17

/ حديث نمبر: 266

بسم اللہ الرحمن الرحیم

266:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

عن خَوْلَة بِنْتَ حَكِيمٍ السُّلَمِيَّةَ، تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ” مَنْ نَزَلَ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ: أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ، لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ، حَتَّى يَرْتَحِلَ مِنْ مَنْزِلِهِ ذَلِكَ ”                      صحیح مسلم؛۲۷۰۸الذکر والدعاء،سنن الترمذی؛۳۴۳۳ الدعوات،مسند احمد؛۶/۳۷۷

حضرت خولۃ بنت حکیم  السلمیۃ  رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں  کہ میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنا  آپ فرما  رہے  تھے کہ جو شخص  کسی منزل  پر اترے  پھر یہ کلمات  کہے  :” أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ”[میں اللہ تعالی  کے کامل  کلمات  کے ذریعے  مخلوق  شر سے  پناہ  مانگتا  ہوں]  ،تو اسے  اپنی  اس منزل  سے روانہ  ہونے تک  کوئی چیز   نقصان نہیں  پہنچائے گی۔

تشریح ۔ انسان  اپنے وجود  کے لحاظ سے ایک  کمزو  مخلوق ہے ، جسے ہر طرف سے خطرات گھیرے رہتے ہیں  ،خاصکر  اگر  وہ کسی  ایسی  جگہ پہنچے  جہاں  اسکی  مستقل  جائے قیام  نہیں ہے  تو یہ  خطرات کچھ   زیادہ  ہی بڑھ جاتے  ہیں، موذی جانوروں کا خطرہ،پھاڑ کھانے والوں درندوں کا خطرہ ، لوٹ مار کرنے والے ڈاکووں کا خطرہ   اور سب سے  بڑھکر  انسان  کے ازلی دشمن شیطان اور اسکے  چیلوں کا خطرہ  ،ان سب  خطروں سے اگر  انسان  کی  حفاظت  کوئی  ذات  کرسکتی ہے  تو  وہ اللہ تعالی  کی ذات  ہے، لہذا  اسے چاہئے کہ وہ  رب  قوی و قدیر  کی پناہ  طلب  کرے ۔

زیر بحث  حدیث  میں ہمیں یہی   توجیہ دی گئی  ہے  ،چنانچہ  نبی صلی اللہ  علیہ وسلم  نے فرمایا کہ  جو شخص  کسی  غیر مانوس جگہ اترے  خواہ  وہ سفر میں  ہو  یا اپنی آبادی  سے باہر کسی  غیر  آباد جگہ کسی خاص مقصد کے لئے کچھ  دیر بیٹھنا  چاہتا  ہو، یا  وقتی  طور  پر کوئی کمرہ  یا ہوٹل  کرائے  پر  لیا ہو تو جیسے ہی وہاں  نازل  ہو اس دعا  کو پڑھ لینا  چاہئے

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ”  جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہاں موجود  کوئی بھی چیز  اسے  نقصان نہ پہنچا سکے  گی۔

دعا کا معنی۔ اس دعا کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللہ میں  تیرے ہر اعتبار سے  کامل اور ہر عیب و نقص سے پاک کلمات خواہ  تیرے  حکم  وفیصلے  کی شکل میں ہوں یا  قرآن و وحی کی شکل میں ہوں،   ان کلمات کے ذریعے  میں آپ کی پناہ  میں آتا ہوں کہ اس  جگہ قیام   کے دوران میری  جان ومال  کو کوئی ضرر لاحق نہ ہو  اسلئے کہ جو تیری  پناہ  میں آجائے اسے  دنیا  کی کوئی چیز  نقصان نہیں پہنچا  سکتی،  کیونکہ میرا توکل آپ  پر ہے اور ہر چیز پر قدرت صرف آپ کو حاصل ہے،آپ کے حکم کے بغیر کوئی چیز کسی کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

اس حدیث میں زمانہ جاہلیت کے ایک باطل   عقیدے  اور عادت  کی بھی تردید  کی گئی ہے،  زمانہ جاہلیت میں توہم پرست لوگ  یہ عقیدہ رکھتے تھے    کہ کسی بھی   ویران جگہ پر جنوں کا قبضہ رہتا ہے،  وہاں انکی اپنی  حکومت ہوتی ہے اور انکا ایک سردار اور بادشاہ ہوتا ہے،چنانچہ  اہل جاہلیت کے یہاں یہ رواج  تھا کہ جب وہ  کسی بے آباد  وادی  میں ٹھہرتے تواس وادی کے جن  سردار کی پناہ  مانگتے  اور نازل  ہونے سے پہلے   پکارکر یہ کہتے  کہ  اس وادی کے سردار کی پناہ میں آتا ہوں ،  چونکہ یہ محض توم اور باطل عقیدہ تھا اس لئے اس سے  جنوں کی شیخیاں اور مزاج بہت  بڑھ گیا تھا اور وہ  یہ سمجھنے لگے   تھے انسانوں پر ہمیں فضیلت وقدرت حاصل  ہے ۔ یہ انسانوں کے اوہام  پرستی  کی حد تھی  کہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود اپنے سے کمزور  مخلوق  کی پناہ  چاہتا  تھا  ۔  سورۃ جن کی درج ذیل  آیت  میں اس چیز  کا بیان  ہے۔

وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا (6) الجن

بات یہ ہے  کہ کچھ  انسان  بعض  جنات سے  پناہ   طلب  کیا کرتے  تھے جس سے  جنات  اپنی  شرکشی میں اور بڑہ گئے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس  باطل  رواج  کو ختم  کیا اور اسکے  عوض  ایک  ایسا  ذکر سکھلایا جس میں بندہ جہاں ایک طرف اپنی  کمزوری  کا اعتراف  کررہا ہے دوسری طرف وہیں  اپنے  تمام  امور میں اللہ  تعالی  پر توکل  کا اقرار بھی کر رہا  ہے۔

اس ذکر کی فضیلت

اس حدیث  میں  جو ذکر  وارد ہے وہ صرف کسی  جگہ نزول  سے ہی متعلق نہیں  ہے  بلکہ  نبی صلی اللہ  علیہ وسلم  نے دیگر موقعوں پر بھی اس ذکر کے اہتمام  کا حکم دیا ہے جیسے

۱۔ شام کو

حضرت ابو ہریرہ   رضی اللہ عنہ  کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت  میں حاضر  ہوا اور عرض کیا؛اے اللہ کے رسول! مجھے گزشتہ   رات  بچھو  کے کاٹنے سے کسقدر  تکلیف  پہنچی ؟{یعنی شدید تکلیف تھی} آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا؛اگر  تو شام کے وقت یہ پڑھ  لیتا

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ  تو بچھو تجھے  نقصان نہ پہنچاتا۔ صحیح مسلم ؛۲۷۰۹،مسند احمد؛۲۷۴/۲

۲۔حضرت محمد بن  المنکدر بیان کرتے ہیں  کہ ایک شخص  خدمت نبوی  میں حاضر  ہو کر  شکایت  کرنے لگا  کہ وہ  ڈراونے  خواب دیکھتا  ہے  تو  نبی صی اللہ  علیہ وسلم  نے فرمایا؛ جب سونے کے لئے اپنے  بستر  پر جا ؤ تو یہ دعا پڑ ھو

أعوذ بكلمات الله التامة من غضبه وعقابه ومن شر عباده، ومن همزات الشياطين وأن يحضرون

الصحیحۃ؛۲۶۴

۳۔حضرت عبداللہ  بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت  ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  ان کلمات  کے ذریعے  حضرت حسن وحسین  کو دم  کرتے اور   فرماتے تھے کہ تمہارے  دادا حضرت ابراہیم  علیہ السلام بھی انہی کلمات  کے ذریعہ حضرت اسماعیل و حضرت اسحاق علیہما السلام  کو دم  کرتے تھے؛

أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ، مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لاَمَّةٍ  صحیح البخاری؛۳۳۷۱

فوائد

۱۔ مسلمان کو چاہئے کہ ہر حال میں اللہ تعالی  ہی  کر طرف رجوع کرے۔

۲۔اسلام نے مسلمانوں کو ہر وہ عمل  وطریقہ  بتلا دیا  ہے جن سے  وہ اپنے  ازلی دشمن شیطان سے بچ سکتا ہے  ۔

۳۔اللہ تبارک وتعالی کے اسماء وصفات  کا وسیلہ لینا سنت ہے۔