10

رویبضہ اور معیار حق / حديث نمبر: 269

بسم اللہ الرحمن الرحیم

269:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

رویبضہ اور معیار حق

بتاریخ : 02/ رجب 1436 ھ، م  21، اپریل  2015 م

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ، يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ، وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ، وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ، وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ، وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ» ، قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: «الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ» ( سنن ابن ماجة :4036 ، الفتن – مسند أحمد : 2/291 – مستدرك الحاكم :4/512 )  

ترجمہ  : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے رایت ہے کہ عنقریب لوگوں پر دھوکے  والے سال  آئیں گے ، ان میں سچے  کو جھٹلایا جائے گا  اور جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی ، بد دیانت  کو امانت  دار کہا جائے گا اور دیانتدار کو بددیانت  گردانا جائے گا اور  [ اس زمانے میں] رویبضہ باتیں کرے گا ، پوچھا گیا کہ رویبضہ  کون شخص ہے ؟  آپ ﷺ نےفرمایا  : حقیر آدمی عوام کے معاملات میں گفتگو کرے گا۔  { سنن ابن ماجہ ، مسند احمد } ۔

تشریح  : نبی کریم ﷺ  نے قیامت کی بہت ساری نشانیوں  کی پیش گوئی  کی ہے ، جن میں سے بعض نشانیاں ظاہر ہوئیں اور گزر چکیں  اور بہت سی نشانیاں  ابھی تک وجود میں نہیں آئیں  اور بہت سی ایسی نشانیاں ہیں جو ظاہر  ہوچکی ہیں  اور ان میں مزید اضافہ ہوتا جارہا ہے حتی کہ  قیامت  سے قبل  جب وہ اپنے انتہا کو پہنچیں گی تو قیامت کا وقوع  ہوگا ۔انہیں نشانیوں  میں سے  ایک نشانی  معیار حق و صدق  کا بگڑ جانا ہے  ، برے اور بدقماش لوگوں کی پذیرائی  اورنیک  اور خوش طینت  لوگوں کی دل شکنی  اور حق تلفی ہے ۔ ” قیامت کی ایک  نشانی یہ بھی ہے کہ نیک و برگزیدہ  لوگوں کا  مقام گھٹایا جائے گا اور برے  اور شریر  لوگوں کو اونچا مقام دیا جائے گا ” ۔ {مستدرک الحاکم }۔ امانت داری کا فقدان  ہوگا اور بڑے بڑے  مناصب  بددیانت  ،  رشوت خور اور نا اہل  لوگوں کو دئے جائیں گے ، ” جب ذمہ داری  کا کام نااہل لوگوں کے سپرد  کیا جائے  تو قیامت  کا انتظار کرنا ” ۔ { صحیح بخاری } ۔ اس قسم کے اور بھی بہت سے  امور ظاہر ہوں گے جو اس وقت کی ذہنی پستی ، مصلحت پسندی اور بے غیرتی  کی دلیل ہوگی ، زیر بحث  حدیث میں بھی  اسی قسم کی بعض نشانیوں کا بیان ہے اور اس بیان  کا مقصد ہے کہ ایک مومن بندہ جسے  اپنا دین پیارا  اور آخرت  عزیز  ہو اسے چاہئے کہ ان چیزوں سے اپنے دامن کو بچائے  رکھے ۔

[۱] دھوکوں والے سال : 

قیامت  سے قبل  اور بعض  روایات میں ہے کہ خروج دجال سے قبل  {مسند احمد : 3/220 } کچھ ایسے سال ہوں گے جن میں دھوکہ بازی کا عام رواج ہوگا ، ہر میدان  میں دھوکہ  دہی  اور لوگوں کی حق تلفی  کا دور  دورہ  ہوگا  ، سیاسی میدان  ، معاشی میدان  حتی کہ دینی  میدان میں بھی  دھوکہ  دہی کا میدان  گرم ہوگا ، بلکہ معاملہ  یہاں تک پہنچے گا کہ زمین بھی گویا  دھوکہ  دے گی جس کی تفسیر علماء نے اس طرح کی ہے کہ بارش تو خوب ہوگی لیکن  زمین سبزہ  نہ اگائے گی ۔یہ چیزیں  آج ہر شخص کے مشاہدہ میں ہیں ۔۔ الامان الحفیظ ۔

 

[۲] سچا جھوٹا اور جھوٹا سچا بن گیا :   لوگوں کا معیار تفکیر  اس قدر گرجائے گا کہ ایک  سچا اور وعدے کا پاس  رکھنے والا شخص  ان کے نزدیک  جھوٹا قرار دیا جائے گا  ،اس کے برخلاف جھوٹے پر لوگ اعتماد  کریں گے  اور اس کی باتوں  پر عمل کریں گے  ،کیونکہ  لوگوں کا مادی فائدہ اسی میں ہوگا  یا جھوٹے لوگ اپنی باتیں  ایسے انداز سے پیش کریں گے  کہ لوگ جہالت  اور کم علمی  کی وجہ سے  اس کی تصدیق کرِیں گے ۔   یہ نشانی بھی آج  بالکل  کھل کر  سامنے آگئی ہے  ، حتی کہ اخبارات ، ٹیلی ویزن  اور وسائل اعلام پر جھوٹوں کا قبضہ ہے اور انہیں  کی دی ہوئی  خبروں کی تصدیق کی جاتی ہے ۔ ۔ الامان الحفیظ ۔

[۳] بد دیانت  امانتدار اور امانت دار بددیانت :

لوگوں  پر  مادیت اس قدر غالب ہوگی کہ  اپنے  فائدے  کی ہی سوچیں گے جو شخص    ان کے مادی اور دنیاوی  فائدے کی بات کرے گا   اس پر اعتماد کریں گے  ، اسے ہی ذمہ داریاں  سونپیں  گے  خواہ  وہ  دینی اور معاشرتی  طور پر  کتنا ہی  بڑا بددیانت  ہو، اس کے بر خلاف  وہ شخص  جو خدا ترس  ہوگا ، امانتوں کا  پاس و لحاظ  رکھنے  والا ہوگا ،  اسے لوگ کنارے کردیں گے،  کیونکہ  وہ ان کی  مادی مصلحت اور ناجائز  شہوات  کے سامنے آڑے  آرہا ہوگا۔

یہ نشانی  بھی ظاہر  ہو چکی ہے آج چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں  سے لے کر بڑے سے بڑے مناصب  پر  بددیانت اور  رشوت خور  لوگوں کا قبضہ ہے  ،ووٹ اسی شخص کو دیا جاتا ہے جو دھوکے باز اور رشوت خور ہوتا ہے ، منصب  پر   فائز وہی شخص  ہوتا ہے جو اول  درجے کا بد دیانت  ہوتا ہے ۔ ۔ الامان الحفیظ ۔

[۴] رویبضہ  گفتگو کرے گا : حدیثوں میں رویبضہ  کی مختلف  تفسیریں  کی گئی ہیں  اورتمام  کا ما حصل  یہ ہے کہ حقیر  وذلیل آدمی  یا معمولی  علم اور معمولی مقام و مرتبہ کا آدمی  امت کے  بڑے بڑے  مسائل  پر گفتگو  کرے گا اور اپنی رائے دے گا ، یہ بات سیاسی ، معاشرتی اور اقتصادی  مسائل سے متعلق بھی ہوسکتی ہے  کہ جس شخص کو ان مسائل  کا مکمل  یا خاطر خواہ ادارک نہ ہوگا  وہ ان مسائل  میں دخل دے گا  اور عوام  اور نا خواندہ  لوگوں  کو حکام  اور ذمہ دار حضرات  کے خلاف ابھارے  گا  اور  بھڑکائے  گا ، اسی طرح  اس میں دینی  و اخروی  مسائل بھی داخل  ہوسکتے ہیں کہ  امت کے وہ مسائل  خواہ  وہ  حلال  و حرام سے متعلق ہوں یا سلف امت کے حقوق سے متعلق  ہوں یا غیبیات  سے ان کا تعلق  ہو ، ایک  ایسا شخص  جسے ان مسائل  کا مکمل یا خاطر خواہ ادراک  نہ ہوگااور نہ ہی   اس کی اچھی سمجھ   رکھتا ہوگا وہ ان سے متعلق گفتگو  کرے گا اور امت میں تفرقہ کا سبب بنے گا ۔

یہ نشانی بھی  آج  بڑی حد تک  ظاہر ہوچکی ہے ۔۔ الامان الحفیظ ۔

فائدے :

  • نبی ﷺ کا معجزہ کی آپ نے قیامت  کی جو نشانیاں بتلائیں  وہ بعینہ  ظاہر ہورہی ہیں ۔
  • نیک اور دیانتدار لوگوں کو ان کا جائز  مقام نہ دینا   ہلاکت  و بربادی کا سبب ہے ۔

امت کے اہم مسائل  سے متعلق  گفتگو  ،  سلم و حرب  اور صلح  و معاہدہ کا معاملہ اہل علم اور اہل حل و عقد  کے حوالے کرنا چاہئے ۔