*گیارہواں پارہ(یعتذرون)*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سلسلہ خلاصہ معانی قرآن مجید
از قلم : شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہ اللہ

*گیارہواں پارہ(یعتذرون)*
گیارہویں پارے کے تین حصے ہیں؛پہلا حصہ سورہ توبہ کی آیت94تا129 پر مشتمل ہے۔ دوسرا حصہ مکمل سورہ یونس پر مشتمل ہے۔ اور تیسرا حصہ سورہ ہود کی ابتدائی پانچ آیات پر مشتمل ہے۔
o پچھلے پارے کی آخری آیات میں منافقین کا ذکر چل رہاتھا جو غزوہ تبوک میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہوئےتھے، بلکہ بہانے بنا کر عورتوں کی طرح پیچھے رہ گئے تھے۔ ان آیتوں میں نبی ﷺ کی غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد ان کے عذر پیش کرنے اور اپنی صفائی پیش کرنے کا ذکر ہے۔
o اللہ تعالی نے ان آیات میں خطاب اپنے نبی سے کیا ہے، جس میں منافقین کے بارے میں انتہائی سخت موقف اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ، چنانچہ اللہ تعالی نے اپنے نبی سے فرمایا:
1) آپ ان کے عذر قبول نہ کریں اور یہ کہہ دیں کہ اب ہمیں تمہاری کسی بات پر یقین نہیں ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے تمہارے لئے توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔آیت:94
2) منافقین قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی تو پیش کریں گے لیکن آپ ان کی طرف بالکل توجہ نہ دیں ۔ بلکہ ان سے اعراض کریں، ان کی جھوٹی قسموں کا کوئی جواب نہ دیں۔ یہ ناپاک اور بد طینت لوگ ہیں۔آیت:95
3) قسمیں کھا کھا کر آپ کو راضی کرنا چاہیں گے لیکن آپ ان سے راضی نہ ہوں۔اگر بالفرض آپ ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ تعالی ان سے راضی نہ ہو گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ انہوں نے فسق و نافرمانی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔آیت:96
o مدینہ منورہ کے منافقوں کا ذکر کرنے کے بعد کچھ دیہاتی اور صحرائی منافقوں کا بھی ذکر ہوا ہے ۔ اور ان کے نفاق کی بڑی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ یہ لوگ علم اور مرکز علم سے دور ہیں، اور دور رہنے کی وجہ سے رسول اللہﷺ کی باتیں سننے کا انہیں اتفاق نہیں ملتا۔آیت:97
o ان صحرائی منافقین کے ان نیک نیت مسلمانوں کا بھی تذکرہے جو حقیقت میں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والے ہیں، جو کچھ میسر آیا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہیں اور رضائے الہی کے لئے کوشاں بھی رہتے ہیں ۔آیت:99
o اسی سلسلےمیں آیت نمبر 100 میں اسلام لانے میں پہل کرنے والے مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ایمان و اخلاص کے ساتھ ان کے سچے پیروکاروں کا مقام و مرتبہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ان کے لئے رضامندی کے ساتھ ساتھ جنت کا بھی اعلان کردیا گیا ہے ۔
o آیت نمبر 101 میں منافقین کو دھمکی دیتے ہوئے ان سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اپنی بے جا حرکتوں سے باز نہ آئے تو انہیں دو بار عذاب دیا جائے گا۔ ایک عذاب تو اسی دنیا میں عذاب ہوگا،اور پھر دوسرا قبر میں ہوگا۔البتہ آخری عذاب توجہنم کا ہوگا جو سب سے بڑا عذاب ہے۔
o ہاں! جو لوگ ڈانٹ ڈپٹ پر متنبہ ہو جاتے ہیں، اپنی غلطی کا اعتراف کر لیتے ہیں اور سچے دل سے توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالی نے انہیں توبہ کی قبولیت کی بشارت بھی دی ہے۔آیت:102
o اور نبی ﷺ کو ان کے لئے دعائے مغفرت کا حکم دیا ہے۔آیت 103
o اس میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو تھے تو سچے مسلمان لیکن شیطان اور نفس یا سستی کے غلبے کی وجہ سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔
ان کے بارے میں اللہ تعالی نے دو اہم باتیں بیان کی ہیں۔
1- اب تک جو قصور ہوا وہ تو ہوگیا ، لیکن آئندہ اپنے عمل سے یہ ظاہر کردو کہ تم سچے مسلمان ہو۔ آیت:105
2- ان کی توبہ جلدی قبول نہ کی اور ان کے معاملے کو قدرے مؤخر رکھا۔ آیت:106
o آیت نمبر 107 میں اللہ تعالی نے مسجد ضرار کا ذکر فرمایا ہے جسے منافقین نے ابو عامر راہب کے مشورے سے تعمیر کیا تھا، اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو اسے ڈھانے کا اور اسے جلا دینے کاحکم دیا ۔
o اس کے مقابلے میں مسجد قبا کی اہمیت کو بھی دو بالا کیا ، اور اس میں نماز پڑھنے والے مسلمانوں کی فضیلت بیان کی ۔آیت:108
o جس کی وجہ یہ بیان ہوئی ہے کہ دونوں مسجد وں کی تعمیر کی نیت میں بڑا فرق تھا؛مسجد قبا کی بنیاد اخلاص اور تقوی پر تھی ۔ جبکہ مسجد ضرار کا مقصد 1- بدنیتی اور ریاء ونمود، 2- مسلمانوں کو ضرر پہنچانا، 3-کفر پھیلانا، 4- مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنا ، 5- اور دشمنان اسلام کیلئے کمین گاہ مہیا کرنا تھا۔ لہذا وہ اس لائق تھی کہ اسے ڈھا دیا جائے۔
o آیت 111اور 112میں ایک مومن ہونے کا معنی ، مقصد او راس کی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔
مقصد یہ کہ ایک شخص نے مسلمان ہوکر اس نے اپنی جان و مال کو اللہ کے حوالے کر دیا ہے،اس کا مال نہ اس کا اپنا مال ہوتا ہے اور نہ اس کی جان اس کی اپنی جان ہوتی ہے،بلکہ اس کا سب کچھ اللہ کے لئے ہوتا ہے۔
مومن کی علامات یہ ہیں: ۱- توبہ کرنا۔ ۲-عبادت کرنا،اللہ کی حمد بیان کرنا۔ ۳-روزے رکھنا۔ ۴-رکوع اور سجدہ کرنا۔ ۵- نیکی کا حکم دینااور برائی سے منع کرنا۔ ۶- اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خوشخبری دے گئی ہے۔
o اس کے بعد آیت نمبر 113 تا ۱۱۶ میں اپنے کافر رشتہ داروں سے مسلمانوں کو چند ہدایات دی گئی ہیں۔
1- اللہ تعالی نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کو مشرکین کےلئے دعائے مغفرت کرنے سے روک دیا ہے۔گویا یہ حکم ہے کہ جس شخص کا انتقال حالتِ کفر میں ہو اس کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں ہے۔
2- اس آیت کے نزول کے بعد اہل ایمان کے رشتے کو اہل کفر سے منقطع کر دیا گیا ۔
3- مسلمانوں کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں کوئی حجت نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے مشرک والد کے لئے دعائے مغفرت کی تھی۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب تک اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منع نہیں فرمایا تھا۔
4- دنیاوی حکم انسان کے ظاہر کو دیکھ کر لگے گا، البتہ باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔
5- کسی سزا کے تعین کے لئے قرآن وحدیث سےکسی نص کا پایا جانا ضروری ہے۔ نیز اللہ تعالی کسی پر حجت قائم کئے بغیر اسے عذاب نہیں دیتا۔
6- گناہ ومعصیت کے کام انسان کے لئے ہلاکت وبربادی کا سبب ہیں۔
7- اصل مدد اللہ قادرِ مطلق اور مالک الملک کی طرف سے ہے، نہ کہ اعزہ واقارب کے پاس۔ التفسیر المنیر ۱۱/۶۳
o آیت نمبر 117 تا 122 میں غزوہ تبوک میں شریک ہونے والوں کی توبہ کی قبولیت او روہ نیک دل مسلمان جو سستی کی وجہ سے اس غزوے سے پیچھے رہ گئے تھے ان کی توبہ کی قبولیت کا بیان ہے۔
o یہ تین قسم کے لوگ تھے؛ایک وہ جو فورا جہاد کیلئے نکل کھڑے ہوئے،دوسرے وہ جو کچھ تردد کے بعد ساتھ چل پڑے اور تیسرے وہ جو تھے تو سچے او ر نیک دل مگر سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ۔
o اسی طرح کچھ وہ مسلمان تھے جو غزوہ میں شریک ہونا چاہتے تھے لیکن کسی عذر کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکے ،انہیں تسلی دی گئی کہ اللہ تعالی نے ان کے اجر کو ضائع نہیں کیا ۔
o آیت 122میں علم دین کے لئے نکالنے ، اس کی اہمیت اور تعلیم وتعلم کے مقصد کا بیان ہے۔
o اس سورت کی آخری آیات گویا اس پورے حادثے پر تبصرے کے طور پر ہے،اور ان میں کچھ اہم باتیں بیان ہوئی ہیں:
o 1) کفار و منافقین کے بارے میں سخت رویہ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ،لیکن تقوی کے دائرے میں رہ کر۔کیونکہ اپنی گزشتہ روش کی وجہ سے وہ کسی نرمی کے مستحق نہیں ہیں۔
o 2)قرآنی آیات کے نزول سے دونوں فریقوں یعنی مومنوں اور منافقوں کو کیا فائدہ اور کیا نقصان ہوتا ہے؟ اس کا بیان ہے۔ کہ قرآنی آیات کا نزول اہل ایمان کے ایمان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے ، جبکہ منافقین کی نجاست اور گندگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
o 3)منافقین پر متعدد اعتبار سےحجت کا قیام۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ انہیں دنیا میں رسوا ہونا پڑتا ہے اور سزائیں بھی ملتی ہیں مگر وہ پھر بھی باز نہیں آتے ۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ قرآن کی آیات ان کے عیوب کو ظاہر بھی کرتی رہتی ہیں مگر کبھی یہ توبہ کیلئے تیار نہیں ہوتے ۔
o سورت کے آخر میں نبی کریم ﷺ کی شخصیت کی حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور آپ کی پانچ صفات بیان کی گئی ہیں۔
1- آپ ﷺ انہیں میں سے یعنی عرب ہیں۔
2- امت کا مشقت میں پڑنا اس کے اوپر بڑا شاق ہوتا ہے۔ وہ کبھی بھی نہیں چاہتا کہ لوگ جہنم کے ایندھن بنیں۔
3- ان کی اصلاح کے بارے میں بڑا فکر مند رہتا ہے۔
4- اپنی امت پر بڑا شفیق ہے۔
5- پوری مخلوق پر عموما اور مسلمانوں پر خصوصا بے حد مہربان ہے۔
o آخری آیت میں آپ کو ان الفاظ کے ساتھ تسلی دی گی ہے کہ اگر وہ منہ موڑ لیں تو آپ کہہ دیں کہ مجھے اللہ کا فی ہے۔
فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (129) ” پھر اگر رو گردانی کریں تو آپ کہہ دیجیئے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وه بڑے عرش کا مالک ہے”۔س

سورت یونس
یہ سورت مکی اور طویل سورتوں میں سے ہے۔
بعض علماء کے نزدیک اس کا شمار السبع الطوال(سات لمبی سورتیں)میں ہوتا ہے۔
اس سورت کا بنیادی موضوع عقیدہ ہے۔خصوصا عقیدہ توحید و رسالت اور آخرت ۔
اس سورت میں قرآن اور اسلام کے بنیادی مقاصد توحید،رسالت اور آخرت وغیرہ کو کائنات عالم اور اس میں ہونے والے تغیرات و مشاہدات سے استدلال کرکے ذہن نشین کرایا گیاہے،اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ عبرت خیز تاریخی واقعات و قصص کے ذریعے ان لوگوں کو ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالی کی ان کھلی نشانیوں پر نظر نہیں کرتے ۔ نیز اس ضمن میں شرک کا ابطال اور اس سے متعلق بعض شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔[معارف القرآن:ج 4،ص 499]۔
o اس سورت کی پہلی اور دوسری آیت میں رسالت کا اثبات ہے اور اہل مکہ پر تعجب کا اظہار ہے کہ جب ہر قوم میں ایک رسول آیا ہے تو آخرتمہاری ہدایت کے لئے ایک رسول کوئی کتاب لیکر کیوں نہیں آ سکتا ؟!۔
اس سے رسول اللہ کا منصب بھی واضح ہوجاتا ہےکہ وہ "بشیر ونذیر” ہوتا ہے۔ یعنی اس کام لوگوں کو ڈرانا اور خوشخبری دینا ہے ۔
o تیسری اور چوتھی آیت میں بعثت رسول کا اصل مقصد بیان ہوا ہے۔ یعنی توحید و آخرت پر ایمان کی دعوت اور توحید ربوبیت کے ذریعے توحید الوہیت کو ثابت کیا گیا ہے ۔
o آیت نمبر 5 تا 10میں رات و دن کی آمد و رفت اور سورج او ر چاند کے مخلوق کی خدمت رسانی پر لگا دئیے جانے کا حوالہ دے کر بندوں کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں۔
ایک وہ لوگ جو کائنات میں پھیلی ہوئی ان نشانیوں پر توجہ نہیں دیتے اور غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کاانجام آگ ہے ۔
اور دوسرے وہ جنہوں نے اپنے مالک کو پہچانا تو ان کا ٹھکانا نعمتوں والے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔
o آیت 11اور 12میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی سنت ہے کہ لوگوں کے نافرمانیوں پر انہیں فورا نہیں پکڑتا اور عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا ،بلکہ انہیں ڈھیل اور مہلت دیتا ہے۔ اور اگر وہ فورا پکڑتا تو وہ کب کے ہلاک ہو چکے ہوتے۔
o اس کے بعد انسان کا مصیبت اور خوشحالی میں کیا حال اور رویہ ہوتا ہے وہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے اللہ کو پکارتا ہے۔ لیکن جب مصیبت دور ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔وَإِذَا مَسَّ الْإِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَائِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَنْ لَمْ يَدْعُنَا إِلَى ضُرٍّ مَسَّهُ كَذَلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (12) "اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارتا ہے لیٹے بھی، بیٹھے بھی، کھڑے بھی۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف اس سے ہٹا دیتے ہیں تو وه ایسا ہوجاتا ہے کہ گویا اس نے اپنی تکلیف کے لیے جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان حد سے گزرنے والوں کے اعمال کو ان کے لیے اسی طرح خوشنما بنادیا گیا ہے”۔
o پھر پچھلی قوموں کا حوالہ دیا گیا ہے جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایاکہ اگر قریش ان کی تاریخ سے سبق نہیں لیتے تو ان کا انجام بھی کوئی اچھا نہ ہوگا ۔
o آیت 15سے 20تک قریش کے ان مطالبات کی تردید ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ سے کیا کرتے تھے۔
o ان کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ آپ کوئی ایسی کتاب لے کر آئیں جو ہماری سمجھ میں آئے اور وہ ہمارے عقیدے کے خلاف بھی نہ ہو۔
اس پر نبی ﷺ کو جس جواب کا حکم دیا گیا ہے وہ بڑا ہی قابل غور ہے او ر ہمیں اور آپ کو چونکا دینے والا ہے۔
آپ ﷺ کو حکم ہوتا ہے کہ آپ یہ فرمائیں :لوگو!کوئی کتاب یا چند آیات لانا، یہ میرے اختیار میں نہیں ہے،میں تو صرف اللہ کے احکام کا پابند ہوں، یہ سارا کام اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے، میری نبوت سے پہلے والی زندگی دیکھ لو کیا کبھی میں نے اپنی طرف سے کوئی بات کہی ہے؟۔ آیت: 16
اور یاد رکھو میں تو وحی الہی کا پابند ہوں،اور اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو مجھے بہت بڑے عذاب کا ڈر ہے ۔آیت:15
ساتھ ہی ساتھ ان کے شرکیہ نظریات اور ان کے(معبودان باطلہ کی ) شفاعت و وسیلہ کے عقیدے کی بھی تردید کی گئی ہے، اور یہیں پر یہ واضح کردیا گیا ہے کہ یہ مشرکین جن کو اپنا سفارشی بنائے ہوئے ہیں اس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔آیت:18
o آیت :20 میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ اصل میں تمام اولاد آدم ایک ہی دین یعنی توحید پر قائم تھے ، شرک وکفر کی پیداوار بعد کی ہے ، اور اسی بنیاد پر لوگ گروہوں اور فرقوں میں بٹے ہیں۔
o آیت 22اور 23میں کافروں کی بد عقیدگی پر تعجب کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ کی توفیق اور اس کی طرف سے دی ہوئی آسانی کی وجہ سے تم لوگ خشکی اور تری میں آرام سے چلتے پھرتے ہو ،اور جب تمہارے اوپر کوئی مشکل وقت آجاتا ہے تو تم توحید پر آجاتے ہو اور صرف ایک اللہ ہی کو پکارتے ہو۔پھر جب مصیبت دور ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی کو دوبارہ بھول جاتے ہو۔ یاد رکھو تمہاری بد کرداری کا وبال خود تم پر پڑنے والا ہے ۔
o آیت نمبر 24میں مشرکین کو ان کے خواب غفلت اور اپنی آرام کی زندگی میں مگن رہنے پر متنبہ کرتے ہوئے بارش اور کھیتی کی مثال دی گئی ہے کہ جس طرح بارش ہوئی ،کھیتی لہلااٹھی، توکسان نے سمجھ لیا کہ اب تو ہمیں بڑی خوشحالی ملے گی ،لیکن راتوں رات ایسی آفت آ تی ہے کہ ساری کھیتی نیست و نابود ہو کر رہ جاتی ہے۔اسی طرح تمہارے حالات ہیں ، کیا پتا کب بدل جائیں؟ تم اس سے غافل مت رہو۔
o دنیا کی حقیقت بیان کرنے کے بعد اگلی آیات میں یہ کہا گیا کہ اللہ تعالی تمہیں دار السلام کی طرف بلاتا ہے جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے، وہاں نیک و بد کو اس کا بدلہ ملے گا،جو نیک کار ہیں ان کیلئے جنت ہوگی اور اس میں مزید انعامات (جن میں دیدار ا لہی بھی ہے)ہوں گے،اور جنہوں نے زندگی بھر برائیاں کمائیں انہیں ذلت و رسوائی گھیر لے گی ۔
o پھر ان کے شرک اور غیر اللہ کی عبادت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں تمہارے معبود اور شریک تمہارے کسی کام نہیں آ سکیں گے۔ارشاد ہوا: هُنَالِكَ تَبْلُو كُلُّ نَفْسٍ مَا أَسْلَفَتْ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (30) "اس موقعے پر ہر شخص جانچ لے گا جو اس نے بھیجا اور اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو ان کا حقیقی مالک ہے اور گم ہوجائے گا جو وہ جھوٹ بولا کرتے تھے”۔
o آیت نمبر 31 تا 34میں بت پرستوں کی تردید کے بعد کلام کا رخ بت پرستی کی تردید اورتوحید کے اثبات کی طرف پھیر دیا گیا ہے،اور اس پر کئی دلائل پیش کئے گئے ہیں۔مثلا
1- بارش نازل کرکےآسمان اور زمین میں روزی کون دیتا ہے؟
2- انسان کے حواس جیسے کان اور آنکھ کو پیدا کرنے والا کون ہے؟
3- مارنے اور جلانے کا اختیار کس کو حاصل ہے؟
4- اور کون ذات ہے جسے یہ قدرت حاصل ہوکہ وہی مردے سے زندہ کو اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے؟
5- وہ کوں ذات ہے جوان تمام مخلوقات کو پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تدبیر بھی کر رہا ہے؟
ظاہر بات ہے کہ ان سوالوں کا جواب ان کے پاس صرف یہی ہے کہ ” یہ سب کرنے والا اللہ تعالی ہی ہے۔ لہذا عبادت بھی اسی کی ہونی چاہئے۔
o اسی لئے اللہ تعالی نے فرمایا: فَذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ (32) "سو یہی اللہ قادر تمہارا حقیقی رب ہے، پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا کیا ہے، پھر کہاں پھرائے جارہے ہو؟ "۔
o آیت 35 اور 36 میں مزید ان کے باطل معبودوں کی بے بسی کو واضح کیا گیا ہے کہ وہ تو لاچار محض ہیں۔ کیا ان میں سے کوئی اس مخلوق کو مارنے اور دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے؟ کیا ان میں سے کسی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ کسی کو ہدایت سے ہمکنار کردے؟ ۔ لہذا جب ان میں یہ قدرت نہیں ہے تو وہ اللہ کے ساتھ عبادت کئے جانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔
o آیت نمبر 37 تا 44میں قرآن کی حقانیت کو واضح کیا گیا ہے اور چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر تم اس کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہو کہ یہ محمد ﷺ کی گھڑی ہوئی کتاب ہے۔ (نعوذ باللہ )- تو اس جیسی کوئی ایک سورت ہی لا کر پیش کردو، اور اس کے لئے تم اپنے تمام مدد گاروں کو بلا لو۔
یاد رہے کہ مکہ مکرمہ میں یہ قرآن کا آخری چیلنج تھا،اس سے پہلے سورۃ اسراء میں پورا قرآن لانے کا چیلنج دیا گیاتھا،پھر سورہ ہود میں اس کی دس سورتوں جیسی دس سورتیں لانے کا چیلنج دیا گیا تھا اور پھر آخر میں اس کی ایک چھوٹی سے چھوٹی سورت جیسی کوئی سورت لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔(لیکن تمام عرب صاحبِ زبان اور فصیح و بلیغ ہونے کے باوجود کسی بھی چیلنج کو قبول نہ کر سکے، جو کہ قرآن کی حقانیت کی ایک روشن دلیل ہے)۔
o اس کے بعد اگلی آیات میں اللہ تعالی نے ان مشرکین کو جو عذاب الہی اور آخرت ورسالت کے منکرتھے،انہیں دھمکی والے انداز میں نصیحت کی ہے کہ یہ اللہ تعالی کی سنت رہی ہے کہ ہر قوم کو سنبھلنے کا موقع دیتا ہے،رسولوں کو بھیج کر تمہیں خبردار کرتا ہے کہ قیامت آئے گی تو کوئی اسے روک نہیں سکے گا اور جب اللہ کا عذاب آئے گا تو کوئی اسے ٹال نہیں سکے گا۔ عذاب آنے کے بعد اگر تم ایمان لاؤ گے تو تمہارے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔آیت: 59– 53
o جب قیامت آئے گی تو وہاں اگر اللہ کے عذاب سے بچنے کیلئے ساری دنیا کی دولت بھی خرچ کردی جائے تو اللہ کے عذاب سے نجات نہیں ملے گی۔آیت:54 تا 56
o لہذا اے لوگو! یہ قرآن جو تمہارے رب کی طرف سے نصیحت ہے اور تمہارے دلوں کی شفاء ہے اسے قبول کرلو تم عذاب سے بچ جاؤ گے۔آیت: 59
اس آیت میں قرآن مجید کی چار اہم خصوصیات بیان کی گئیں ہیں۔
1- لوگوں کےرب کی طرف سے ایک پیغام نصیحت ہے "مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ”۔
2- دلوں کی بیماریوں کا کامیاب علاج "وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ "
3- ساری دنیا کے لوگوں کے لئے ہدایت وراہنمائی ہے۔ ” وَهُدًى”۔
4- مومنین کے لئے رحمت ہے۔ "وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ”۔
o قرآن اور نبیﷺ کا وجود ایک ایسی نعمت ہے جس کا مقابلہ دنیا کی ساری نعمتیں بھی نہیں کرسکتیں، لہذا اسے اپناؤ اور اس کی قدر کرو۔قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (58) "آپ کہہ دیجئے کہ بس لوگوں کو اللہ کے اس انعام اور رحمت پر خوش ہونا چاہئے۔ وه اس سے بدرجہا بہتر ہے جس کو وه جمع کر رہے ہیں”۔
o آیت نمبر 59تا 61میں ان لوگوں کو دھمکی دی گئی ہے جو اس کتاب سے ہدایت حاصل نہ کرکے اپنی مرضی سے حلال و حرام کا فلسفہ گھڑلیتے ہیں۔ نیز یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ان کے ظاہر و باطن پر نظر رکھے ہوئے ہے،اور کائنات کی کوئی بھی چیز اس سے مخفی نہیں ہے ۔
o آیت نمبر 62تا 64میں ان لوگوں کی حقیقت و علامت بیان ہوئی ہے جو اس کتاب کے حقیقی وارث ہیں،اور پھر ان کا مقام و مرتبہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں بشارت ہے ۔
o کہ وہی لوگ اللہ کے حقیقی ولی ہیں ۔ ان کی علامت ایمان و تقوی شعاری ہے، اور دنیا میں نہ انہیں اپنے حقوق کے ضیاع کا کوئی خوف ہے اور نہ ہی آخرت میں انہیں کسی قسم کا حزن وملا ل لاحق ہوگا۔
o اس کے بعد والی آیات میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ مکہ کے مشرکین آپ کو جس قدر تنگ کریں اور آپ کو تکلیف دینا چاہیں، آپ اس سے پریشان نہ ہوں ،اصل عزت اللہ کے پاس ہے،زمین و آسمان کی حکومت اسی کی ہے۔
o
o آیت نمبر 79اور اس کے بعد والی آیات میں آفاقی اور کائناتی دلائل سے آگے بڑھ کر دعوت کا رخ مثالوں اور قصوں کی طرف پھیر دیا گیا ہے۔جس کا مقصد اللہ کے رسول ﷺ اور اہل ایمان کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی سنت یہی رہی ہے کہ اس کے نبیوں کو جھٹلایا اور اہل حق کو تنگ کیا جاتا رہا ہے ،لیکن انجام کا ر کامیابی وکامرانی انہیں کے حصے میں آتی ہے۔ نیز کافروں کا یہ سبق دینا مقصود ہے کہ رسولوں کی مخالفت اور اہل حق کو اذیت دینے کا انجام اس دنیا میں تباہی و ہلاکت اور آخرت میں عذاب و رسوائی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
o سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام کا قصہ بیان ہوا ہے۔
o اس قصے میں یہ بات واضح ہے کہ نوح علیہ السلام ایک مدت یعنی ساڑھے نو سال تک قوم کو دعوت دیتے رہے، یہاں تک کہ ان کی قوم کے لوگ نے تنگ آکر یہ کہنے لگے کہ اے نوح! اب بہت ہوگیا ، اگر تم سچے ہو تو عذاب لے آؤ، اب تو ہم تمہارے بارے میں یہ فیصلہ کرنے والے ہیں کہ تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیں۔ نوح علیہ السلام نے اس موقعے پر بڑی دلیری اور اللہ تعالی پر کمالِ توکل کا مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: اے میری قوم کے لوگو !یاد رکھو ، میرا بھروسہ صرف ہمارے تمہارے رب و کارساز اللہ پر ہے، البتہ تم میرے بارے میں کوئی اجتماعی فیصلہ کرلو، اپنے باطل معبودوں کو بھی اس میں شریک کرلو، اپنے فیصلے میں کسی بھی تردد کے شکار نہ رہوئے اور مجھے سنبھلنے کو موقعہ دئے بغیر اپنی مکمل طاقت سے میرے اوپرحملہ کر دو اور مجھے جو نقصان پہنچا سکتے ہو پہنچاؤ۔آیت: 71، 72
o لیکن اس دھمکی کے بعد بھی جب قوم کی بے راہ روی وہی رہی تو اللہ تعالی کا آخری فیصلہ آگیا: فَكَذَّبُوهُ فَنَجَّيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ وَجَعَلْنَاهُمْ خَلَائِفَ وَأَغْرَقْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ (73)” سو لوگ ان کو جھٹلاتے رہے، پس ہم نے ان کو اور جو (ان پر ایمان لائے تھے اور )ان کے ساتھ کشتی پر سوار تھے ان کو نجات دی اور ان کو جانشین بنایا، اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ان کو غرق کردیا ، سو دیکھنا چاہئے کہ جو ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا”۔
o پھر دیگر بعض رسولوں کا ضمناً حوالہ دیکر حضرت موسی و ہارون علیہما السلام کا ذکر ہے۔جس میں حضرت موسی اور ہارون علیہما السلام کی دعوت،فرعون کا اس پر رد عمل اور جادوگروں سے مقابلے کا ذکر ہے۔آیت ؛ 75 تا 82
o اس کے بعد بنو اسرائیل پر فرعون اور اس کی ظالم قوم کے تسلط کا ذکر ہے۔جس کے عوض حضرت موسی علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ پر توکل ،اللہ سے دعا اور نماز کے اہتمام کا حکم دیا ۔آیت: 86، 87
o اور یہ بھی بتا دیا کہ اگر تم یہ سب کام کئے تو تمہارے لئے خیر کی بشارت ہے۔
o پھر حضرت موسی علیہ السلام کی دعا اور حضرت ہارون علیہ السلام کے اس پر آمین کہنے کا ذکر ہے۔
o یہاں زیادہ قابل عبرت یہ فرمان الہی ہےکہ ” قَالَ قَدْ أُجِيبَتْ دَعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِيمَا وَلَا تَتَّبِعَانِّ سَبِيلَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ (89) "حق تعالی نے فرمایا کہ تم لوگوں کی دعا قبول کر لی گئی،سو تم ثابت قدم رہو،اور ان لوگوں کی راہ پر نہ چلنا جن کو علم نہیں”۔
یعنی جب دعا قبول ہوگئی تویہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دعا تو قبول ہو گئی پھر استقامت کا حکم کیوں دیا گیا؟
مفسرین کہتے ہیں کہ استقامت کا حکم اس لئے ہے کہ دعا کی قبولیت میں تاخیر بھی ہو سکتی ہے،اس لئے یہ تعلیم دی گئی کہ نہ دعا کی قبولیت میں جلدی کرنی چاہئے اور نہ ہی مایوس ہو کر دعا کرنی چھوڑ دینی ہے۔
o آیت 94 –97 میں بظاہر نبی ﷺ کو مخاطب کرکے مسلمانوں کو اطمینان دلایا جا رہے کہ نبی کی رسالت اور اس پر نازل شدہ کتاب کے بارے میں دشمنی کا رویہ رکھنے والوں کی کثرت تمہیں تردد میں نہ ڈالے ۔ اس کی حقانیت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ اہل کتاب کو اس کا علم پہلے سے ہے۔آیت :94 ، 95
o اور تمہیں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کے سامنے بڑی سی بڑی نشانی بھی لا کر رکھ دو پھر بھی وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اب یہی باقی رہ گیا ہے کہ وہ لوگ جب تک اللہ کا عذاب نہ دیکھ لیں گے ایمان نہ لائیں گے۔ جیسے کہ فرعون اور اس کی قوم کے قصے سے واضح ہے، لیکن ان کا ایمان کسی فائدے کا نہیں ہے۔ آیت: 97
o اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام کے قصہ کی طرف مختصراً اشارہ ہے، جس سے اس سورت کا نام رکھا گیا ہے ۔
o اس پارے اور اس سورت کے آخر میں غافل اور منکرین رسالت و بعثت کا ذکر کرنے بعد حضرت یونس علیہ السلام اور ان کی قوم کا قصہ شاید اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ اہل مکہ کو یہ سبق دیا جائے کہ تمہیں بھی چاہئے تم ویسے ہی ایمان لے آؤ جیسے حضرت یونس علیہ السلام کی قوم ہلاکت کا وقت آنے سے پہلے پہل ایمان لے آئی تھی تاکہ تم بھی آخری انجام ہلاکت سے بچ جاؤ۔
o آخر میں نبی کریم ﷺ کی زبانی اہل مکہ کو بڑی اہم نصیحتیں کی گئی ہیں اور انہیں توحید و رسالت کے مسائل کو سمجھاتے ہوئے ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔
o ایک تو نبی ﷺ کی زبانی ان سے یہ کہلوایا گیا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم مجھ سے اللہ کی توحید پر دلائل کا مطالبہ کرتے ہو حالانکہ ایمان لانے والوں کے لئے آسمان وزمین میں اللہ کی قدرت اور اس کی توحید کی بہت سی نشانیاں ہیں۔ ان پر غور کرو، لیکن اگر تمہیں کوئی ویسا عذاب مطلوب ہے، جیسا پہلی قوموں پر آیا تواس کے لئے انتظار کرو ہم بھی اس کا انتظار کر رہے ہیں۔آیت: 101، 103
o دوسری بات یہ کہی گئی کہ آے نبی آپ اپنی قوم سے کہہ دیں کہ اگر تمہیں میری حقانیت کے بارے میں کوئی شبہہ ہے (حالانکہ اس میں شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ) تو میرا تم سے اور تمہارے معبودوں سے اعلان لا تعلقی ہے۔ میں ان کی عبادت قطعا نہیں کرتا ، میں تو اللہ پر ایمان لانے والا ہوں ۔ آیت:104
o بظاہرنبیﷺ اور حقیقت میں عام لوگوں کو یہ صریح حکم ہے کہ یکسو ہو کر صرف اللہ کی عبادت میں لگ جاو۔ آیت:105۔
o اللہ کے علاوہ ساری مخلوق کسی بھی نفع ونقصان کی مالک نہیں، لہذا ان کی عبادت سے دوری اختیار کریں۔آیت: 106
o اور نفع ونقصان کے بارے میں صرف اور صرف اللہ پر ایمان رکھو۔ آیت 107
o تیسری بات یہ کہی گئی کہ اے نبی آپ لوگوں میں یہ اعلان کردیں کہ اے میری قوم کے لوگو! تمہارے رب کی طرف سے جو حق ( قرآن ،توحید اور رسالت) دیکر مجھے بھیجا گیا ہے وہ اب تمہارے سامنے ہے ، اب میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں ، تم سیدھی راہ پر آجاؤ تو بہتر،ورنہ تمہارے بارے میں مجھ سے کوئی باز پرس نہ ہوگی۔آیت: 108

سورت ھود
یہ سورت مکی ہے اور مکہ مکرمہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہے۔
پچھلی سورت کی طرح اس سورت کا موضوع بھی عقیدہ ہے،خصوصا عقیدہ توحید ورسالت اور آخرت ۔
فرق صرف یہ ہے کہ سورہ یونس میں کائناتی حقائق کو پیش کر کے توحید پر استدلال کیا گیا تھا اور اس سورت میں نبیوں کے واقعات بطور مثال پیش کئے گئے ہیں۔ اسی طرح پچھلی سورت میں دعوت و ارشادکا پہلو غالب تھا اور اس سورت میں انذار او رترہیب کا پہلو غالب ہے۔
اس سورت کے اسلوب سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سورت اہل مکہ کیلئے آخری تنبیہ کے طور پر نازل ہوئی ۔
o سورت کی ابتدائی آیات میں قرآن مجید کی اہمیت اور اس کی صفات ،توحید کی دعوت اور قیامت سے پہلے لوگوں کو توبہ کی دعوت ہے۔
o پہلی آیت میں قرآن مجید کی تین بڑی ہی اہم صفات کا ذکر ہے: 1) محکم ہے۔ 2) مفصل بیان پر مشتمل ہے۔ 3 ) حکیم و خبیر رب کی طرف سے نازل شدہ ہے۔
o نیز ان آیات میں قرآن کے نزول کا مقصد بیان کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد اللہ کی توحید کی طرف بلانا اور لوگوں کو خوشخبری دینے او ر ڈرانے کا فريضہ ادا کرنا ہے ۔
اس کتاب کے نزول کا ایک مقصد یہ بھی بتانا ہے کہ اگر لوگ توحید کو اپنا لیں اور کفر وشرک سے توبہ کر لیں تو اللہ تعالی انہیں دنیا میں بہت بڑے اور عمدہ فائدے سے نوازے گا، ان کی نیکیوں کو دو بالا کردے گا اور انہیں دردناک عذاب سے بچا لے گا ۔
o اللہ تعالی کے وسیع علم کا بیان ہے کہ وہ ذات لوگوں کی ظاہر و پوشیدہ تمام باتوں پر مطلع ہے،ان کے سینوں کے بھید کو بھی جانتا ہے،وہ لوگ رسول کی عداوت کو خواہ کتنا ہی چھپا لیں وہ اس پر مکمل طور مطلع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں