20

زینت اسلام / حديث نمبر: 268

بسم اللہ الرحمن الرحیم

268:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

زینت اسلام

بتاریخ : 25/ جمادی الآخر 1436 ھ، م  14، اپریل  2015 م

عَنْ حُسَيْن بْنِ عَلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” مِنْ حُسْنِ إِسْلامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ “

(  مسند أحمد : 1/ 201 – الطبراني الكبير : 2886 )

ترجمہ  : حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی  کے اسلام کی یہ خوبی ہے کہ وہ بے مقصد باتوں  کو چھوڑ دے ۔ { مسند احمد ، طبرانی کبیر } ۔ یہی حدیث سنن الترمذی :2317  وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ سے بھی مروی ہے۔

تشریح :  اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا  میں ایک عظیم مقصد  کے لئے  پیدا کیا ہے ،  اس کا وقت اس سے بہت  قیمتی ہے کہ اسے ایسی باتوں یا ایسے  کاموں میں صرف کرے جس کا دینی و دنیاوی  کوئی فائدہ  نہ ہو ، وہ اپنے وقت  پر جس قدر حریص  ہوتا ہے ، اس قدر  حریص اپنے روپئے پر بھی  نہیں ہوتا ،  اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ  وہ اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے  کو کسی ایسے  ہی امر میں صرف کرے  جو اس کے لئے مفید  ثابت ہو ،  اس کا ایمان  ہوتا ہے کہ ایک  دن ایسا آنے والا ہے جہاں حساب تو ہوگا  مگر عمل کا موقعہ نہ ہوگا ، لہذا  ایک بندہ مسلم اور آخرت کے مسافر کو چاہئے  کہ اپنے  وقت  کی قدر جانے  اور اسے بے فائدہ  اور لایعنی  کاموں میں  ضائع  نہ کرے ، زیر بحث  حدیث  میں نبی کریم ﷺ نے ہماری توجہ  اسی طرف  دلائی ہے  ، چنانچہ  آپ ﷺ  نے ارشاد فرمایا :” کسی  بھی شخص  کے اسلام کی خوبی یہ ہے  کہ وہ بے مقصد  باتوں کے پیچھے نہ پڑے” ۔

گویا ہر قسم کے اقوال  و افعال  حتی کہ عقائد  وخیالات  بھی جو کسی  مسلمان کے فائدے کے نہ ہوں  انہیں  ترک کردینے ہی میں خیر ہے ، اس کے برخلاف ان اقوال  وا فعال  کا اہتمام  کرنا  جس میں اس کے لئے خیر  کا پہلو  ہو یہی اس لے لئے بہتر ہے،  یہ حکم خواہ وجوبی طور پر ہے یا استحبابی  طور پر  ،چنانچہ  ایک مومن کو چاہئے کہ  کوئی ایسی بات نہ بولے  جو اس کے لئے باعث  ضرر ہو، کیونکہ بسا اوقات زبان سے نکلی ہوئی  ایک چھوٹی سی بات  انسان کی ہلاکت کا سبب  بنتی ہے   اور اس کی زبان سے نکلی ہوئی ایک بات اس کے نجات کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے،جیسا کہ  حدیث میں ہے کہ  بسا اوقات  بندہ اللہ تعالی کی  رضامندی کی ایک بات کرتا جس کی وجہ رب کی رضا اس کے لئے لکھ دی جاتی ہے اور بسا اوقات  بندہ اللہ کی ناراضگی  کی ایک بات کرتا ہے جس کی کوئی پرواہ  نہیں کرتا  لیکن  اس کی وجہ  سے جہنم  میں اتنی  دور جا گرتا ہے جتنی دوری مشرق  و مغرب کے درمیان ہے ۔ { صحیح بخاری  وصحیح مسلم }  ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے کہ ایک شخص نے ناراض ہوکر  اپنے  ایک ساتھی  کے بارے میں  کہا کہ اللہ تعالی فلاں شخص  کو کبھی بھی  نہ بخشے گا  تو اللہ تعالی  نےفرمایا : کون ہے  جو مجھ پر اس بات کی قسم  کھاتا ہے کہ میں فلاں شخص کو نہیں بخشوں گا ، بے شک میں نے اسے تو بخش دیا اور تیرے عمل کو   برباد کردیا ۔ {صحیح مسلم } ۔

اسی طرح اپنا وقت کسی ایسے  کام میں ضائع نہ کرے جو بے مقصد  ہو اور اس سے آخرت  کا کوئی فائدہ نہ ہو ، کیونکہ  ہر انسان   سے اس کے ہر عمل سے متعلق  سوال  ہوگا  ، فَوَرَبِّكَ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ (92) عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ (93)الحجر.

تیرے رب کی قسم  ہم ان تمام لوگوں سے ضرور پوچھیں گے  ان تمام کاموں سے متعلق جو وہ کرتے رہے ہیں ۔ حتی کہ اگر کوئی شخص  کسی ایک چھوٹی چڑیا  کو  بھی ناحق  ماردیتا ہے تو اس سے متعلق بھی سوال ہوگا ۔ {مسند احمد ، سنن النسائی } ۔

اس سے معلوم  ہوا کہ  کوئی بھی ایسا عمل خواہ قولی ہو عملی جس سے انسان کا کوئی فائدہ نہیں ہے  اس سے  دور رہنے ہی میں نجات ہے  ،عہد نبوی میں  ایک شخص  کا انتقال  ہوا {بعض روایتوں میں ہے کہ وہ غزوہ  احد میں شہید ہوئے } تو کسی نے کہا کہ اسے جنت مبارک ہو ، یہ سن کر  نبی ﷺ نے فرمایا : یہ تمہیں  کیسے معلوم کہ وہ جنتی ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس نے کوئی لا یعنی بات کہی سنی ہو اور جس چیز کے دینے سے اس کا کوئی نقصان نہ ہو اور نہ ہی اس کے مال میں کچھ کمی واقع ہورہی ہو اسے  دینے میں بخالت سے کام لیتا رہا ہو ۔ {سنن الترمذی بروایت انس } ۔

اس حدیث سے ایک  روشنی  یہ بھی ملی کہ لا یعنی  باتوں  اور بے مقصد  کاموں  میں مشغول ہونے کے بجائے  ایک مومن کو چاہئے  کہ مفید باتوں اور مامقصد  و نیک کاموں  کا   اہتمام کرے  یہی اس کے لئے  بہتر اور اس کے اچھے مسلمان ہونے کی دلیل ہے ، حضرت لقمان  حکیم  سے کسی نے پوچھا کہ یہ اونچا مقام جو  آپ کو  ملا ہے وہ  کیسے حاصل ہو ا ؟ تو ان کا جواب تھا کہ سچ بولنے سے ، امانت کی ادائیگی  سے اور لا یعنی باتوں  سے دور  رہنے سے ۔ { موطا امام مالک :2/99 } ۔  یہاں ایک بات یہ بھی  دھیان  رکھنے کی یہ ہے کہ “لایعنی”  اور” بے مقصد”  باتوں  سے مراد کیا ہے ؟؟ یقینا  اس سے مراد شریعت کی نظر میں بے مقصد اور بے فائدہ  باتیں  ہیں ، کیونکہ  بسا اوقات  ایک چیز  کو انسان لایعنی  بات اور بے فائدہ عمل سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے حالانکہ  وہ شریعت  کی نظر میں بڑے فائدے کی چیز ہوتی ہے ۔  چنانچہ وہ بہت سی نیک باتوں اور اچھے  کاموں کو یہ کہہ کر چھوڑ دیتا ہے کہ  میرا اس سے کوئی تعلق نہیں  یا  یہ میرے لئے ایک لا یعنی بات ہے  حالانکہ  وہ شریعت  کی نظر میں بہت  بڑی نیکی  اور  اہم کام ہوتا ہے ، جیسے  کسی شخص کو کسی برائی  پر دیکھے اور اسے نہ ٹوکے یا کسی کو مجبوری  یا مظلومیت  کی حالت میں دیکھے  اور اس کی مدد نہ کرے،  جب کہ کسی کو نیکی  کا حکم دینا  اور برائی   سے روکنا  بہت بڑی نیکی اور   کسی مظلوم کی مدد کرنا بہت  بڑے  اجر کا کام ہے،  بلکہ  مذکورہ  کاموں  سے پیچھا  چھڑانا  بہت بڑا گناہ اور رب کی  ناراضگی  کاسبب ہے ۔

فوائد :

  • ایک مسلمان کو چاہئے کہ لا یعنی باتوں اور بے مقصد کاموں سے دور رہے ۔
  • انسانی نفس کے تزکیہ کے لئے  ضروری ہے کہ وہ بے مقصد  باتوں سے دور رہتے ہوئے مفید اور نیک عمل کی کوشش  کرے ۔

وہ شخص ایک اچھا مسلمان اس وقت  تک نہیں بن سکتا  جب تک کہ بہت سی ان چیزوں کو نہ چھوڑ دے جن میں کوئی حرج ہے تاکہ  ان چیزوں  میں نہ پڑے  جن میں حرج  ہو