے کہ”إِنَّكُمْ لَكَاذِبُونَ ” بلاشبہ تم جھوٹے ہو۔آیت:86
o پھر وہ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیں گے اورحق کا مسلسل انکار کرنے اور حق سے روکنے کے عوض انہیں عذاب پر عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آیت:87۔ 88
o اسی ضمن میں نبی ﷺ کی ایک فضیلت بیان ہوئی ہے کہ ہر نبی جب اپنی قوم کے خلاف گواہی دے گا اور ان کی قوم ان کی گواہی کا انکار کردے گی تو ان نبیوں کی صداقت پر نبی ﷺ کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا ۔
o آیت 89 سے کلام کا رخ مسلمانوں کی طرف پھیر دیا گیا اور انہیں بہت سی نصیحتیں کی گئی ہیں:
1) پہلی نصیحت ایک جامع آیت:90 ہے، جس میں تین باتوں (عدل،احسان او ررشتہ داروں کی مدد کرنا)کا حکم ہے اور تین باتوں(بے حیائی،برائی اور ظلم) سے روکا گیا ہے۔
2) اللہ کے ساتھ اور اس کا نام لیکر لوگوں کے ساتھ کئے گئے عہد کوپورا کرنےاو رقسموں کی پابندی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔آیت:91
3) ایمان کے بعد شرک اور نیک عمل کے بعد برے اعمال سے روکا گیا ہے۔92
4) یہود و نصاری کی دو بری خصلتوں سے روکا گیا ہے؛ ایک تو یہ کہ دھوکہ دہی اور بد عہدی کرکے لوگوں کو دین سے بد ظن نہ کرو ۔آیت:94 ،جیساکہ کچھ لوگ اپنی بد عملی کی وجہ سے لوگوں کو دین سے روکنے کا سبب بنتے ہیں۔
دوسری چیز یہ کہ دین اور دینی باتوں کو چند ٹکوں کے عوض نہ بیچو یا مال کی طمع پر شریعت کی حدود کو نہ توڑو۔
5) جومال واسباب تمہارے پاس ہے وہ سب ختم ہونے والا ہے اور جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ باقی رہنے والا ہے، ۔آیت:96
6) سعادت مند زندگی ایمان اور عمل صالح سے ہی کی مرہون منت ہے۔ آیت:97
7) قرآن پڑھنے کا ادب بھی سکھایا گیا ہےکہ جب بھی قرآن پڑھنے کا ارادہ کرو تو اس سے قبل شیطان مردود سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔ یعنی قرآن کی تلاوت سے قبل ” أَعُوذُ بِاللهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ” پڑھ لی اکرو۔ آیت:98
o او رضمنا یہ بھی واضح کیا گیا کہ اس میں توکوئی شک نہیں کہ شیطان تمہیں ہر طرح پریشان کرنا چاہتا ہے اور بہت سے لوگ اس کے دھوکے میں آجاتے ہیں ۔لیکن یہ وہی لوگ ہیں جو شیطان کو اپنا دوست بنائے ہوئے ہیں۔ البتہ جن لوگوں نے اس سے دشمنی کی ، شیطان سے بچنے کے لئے اللہ کا سہارا لیتے رہے اور اپنے آپ کو ایمان حقیقی ا ور اللہ پر توکل سے مضبوط کئے رکھا ان پر شیطان کا کوئی زور نہیں چلتا ۔
o قرآن کی حقانیت او راس کے بارے میں اس اعتراض کا جواب ہے کہ اسے تو کسی بشر نے سکھایا ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالی ے فرمایاکہ جس آدمی کا وہ نام لیتے ہیں وہ تو عربی زبان کی فصاحت کو جانتا ہی نہیں، پھر وہ کس طرح آپ کو قرآن کی تعلیم دے سکتا ہے۔ آیت:102، 103
o اسی ضمن میں قرآن کا روحانی فائدہ بھی واضح کردیا ہے کہ اس سے ایک تو اہل ایمان کو استقامت حاصل ہوتی ہے، دوسرے اس میں اہل ایمان کی ہدایت کا سامان ہے ، تیسرے ان کے لئے بشارت ہے ۔
o آیت 106 سے 110 تک ان مسلمانوں کو تسلی دی جا رہی ہے جن کی طرف سے دفاع کرنے والا کوئی نہیں تھا اور کافر انہیں سزائیں دیتے تھے کہ بسا اوقات انہیں نہ چاہتے ہوئے بھی کچھ ایسی باتیں کہنی پڑتی تھیں جو ایمان کے خلاف ہوتیں ،انہیں یہ تسلی ہے کہ مجبوری میں زبان سے کہے گئے کلمہ کفر پر اللہ کی طرف سے کوئی پکڑ نہیں ۔آیت:106
o البتہ وہ لوگ دنیاوی مصائب اور دشمنوں سے مرعوب ہو کر دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہوئے کفر وضلالت کو قبول کر لیتے ہیں ، انہیں دنیا میں سزا یہ ہے کہ ان کے دلوں پر مہر لگ جانے کی وجہ سے غفلت کی بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، اور آخرت میں انہیں بڑے خسارے کی دھمکی ہے۔ لَا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الْآخِرَةِ هُمُ الْخَاسِرُونَ (109)” اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ یہی لوگ آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والے ہیں”۔
o آیت 110 میں اللہ تعالی نے ان مسلمانوں کو تسلی دی ہے اور ان کے لئے اپنی رحمتوں کے دروازے کھلے رہنے کا وعدہ کیا ہے جو ابتدائی مرحلے میں کافروں کے ڈر، یا مال واولاد کی محبت میں ہجرت نہ کر سکے، لیکن بعد میں اس کا تلافی کرلی ” ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ” (110) "جن لوگوں نے فتنوں میں ڈالے جانے کے بعد ہجرت کی ، پھر جہاد کیا اور صبر کا ثبوت دیا ، بےشک تیرا رب ان باتوں کے بعد انھیں بخشنے والا اور ان پر مہربانیاں کرنے والا ہے۔
o آیت :111 میں لوگوں کو ایک بلیغ تنبیہ ہے کہ اس دن کی فکر کریں جس دن ہر مرود وعورت صرف اپنی جان چھڑانے کی فکر میں ہوگا، اس دن ہر جان پر نفسی نفسی کا عالم طاری ہوگا ، نہ کوئی کسی کی وکالت کر سکے گا اور نہ کسی کا سفارشی بن کر کھڑا ہوگا، اس دن ہر شخص کا اپنا کیا دھرا سامنے آجائے گا، ہر ایک کے ساتھ کامل عدل کا معاملہ کی جائے گا۔
o آیت 112 اور 113 میں قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے ان کے ذریعے تمام لوگوں کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اللہ کی نعمتوں کی ناشکری صرف ان کے زوال ہی نہیں بلکہ اللہ کے عذاب کا سبب بنتی ہے ۔
o انہیں نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ان کی ہدایت کے لئے رسول کی بعثت بھی ہے، جس کی مخالفت پر انہیں عذاب کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
o آیت 114 سے 117 تک مشرکین مکہ کو اللہ کے دین میں ہیر پھیر سے روکا گیا ہے اور انہیں اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام کر لینے سے منع کیا گیا ہے اور انہیں توبہ کی دعوت دی گئی ہے۔
o ان سے کہا گیا کہ دیکھو! اللہ تعالی نے جو چیزیں تم پر حرام کی ہیں ان کی پابندی کرو اور اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام وحلال نہ ٹھہراؤ۔ یاد رکھو تم پر سور، مردار، خون اور ہر وہ ذبیحہ حرام ہے جس پر اللہ کے علاوہ کسی کا نام پکارا جائے۔انہیں حرام سمجھو اور پر ہیز کرو۔
o یہ بھی اشارہ فرمایا کہ تم سے پہلے یہی حرکت یہودیوں نے کی تھی کہ بعض چیزوں کو اپنے طور پر اپنے لئے حرام کرلیا تھا جس کے عوض وہ پریشانیوں میں مبتلا ہوئے اور اللہ کی طرف سے اس کی ناراضگی کے شکار ہوئے۔
o آیت نمبر 119 میں اللہ تعالی نے تمام گنہگاروں کو خواہ وہ مکہ کے مشرکین ہوں ، یہود ہوں ،نصاری ہوں یا گناہ وشرک میں مبتلامسلمان، سب کو یہ بشارت دی ہے کہ وہ اگر توبہ کرتے ہیں اور اپنی اصلاح کرلیتے ہیں تو اللہ تعالی کی رحمت مغفرت ان کا استقبال کرے گی۔
o آیت نمبر 120 اور اس کے بعد والی آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکرخیر کرکے مشرکین مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام جن کی اولاد اور پیر وکار ہونے کے تم دعویدار ہو وہ تو اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے، وہ مشرک نہ تھے ۔
o ان آیت میں حضرت ابراہیم کی پانچ صفتوں اور پھر ان پر پانچ انعامات کا ذکر ہے۔
1- پہلی صفت پوری امت یا مقتدا تھے۔
2- "قانت اللہ ” مطیع وفرمانبردار۔
3- "حنیفا” یعنی سب سے کٹ کر اللہ کی عبادت کرنے والا۔
4- شرک سے دور۔
5- اللہ کی نعمتوں کا شکر گزار ۔
اس صفات کو اپنے اندر اجاگر کرنے کے عوض اللہ تعالی نے انہیں پانچ نعمتوں سے نوازا تھا۔
1- ان کو منتخب کرلیا۔
2- ان کی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف کی۔
3- دنیا میں بھی بھلائی دی ( کہ آپ کی ذریت میں نبوت کا سلسلہ چلا)۔
4- آخرت میں بھی نیک گروہ میں شامل ہوئے۔
5- محمد ﷺجیسے نبی کو بھی آپ کی ملت کی اتباع کا حکم دیا۔
o اسی طرح یہود نے ہفتے کے دن جو بدعت ایجاد کی تھی اس کا ملت ابراہیمی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہےز البتہ اس کا فیصلہ قیامت کے دن ہوگا۔
o آخری آیتوں میں بظاہرنبیﷺکو خطاب کرکے مسلمانوں کو دعوت دین سے متعلق چند مفید ہدایات دی گئی ہیں۔
1- پہلی ہدایت یہ کہ مسلمانوں کے لئے دعوت وتبلیغ کا مکمل نصالا بیان کردیا گیا کہ وہ دعوت میں اسلوب حکمت، پھر وعظ ونصیحت کا اسلوب ، اور پھر اچھے اسلوب میں بحث ومباحثہ سے کام لیں۔
2- دعوت کے سلسلے میں یہ ہدایت کہ داعی کا کام صرف دعوت کو پہنچانا ہے ۔ لہذا اگر کوئی دعوت قبول نہ کرے تو فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی دعوت کا کام چھوڑ دینا جائز ہے۔
3- دعوتِ دین کا کام کرنے والےکو بعض اوقات ایسے جاہلوں سے سابقہ پڑے گا جو اپنے قول وفعل کے ذریعے تکلیف پہنچائیں گے۔ لہذا ایسے موقعے پر اولا داعی صبر سے کا م لے۔
4- اگر صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے تو اپنا بدلہ لے سکتا ہے ،بشرطیکہ اپنے حق کے مقدار کے برابرہو ۔
5- لیکن یاد رہے صبر کرنا بہتر ہے۔ لہذا اگر انتقام نہ لو تو یہی صاحب عزم رسولوں کا طریقہ ہے ۔
6- صبر کرنا نہایت ہی مشکل چیز ہے، لہذا اس کے لئے اللہ تعالی سے صبر کی دعا کرتے رہیں اور کافروں کے مکروفریب سے زیادہ پریشان نہ ہوں، اللہ تعالی داعیوں کا حامی وناصر ہے۔
اور اس سورت اور پارے کا اختتام اس بات پر ہوا ہے کہ اگر مسلمان تقوی او ر اخلاص پر قائم رہیں تو ان کے لئے اللہ تعالی کی معیت نصرت کا وعدہ ہے۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُحْسِنُونَ (128)”بلا شبہہ اللہ تعالی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو تقوی سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں”۔