*چو بیسواں پارہ(فمن اظلم)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ
*چو بیسواں پارہ(فمن اظلم)*

چوبیسویں پارے میں تین سورتیں ہیں؛ سورہ الزمر کا بقیہ حصہ، سورہ غافر مکمل اور سورہ فصلت کا ابتدائی اکثر حصہ۔
o سورہ زمر کی آیت32تا35میں شرک کی قباحت اور توحید کی فضیلت اور اس کا ثمرہ بیان ہوا ہے کہ
جو اللہ تعالی پر جھوٹ بولے اور یوں کہے کہ اس کی اولاد ہے،اس نے اپنے تک پہنچنے کیلئے نیک بندوں کے واسطے رکھے ہیں یہ سب سے بڑے ظالم ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔
البتہ جو لوگ صدق [سچائی] و توحید پر قائم ہیں یہی لوگ اللہ کی رحمت کےمستحق اور اس کی طرف سے مغفرت کے حقدار ہیں، ان کے لئے اللہ کی طرف سے بہتر سے بہتر بدلے کا وعدہ ہے۔
o آیت نمبر36- 37 میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہےاور بے خوف ہوکر اپنی دعوت لوگوں تک پہنچانے کی تعلیم دی ہے۔”أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِنْ دُونِهِ” کیا اللہ تعالی اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے؟یہ لوگ آپ کو اللہ کے سوا اوروں سے ڈرا رہے ہیں؟
o نیزنبیﷺ کو مزید تسلی دی گئی کہ ہدایت و گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہے گمراہ کردے اور جس کو چاہے ہدایت سے سرفراز کردے۔اگر یہ لوگ کفرو عناد پر اڑے رہےتو اللہ تعالی انہیں عبرتناک انجام سے دوچار کرے گا ۔
o آیت 38-40 میں مشرکین کے عقائد کے باطل ہونے کی دلیل دی ہے کہ جس اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے وہی ہر قسم کے نفع نقصان کا مالک ہے،اس کے برخلاف تمہارے یہ باطل معبود کسی بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔تعجب ہے اس بات پر کہ جب تم لوگ آسمان و زمین کا خالق اور مالک اللہ کو مانتے ہو تو تمہیں اپنے اپنے نفع و نقصان میں دوسروں پر بھروسہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب اللہ کا فی ہے تو بھروسہ بھی اسی پر کرنا چاہئے۔
o پھر نبی ﷺ کو یہ اعلان کرنے کا حکم ہوا کہ آپ انہیں کہہ دیں تم میرے خلاف اپنی اپنی تدبیریں کرو اور اپنی جگہ عمل کرو، میں بھی عمل کرنے والا ہوں عنقریب تم جان لو گے کہ حق پر کون تھا؟
o ہم نے تو آپ کے ذریعہ کتاب ہدایت سے انہیں روشناش کرا دیا ہے ، اگر ہدایت اپنا لیں تو اس سے انہیں کا فائدہ ہے اور اگر منہ موڑتے ہیں تو آپ کو ان پر ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا گیا ہے۔
o آیت نمبر 42 میں اللہ تعالی نے زندگی و موت کا ایک فلسفہ بیان کیا ہے اور ایک علمی حقیقت واضح کی ہے کہ انسان کی نیند ایک قسم کی موت ہے، اللہ تعالی نے جسے تمہارے اوپر طاری کر کے اس کے ذریعے بڑی موت کو یاد دلاتا ہے ، کہ اس بڑی موت سے پہلے تیاری کر لو۔
o اس کے ذکر کے بعد اللہ نے فرمایا : إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (42)”اس میں غور و فکر کرنے والوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں "۔
1) ایک نشانی تو یہ ہے کہ یہ صرف اللہ کا کام ہے لہذا تم اسی کی عبادت کرو ۔
2) دوسری نشانی یہ کہ جو اللہ ایک چھوٹی موت دے کر تمہیں زندہ کرتا ہے وہ ی بڑی موت دے کر بھی دوبارہ زندہ کر سکتا ہے۔
o آیت43اور 44میں کافروں کے عقیدہ شفاعت کی تردید دو اعتبار سے کی گئی ہے۔ پہلا اعتبارتو یہ ہے کہ یہ لوگ جن شخصیات کو اپنا سفارشی سمجھ کر پکار رہے ہیں وہ نہ تو ان کی باتوں کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی وہ کسی چیز کے مالک ہیں۔
o دوسرا اعتبار یہ کہ ہر قسم کی شفاعت کا مالک صرف اللہ ہے،اس میں نہ کسی کا کوئی حصہ ہے اور نہ اس کی اجازت کے بغیر کو ئی سفارش کر سکتا ہے۔
o آیت نمبر 45میں مشرکین کے اس باطل رویے کی ترجمانی جو آج بھی پایا جاتا ہے کہ جب اللہ کا ذکر ہوتا ہے یا توحید باری تعالی کا بیان ہوتا ہے تو ان کے دل تنگ پڑ جاتےہیں اور الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں او راگر ان کے باطل معبودں کا تذکرہ ہوتا رہے اور ولیوں کی کرامتوں کا بیان ہوتا رہے تو اس پر خوش ہوتے ہیں۔
o آیت نمبر 46میں نبی ﷺ کو بڑی تسلی دی گئی ہے کہ آپ اللہ سے دعا کریں اور سارا معاملہ اس کے سپرد کر دیں وہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس آیت کی تلاوت نبی ﷺ تہجد کیلئے کھڑے ہوتے وقت قراءت سے پہلے کیا کرتے تھے ۔
o آیت نمبر 47- 48 میں اللہ کی قدرت اورقیامت کی بعض ہولناکیوں اور کافروں کی ذلت و رسوائی کا ذکر ہے، کہ اس وقت انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوگا ،اور اس وقت اگر ان کے پاس دنیا اور دنیا کے برابر دوسری چیزیں بھی ہوں تو اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے انہیں بطور فدیہ دینے کیلئے تیار ہوجائیں گے۔
o آیت 49-52 میں کفار کی بعض بد اعمالیوں اور بد عقیدیوں کا ذکر ہے کہ انسان کا حال تو یہ ہے کہ جب اسے تکلیف ومصائب کا سامنا ہوتا ہے تو ان سے نجات پانے کے لئے اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعائیں کرتا ہے ، لیکن جب نعمت ومال حاصل ہوتا ہے تو اللہ کو بھول جاتا ہے اور اسے اپنی ہوشیاری یا خوش قسمتی سمجھتا ہے، حالانکہ وہ بھول جاتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے آزمائش اور ڈھیل بھی ہوسکتی ہے جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کا بھی یہی حال ہو چکاہے ۔
o آیت 52 میں جہاں اس کا بیان ہے کہ روزی میں رسعت وتنگی یہ سب اللہ کا کام اور اس کی ربوبیت کا مظہر ہے ، اس میں کسی کے افضل ومفضول ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ وہیں اس آیت میں توحید کے بھی دلائل کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کائنات میں صرف اسی کا انتظام چلتا ہے ،اسی کی تدبیر مؤثر اور کارگر ہے اور اسی کی مشیت نافذ ہوتی ہے، لیکن اسے صرف اہل ایمان ہی سمجھ سکتے ہیں۔
o آیت53تا59میں توبہ اور اللہ کی طرف رجوع سے متعلق بڑی عمدہ تقریر ہے۔ ان آیات میں ہر قسم کے گناہوں میں مبتلا لوگوں کو اللہ کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور مایوسی سے روکا گیا ہے، انسانوں کےگناہ خواہ کتنے ہی زیادہ ہوں اور خواہ جس قسم کے ہوں ،ہر ایک کی مغفرت کا وعدہ ہے ۔
o لیکن اس کیلئے تین چیزوں کا ہو نا ضروری ہے؛
1- توبہ۔ یعنی اپنے تمام ما سبق گناہوں پر شرمندگی اور اس سے توبہ مانگنی چاہئے۔
2- انابت الی اللہ۔ یعنی اب ایمان لاو ، اسلام میں داخل ہو جاو اور نیک عمل کرو۔
3- اور وحی الہی کی اتباع ۔آیت: 55 یعنی اب اگلی زندگی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری میں گزرنی چاہئے۔
4- ایک چوتھی شرط یہ بھی ہے کہ یہ سب کچھ موت سے پہلے پہلے ،یا اللہ کا عذاب سامنے آنے سے قبل ہونا چاہئے۔آیت: 57-59
o آیت 60- 61 میں اللہ تعالی نے اس بات کی خبر دی ہے کہ جو لوگ ہماری اس دعوت یعنی توبہ اور انابت الی اللہ کو قبول کریں گے اور جو اسے قبول نہ کریں گے ، حشر میں ان دونوں جماعتوں کا انجام کیسا رہے گا ۔
o جن لوگوں نے قبول نہ کیا ہوگا اور تکبر سے کام لیا ہوگا ان کا حال تو وہ بد حال ہوں گے کہ ان کے چہرے کالے ہوں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہوگی ۔
o اور جن لوگوں نے اس دعوت کو قبول کیا ہوگا اللہ تعالی انہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا ، وہ دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے ہیں اس پر انہیں کوئی غم نہ ہوگا اور نہ ہی قیامت کی ہولناکیوں سے وہ پریشان ہوں گے۔
o آیت 62، 63 میں اللہ تعالی کی توحید کے دلائل کا بیان اور اس کی طرف دعوت ہے کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا ، وہی ہر چیز کی نگرانی وحفاظت کرتا ہے اور ہر چیز پر اسے ہی قدرت حاصل ہے۔ لہذا اسی کی عبادت کرنی چاہئے۔ کافروں نے تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا کیا ہے کہ انہوں نے ان دلائل پر توجہ نہ دی اور کفر کی راہ اختیار کر لی۔
o توحید اور اس کی دعوت کے بعد آیت64تا67میں شرک کی قباحت کا بیان ہے کہ شرک اس قدر گندا کام ہے اس کی وجہ سے اللہ کے مقرب ترین بندوں [رسولوں اور انبیاء]کے اعمال بھی رائیگاں جا سکتے ہیں۔
o نیز یہ بھی بیان ہے کہ جو لوگ شرک میں مبتلا ہوتے ہیں حق تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی عظمت اور کبریائی کا اندازہ ہی نہیں ہے، جبکہ اللہ تعالی کی عظمت وکبریائی کا یہ حال ہے کہ قیامت کے دن آسمان وزمین اس کی مٹھی میں ہوں گے۔
o آیت68سے آخر سورت تک عقیدہ آخرت کی تفصیل ہے،بلکہ قیامت کے تینوں مرحلوں کا ذکر ہے؛
o آیت نمبر 68 میں دو بار صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جو قیامت کا پہلا مرحلہ ہے۔ پہلی بار صور میں پھونک کے اثر سے سارے لوگ بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے اور ان کو موت آجائے گی۔ پھر دوسری بار صور کی آواز پر سارے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور حشر کے میدان کی طرف بھاگ کھڑے ہوں گے۔
o پھر آیت 69 اور 70 میں قیامت کے دوسرے مرحلے یعنی حساب و سوال کا ذکر ہے ۔ اس میدان میں سب سے پہلے رب ذوالجلال کی آمد ہوگی جس کی وجہ سے میدانِ حشر منور ہوجائے گا، پھر ہر ایک سے سوال وحساب کا سلسلہ شروع ہوگا ، جہاں اللہ تعالی ہر ایک کو اس کا نامہ اعمال سونپ دے گا ،۔نبی اور دیگر گواہ پیش ہوں ہونگے، پھر اس نامہ اعمال اور گواہوں کی بنیاد پر ہر ایک کا فیصلہ نہایت ہی عدل کے کیا جائے گا۔
o آیت نمبر 71 میں قیامت کے تیسرے اور آخری مرحلے (یعنی جزاء و سزا کےمرحلے ) کا ذکر تفصیل سے ہے ۔
o چنانچہ مجرموں کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف لے جانے اور اس وقت ان کی حسرت و افسوس کا ذکر ہے کہ انہیں مار دھکیل کر جانوروں کے ریوڑ کی طرح ہنکایا جائے گا، وہ اپنے منہ سے یہ اقرار کریں گےکہ حقیقت میں ہم خود ہی مجرم تھے۔
o اور دوسری طرف جنتیوں او ر متقین کو جنت کی طرف باعزت طریقے سے لے جانے کا ذکر ہے ، چنانچہ ان کی خوشی اور اپنے رب کی حمد و ثناء کے نغمے ہوں گے ، وہ کہہ رہے ہوں گے۔ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَنَا وَعْدَهُ وَأَوْرَثَنَا الْأَرْضَ نَتَبَوَّأُ مِنَ الْجَنَّةِ حَيْثُ نَشَاءُ فَنِعْمَ أَجْرُ الْعَامِلِينَ (74)” یہ کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ پورا کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنادیا کہ جنت میں جہاں چاہیں رہیں ، پس عمل کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے”۔
o سورت کا خاتمہ اس پیاری آیت پر ہوا ہے جس میں لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے نزول الہی کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔” وَتَرَى الْمَلَائِكَةَ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَقُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (75)” اور تو فرشتوں کواللہ کے عرش کے ارد گرد حلقہ باندھے ہوئے اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے ہوئے دیکھے گا ، اور ان میں انصاف کا فیصلہ کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ساری خوبی اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے”۔

سورت غافر
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح یہ سورت بھی عقیدے کی تصحیح پر مشتمل ہے ،توحید،رسالت اور آخرت پر زور دیا گیا ہے۔اس سورت کا اسلوب بڑا زور دار اور دھمکی آمیز ہے ۔
o ابتدائی چار آیتوں میں کتاب الہی کی اہمیت و فضیلت اور اللہ کی بعض صفات جلال و کمال کا ذکر ہے، جیسے 1- گناہوں کو معاف کرنے والا ہے، 2- توبہ قبول کرنے والا ہے، 3- ( توبہ سے منہ موڑنے والوں کے لئے) سخت عذاب والا بھی ہے ، 4- اور وہ بڑا صاحب فضل اور قوت والا ہے، 5- اکیلا عبادت کے لائق ہے۔
o ان صفات کے ذکر کے بعدشرک سے توبہ کی دعوت ہے، اورتوحید کو اپنانے پر ابھارا گیا ہے، اور خبر دار کیا گیا ہے کہ سب کو اللہ ہی کی طرف جانا ہے،اور جو لوگ کفر پر ہونے کے باوجود زمین پر دندناتے پھر رہے ہیں ان کے معاملےسے دھوکے میں نہ پڑیں۔
o آیت5اور 6میں اللہ کی زمین پر باطل طریقے سے دندنانے والوں کا انجام بیان ہوا ہے جو حق کو دبانے کی کوشش میں رہتے تھے اور کج بحثیوں کے ذریعے اسے نیچا دکھانا چاہتے تھے۔فَأَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ (5) وَكَذَلِكَ حَقَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّهُمْ أَصْحَابُ النَّارِ (6)” پس میں نے انہیں پکڑ لیا، سو میری طرف سے کیسی سزا ہوئی، اور اسی طرح آپ کے رب کا حکم کافروں پر ثابت ہوگیا کہ وہ دوزخی ہیں”۔
o آیت7تا9میں مقرب فرشتوں کے خاص گروہ کا ذکر خیر ہے،اور ان کے خاص کاموں کا ذکر ہے۔
1) ان فرشتوں کا ایک کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالی پر ایمان لاتے ہیں، اس کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہتے ہیں۔
2) ان کا دوسرا کام یہ بیان ہوا ہے کہ وہ فرشتے توبہ کرنے والے اہلِ ایمان اور سنت کے پیروکار ہیں کے لئےان الفاظ میں دعائیں کرتے ہیں کہ "اے اللہ انہیں معاف فرما،انہیں جہنم سے بچا لے،اے اللہ انہیں جنت میں داخل کر دے،اے اللہ جنت میں ان کے والدین اور اہل وعیال کو ان کا ساتھی بنا دے ، او راے اللہ انہیں برائیوں میں پڑنے سے محفوظ رکھ ۔
o آیت10تا20میں قیامت کی بعض ہولناکیوں اور اس دن مجرموں کی بد حالی کا ذکر ہے۔
o جب انہیں جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ خود اپنے اوپر سخت ناراض ہوں گے کہ ہم نے کوتاہی کیوں کی ؟اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ جب دنیا میں تم سے ایمان لانے کے لئے کہا جاتا اور تم اس سے منہ موڑتے تھے تواس وقت اللہ تعالی اس سے کہیں زیادہ تم سے ناراض ہوتا تھا جتنا جہنم میں جلتے ہوئے آج تمہیں اپنے آپ پر غصہ آرہا ہے،اس کے باوجود اس نے تمہیں مہلت دے رکھی تھی ۔
o جہنمی جہنم میں جلتے ہوئے نہایت عاجزی سے کہیں گے ہمیں یہ اعتراف ہے کہاللہ تعالی نے ہمیں دو زندگیاں اور دو دفعہ موت دی ۔ آج ہمیں یہ اعتراف ہے کہ شرک کا ارتکاب اور قیامت کا انکار کر کے ہم نے سخت غلطی کی ہے تو کیا آج کوئی گنجائش ہے کہ ہمارا عذر قبول کرکے ہمیں اس جہنم سے نکال دے؟۔
o اس کے جواب میں اللہ تعالی فرمائے گا کہ یہ جو کچھ تمہیں پیش آیا ہے وہ تمہاری ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب ہے، اس وقت تو جب تمہیں توحید کی دعوت دی جاتی تو دور بھاگتے اور جب شرک کی بات ہوتی تو اسے بڑی آسانی سے قبول کر لیتے تھے۔لہذا اب رب ذو الجلال کا فیصلہ یہی ہے کہ تم اسی حال میں رہو۔
o اس دن ہولناکی کی ایک کیفیت یہ ہوگی کہ مارے خوف کے دل حلق تک آ جائیں گے ،لوگ مارے غم کے رو رہے ہوں گے، اور سب سے بڑی مصیبت یہ ہو گی کہ اس دن ظالموں کا نہ کوئی حامی ہوگا اور نہ ان کے بارے میں کسی کی شفاعت قبول کی جائے گی۔
o درمیان میں قدرت کی نشانیوں اور رزق رسانی اور اس کا اصلی سبب بارش کا حوالہ دے کر توحید و اخلاص کی دعوت دی گئی ہے۔
o اسی مناسبت سے اللہ تعالی کی متعدد ایسی صفات کا ذکر ہے جو اس کی توحید اور عظمت کی واضح دلیل ہیں۔ جیسے:
1) "رَفِيعُ الدَّرَجَاتِ ” ( بلند درجوں والا، یا بلند درجات عطا کرنے والا)۔
2) "ذُو الْعَرْشِ ” عرش عظیم کا مالک۔
3) وحی نازل کرنے والا۔
4) آسمان و زمین کی کوئی چیزاس سے پوشیدہ نہیں رہتی۔
5) قیامت کے دن کا ایک اہم اعلان ۔کہ آج حکومت کس کی ہے؟ جب کسی طرف سے کوئی جواب نہ آئے گا تو اللہ تعالی خود ہی جواب میں فرمائے گا” لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ” ( فقط اللہ واحد وقہار کی حلومت ہے )۔
6) آنکھوں کی خیانت اور دلوں کے بھیدوں کی خبر رکھنے والا۔
7) ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ۔
o آیت 21- 22 میں اہل مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہیں چاہئے کہ عبرت کے لئے زمین میں گھوم وپھر کرکے دیکھو، جن قوموں کو توحید کی دعوت دی گئی اور ان لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی دعوت قبول نہ کی تو لازماً ان پر اللہ کا عذاب آیا اور جب اللہ کا عذاب آیا تو ان کے باطل معبود اور ان کی اپنی مادی قوت ان کے کسی کسی کام نہ آئی۔ لہذا اگر تم نے بھی رسول کی اطاعت نہ کی تو تمہارا بھی حشر یہی ہونے والا ہے۔
o آیت23تا50میں حضرت موسی علیہ السلام کا ذکرِ خیر ہے اور ان کے قصے کے بعض وہ پہلو بیان ہوئے ہیں جو کسی اور جگہ وارد نہیں ہوئے ہیں۔
o جیسے مومن آل فرعون کا واقعہ جو اس سورت کا بہت بڑا حصہ ہے اورآیت 27 تا 50 تقریبا اسی قصے پر مشتمل ہیں ۔
o فرعون کی قوم کا ایک شخص پوشیدہ طور پر مسلمان ہو جاتا ہے،اس نے جب دیکھا کہ فرعون موسی علیہ السلام کو قتل کرنا چاہتا ہے تو اپنا فرض ادا کرتے ہوئے اسے یہ کہہ کر روکنا چاہا کہ توحید کی دعوت دینا کوئی ایسا جرم نہیں ہے کہ تم اسے قتل کر دو،بلکہ اسے اس کے حا ل پر چھوڑ دو۔اگر وہ سچا ہے تو اس بات سے ڈرو کہ کہیں اس کا کہا سچ نہ ہو جائے اور تم پر عذاب نہ آجائے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو اللہ تعالی جھوٹوں کو کبھی کامیابی نہیں دیتا،اس کے جھوٹ کا وبال خود اس پر آئے گا۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ کی نعمتیں جو ملک پر اقتدار وغیرہ کی صورت میں حاصل تھیں ، یاد دلائیں اور محبت بھرے انداز میں پچھلی قوموں کی ہلاکت کو یاد دلاتے ہوئے نصیحت کرنے کےانداز میں کہاکہ کہیں تمہیں بھی وہ دن نہ دیکھنے پڑیں جو پچھلی قوموں کو دیکھنے پڑے ہیں۔ اسی طرح انہیں قیامت کا دن بھی یاد دلایا کہ جس دن کوئی کسی کو اللہ کے عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔ اس نے اپنی قوم کے سرداروں کو حضرت یوسف علیہ السلام کی یاد دلائی کہ جب اس سرزمین پر انہوں نے دعوت توحید پیش کی تو تمہارے باپ دادا اسی شک وتردد میں پڑے ہوئے تھے اور ان پرایمان نہ لائے اور جب ان کی وفات ہوگئی تو کہنے لگے کہ اب اللہ تعالی کسی اور رسول کو نہ بھیجے گا۔ لہذا اللہ کے لئے ہوش سے کام لو اور سیدھی راہ اختیار کرنے کی کوشش کرو۔
o اس کے جواب میں فرعون نے اس مرد مومن کی نصیحت کا اثر ختم کرنے کے لئے مذاق اڑانے کے انداز میں اپنے مجرم وزیر ہامان سے کہتا ہے کہ میرے لئے ایک بلند وبالا عمارت تو تعمیر کر ، تا کہ میں اوپرجاکر دیکھوں تو سہی کہ موسی جس رب کی باتیں کرتا ہے وہ کہاں رہتا ہے؟
o اس مرد مون نے جب دیکھا کہ قوم پر میری نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہےتو اس نےان سے اظہار لا تعلقی کیا اور اپنے ایمان کا اظہار کر دیا ، اور کھل کر قوم کو بھی توحید کی دعوت دینے لگا ۔
o اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اے میری قوم کے لوگو! اگر تم لوگ نجات چاہتے ہو تو میری بات مان لو ، یہ دنیا فانی ہے اور چند دن کا کھیل ہے ، اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔
o اے میری قوم کے لوگو! میں تمہیں راہِ نجات یعنی اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت کی طرف دعوت دے رہا ہوں اور تم مجھے شرک اور جہنم کی طرف بلا رہے ہو۔
o یہ بھی یاد رکھو کہ تم لوگ مجھے جس معبود کی طرف بلا رہے ہو وہ عبادت کے لائق نہیں ہے اور نہ ہی وہ دنیا وآخرت میں میرے کسی کام آسکتا ہے۔ یاد رکھو کہ ہم سب کو اللہ کی طرف پلٹ کرجانا ہے جہاں وہ ہر ایک کا حساب لے گا اور ظالموں کو آگ میں ڈھکیل دے گا۔
o میری قوم کے لوگو! عنقریب وہ وقت آئے گا کہ تمہارے سامنے میری صداقت واضح ہوجائے گی اور تم ندامت کا اظہار کروگے ، لیکن اس وقت ندامت کسی کام نہ آئے گی۔
o البتہ جہاں تک میری بات ہے تو میں اپنا سارا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور اسی سے مدد طلب کرتا ہوں ، وہ میرے معاملات سے اچھی طرح باخبر ہے، یقینا میری مدد کرے گا۔
o بالآخر جب قوم نے اس کے خلاف ہوکر اسے نقصان پہنچانا چاہا تو اللہ تعالی نے اس کی حفاظت کی اور فرعون اور اس کی قوم کو بد ترین عذاب میں مبتلا کردیا۔
o اس واقعے میں آپ دیکھیں تو اس بندہ مومن کی اپنی قوم کے لئے نرمی و ہمدردی بھی ملتی ہے اور انہیں دھمکی بھی دیتا ہے،قوم سے یکجہتی کا اظہار بھی ہےاوران سے لا تعلقی کا اعلان بھی۔ نیز اللہ کی رحمتوں کی امید بھی دلائی گئی ہےاور اس کے عذاب کا خوف بھی ۔خلاصہ یہ کہ یہ قصہ بڑا ہی باعث عبرت ہے۔
o آیت نمبر45 اور 46 سے علماء نے عذاب قبر پر استدلال کیا ہے ۔
o اس قصے کے آخر میں اللہ تعالی نے جہنم میں رہنماوں اور ان کی تابعداری کرنے والوں کے مباحثے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا منظر بھی پیش کیا ہے۔ شاید اس سے قوم فرعون کے سرداروں اور اندھے پجاریوں کی طرح ان کی پیروی کرنے والوں کی حالت زار کی طرف اشارہ ہے۔
o نیز یہ بیان بھی ہے جب تابع وپیروکار یہ محسوس کریں گے کہ اپنے رہنماوں سے لڑنے میں کوئی فائدہ نہیں تو جہنم کے داروغہ کے سامنے وہ اپنی یہ درخواست رکھیں گے کہ اپنے رب سے یہ گزارش کرو کہ ہمارا عذاب ہلکا کر دے تو انہیں جواب ملے گاکہ کیا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کوئی ڈرانے والا نہیں آیاتھا؟ اس وقت وہ اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے۔لہذا فرشتے کہیں گے کہ پھر تم خود ہی دعا کرو یعنی درخواست کرو حالانکہ کافروں کی کوئی درخواست قبول نہ کی جائے گی ۔
o آیت 51- 54 مذکورہ واقعات پر تبصرہ ہے کہ اللہ تعالی کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ اپنے رسولوں اور ان کے پیروکاروں ( مومن بندوں )کی ضرورمدد کرتا ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اسی کا ایک مظہر حضرت موسی علیہ السلام ، ان کی قوم اور اس مومن بندہ کو فرعون کے ظلم سے نجات دینا اور فرعون اور اس کی قوم کو تباہ کرنا ہے۔ اور دوسرا مظہر موسی علیہ السلام کو اور ان کی قوم کو کتابِ ہدایت دینا ہے جس میں ہدایت ونصیحت کا پورا سامان موجود ہے۔
o آیت55تا56میں کلام کا رخ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف ہے جن میں انہیں صبر کی دعوت دی گئی ہے، اللہ کے وعدے پر یقین رکھنے پر زور دیا گیاہے اور طاقتور و ظالم کے مقابلے میں اللہ کی پناہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مزید یہ کہ صبح و شام اللہ کے ذکر کرنے پر ابھارا گیا ہے ۔
o آیت 57 سے کلام کا رخ آخرت اور توحید کے دلائل پر ہے۔
o جو اللہ آسمان وزمیں جیسی عظیم مخلوقات کو پیدا کرسکتا ہے اس کے لئے انسان کا دوبارہ پیدا کرنا آسان ہے ۔
o اگر قیامت کا قائم ہونا نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ بینا ونا بینا ، نیک وبد اور ظالم ومظلوم سب برابر اور یہ دنیا اندھیر نگری ہے۔
o یاد رکھو! قیامت یقینا آئے گی جہاں بینا ونابینا اور نیک وبد کا فرق واضح ہوجائیگا۔
o آیت 60 میں کھل کر توحید کی دعوت اور اس سے اعراض پر جہنم کی دھمکی دی گئی ہے ۔
o آیت61تا68میں اس کائنات کی بعض نشانیوں(جیسے رات اور دن کی آمد و رفت) او رتخلیق پر اللہ کی قدرت کا حوالہ دے کر لوگوں کو توحیدِ عبادت کی دعوت ہے۔ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَأَنَّى تُؤْفَكُونَ (62) ” یہی اللہ ہے تم سب کا رب ہر چیز کا خالق اس کے سوا کوئی معبود نہیں پھر کہاں تم پھرے جاتے ہو”۔
o انسانوں پر اپنی متعدد( چار یا پانچ ) نعمتوں کا شمار کر کے انہیں عبادت میں اخلاص یا توحید خالص کی دعوت دی ہے۔ هُوَ الْحَيُّ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ فَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (65) ” وہ زندہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پس تم خالص اسی کی عبادت کرتے ہوئے اسے پکارو، تمام خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے”۔
o پھر انسانی تخلیق اور اس کے مراحل کا حوالہ دے کر آخرت پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔هُوَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ فَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ (68)” وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مار ڈالتا ہے، پھر جب وہ کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو اسے صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا، پو وہ ہوجاتا ہے”۔
o آیت69تا78میں جہنم میں کافروں کی بعض بد حالیوں کا ذکر ہے اور بڑے بلیغ اور دردناک انداز میں ان کے عذاب کا نقشہ کھینچا گیا ہے، جس سے اہل مکہ یعنی نبیﷺ کے مخالفین کو دھمکی آمیز لہجے میں ڈرایا گیا ہے۔ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِالْكِتَابِ وَبِمَا أَرْسَلْنَا بِهِ رُسُلَنَا فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ (70) إِذِ الْأَغْلَالُ فِي أَعْنَاقِهِمْ وَالسَّلَاسِلُ يُسْحَبُونَ (71) فِي الْحَمِيمِ ثُمَّ فِي النَّارِ يُسْجَرُونَ (72) ” جن لوگوں نے کتاب کو جھٹلایا اور اسے بھی جسے ہم نے اپنے رسولوں کے ساتھ بھیجا، پس انہیں ابھی ابھی حقیقت حال معلوم ہوجائے گی، جب کہ ان کی گردنوں میں طوق اور زنجیریں ہوں گی، (اسی حالت میں) وہ کھولتے پانی میں گھسیٹے جائیں گے اور پھر جہنم کی آگ میں جھونک دئے جائیں گے”۔
o پھر انہیں مزید ذلیل کرنے کے لئے ان کے باطل معبودوں کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ وہ کہاں ہیں اور تمہاری مدد کیوں نہیں کرتے ؟ اس وقت ان کے سامنے اپنی گمراہی کے اقرار کے علاوہ کوئی اور چارہ نہ ہوگا۔ جس پر اللہ تعالی کا یہ فیصلہ سنا دیا جائے گا کہ ” ذَلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُونَ (75) ادْخُلُوا أَبْوَابَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِينَ (76)”یہ بدلہ ہے اس چیز کا جو تم زمین میں ناحق پھولے نہ سماتے تھے اور بے جا اتراتے تھے، اب آؤ جہنم میں ہمیشہ کے لئے اس کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ کیا ہی بری جگہ ہے تکبر کرنے والوں کی۔
o نبی ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے صبر کی تلقین کی ہے کہ اولا- ان سے انتقام لینے کااللہ کا وعدہ سچا ہے، وہ دنیا میں دیر سویرکبھی بھی پورا ہوسکتا ہے اور اس میں کسی حکمت کے تحت کچھ تاخیر ہو سکتی ہے۔ البتہ یہ کافر اگر دنیوی سزا سے بچ بھی جائیں تو آخرت میں اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتے ۔
o ثانیا- ِح سغ عذاب اور معجزات کا مطالبہ، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، آپ سے پہلےجو بہت سے رسول گزرے ہیں ان سے بھی یہی مطالبات ہوچکے ہیں۔ لہذا انہیں سمجھنا چاہئے کہ عذاب لانا یا معجزات ظاہر کرنا کسی رسول کے اختیار میں نہیں ہے ، اور یہ بھی دھیان رکھنا چاہئے کہ جب اللہ کے وعدے پر عذاب آجاتا ہے تو اہل باطل خسارے ہی خسارے میں رہتے ہیں۔
o آیت78سے آخر سورت تک اہل مکہ سے خطاب کیا گیا ہے اور انہیں اس کائنات میں پائی جانے والی بعض نشانیوں جیسے چوپایوں کی پیدائش او ر ان چوپایوں میں نفع کے پہلؤں کو یاد دلا کر انہیں ایمان کی دعوت دی گئی ہے کہ یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کےانکار کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے ۔
o اور پھر ظالم قوموں کی ہلاکت کا حوالہ دیا گیا ہے کہ جب ان کے پاس ہمارا رسول آیا تو وہ اپنی مادی ترقی میں مگن تھے اور ہمارے رسول کا مذاق اڑانے لگے ، پھر جب اللہ کے عذاب کا کھلی آںکھوں سے مشاہدہ کر لیا تو ایمان لانے پر تیار ہو گئے، لیکن وہ وقت ایمان لانے کا نہیں تھا لہذا ان کا ایمان لانے کے لئے تیار ہونا ان کے کسی کا م نہ آسکا۔
o سورت کی ابتدا یعنی آیت نمبر 5-6 میں جو موضوع بیان ہوا تھا ،سورت کا خاتمہ بھی اسی موضوع پر آ کر ہوا "فَلَمْ يَكُ يَنْفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ (85) ” (مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان ان کے لئے کچھ نافع نہ ہوسکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر کردہ ضابطہ ہےجو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے، اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑ گئے)۔

سورت حم السجدہ یا فصلت
یہ سورت مکی ہے۔
مکی سورتوں کی طرح اس کا موضوع بھی عقیدہ ہے ۔ خاص کر عقیدہ توحید و رسالت ۔
o ابتدائی پانچ آیتوں میں قرآن مجید کی عظمت او ر اس کی خوبیاں بیان ہوئی ہیں ۔
1- قرآن اللہِ رحمان و رحیم کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
2- بڑی مفصل کتاب ہے۔ جس میں حق و باطل ،حلال وحرام اور اچھے اور برے کاموں کی وضاحت ہے۔
3- یہ قرآن عربی میں ہے او ر عربی جاننے والے لوگوں کے سامنے ہے۔
4- خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا ہے۔
o پھر اس کتاب سے متعلق کفار کے رویے کا ذکر ہےکہ یہ لوگ اس سے اعراض کرتے ہیں حتی کہ اسے سننا ہی نہیں چاہتے ، بلکہ کہتے ہیں کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں اور کانوں میں پردہ ہے اور ہمارے اور تمہارے درمیان حجاب حائل ہے۔ لہذا ہم اس پر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
o آیت5تا8میں نبی ﷺ کی نبوت کی حقیقت اور مقصد کا بیان ہے کہ آپ کوئی فرشتہ نہیں بلکہ ایک بشر ہیں اور آپ کی دعوت توحید ہے،نیز یہ دعوت اللہ تعالی کی طرف سے وحی کی بنیاد پرہے، لہذا اس سے منہ موڑنےکی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔
o اب تمہیں چاہئے کہ اس توحید کو قبول کرکےاستقامت اختیار کرو اور اپنی پرانی لغزشوں پر اللہ تعالی استغفار کرو۔
o جولوگ اس رسول پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے غیر معمولی اجر کا وعدہ ہے ، البتہ جو کفر کرے اس کے لئے آخرت میں تباہی ہی تباہی ہے ۔
o آیت9تا12میں کفار کو ڈانٹ ڈپٹ کی گئی ہے کہ تم اس رسول او راس کی رسالت کا انکار کر رہے ہو،حالانکہ وہ اس عظیم قدرت والےاللہ کی طرف دعوت دے رہا ہے جس نے چھ دنوں میں آسمان و زمین اور ان میں موجود ہر چیز کو پیدا کیا۔
o جس کی تفصیل یہ ہے کہ پوری زمین کی پیدائش دو دن میں ہوئی، پھر مزید دو دن میں پہاڑ بنائے ، انہیں گاڑا اور ان میں برکتیں رکھ دیں، نیز اس زمین میں انواع و اقسام کے رزق رکھے، پھر اس کے بعد باقی دو دنوں میں آسمانوں کی پیدائش عمل میں آئی ۔
o آیت نمبر13سے 18تک مکہ کے لوگوں کو دھمکی دی گئی کہ تم جلدی سے ایمان لے آؤ ورنہ تمہارا حشر عاد و ثمود سے اچھا نہ ہوگا۔
o اسی مناسبت سے قوم عاد و ثمود کے واقعے کا مختصر ذکر ہوا ہے۔ جس میں ایک طرف رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے والوں کی شدید ڈانٹ پلائی گئی ہے ، اور دوسری طرف یہ کہہ کر مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اللہ تعالی ان کی حفاظت کرنے والا ہے۔ وَنَجَّيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (18) ” اور ہاں ! جو لوگ ایمان لائے اور پارسا رہے انہیں بال بال بچا لیا”۔
o آیت19تا25میں مجرموں کے انجام بد او رحشر کے میدان میں ان کے جمع کئے جانے اور ان کی رسوائی کا بڑا خوفناک منظر بیان ہوا ہےکہ ان کے خلاف جب خود ان کے کان،آنکھیں او ران کی کھالیں گواہی دیں گی تو وہ ازراہ ِ تعجب اپنے اعضاء سےپوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟ تو ان کے اعضاء کا جواب ہوگا کہ جس خالق نے تمہیں گویائی دی تھی اسی نے آج ہمیں بھی بولنے کی طاقت عطا فرمائی ہے۔
o پھر خود ان کی چمڑیاں انہیں کس قدر عار دلائیں گی؟ وہ پڑھنے کے لائق ہے ۔ وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ وَلَكِنْ ظَنَنْتُمْ أَنَّ اللَّهَ لَا يَعْلَمُ كَثِيرًا مِمَّا تَعْمَلُونَ (22) وَذَلِكُمْ ظَنُّكُمُ الَّذِي ظَنَنْتُمْ بِرَبِّكُمْ أَرْدَاكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (23)” تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی، بلکہ تم نے تو یہ سمجھ رکھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو خبر نہیں ہے ، تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا، تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑ گئے۔
o آیت26تا29میں مکہ کے سرداروں کے اس موقف کا بیان ہے جو وہ عام لوگوں کوقرآن سننے سے روکنے کے لئے اختیار کرتے تھے کہ جب محمد(رسول اللہﷺ) قرآن پڑھنا شروع کریں تو شور کرو، تالیاں بجاؤ، سیٹیاں بجاؤ اور چیخ چیخ کر باتیں کرو تا قرآن کی آواز لوگوں پر اثر انداز نہ ہوپائے۔
o اس پر انہیں دردناک عذاب کی دھمکی دی گئی ہے اور ان کا ٹھکانا ابدی جہنم قرار دیا گیا ہے۔
o نیز آخرت میں بھی ان کا یہ حشر بیان ہوا ہے کہ ان کے پیروکار اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لئےاللہ تعالی سے التجا کریں گے کہ جن و انس میں سے جن لوگوں نے انہیں دنیا میں گمراہ کیا تھا اگر وہ ہمیں مل جائیں تو ہم انہیں پیروں تلے روند ڈالیں اور انہیں خوب رسوا کریں ۔
o آیت30تا32میں استقامت کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے اور استقامت کے عوض بندوں کو حاصل ہونےوالی چھ نعمتوں کا ذکر ہے۔
1) فرشتوں کا نازل ہونا۔ انہیں تسلی دینے ، ان کی مدد کرنے اور ان کی ڈھارس بندھانے لئے۔
2) اس دنیا میں خوف اور آخرت میں ہر قسم کے غم سے حفاظت۔
3) جنت کی خوشخبری۔ یہ خوشخبری موت کے وقت بھی ہو سکتی ہے اور قبر سے اٹھائے جانے کے بعد بھی۔
4) دنیا میں اور آخرت میں بھی ہر مقام پر فرشتوں کی معیت۔
5) جنت میں ہر وہ چیز میسر رہے گی جس کی ان کو خواہش ہوگی۔
6) گناہوں کی معافی اور اللہ کی طرف سے مزید مہربانی کا وعدہ ۔
o آیت33تا36میں نبی ﷺ اور صحابہ کو تسلی، دعوت الی اللہ کی فضیلت اور اس کے بعض اصولوں کا ذکر ہے۔
o فضیلت یہ کہ سب سے اچھی بات اور سب سے اچھا انسان وہ ہے جو دعوت الی اللہ کا فریضہ انجام دیتاہے۔
o البتہ ایسا بننے کے لئے تین باتوں کا اہتمام ضروری ہے۔ 1- وہ اپنے عمل میں مخلص ہو، 2- دعوت کے ساتھ عمل صالح کا پابند ہو، 3- اسے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو اور اس کا اعلان کرتا پھرے۔
o نیزبعض ان امور سے پرہیز کی تعلیم ہے جو دعوت کے کام میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
o دعوت کے کام میں رکاوٹ بسا اوقات انسان بنتے ہیں اور بسا اوقات شیطان ۔انسان سے نپٹنے کے لئے اچھے اخلاق سے پیش آنے او ربرائی کا بدلہ بھلائی سے دینے کا حکم ہے، مخاطب کی غلطیوں اور بے ہودگیوں سے چشم پوشی کی تعلیم ہے۔ لیکن اس کے لئے بڑے عزم اور صبر کی ضرورت ہے ۔
o جبکہ شیطان کی طرف سے پیش آمدہ رکاوٹیں جو عموماوسوسوں کی صورت میں ہوتی ہیں ، اس کا دفاع اللہ تعالی کی پناہ لینے سے ہو سکتا ہے ۔
o آیت37تا44میں بعض آفاقی اور محسوس دلائل کا ذکر ہے، جن کا مشاہدہ لوگ صبح وشام کرتے ہیں۔ اس سےمقصود توحید اور عقیدہ آخرت کا اثبات ہے ۔جیسے سورج و چاند ،رات اور دن یہ سب اللہ کی مخلوق اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں ، لہذا ان کی عبادت کی بجائے ان کے خالق کی عبادت ہونی چاہئے۔
o اسی طرح بنجر اورمردہ زمین کی مثال دی کہ تم دیکھتے ہو کہ زمین بالکل بنجر اور بے جان ہوتی ہے،لیکن بحکم الہی جب اس پر بارش برستی ہے تو دیکھتے ہی دیکھتےلہلہا اٹھتی ہے اور سبزہ ونباتات سے بھر جاتی ہے۔
o تو جو ذات بنجر زمین پر بارش برسا کر اسے زندگی بخش سکتی ہے، وہ مرکر تمہارے سڑ گل جانے والے جسموں کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔ إِنَّ الَّذِي أَحْيَاهَا لَمُحْيِ الْمَوْتَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (39)” بلا شبہہ جس نے اسے زندہ کیا وہ یقینی طور پر مردوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے، بے شک وہ ہر ہر چیز پر قادر ہے”۔
o آیت نمبر 40میں الحاد کی تردید ہے اور ملحدین کو سخت وعید سنائی گئی ہے اور انہیں مہلت دی جارہی ہے کہ حق قبول کرلیں اور اپنی کجروی سےتوبہ کرلیں۔اگر ایسا نہیں کیا تو انہیں تین دھمکیاں دی گئی ہیں۔
1) ان کی کوئی حرکت اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے، وہ جب چاہے گا انہیں دبوچ لے گا۔
2) ایسے تمام مجرموں کا ٹھکانا جہنم ہے۔
3) اس مہلت سے جو ناجائز فائدہ اٹھانا چاہو اٹھا لو ، اور سزا کے لئے تیار رہو۔ تفسیر القرآن از عبد السلام 4/96
o آیت41تا46میں نبی ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے، نیزقرآن کی حقانیت واضح کی گئی ہے کہ اگر کچھ لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہے ہیں تو یہ آپ میں یا اس کتاب میں کسی قسم کے نقص کی دلیل نہیں ہے، حقیقت یہ ہے کہ خود ان کا اپنا قصور ہے کہ قرآن سے مستفید نہیں ہو رہے ہیں ۔
o نیز آپ کے ساتھ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں ہے،آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ان کی قوموں نے ایسا ہی کیا ہے۔ لہذا آپ صبر سے کام لیں ، آپ کا رب آپ کو اپنی مغفرتوں سے نوازے گا اور ان ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
o پھر بطور مثال حضرت موسی علیہ السلام کا ذکر خیر آیا کہ آپ سے پہلے موسی علیہ السلام کو بھی اسی طرح کی کتاب دی گئی تھی ، اس کے ساتھ بھی مخالفین کا یہی سلوک رہا ہے۔
o لہذا آپ اطمینان رکھیں اور اپنے کام میں لگے رہیں،انہیں عذاب دینے کا ایک وقت متعین ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں