کاش یہ قبر میری ہوتی/ حديث نمبر: 327

بسم اللہ الرحمن الرحیم

327:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

کاش یہ قبر میری ہوتی

بتاریخ : 20/ محرم 1439 ھ، م  10/، اکتوبر  2017 م

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ” لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ "                         صحيح البخاري:1343 الجنائز، صحيح مسلم:2296 الفضائل

ترجمہ : حضرت   ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی  یہاں تک کہ آدمی  کی قبر  کے پاس  سے گزرے گا تو  کہے  گا کہ اے کاش ! اس قبر والے کی جگہ میں مدفون ہوتا ۔ {صحیح بخاری  وصحیح مسلم } ۔

تشریح : یہی حدیث  دوسرے  الفاظ میں اس طرح  وارد ہے کہ اس ذات کی قسم  جس کے ہاتھ میں میری جان ہے  دنیا  ختم  نہیں ہوگی  یہاں تک  کہ آدمی  کسی آدمی کی قبر  کے پاس  سے گزرے  گا تو اس پر  گر پڑے گا  اور کہے گا  اے کاش !  اس قبر  والے  کی جگہ  میں مدفون  ہوتا ،وہ  ایسا دین کے  خوف سے  نہیں کہے  گا بلکہ دنیوی  بلاو  پریشانیوں  کی وجہ سے  کہے گا ۔

قیامت  سے پہلے  اس دنیا میں بڑی  تبدیلیاں  واقع  ہوں گی ،چنانچہ  حق مٹ  جائے گا ، دین کا معاملہ  کمزور  سے کمزور  تر ہوگا،  بلا و  مصیبت  ہر طرف سے  لوگوں  کو اپنے  گھیرے  میں لے  لیں گی ،شرافت  کی جگہ  رذالت  لے گی،  قتل و غارتگری انسان  کا مشغلہ  بن جائے گی ، ایک شریف  آدمی کا زندگی  گزارنا  دشوار  ترین  کام ہوگا  ، امانت  داری کا نام و نشان  باقی نہ رہےگا ، ایسے موقعہ  پر ایک  صالح انسان  اور  مومن  ہی نہیں  بلکہ فاسق  و فاجر  آدمی بلکہ  کافر  کے لئے  بھی سکون  کی زندگی  بسر کرنا مشکل  ہوجائے گا ، حتی کہ  لوگ موت کو زندگی  پر ترجیح  دیں گے،  بلکہ صورت حال یہاں تک  پہنچے  گی کہ   قبر والوں  پر رشک  کریں گے اور دجال   جیسے  عظیم  فتنے  کی آمد  کو موجودہ  حالت  سے  بہتر  تصور کریں گے  ، چنانچہ  ایک حدیث  میں ارشاد  نبوی  ہے کہ میری  امت پر  ایک ایسا زمانہ  آئے گا جس میں لوگ  دجال  کے آمد کی تمنا کریں  گے ، راوی  حدیث حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا  : اے اللہ کے رسول !  میرے ماں باپ  آپ پر قربان  جائیں  ، ایسا کیوں  ہوگا ؟  آپ ﷺ  نے فرمایا  : ایسا صرف  بلاو پریشانیوں  کی وجہ سے ہوگا ۔ {الطبرانی  الاوسط ، بروایت  حذیفہ } ۔

یہی وہ حالات  ہوں گے  جن کا تذکرہ  زیر بحث حدیث میں  ہوا ہے ، اس کی مزید  تفصیل  ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے اس طرح فرمایا ہے :

”ہم سے قبل جو نبی بھی گزرا ہے اس پر واجب تھا کہ جو بھلائی کی چیز جانتا ہوتا  اسے اپنی امت کو بتلائے اور جو برائی کی باتیں جانتا ہوتا ا س سے متنبہ کرے، واضح رہے کہ اس امت کی عافیت اس کے ابتدائی حصے میں ہے اور اس امت کے آخر میں آنے والوں کو ایسی بلائوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا جسے تم لوگ ناپسند کروگے اور( اس امت کے آخری دور میں)ایسے فتنے ظاہر ہوں گے کہ گزرا ہوافتنہ آنے والے فتنے کے مقابلے میں ہلکا محسوس ہوگا ۔چنانچہ جب کوئی فتنہ ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا کہ بس یہی فتنہ میری ہلاکت کا سبب ہے پھر وہ فتنہ گزر جائے گا اور جب دوسرا فتنہ ظاہر ہوگا تو مومن کہے گاکہ بس یہی فتنہ میری ہلاکت کا سبب ہے ۔ اس لیے (ایسی حالت میں) جسے یہ پسند ہو کہ وہ جہنم سے دور کردیا جائے اور جنت میں داخل ہو تو اس کی موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جیسا اسے پسند ہو کہ اس کے ساتھ کیا جائے”۔

اس حدیث سے  بھی معلوم  ہوا کہ ایسے فتنوں کے موقعہ پر ایک  مومن  کے لئے  سب سے اہم یہ  ہونا چاہئے  کہ  وہ حالات  کی رو میں نہ بہہ جائے  ، نہ یہ کہ وہ خود کشی  کرلے  اور موت کی تمنا  کرے اور  نہ ہی  یہ کہ وہ ہاتھ  دھو کر بیٹھ جائے  ، بلکہ  اسے  یہ کرنا چاہئے کہ :

[۱]  اپنے  ایمان  کی حفاظت  کرے  ، اس طرح  کہ وہ صبر  سے کام  لے ، ہر طرح سے  اپنے  آپ کو فتنوں  سے بچائے ، اپنے  آپ کو دور رکھے  ، اللہ تعالی  کے ساتھ  اپنے تعلق   کو جوڑے رکھے : وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ (101)آل عمران

اور جو اللہ کو مضبوط  تھام  لے اسے  سیدھے  راہ کی ہدایت  ملی  ۔

ارشاد نبوی ہے:انتہائی  خوش بخت  ہے وہ انسان  جو فتنوں  سے بچا رہا  ، بڑا خوش بخت ہے  وہ انسان جو فتنوں سے  بچا رہا  ، خوش بخت ہے وہ انسان  جو فتنوں  سے بچا رہا اور  جو ان  میں مبتلا  کیا گیا  اور  صبر کیا تو  اس کا  کیا کہنا ۔ {ابو داود } ۔

[۲] اپنے ہاتھ  ، زبان  اور اعمال  سے کسی کو ضرر پہنچانے  سے بچے،  بلکہ جس طرح  وہ اپنے  بارے میں یہ پسند  کرتا ہے کہ لوگ  اس کو اذیت  پہنچائیں  ویسے ہی  اسے بھی چاہئے  کہ وہ ولوگوں  کو اپنے  سے محفوظ  رکھے ۔ کیونکہ  فتنوں کے وقت  میں لوگوں کی زبان  پر   لگام نہیں رہتی ۔

[۳] اللہ تعالی  سے  دعا کرتے  رہیں  کہ اسے فتنوں  میں پڑنے  سے محفوظ  رکھے  اور خصوصا  ان  دعاوں کا اہتمام  کرے جن کا  اہتمام  نبی ﷺ  سے ثابت  ہے  ، جیسے  تشہد  کے آخر  میں چار  چیزوں  سے  اللہ کی پناہ ، اس دعا کا اہتمام   جس کا  ذکر   حدیث ملا٫ اعلی  میں ہے  کہ اللہ تعالی  نے اپنے  نبی کو  پڑھنے  کا حکم دیا ہے  : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ المُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ المَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ، وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُ إِلَى حُبِّكَ۔ سنن الترمذي بروايت معاذ بن جبل

سچ  کہا ہے حضرت حذیفہ  رضی ا للہ عنہ  نے جو اس امت  میں فتنوں  کے بارے میں  سب سے  زیادہ  معلومات  رکھتے تھے  کہ  لوگوں  میں ایک وقت  آئے گا کہ  اس شخص  کو نجات  ملے گی  جو ڈوبتے ہوئے  شخص  جیسی  دعا کرے گا۔ { مصنف ابن ابی شیبہ } ۔

فوائد :

  • فتنوں  کے زمانے  میں اپنے  دین  و ایمان  کی حفاظت  ایک  مومن  پر فرض ہے ۔
  • اس امت  کا بہترین  زمانہ  صحابہ  وتابعین  کا زمانہ  ہے ، لہذا   انہیں  ہی اپنا  آئیڈیل  بنانا  چاہئے ۔
  • اس دنیا کی زندگی  کی  انتہا   فتنوں  سے نجات  نہیں ہے  بلکہ   ایمان  و عمل  صالح   پر  موت ہی   ہر فتنے  سے نجات  ہے ۔