طلاق كا حق 2/2

بسم اللہ الرحمن الرحیم

طلاق كا حق

قسط : 2/2

از قلم : شیخ عبد الرحمن عزیز

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }

پچھلی قسط کے آخری سطور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس کے علاوہ وقت حاضر کے ایک نام نہاد مجتہد جاوید احمد غامدی نے اس بات سے انکار کیا کہ شریعت اسلامیہ نے مذکورہ صورت کاکوئی حل نکالا ہے ، اور پھر عدالتوں کی موجودہ حالت کو باعث زحمت قرار دے کر ایک نیا حل نکالا ۔وہ کہتے ہیں :

"عام حالات میں توقع یہی ہے کہ ہر شریف النفس آدمی نباہ کی کوئی صورت نہ پاکر یہ مطا لبہ مان لے گا،لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت کیا کرے ؟اس سوال کا کوئی جواب شریعت نے نہیں دیا ،بلکہ زندگی کے بعض دوسرے معامالات کی طرح اسے ہمارے اجتہاد کیلئے چھوڑ دیا ہے ۔ عہد رسالت سے لے کر اب تک جو طریقہ اس کے لئے اختیار کیا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ عورت اس طرح کی صورتحال میں عدالت سے رجوع کرتی ہے ۔اس زمانے میں یہ بہت کچھ باعث زحمت ہوجاتا ہے ، اس کا ایک حل یہ سوچا گیا کہ مرد سے منوالیا جائے کہ أس نے طلاق کا حق عورت کو تفویض کردیا ہے ۔ہمارے معاشرے میں اس طرح کا تقاضا خاص کر نکاح کے موقع پر أسان نہیں ہوتا ۔پھر یہ چیز اس حکمت کو بھی باطل کردیتی ہے جس کے لئے طلاق کا حق عورت کو نہیں دیا گیا ،اس لئے ہمارا خیال ہے کہ ریاست کی سطح پر یہ قانون بنادینا چاہئے کہ مطالبہء طلاق کے بعد اگر شوہر نوے دن کے اندر طلاق نہیں دیتا تو نکاح آپ سے آپ فسخ ہو جائے گا، أور أموال واملاک سے متعلق اگر کوئی نزاع ہے تو فریقین عدالت سے رجوع کریں گے ۔دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ اس وقت جو نکاح نامہ رائج ہے ، اس میں سے حق طلاق کی تفویض کا کالم ختم کرکے درج ذیل عبارت نکاح نامہ کی ابتدا میں درج کردی جائے ۔

” یہ نکاح اس شرط کے ساتھ منعقد ہوا ہے کہ بیوی اگر کبھی تحریری طورپر طلاق کا مطالبہ کرے گی تو شوہر نوے دن کے اندر اسے طلاق دینے کا پابند ہوگا۔وہ اگر ایسا نہیں کرے گا تو یہ مدت گزرجانے کے بعد اس کی طرف سے بیوی پر آپ سے آپ طلاق واقع ہوجائے گی ۔اس طلاق کے بعد شوہر کے لئے رجوع کا حق نہیں ہوگا اور بیوی پابند ہوگی کہ مہر اور نان ونفقہ کے علاوہ اگر کوئی اموال واملاک شوہر نے اسے دے رکھے ہیں اور طلاق کے موقع پر وہ انہیں واپس لینا چاہتا ہے تو فصل نزاع کیلئے عدالت سے رجوع کرے یا اس کا مال اسے واپس کردے "۔

[اشراق ۔دسمبر 2008]

سب سے پہلے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ شریعت نے اس مسئلے کا کوئی حل دیا ہے یا واقعی ہمارے اجتہاد پر چھوڑ دیا گیا ہے ؟،تو اس کیلئے ہم موصوف ہی کی ایک کتاب” میزان ” جو ان کی ربع صدی کی تحقیقات کا نچوڑ ہے سے انہی کے ہاتھ کا لکھاہوا اقتباس نقل کیے دیتے ہیں ۔ موصوف فرماتے ہیں :

"اس کے صاف معنی یہ ہیں کہ عورت اگر علیحدگی چاہے تو وہ طلاق دے گی نہیں ، بلکہ شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے گی ۔عام حالات میں توقع یہی ہے کہ ہر شریف النفس آدمی نباہ کی کوئی صورت نہ پاکر یہ مطا لبہ مان لے گا،لیکن اگر ایسا نہ ہو تو عورت عدالت سے رجوع کرسکتی ہے ۔ نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو عدالتوں کے لئے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے کہ اتنی بات اگرمتحقق ہوجاتی ہے کہ عورت اپنے شوہر سے بے زار ہے اور اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو شوہر کو حکم دیا جائے کہ اس نے مہر کے علاوہ کوئی مال یا جائداد اگر بیوی کو دی ہوئی ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتا ہے تو واپس لے کر اسے طلاق دیدے۔

سیدنا ابن عباس کی روایت ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ،میں اس کے دین واخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی ، مگر مجھے اسلام میں کفر کا اندیشہ ہے ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شکایت سنی تو فرمایا: اس کا باغ واپس کرتی ہو؟ اس نے مان لیا تو آپ نے ثابت کو حکم دیا کہ باغ لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کردو۔ [بخاری ۔۔:5273]

[میزان :442_441]

اب آپ خود ہی دیکھیں کہ اگر موصوف اس بات کا اقرار کررہے ہیں ،کہ اگر خاوند عورت کا مطالبہ طلاق کو تسلیم نہ کرے تو اس کا حل یہ ہے کہ عورت عدالت سے رجوع کرے ،اور پھر فرماتے ہیں :

"عدالتوں کے لئے اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ یہ ہے” اور پھر ایک حدیث بھی لکھی ہے کہ ثابت بن قیس کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہونے کے ساتھ ساتھ جج بھی تھے ،جس پر قرآن مجید کی کئی آیات شاہد ہیں ۔اب ذرا سوچئے کہ اگر دور رسالت میں ایک عورت اپنا معاملہ عدالت نبوی میں لے کر آتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بطور جج اس کا فیصلہ کرتے ہیں ،تویہ دین ہے یا نہیں ؟،جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی ہے :

) لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ( [الأحزاب/21]

” البتہ تمہارے (مسلمانوں کیلئے ) رسول اللہ کا طرز عمل بہترین نمونہ ہے ”

لیکن کیا کیا جائے کہ غامدی صاحب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے اسوہ کو تو دین قرار دیتے ہیں لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو إمام الأنبياء أور خاتم النبیین ہیں کو یہ منصب دینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔لہٰذا وہ یا إن جیسے منکرین حجیت حدیث اور مجتہد بننے کے زعم میں مبتلا دوسرے اشخاص یہ کہہ سکتے ہیں کہ :

” اگر مرد عورت کا مطالبہ طلاق تسلیم نہ کرے تو عورت کیا کرے ؟اس سوال کا کوئی جواب شریعت نے نہیں دیا ،بلکہ زندگی کے بعض دوسرے معاملات کی طرح اسے ہمارے اجتہاد کیلئے چھوڑ دیا ہے "۔

لیکن مسلمانوں کے نزدیک شروع سے آج تک اور قیامت تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ دین ہے ۔لہٰذا مسلمانون کے نزدیک حدیث اور امت کا آج تک کا عمل اس پر شاہد ہے کہ ان کے نزدیک مذکورہ مسئلہ میں دین کا یہی حکم ہے ۔لہٰذا مذکورہ مسئلہ میں یہ کہنا اس کا جواب شریعت نہیں دیا اور ہمارے اجتہاد کیلئے چھوڑ دیا ہے ،بالکل غلط ہے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ عدالتوں کی خراب کارکردگی کی اصلاح کرنے کی بجائے اسے بہانہ بنا کر دین کے مسائل میں ترمیم اور اپنے اجتہادات کی سان پر چڑھانا بالکل بے عقلی کی بات ہے ۔ہم مسلمان ہیں اور ایک مسلم ریاست کے رہائشی ہیں جو قانونی طورپر پابند ہے کہ وہ قانوناً اور عملاً یہاں کے رہائشی مسلمانوں کیلئے اسلام پر عمل کرنے کیلئے سہولتیں پیدا کرے ۔لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی عدالتوں کی اصلاح کریں ،اورججوں کی تعداد میں اضافہ کریں اور انہیں دو تین پیشیوں پر فیصلہ کرنے کا پابند کریں ۔نہ کہ عدالتوں کی خراب کارکردگی کا بہانہ بنا کر ایک ایسا قانون لاگو کریں جو دین کے کسی بھی حکم سے متصادم ہو۔

تیسری بات یہ کہ غامدی صاحب کایہ اجتہاد نکاح اوراس کی بنیاد پر قائم ہونے والے خاندانی ادارے اور نظام طلاق کے مقاصد کے خلاف ہے ۔

(1) نکاح زندگی بھر ساتھ رہنے کا معاہدہ ہوتا ہے ،اور اسی نیت سے کیا جاتا ہے ، اور یہی چیزاس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر خاوند اور بیوی کی محبت میں کوئی گرہ پڑ جائے تواسلام نے اسے سلجھانے کے کئی طریقے بیان کئے ہیں ،اور مرد کو اس کی عقل کامل کے باوجود حکم دیا ہے کہ اگرکبھی میاں بیوی کے درمیان کوئی مشکل پیدا ہوجائے تو پہلے اسے گھر کے اندر اور ذاتی طورپر حل کرنے کی کوشش کرے ،اگر اس سے کوئی حل نہ نکلے تو دونوں کے خاندان کے عقلمند اور ہمدرد افراد کو درمیان میں ڈالا جائے اور وہ دنوں کی باتیں سن کر موافقت یا افتراق کا فیصلہ کریں ۔]النساء :35.34[ اگر اس حکم پر عمل پوری طرح سے عمل کیا جائے تو میرے خیال سے طلاق کا پچانوے فیصد گراف نیچے آجائے گا۔اور یہی اسلام چاہتا ہے ۔

اس کے علاوہ اسلام نے مرد کو مذکورہ صفات کے باوجود تین طلاق(ہر حیض کے بعد)دینے کا حق دیا ہے ،کہ کبھی مرد بھی جذبات میں آکر یہ غلطی کربیٹھے تو اس کے پاس سوچنے اور رجوع کا وقت ہو،اور جیسے ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو فوراًروجوع کرلے ،اور اگر احساس ہونے یا معاملات کے درست ہونے میں وقت گذربھی جائے تو نئے نکاح کی صورت میں پھر بھی ایک دروازہ کھلا رکھا گیا ہے ۔ عدت کے اندر اندر رجوع کااختیار مرد کے پاس اور عدت کے بعد نئے نکاح کی اجازت کا اختیار عورت کے پاس رکھا ہے ۔یعنی اسلام نے دوبارہ گھر بسانے کے حوالے سے دونوں کے اختیارات میں برابری رکھی ہے۔

دوسری طرف اگر عورت جو دراصل عقل وحوصلہ میں کمزور اور جلدباز ہے طلاق کی ضرورت محسوس کرے تو اسلام کا حکم ہے کہ وہ اپنے خاوند کو طلاق دے کر منٹ میں فارغ ہونے کی بجائے اپنے خاوند سے طلاق کامطالبہ کرے ، تاکہ وہ اپنی عقل سے اس کے مشاکل کا حل کرسکے اور گھر بسانے پر اسے قائل کرسکے ۔دوسری صورت میں اسے حکم ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرے ،تاکہ وہ مکمل سوچ وبچار کے بعد فیصلہ کرے ۔یعنی اسلام نے عورت کے مزاج کی مناسبت سے اس کے مطالبہ طلاق کو تھوڑا ساطویل رکھا ہے ۔تاکہ اس کے جذبات ٹھنڈے پڑجائیں اور گھر بچانے کی کوئی صورت پیدا ہوجائے ۔اب اگر عورت کے مطالبہ طلاق کا درمیانہ عرصہ بھی اتنا رکھ دیا جائے جو دراصل مرد کا رکھا گیا ہے ۔تو یہ عورت کے جذبات اور مزاج کے حساب سے غلط ہے ۔

(2) ہمارے معاشرے میں عموماًدیکھا گیا ہے کہ گھر میں تھوڑی سی ان بن ہو تو خواتین فوراً اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہیں ، یا وہ آکر لے جاتے ہیں ۔ابجلدی دونوں کے باہم اکٹھا ہونے کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی ۔اور دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات سنورتے سنورتے مہینوں بلکہ سالوں لگ جاتے ہیں ۔ اب ہمار ے معاشرے کی مذکورہ حالت کو پیش نظر رکھ کر ذرا دیکھئے !اب اگر کسی گھر میں کوئی معاملہ پیش آگیا اور عورت نے غصہ میں آکر طلاق کا مطالبہ کردیا،اور اس کے بعد وہ اپنے میکے چلی گئی یا اس کے سرپرست اسے لے گئے ،اب وہ دنوں گھر بسانا چاہتے ہیں لیکن دونوں کے باہم ملنے کی کوئی صورت نہیں بنی ،یا دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کی کوئی شکل پیدا نہیں ہوئی ،اورغامدی صاحب کامقرر کردہ عرصہ گذر گیا،اور ہمار ے معاشرے میں صلح صفائی کیلئے نوے دن کوئی زیادہ عرصہ نہیں ہے ،اب دونوں کے ملنے اور گھر بسانے کی آرزو کے باوجود کی آٹومیٹک طلاق ہوجائے گی ۔

(3) اور اس کے علاوہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہمارے معاشرے میں سالہاسال کے بعد بھی صلح ہوجاتی ہے ،اور اجڑے گھر دوبارہ بس جاتے ہیں ،لہٰذا اس کیلئے وقت کی تحدید قرین قیاس نہیں ہے ۔

(4) پھر غامدی صاحب کے اصول کے مطابق اگر خاوند نے عورت کو بیوی کی حیثیت سے کچھ مال دے رکھا ہے تووہ نزع کی صورت میں خاوند عدالت سے رجوع کرے تو تقریباً ہر گھر اور ہر شخص نے اپنی بیوی کو کچھ نہ کچھ ضرور دے رکھا ہوتا ہے ۔اگر بیوی کے مطالبہ طلاق کو مرد تسلیم نہیں کرتا تو یہ نزعہ ہے ،اسی طرح عورت اس کا مال واپس کرنے سے انکاری ہے تو یہ بھی نزعہ ہے ،اب اگر قانون بناکر عورت کا معاملہ عدالت کے بغیر نمٹادیا جائے لیکن مرد کو اپنا حق واپس لینے کیلئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے ،کیا یہ انصاف ہے ؟ کیا یہ عورت کو مرد پر فوقیت دینے والی وہی بات نہیں جو یورپ کا مطالبہ ہے ۔

دوسری بات بیوی اور شوہر کے درمیان صرف مطالبہ طلاق اور مال کا معاملہ ہی نہیں ہوتا ، اس کے علاوہ بھی دونوں طرف سے حقوق کے

معاملات پیش آسکتے ہیں ۔اب اگر معاملہ عدالت ہی میں طے ہونا ہے تو عورت کے مطالبہ طلاق کو ہی عدالت میں لے جایا جائے ، ممکن ہے صلح کی کوئی صورت پیدا ہوجائے اور گھر اجڑ نے سے بچ جائے ، اور اگر طلاق ہی ہوتی ہے تو طلاق اوردونوں کے حقوق کا معاملہ بھی ساتھ ہی نمٹ جائے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کام ایک ساتھ نمٹائے تھے ۔

لہٰذا ثابت ہوا کہ غامدی صاحب کا اجتہاد أصولي أور أخلاقي طورپر درست نہیں ،اور یورپ زدہ لوگوں کے مطالبے عورت کو مرد کے مساوی حقوق دینے کی طرف لے جانے والا ایک حیلہ ہے ۔

اور اس کے برعکس جو طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عطا کیا ہے ، اور جس پر أمت کا آج تک عمل ہے وہ قانوناً ، اخلاقاً درست طریقہ کاراور محفوظ راہ عمل ہے۔

٭٭٭٭٭٭

ختم شدہ

{ ناشر : مکتب الدعوہ ، الغاط ، www.islamdawah.com/urdu }