*چھٹا پارہ(لا یحب اللہ)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

*چھٹا پارہ(لا یحب اللہ)*

چھٹے پارے کے دو حصے ہیں؛پہلا حصہ سورہ نساء کی آیت148 تا176 پر مشتمل ہے،اور دوسرا حصہ سورہ المائدہ کی آیت1 تا 82پر مشتمل ہے۔
o اس پارے کی پہلی اور دوسری آیت میں اصلاح معاشرہ اور فساد کی روک تھام کے لئے ایک اہم اصول بیان ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص مظلوم ہو تو وہ ظالم کی برائی بیان کر سکتااوراس کی غیبت کر سکتا ہے۔لیکن اس بارے میں دو باتوں کا دھیان رکھنا ضروری ہے :
1)یہ عمل صرف جواز کی حد تک ہے۔
2)اور یہ جائز صرف اس حد تک ہے کہ جس سے ظالم ظلم کرنے سے رک جائے۔
لیکن بہتر یہی ہے کہ برا سلوک کرنے والے کو معاف کر دیا جائے اور اس کی طرف سے ہونے والی ایذا رسانی پر صبر کیا جائےگا ۔
o آیت 150 تا 152 میں یہود و نصاری کی ان بدسلوک ی او ربد عقیدگی پر تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ پر ایمان لانے کے دعوی کے باوجودوہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔ یا یہود حضرت عیسی علیہ السلام پر ایمان نہیں لاتے ۔
ان کے اس طرز عمل پر تنبیہ کی گئی ہے ۔اور اُن پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول ایمان یہ نہیں ہے کہ بندہ صرف اللہ پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر ایمان نہ لائے۔ یا بعض رسولوں کو تو مانے اور بعض کی نبوت و رسالت کا انکار کردے۔ یہ لوگ بھی بالکل ویسے ہی کافر ہیں جیسے وہ شخص کافر ہے جو نہ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی رسولوں پر۔
o آیت 153 سے 161 میں یہود کی بعض قبیح حرکتوں کا ذکر ہے۔ جیسے:
1- حضرت موسی علیہ السلام سے یہ سوال کرنا کہ ہمیں اللہ تعالی کو علانیہ دکھاؤ۔
2- بچھڑے کی پوجا کرنا۔
3- اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد کو توڑدینا۔
4- انبیاء علیہم السلام کو قتل کرنا۔
5- توریت پر عمل کا پختہ عہد کرکے توڑ دینا۔
6- ہفتے کی دن کی بے حرمتی کرنا ۔
7- موسی علیہ السلام کی تعلیم کے مقابلے میں یہ کہنا کہ”قلوبنا غلف”یعنی ہمارے دل غلاف میں محفوظ ہیں ، آپ کی باتوں کا ہم کوئِ اثر ہونے والا نہیں ہے۔
8- اور حضرت عیسی اور مریم علیہما السلام کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنا۔
9- لوگوں کا مال باطل طریقے سے ہڑپ لینا۔
10- اسی طرح ان کی سود خوری وغیرہ کا بیان اور ان پر رد بھی کیا گیا ہے۔
اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اُن کی اِن سب بد سلوکیوں کی وجہ سے وہ اللہ کی طرف سے ملعون قرار دئے گئے ۔
o آیت ۱۵۷، ۱۵۸ میں یہود ونصاری کے اس غلط عقیدے کی تردید ہے جو وہ یہ کہتے تھے کہ عیسی علیہ السلام قتل کر دئے گئے یا انہیں سولی دے دی گئی ہے۔
اللہ تعالی نے اس غلط عقیدے کی تردید بڑے زور دار اور تاکیدی انداز میں کی کہ حضرت مسیح کو نہ قتل کیا گیا اور نہ ہی انہیں سولی پر لٹکایا، بلکہ اللہ تعالی نے انہیں جسم وجان کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا ہے۔
o آیت 159 میں حضرت عیسی علیہ السلام کے قیامت سے پہلے اس دنیا میں دوبارہ آنے کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے واضح ہوتا ہے۔
o آیت 162 میں جماعت یہود کی عمومی تردید کے بعد ان کے بعض افراد کی خوبیوں کا بھی ذکر کیا گیا کہ ان میں جو لوگ تورات کی حقیقی تعلیم سے واقف ہیں وہ اس موجودہ نبی پر ایمان بھی لائے ہیں اور اعمال صالحہ جیسے نماز وزکاۃ کی پابندی بھی کر رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ بشارت ہے کہ اللہ تعالی ان کےاجر کو ضائع نہیں کرتا۔
o آیت 163 تا 166 میں انبیاء کی بعثت کی حقانیت اور ان کے مبعوث کیے جانے کی حکمت کا بیان ہے کہ اللہ تعالی نے انہیں خوشخبری دینے والا اورخبردار کےنے والا بنا کر اس لئے بھیجتا ہے تاکہ لوگوں پر حجت قائم ہو جائے۔
o نیز یہود کو تنبیہ ہے کہ ہر نبی کو وحی ورسالت اللہ تعالی ہی کی طرف سے ملتی ہے، لہذا اگر تم موسی علیہ اسلام کو نبی ورسول مانتے ہو تو محمدﷺ کو نبی ماننے میں کیا چیز مانع ہو سکتی ہے۔
o ایک درجن کے قریب رسولوں کےنام ذکر کرکے یہ بیان فرمایا کہ بہت سے ایسے رسول بھی ہیں جن کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ البتہ ہر رسول کا منہج اور اس کی بعثت کا سبب ایک رہا ہے۔ یعنی دعوت میں بشارت ونذارت یعنی خبردار کا پہلو اختیار کرنا اور لوگوں پر حجت قائم کرنا ۔ تاکہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میرے پاس تو کوئی خبر دار کرنے والا آیا ہی نہیں ۔
o آیت ۱۶۷ تا ۱۱۷۰ میں نبیِ کریمﷺ کی رسالت کے بارے کافروں خصوصا یہود کو دھمکی کے انداز میں متنبہ کیا جا رہا ہےکہ جو اس نبی پر ایمان نہ لائے گا وہ حقیقی ضلالت میں ہے، نہ انہیں جنت کا راستہ مل سکاتا ہے اور نہ ہی وہ اللہ کی مغفرت کے حقدار بن سکتے ہیں، بلکہ ان کا طریقہ کی طرف ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے داخ ہوں گے۔
o لہذا خیر اسی میں ہے کہ ایمان لے آو، ورنہ یاد رکھو کہ تمہارے کفر سے اللہ تعالی کو کوئی ضرر پہنطنے والا نہیں ہے۔
o آیت 171 سے 175 میں اہل کتاب خصوصا عیسائیوں کو دین کے معاملے میں غلو کرنے سے روکا گیا ہے ۔
o نیز حضرت عیسی علیہ السلام کی حقیقی صورت پیش کی گئی ہے کہ فی الواقع وہ اللہ کے رسول ،حضرت مریم کی طرف بھیجی گئی اللہ کے روح ہیں جنہیں اللہ تعالی کے کلمہ کن سے پیدا کیا ہے۔
o نیز ان کے عقیدہ تثلیث کی تردید کرتے ہوئے انہیں اللہ ، اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہوئےاللہ کی توحید کو اپنانے کی دعوت دی گئی ہے۔
o نہ ماننے کی صورت میں جہنم میں ڈھکیلے جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔
o اس کے بعد دنیا کے تمام لوگوں کو نبی آخرالزماں ﷺ اور قرآن پر ایمان لانے کی بھرپور طریقے سے دعوت دی گئی ہے ۔اور واضح کیا گیا کہ ہدیت کی راہ یہی ہے اور اس کے علاوہ سب کثھ ضلالت ہے۔
o اس سورت کی آخری آیت میں وراثت کا ایک مسئلہ جسے کلالہ کہا جاتا ہے اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔
یہاں کلالہ سے مراد وہ شخص ہے جس کے ورثاء میں اس کے سگے اور علاتی(صرف باپ کی طرف سے) بھائی ہوں ، ان کے درمیان وراثت کیسے تقسیم کی جائیگی گی؟ اس کا بیان ہے، اس خؒاصہ یہ ہے کہ اگر میت کلالہ ہے اور اس کی وارث صرف ایک بہن ہے تو اسے پورے ترکے کا آدھا ملےگا، دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو دو تہائی ملے گا، اور اگر میت عورت ہو اور اس کا وارث صرف ایک بھائی ہو تو وہ تمام ترکے واحد وارث ہوگا، اور اگر بہن بھائی ملے جلے ہوں تو ان میں سے مرد کو 2 حصے اور عورت کو ایک حصہ ملے گا۔تیسیر القرآن 1/494
o آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالی نے یہ سب تمہارے لئے اس لیے واضح کردیا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ ۔
اس سے معلوم ہوا کہ وراثت کو شرعی اصولوں کے مطابق تقسیم نہ کرنا سراسر گمراہی اور ضلالت ہے۔

سورت المائدہ
یہ سورت مدنی ، بلکہ مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی آخری سورتوں میں سےہے۔
اس سورت کا اکثر حصہ اسی چھٹے پارے میں ہے ۔
مضامین کے لحاظ سے اس سورت کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1- احکام ،جیسے عہد کی پابندی کرنا،شکار کرنا اور ذبیحہ کے احکام ومسائل،طہارت اور وضو کے احکام،چوری اور غارتگری سے متعلقہ حدود کا بیان اور فیصلے کرنے میں حکم الہی کا نفاذ وغیرہ۔
2- بعض اہم واقعات جیسے حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کا واقعہ ،اور حضرت موسی علیہ السلام اور ان کی قوم کا ارض مقدسہ کی طرف روانگی کا واقعہ ۔
3- عقائد کی اصلاح کا تذکرہ ، جیسے یہود و نصاری کے بعض عقائد، مثلا اللہ کی طرف اولاد کی نسبت کرنا،دین میں غلو کرنا اور مشرکین کے بعض عقائدِ فاسدہ کی اصلاح ۔جیسے جانوروں میں غیر اللہ کے نام کا حصہ ڈالنا وغیرہ۔ ان امورکی تردید۔
4- آخرت پر ایمان اور قیامت کی بعض ہولناکیوں کا ذکر۔
• اس سورت کی پہلی آیت گویا کہ پوری سورت میں موجود احکام کا خلاصہ ہے اور سورت کا باقی حصہ اسی اجمال کی تفصیل ہے ۔
• دوسری آیت سے لے کر سورت کے آخر تک ان چیزوں کی وضاحت و بیان ہے جو پہلی آیت میں اجمالی طور پر بیان ہوئی ہیں۔
o دوسری آیت میں خصوصی طور پر اللہ تعالی کے شعائر کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے۔
o اسی آیت میں ضمنا ایک جملہ استعمال ہوا جو ایک اسلامی ضابطے کی حیثیت رکھتا ہے،”وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ”یعنی ہر وہ کام جو نیکی کا ہو اور اللہ کے تقوی پر مشتمل ہو اس میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور ہر وہ کام جو گناہ اور زیادتی کا ہو اس پر تعاون نہ کرو۔
o 3/آیت میں حرام کھانوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ ،چنانچہ اس ضمن میں دس قسم کی چیزوں کو حرام کیا گیا ہے جو کھانے سے تعلق رکھتی ہیں:
1)مردار ۔ 2)خون ۔ 3)سور کا گوشت۔ 4)غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا جانور۔ 5)جو جانور گلا گھُٹنے کی وجہ سے مر جائے۔ 6)چوٹ لگنے کی وجہ سے مرنے والا جانور۔ 7) بلندی سے گر کر مرنے والا جانور ۔ 8)باہم لڑ کر (سینگ لگنے سے )مرنے والا جانور ۔ 9) ایسا جانور جسےدرندے نے شکار کیا ہو اور ذبح کرنے سے پہلے اس کی موت ہو جائے۔ 10) استھانوں پر ذبح کیاگیا جانور، مثال کے طور پر وہ جانور مزاروں اور درباروں پر ذبح کیا جاتا ہے۔
o آیت 4 میں حرام چیزوں کی تفصیل کے بعدحلال چیزوں کا ذکر ہے اور شکار کے بعض آداب بیان ہوئے۔
یہیں حلال کے سلسلے میں یہ قاعدہ دے دیا گیا کہ ہر پاکیزہ اور صاف ستھری چیز حلال ہے ۔،
شکار کے سلسلے میں یہ ہدایت دی گئی کہ جن جانوروں کو شکار کے لئے تم نےسدھایا ہے ، ان کا شکار کیا ہوا جانور دو شرطوں کے ساتھ تمہارے لئے حلال ہے ۔
1- اسے شکار کے لئے چھوڑتے وقت بسم اللہ پڑھا گیاہو۔
2- شکاری جانور شکار کرکے اپنے مالک کے لئے چھوڑ دے، یعنی خود اس میں سے نہ کھائے۔
o اہل کتاب کے ذبیحہ کی حلت اور ان کی عورتوں سے نکاح کے جواز کا بیان[المائدہ:5]۔
o آیت نمبر 6 میں وضو کا حکم ،او راس کا طریقہ بھی بیان کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ تیمم او راس کا طریقہ بیان ہوا ہے۔
o آیت 8تا 11 میں مسلمانوں کو ایمان،عدل او رعمل صالح اور اللہ کی ان نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جو قرآن اور عدل پر مبنی شرعی احکام کی صورت میں انہیں ملی ہیں۔
جس کی عملی صورت یہ ہے کہ مسلمان حق پر قائم رہیں،سچی گواہی دیں اور عدل کے دامن کو کسی صورت میں نہ چھوڑیں، معاملہ چاہے کسی اپنے کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ ۔
o آیت 12تا 19 میں کلام کا رخ اہل کتاب کی طرف پھیر دیا گیا ہے جس کا اصل مقصد ان کی بعض خرابیوں کا ذکر کرکے انہیں اپنی اصلاح اور اسلام کی دعوت دینا ہے، اورمسلمانوں کو ان کے برے طرز عمل سے آگاہ کرنا ہے۔
o چنانچہ آیت نمبر 12 میں اس چیز کا ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے اہلِ کتاب سے نماز قائم کرنے ،زکاۃ ادا کرنے اور رسولوں پر ایمان لانے وغیرہ کا جو پختہ عہد لیا تھا اسے انہوں نے کس طرح توڑ دیا اور پھر اس کے عوض اللہ نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا ،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے کلام الہی میں تحریف کرنی شروع کردی اور اللہ کتاب کے ایک بڑے حصے کو بھول گئے۔ یعنی اس پر عمل ترک کر دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ خیانت کے جرم کا بھی ارتکاب کرنے لگے۔
o پھر آیت 13تا 17 میں ہدف ملامت نصاری کو بنایا گیا ہے کہ کس طرح بد عہدی کی وجہ سے ان پر باہمی پھوٹ کی مصیبت آئی ۔ نیزاس کے ساتھ ساتھ ان کے باطل اور کفریہ عقائد ذکر کرتے ہوئے انہیں توبہ کرکے نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ان پر حجت تمام کر دینے کا ذکر ہے۔
o اسی ضمن میں نصاری کے اس گروہ پر صراحۃً کفر کا حکم لگایا جو حضرت عیسی علیہ السلام کی الوہیت یعنی ان کے معبود ہونے کے قائل تھے۔ان کے سامنے واضح کیا گیاکہ اگر وہ معبود ہوتے تو اپنے آپ کو اور اپنی والدہ کو ہلاکت سے بچا لیتے ۔
o آیت 20تا 26 میں حضرت موسی علیہ السلام کا مصر سے اپنی قوم کو لے کر فلسطین کی طرف روانہ ہونے کا واقعہ مذکور ہے۔اور یہ کہ ان کی قوم کے لوگوں نے ان کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا جس کے نتیجے میں وہ چالیس سال تک میدان تیہ میں بھٹکتے رہے ۔
o اس قصے میں ہمارے لئے بہت سی عبرتیں ہیں:
1) بزدلی انسان کیلئے زہر قاتل ہے، اور یہ اللہ تعالی پر عدم توکل کی دلیل ہے۔
2) حق گوئی اللہ کے پرہیز گار اور اس سے خوف کھانے والوں کا امتیازی وصف ہے۔
3)ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی پر توکل کرنا دشمن پر فتح یابی کا سبب ہے۔
4) اپنے نبی کی نافرمانی اس دنیا میں ذلت و رسوائی اور دشمن کے مقابلے میں ناکامی کا سبب ہے۔
5) جہاں برے اور فاسق و فاجر لوگوں کی کثرت ہو وہاں برائی کا خمیازہ برے لوگوں کے ساتھ ساتھ نیک لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے۔نبی کریم ﷺ نے جب ایک بار فتنے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا ذکر فرمایا تو حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ عنہانے پوچھا :اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہمارے درمیان نیک لوگوں کی موجودگی کے باوجود بھی ہم ہلاک کئے جائیں گے؟آپ نے فرمایا:«نَعَمْ إِذَا كَثُرَ الخَبَثُ»ہاں،جب فسق و فجور اور گناہوں کی کثرت ہو جائے گی۔ صحیح بخاری:3346، صحیح مسلم:2880 ۔
o آیت 27تا 31 میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کا قصہ بیان ہوا ہے ۔جس سے حسد کی قباحت کا اندازہ ہوتا ہے اور اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ قتل ناحق کس قدر قبیح فعل ہے کہ ایک انسان کا ناحق قتل گویا پوری انسانیت کو قتل کرنا ہے اور ایک انسان کی زندگی بچانا گویا پوری انسانیت کی زندگی بچانا ہے ۔
o آیت 33 میں دہشتگردی کی سزا کا حکم بیان ہوا ہے۔ اور ان سے متعلق چار سزائیں ذکر کی گئی ہیں او ر حاکم وقت کو ان چار میں سے کوئی بھی سزا دینے کا اختیار ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے کوئی سزا تجویز کی جائے۔جیسے اگر صرف قتل کیا تو انہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیا جائے،اور اگر قتل کے ساتھ ساتھ لوٹ مار بھی کرتے تھے تو سولی دے دی جائے،اور اگر صرف لوٹ بھی مار کی تو ہاتھ پاؤں کاٹ دئیے جائیں او راگر لوٹ مار اور قتل کے بغیر صرف دہشتگردی کی تو جلاوطن کر دیا جائے۔
o اسی ضمن میں آگے چل کر آیت 38 میں چور کی سزا بیان ہوئی ہے کہ چور مرد ہو یا عورت ان کے ہاتھ کو کاٹ دیا جائے۔
قتل دہشتگردی اور چوری کی سزا بیان کرتے ہوئے بار بار توبہ ۔شاید اس سے یہ بتانا مقصود ہو کہ تمہارے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور اگر تم سے یہ جرم ہو گیا ہے تو اس کا یہ معنی ہرگز نہیں ہے کہ اب تمہاری توبہ قبول نہیں ہوگی، یا اب تم توبہ اور اپنی اصلاح کے ذریعے اللہ کے محبوب نہیں بن سکتے ۔ ۔
o اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیاہے کہ صرف توبہ کافی نہیں، بلکہ توبہ کے ساتھ عملی طور پر اصلاح بھی ضروری ہے۔
o اسی لئے آیت ۳۴، ۳۵ میں مسلمانوں ان اعمالِ خیر کی دعوت دی گئی جو اسے اللہ کے قریب کریں ۔اور ان میں سے خصوصی طور پر دو کا ذکر کیا۔ ایک اللہ تعالی کا تقوی اور دوسرے جہاد فی سبیل اللہ۔
o پھر چونکہ قرآن مثانی ہے اس لئے آیت ۳۶، ۳۷ میں ایمان و تقوی کے بعدکفر وکافرین کی مذمت کی گئی اور یہ واضح کیاگیا کہ کافروں کا ٹھکانا جہنم ہے اور ان سے قیامت کے دن نہ تو کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی وہ نہ ہی وہ جہنم سے باہر آپائِں گے۔
o احکام الہیہ اور حدود شرعیہ کے بارے میں یہود کی بعض کوتاہیوں کا ذکر کرنے کےبعد آیت 41اور 42 میں آپﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ اپنے مشن پر گامزن رہیں اور اللہ کے احکام کو نافذ کرتے رہیں ، یہ آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔
o آیت 44سے 50 میں آسمانی کتابوں کے حوالے سے کچھ اہم باتیں کی گئی ہیں:
1) سب سے اہم بات یہ کہ تورات و انجیل وغیرہ گزشتہ کتابوں کے نزول کا مقصد ان پر عمل کرنا،لوگوں کو ان کی دعوت دینا اور لوگوں کو ان کا پابند بنانا ہے، آیت:44۔
2)ان کتابوں کے مطابق فیصلہ کرنا واجب اور ان سے اعراض کرناکفر،فسق اور ظلم ہے، آیت: 44، 45، 47۔
o پھر نبی ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم نے آپ کو بھی کتاب دی ہے او راس کتاب کی خوبی یہ ہےکہ یہ کتاب پچھلی تمام کتابوں پر حاکم اور نگران ہے۔
o لہذا اب اسی کے مطابق فیصلہ ہونا چاہئے۔ نیز لوگ خواہ کتنی ہی رکاوٹیں کیوں نہ ڈالیں آپ کو اس سے ہٹنے کی اجازت نہیں ہے۔ آیت:48، 49
o اور پھر مخالفین پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کیا یہ مشرکانہ نظام کے فیصلوں کی تلاش میں ہیں، حالانکہ یقین رکھنے والوں کے لئے اللہ کے فیصلے سے زیادہ کس کا فیصلہ بہتر ہو سکتا ہے؟آیت: 50۔
o اس پارے کے آخری چوتھائی حصے میں کلام کا اسلوب واعظانہ ، ترغیبانہ اور ڈرانے والا زیادہ ہے اور مسائل بہت کم ہیں۔
o چنانچہ آیت 51تا 59 میں مسلمانوں کو یہود و نصاری کے ساتھ دلی دوستی اور ان کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے روکا گیا ہے۔
o منافقین اور کمزور ایمان لوگوں کے اس زعم باطل کی تردید کی ہے کہ اگر ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا تو یہ ہمیں نقصان پہنچائیں گے۔
o بلکہ ایسےلوگوں کو دھمکی دی گئی ہے کہ ایسا کرنا ارتداد یعنی دین سے نکل جانے کا ہم معنی ہے۔ پھر جو شخص مرتد ہو جائے گا تو وہ یاد رکھے کہ اللہ تعالی اس سے بے نیاز ہے۔
o ایسے لوگوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالی اپنے دین پر عمل ،اس کی خدمت کرنے اور اس کی طرف سے دفاع کے لئے دوسرے لوگوں کو پیدا فرمادے گا۔
o مرتدین کے مقابلے میں جس قوم کو اللہ کھڑا کرے گا ان کی بعض نمایاں صفات کا بھی ذکر فرمایا ہے۔
1- اللہ سے محبت اور خود اللہ کا ان سے محبت کرنا۔
2- اہل ایمان کے لئے نرم اور کفار پر سخت گوشہ۔
3- اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
4- اللہ کے بارے میں کسی کی ملامت کی پرواہ نہ کرنا ۔
o اس ضمن میں منافقوں اور کافروں کی بعض علامات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ جیسے دین اور شعائر دین کا مذاق اڑانا۔
o ساتھ ہی ساتھ مومنوں کو اس قسم کے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھنے اور ان کے ساتھ دوستی جتانےسے روکا گیا ہے ۔
o آیت نمبر 57 وہ واحد آیت ہے جس میں پنج وقتہ نماز کیلئے اذان کا ذکر ہے۔قرآن مجید کی کسی دوسری آیت میں اس کا ذکر نہیں ہے۔
o آیت 61سے 74 تک یہود و نصاری کی خاص خاص برائیوں پر توجہ دلائی گئی ہے ۔
o چنانچہ سب سے پہلے تو ان کے زعم باطل کی تردید کی گئی کہ ہم اللہ کے محبوب اور چہیتے ہیں ۔
o ان سےکہا گیا کہ کیا تم نے اپنی تاریخ پر نظر نہیں ڈالی کہ اللہ تعالی نے تمہیں وہ سزائیں دیں جو تمہارے علاوہ کسی اور کو نہیں دی گئیں۔ جیسے بعض کو بندر اور کچھ خنزیر بنا دیا ۔اگر تم اللہ کے چہیتے ہوتے تو یہ سزائیں تمہیں نہ ملتیں۔
o پھر اس کے بعد ان کے حد سے تجاوز کرنے،گناہوں اور نافرمانیوں میں پیش پیش رہنے اور حرام کھانے کا ذکر کرتے ہوئے۔
o نیزان کے علماء پر بھی تنقید کی گئی جو حرام کھانے والوں اور سودخوروں کو نہیں روکتے تھے۔
o اور پھر یہود کی اس خباثت اور گناہ پر دلیری کا ذکر آیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کو بخیل تک کہہ دیا اور اس کی طرف فقر کی نسبت کی۔جس کے عوض اللہ تعالی نے ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف بغض و عداوت ڈال دی اور وہ باہمی لڑائی اور فساد کا شکار ہوئے۔
o اسی دوران مسلمانوں کوان کے حقیر سمجھنے ، مسلمانوں کا مذاق اڑانے او رغیر قوموں کے ساتھ دلی لگاؤ رکھنے کا بھی ذکر ہے۔
o نصاری کے شرک و کفر پر ان کو متنبہ کیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ تم عیسی علیہ السلام کو الہ مان کر شرک کے مرتکب ہو رہے ہو حالانکہ عیسی (علیہالسلام ) کی دعوت میں شر ک کی تردید بنیادی چیز رہی ہے۔
o نصاری کے عقیدہ تثلیث (تین ہستیوں کو معبود بنانا) کی تردید۔اس سے باز رہنے کی دعوت ہے۔ ورنہ انہیں ایک دردناک عذاب کے لئے تیار رہنا چاہئے ۔ آیت:73
o جگہ جگہ نصاری کو توبہ و استغفار اور غلو سے پرہیز کی دعوت بھی دی گئی ہے ۔
o اہل کتاب کو دین میں غلو اور غیر قوموں کی مشابہت میں خواہش پرستی سے روکا گیا ہے۔ اور اس کے ذریعہ مسلمانوں کو یہ تنبیہ کہ اللہ کی راہ سے بھٹکی ہوئی قوموں کی پیروی سے پر ہیز کریں۔
o آخر میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ چھوڑنے ،گناہوں کا ارتکاب کرنے اور دین کے معاملے میں حد سے تجاوز کرنے پر یہود کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اور واضح کیا گیا کہ یہی وہ چیز ہے جوان کے لیے نبیوں کی زبان پر لعنت کا سبب بنی۔آیت:78، 79
o پھر اہل کتاب کو اس بات پر تنبیہ کی گئی کہ ایک طرف تو تمہارا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کا دعوی ہے او ر دوسری طرف تمہاری دوستی اور ہمدردی کافروں کے ساتھ ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ اوراس کے پیغمبر کے ساتھ محبت اور کتاب پر ایمان لانے کا دعوی بھی ہو اور پھر اللہ کے دشمنوں اور باغیوں کے ساتھ محبت اور دوستی بھی ہو۔
اس سے شاید امت مسلمہ کو یہ سبق دینا مقصود ہو کہ اہل کتاب کی کجروی اور گمراہی ہی نتیجہ تھی، ان کے غلط قسم کے ماحول اور کفار کے ساتھ دوستی کرنے کا جس نے انہیں تباہی کے گڑھے میں دھکیل دیا۔ معارف القرآن 3/213
o اس پارے کی آخری آیت میں اس بات کو واضح کیاگیا کہ مسلمانوں کے ساتھ سب سے زیادہ عداوت رکھنے والے یہودی اور پھر مشرکین ہیں ،اور مسلمانوں کے سب سے زیادہ قریب نصاری ہیں۔ اور اس کی کئی ایک وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
1) ان میں زاہد اور دنیا سے بے رغبت لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔
2) ان میں کبر غرور نہیں ہے۔
3) ان میں علماء کا ایک گروہ موجود ہے ۔
4) ان میں حق پرست اور آخرت کے طلب گار لوگ بھی موجود ہیں۔
وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ (83)” اور جب وه رسول کی طرف نازل کرده (کلام) کو سنتے ہیں تو آپ ان کی آنکھیں آنسو سے بہتی ہوئی دیکھتے ہیں اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا، وه کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے پس تو ہم کو بھی ان لوگوں کے ساتھ لکھ لے جو تصدیق کرتے ہیں”۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

[1] — یاد رہے کہ یہ بات اس مقام پر شاید اس لئے کی گئی ہے کہ پچھلی آیات میں اور آگے بھی منافقوں اور یہودیوں کی مذمت کی جا  رہی ہے۔ یہ اس لئے کہ کوئی یہ کہہ سکتا  ہے کہ اسلام تو غیبت او ربرائی کے اظہار سے منع کرتا ہے، تو پھر ان کی برائیاں علی الاعلان کیوں کی جارہی ہیں؟  تو اس کا جواب یہ دیا گیا  کہ  اس سے مقصد لوگوں پر ظالم کے ظلم کو واضح کرنا ہے۔ تفسیرابن کثیر

[1] ﵟإِنَّ ٱلَّذِينَ يَكۡفُرُونَ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيُرِيدُونَ أَن يُفَرِّقُواْ بَيۡنَ ٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ وَيَقُولُونَ نُؤۡمِنُ بِبَعۡضٍ وَنَكۡفُرُ بِبَعۡضٍ وَيُرِيدُونَ أَن يَتَّخِذُواْ بَيۡنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا (١٥٠) أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ حَقّاًۚ وَأَعۡتَدۡنَا لِلۡكَٰفِرِينَ عَذَاباً مُّهِيناً (١٥١)” جو لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کے پیغمبروں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق رکھیں اور جو لوگ کہتے ہیں کہ بعض نبیوں پر تو ہمارا ایمان ہے اور بعض پر نہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کے اور اس کے بین بین کوئی راه نکالیں۔یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں، اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے۔

اگران دونوں آیتوں پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ یعنی قرآن اور حدیث کے مابین حجت کے لحاظ سے فرق کرنا ناقابل قبول عمل ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوتی ہے  کہ بعض حدیثوں  کو مان لینا اور بعض پر تنقید کرنا صحیح منہج باکل خلاف ہے۔  

[1] وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا (159)” اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ ﻻچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے”۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت  اس قدر ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا‏» ”اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔“         صحيح البخاري:3448، صحيح مسلم:155

[1] — علماء کہتے ہیں کہ حقیقی اور گہرا علم  بندے کے اندر پختہ ایمان  کا سبب بنتا ہے اور پختہ ایمان  اسے عمل کا پابند بناتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔

[1] – حدیث نبوی ہے: کوئی ایسا نہیں ہےجو اللہ تعالی سے بڑھ کر معذرت کرنا پسند کرتا ہو ، اسی بنا پر اس نے کتابیں نازل  فرمائی اور رسولوں کو بھیجا۔ صحیح مسلم:2760

[1] يَاأَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا (174) اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے۔

[1] — اس سورت کی اہمیت۔

یہ  سورت کس قدر اہمیت والی ہے اس کا اندازہ ہم مندرجہ ذیل باتوں سے لگا سکتے ہیں:

  • مدینہ میں نازل ہونے والی آخری سورتوں میں سے ہے۔
  • اس سورت کی تما م آیات و احکام محکم ہیں، اس میں منسوخ احکام نہیں ہیں۔
  • اس سورت میں حلال و حرام سے متعلق تقریبا بیس ایسے مسائل بیان ہو ئے ہیں جن کا ذکر قرآن کی کسی دوسری سورت میں نہیں ہے۔ اسی سے علماء اسے سورۃ الحلال والحرام بھی کہا ہے۔
  • قرآن میں یایھا الذین آمنوا کے الفاظ سے مسلمانوں کو تقریبا 88 مرتبہ خطاب کیا گیا ہے اور ان میں سے سولہ یا سترہ مرتبہ صرف اسی ایک سورت میں موجود ہے۔
  • اس سورت میں وہ آیت ہے جسے نازل کرکے اللہ تعالی نے دین کی تکمیل کا اعلان فرمادیا،”الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا” ۔ صفوۃ التفاسیر
  • [1] — پہلی آیت میں پانچ امور بیان ہوئے ہیں،اے ایمان والو! 1- معاہدات کو پورا کرو،                        2- تمہارے لئے مویشی قسم کے سب جانور حلال ہیں،          3- سوائے ان جانوروں کے جن کا حکم تم کو آگے بیان کیا جائے گا،                   4-  حالت احرام میں شکار نہ کرنا،             5- اللہ وہی حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے۔

[1] — "شعائر ”  وہ چیزیں ہوتی ہیں جو کسی مذہب ، یا نظام کی  پہچان ہوتی ہیں، اس طرح اسلام کی شعائر وہ چیزیں ہیں جن سے اسلام اور مسلمانوں کی پہچان ہوسکے، جیسے نماز، اذان ،داڑھی ، عورت کا پردہ وغیرہ۔ یہاں خصوصی طور پر حرمت والے مہینے، ھدی وقربانی کے جانور اور مناسک حج  یعنی حج کے احکام وطریقے،وغیرہ مراد ہیں۔

[1] — کھانے پینے کی تمام اشیاء دو شرطوں کے ساتھ حلال ہیں، 1- وہ پاکیزہ اور صاف ستھری ہوں۔ سڑی ہوئی اور بدبو دار نہ ہوں۔ 2- اس کے متعلق شریعت میں یہ صراحت نہ ہو کہ وہ حرام ہے۔ تیسیر القرآن 1/502

[1] — بنی اسرائیل کے مورثِ اعلی  حضرت یعقوب علیہ السلام کا مسکن بیت المقدس تھا ، لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کےامارتِ مصر کے زمانے میں یہ لوگ  مصر جاکر آباد ہو گئےتھے۔ اور پھر تب سے اس وقت تک مصر ہی میں رہے، جب تک کہ حضرت موسی علیہ السلام انہیں راتوں رات فرعون سے چھپ کر مصر نکال نہیں لے گئے۔  اس وقت بیت المقدس پر عمالقہ کی حکمرانی تھی جو ایک بہادر قوم تھی۔ جب حضرت موسی علیہ السلام نے پھر بیت المقدس جا کر آباد  ہونے کا عزم کیا  تو اس کے لئے وہاں قابض عمالقہ سے جہاد ضروری تھا۔ چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس ارضِ مقدسہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور نصرت الہی کی بشارت بھی سنائی ۔ لیکن اس کے با وجود بنو اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر امادہ نہیں ہوئے۔ موسی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا کہ اللہ تعالی نے تم سے فتح ونصرت کا وعدہ کیا ہے، لہذا جہاد سے اعراض مت کرو۔ لیکن بنو اسرائیل عمالقہ کی بہادری کی شہرت سے مرعوب ہوگئے  اور اللہ کے رسول کے حکم کی پرواہ مکئے بغیر  وہاں جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس وقت موسی علیہ السلام کے ساتھ کچھ سچے ایمان والے لوگ بھی موجود تھے، ان میں خصوصا دو بزرگوں  نے قوم کو ہمت کرنے اور اللہ پر توکل کرکے جہاد پر امادہ کرنا چاہا ، لیکن قوم کے لوگ ایک نہ مانے۔ بلکہ اس قدر بدتمیزی پر اتر آئے کہ موسی علیہ السلام سے کہنے لگےکہ   ﵟيَٰمُوسَىٰٓ إِنَّا لَن نَّدۡخُلَهَآ أَبَداً مَّا دَامُواْ فِيهَا فَٱذۡهَبۡ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَٰتِلَآ إِنَّا هَٰهُنَا قَٰعِدُونَ (٢٤)” اے موسی!  جب تک وہ وہاں ہیں تب تک ہم ہرگز وہاں نہ جائیں گے، اس لئےتم اور تمہارا رب  جا کر لڑبھڑ لو، ہم یہیں بیٹھے ہوئے ہیں” ۔ موسی عیہ السلام  نے قوم کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالی سے یہ کہنے لگے: الہی! مجھے تو بجز اپنے اور اپنے بھائی کے کسی اور پر اختیار نہیں ہے، پس ہم میں اور اس نا فرمان قوم میں جدائی کر دے۔ تفسیر احسن البیان

بنی اسرائیل کی اس  بزدلی، نبی کے ساتھ اس سوء ادب اور تمرد وسرکشی کے عوض ان کو یہ سزا دی کہ اب اسی میدان میں وہ چالیس سرگرداں اوربھٹکتے رہیں گے  لیکن  انہیں بیت المقدس کا راستہ نہ مل سکا۔  جزیرہ سینا کا یہی میدان تیہ کہلاتا ہے جہاں بنی اسرائیل سالوں تک بھٹکتے رہے ہیں۔

[1] — جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام   کے دو بیٹے ہابیل وقابیل کا کسی معاملے میں باہم اختلاف ہوا  ،جس کی  وجہ یہ تھی کہ ابتدا میں   حضرت آدم وحوا کے ملاپ سے بیک وقت لڑکا  اور لڑکی پیدا ہوتی،دوسرے حمل سے پھر لڑکا  اور لڑکی ہوتی،ایک حمل کے  بہن بھائی کا نکاح   دوسرے  حمل کے بہن بھائی سے کردیا جاتا۔ ہوا یہ کہ ہابیل  کے ساتھ  پیدا ہونے والی بہن بدصورت تھی جب کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی بہن خوبصورت تھی،اس وقت کے اصول  کے مطابق   ہابیل کا نکاح  قابیل   کی بہن  کے ساتھ اور قابیل   کا نکاح ہابیل  کی بہن کے  ساتھ ہونا تھا، لیکن قابیل چاہتا تھا کہ وہ  ہابیل کی بہن کے بجائے  اپنی ہی  بہن کے ساتھ  جو خوبصورت   تھی نکاح  کرے۔حضرت آدم نے سمجھایا لیکن وہ نہ سمجھا،بالآخر  حضرت آدم علیہالسلام  نے دونوں  کو بارگاہ الہی   میں  اپنی اپنی  قربانیاں پیش کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جس کی قربانی اللہ کے نزدیک  قبول  ہوجائے گی قابیل کی بہن کا نکاح اس کے  ساتھ کردیاجائےگا ،ہابیل  کی قربانی   قبول کرلی گئی یعنی آسمان  سے آگ  آئی  اور اسے کھا گئی جو  اس کے  قبول کی دلیل تھی ،ہابیل کی قربانی قبول  ہونے پر قابیل حسد کا  شکار ہوا اور اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔                                      دیکھئے تفسیر احسن البیان سورۃالمائدۃ  کی تفسیر

[1] —ﵟمِنۡ أَجۡلِ ذَٰلِكَ كَتَبۡنَا عَلَىٰ بَنِيٓ إِسۡرَٰٓءِيلَ أَنَّهُۥ مَن قَتَلَ نَفۡسَۢا بِغَيۡرِ نَفۡسٍ أَوۡ فَسَادٍ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ ٱلنَّاسَ جَمِيعاً وَمَنۡ أَحۡيَاهَا فَكَأَنَّمَآ أَحۡيَا ٱلنَّاسَ جَمِيعاًۚ وَلَقَدۡ جَآءَتۡهُمۡ رُسُلُنَا بِٱلۡبَيِّنَٰتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيراً مِّنۡهُم بَعۡدَ ذَٰلِكَ فِي ٱلۡأَرۡضِ لَمُسۡرِفُونَ (٣٢)”

اس آیت کی تفسیر میں نبیِ کریمﷺ نے فرمایا:اس دنیا میں جو قتل بھی ظلما ہوتا ہے ، قاتل کے ساتھ  اس کے ناحق خون کا گناہ آدم کے  اس پہلے بیٹَے پر بھی ہوتا ہے ، کیونکہ یہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا کام کیا۔  صحیح بخاری:3335، صحیح مسلم: ۱۶۷۷ برایت  ابن مسعود

[1] –چنانچہ دہشتگردی  کی سزا کے ذکر کے بعد فرمایا: إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (34) "ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم واﻻ ہے”۔

اور چوری کی سزا کے ذکر کے بعد فرمایا: فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (39)” جو شخص اپنے گناه کے بعد توبہ کرلے اور اصلاح کرلے تو اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اس کی طرف لوٹتا ہے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف فرمانے واﻻ مہربانی کرنے واﻻ ہے”۔

[1] –شاید اس سے یہود کے اس دعوے کی تردید ہے کہ ہم اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں ۔ جیسا کہ اس سے قبل اس کا ذکر آچکا ہے۔

[1] — ﵟسَمَّٰعُونَ لِلۡكَذِبِ أَكَّٰلُونَ لِلسُّحۡتِۚ فَإِن جَآءُوكَ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُمۡ أَوۡ أَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡۖ وَإِن تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيۡـًٔاۖ وَإِنۡ حَكَمۡتَ فَٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِٱلۡقِسۡطِۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلۡمُقۡسِطِينَ (٤٢)” یہ کان لگا لگا کر جھوٹ کے سننے والے اور جی بھر بھر کر حرام کے کھانے والے ہیں، اگر یہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے خواه ان کے آپس کا فیصلہ کرو خواه ان کو ٹال دو، اگر تم ان سے منھ بھی پھیرو گے تو بھی یہ تم کو ہرگز کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتے، اور اگر تم فیصلہ کرو تو ان میں عدل وانصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، یقیناً عدل والوں کے ساتھ اللہ محبت رکھتا ہے”۔

اس آیت کی روشنی میں  دو باتیں قابل غور ہیں:

1) مسلمانوں کے پاس اگر فیصلہ غیر مسلموں کا آئے تو ان کے بارے میں بھی عدل و انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے گا ، ایسے موقعوں پران کی شریعت کو نہیں دیکھا جائے گا۔

2) اگر عالم اور مفتی کو محسوس ہو جائے کہ سائل کا مقصد  صرف  جانچنا اور پرکھنا ہے تو ایسے شخص کو فتوی دینا ضروری نہیں ہے۔

 

[1] —ﵟوَأَنِ ٱحۡكُم بَيۡنَهُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعۡ أَهۡوَآءَهُمۡ وَٱحۡذَرۡهُمۡ أَن يَفۡتِنُوكَ عَنۢ بَعۡضِ مَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ إِلَيۡكَۖ فَإِن تَوَلَّوۡاْ فَٱعۡلَمۡ أَنَّمَا يُرِيدُ ٱللَّهُ أَن يُصِيبَهُم بِبَعۡضِ ذُنُوبِهِمۡۗ وَإِنَّ كَثِيراً مِّنَ ٱلنَّاسِ لَفَٰسِقُونَ (٤٩) أَفَحُكۡمَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ يَبۡغُونَۚ وَمَنۡ أَحۡسَنُ مِنَ ٱللَّهِ حُكۡماً لِّقَوۡمٍ يُوقِنُونَ (٥٠)” آپ ان کے معاملات میں خدا کی نازل کرده وحی کے مطابق ہی حکم کیا کیجیئے، ان کی خواہشوں کی تابعداری نہ کیجیئے اور ان سے ہوشیار رہیئے کہ کہیں یہ آپ کو اللہ کے اتارے ہوئے کسی حکم سے ادھر ادھر نہ کریں، اگر یہ لوگ منھ پھیر لیں تو یقین کریں کہ اللہ کا اراده یہی ہے کہ انہیں ان کے بعض گناہوں کی سزا دے ہی ڈالے اور اکثر لوگ نا فرمان ہی ہوتے ہیں۔کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے واﻻ کون ہوسکتا ہے؟”۔

یہ دونوں آیتیں اپنی جگہ بہت ہی معنی خِیز ہیں، اور عصر حاضر میں مسلمان ذمہ داروں کے لئے کئی ایک پیغام ہیں۔ ﵞ

  • باطل پرستوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ مسلمانوں کو احکام ِشرع سےبروکتے رہیں۔ لہذا ایک مسلمان کو اس برے میں چوکنا رہنا چاہئے۔
  • حکمِ رسول سے اعراض دنیوی مصائب کا سبب ہے۔
  • قرآن و حدیث کے خلاف جو بھی حکم ہو وہ جاہلیت کا نظام ہے۔
  • اگر لوگوں میں یقین وایمان ہو تو وہ یہ بات آسانی سےسمجھ سکتے ہیں کہ اللہ سے بہتر فیصلہ کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔

[1] — گویا ان آیات میں ہمیں یہ سبق ہے کہ جو اللہ کے دین کا حامی بننا چاہتا ہے اسے اپنے اندر ان صفات کو ٹٹولنا چاہئے۔

[1] –یہاں یہود کی جن خاص علامتوں کا ذکر ہے  وہ درجِ ذیل ہیں۔

1- مسلمانوں کو حقیر سمجھنا۔     2- دین کے بارے میں غلو سے کام لینا۔     3- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کا ترک۔   4- غیر قوموں سے موالات رکھنا۔          5- اعتداء یعنی حد سے تجاوز کرنا۔                        6- گناہ اور برائی کے کاموں میں پیش پیش ہونا۔     7- حرام خوری کرنا۔            8- ان کے علماء کا انہیں برائیوں سے نہ روکنا۔    9- اللہ تعالی    بخل اور فقر  کی نسبت کرنا اور اس طرح ایک گھناونہ قسم کی  بد تمیزی سے پیش آنا۔

[1] — وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ (58)” اور جب تم نماز کے لئے پکارتے ہو تو وہ اسے ہنسی کھیل ٹھرا لیتے ہیں۔ یہ اس واسطے کہ بےعقل ہیں”۔یعنی جب تم اذان دے کر لوگوں کو نماز کی طرف  جو اربابِ دانش وعلم کے نزدیک افضل عمل ہے بلاتے ہو  تو یہ بد بخت  اذان کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور اسے کھیل سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ اللہ کی عبادت کے معنی اور احکامِ شرعیہ کا مفہوم نہیں سمجھنے سے بے بہرہ ہیں۔ تفسیر ابنِ کثیر

[1] وَتَرَى كَثِيرًا مِنْهُمْ يُسَارِعُونَ فِي الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (62)” آپ دیکھیں گے کہ ان میں سے اکثر گناه کے کاموں کی طرف اور ﻇلم وزیادتی کی طرف اور مال حرام کھانے کی طرف لپک رہے ہیں، جو کچھ یہ کر رہے ہیں وه نہایت برے کام ہیں”۔

[1] — لَوْلَا يَنْهَاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْإِثْمَ وَأَكْلِهِمُ السُّحْتَ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَصْنَعُونَ (63)” انہیں ان کے عابد وعالم جھوٹ باتوں کے کہنے اور حرام چیزوں کے کھانے سے کیوں نہیں روکتے، بےشک برا کام ہے جو یہ کر رہے ہیں”۔

اس امت کے علماء کے لئے یہ آیت بڑی ہی باعثِ عبرت ہے کہ عوام کی اکثریت ان کے سامنے فسق وفجور کا ارتکاب کرتی اور حرام خوری کا جرم کرتی ہے لیکن وہ انہیں منع نہیں کرتے۔ ایسی حالت میں ان کی خاموشی بھی بہت بڑا جرم ہے۔سچ فرمایا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ان کے لئےقرآن میں اس سے  سخت وعید وارد نہیں ہے۔ ابن کثیر

[1] — لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَابَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (72)بے شک وه لوگ کافر ہوگئے جن کا قول ہے کہ مسیح ابن مریم ہی اللہ ہے حاﻻنکہ خود مسیح نے ان سے کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل! اللہ ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے، یقین مانو کہ جو شخص اللہ کے ساتھ شریک کرتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے، اس کا ٹھکانہ جہنم ہی ہے اور گنہگاروں کی مدد کرنے واﻻ کوئی نہیں ہوگا”۔

[1] —مسیحیت میں "تثلیث” کا نظریہ بنیادی عقیدہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ خدا تین "اقانیم”  کا مجموعہ ہے، جو خدا (باپ)، مسیح (بیٹا اور روح القدس پر مشتمل ہے۔ یہ تینوں الگ الگ ہیں مگر ایک دوسرے سے جدا بھی نہیں، باپ خدا ہے، بیٹا خدا ہے اور روح القدس بھی خدا ہے، مگر یہ تین نہیں، بلکہ ایک خدا ہے۔ جب کہ اسلام میں اس عقیدہ کو قرآن و حدیث میں شرک قرار دیا گيا ہے۔ اسلام کے مطابق خدا صرف ایک ہی ہے، جو اللہ ہے، اس کا کوئی بیٹا یا بیوی نہیں، نہ ہی اس کی کوئی روح ہے۔  انسائیکلوپیڈیا آف اسلام

[1]  أَفَلَا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (74)” یہ لوگ کیوں اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں جھکتے اور کیوں استغفار نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہے”۔