9

زلزلہ اور قیامت / حديث نمبر: 270

بسم اللہ الرحمن الرحیم

270:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

زلزلہ  اور قیامت

بتاریخ : 09/ رجب 1436 ھ، م  28، اپریل  2015 م

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ وَهُوَ الْقَتْلُ الْقَتْلُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمْ الْمَالُ فَيَفِيضَ.      ( صحيح البخاري:1036 الاستسقاء، مسند احمد2/531)

ترجمہ : حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی حتی کہ علم اٹھ جائےگا، زلزلے بکثرت آنے لگیں گے، زمانہ قریب ہوجائےگا، فتنے ظاہر ہونگے، قتل وغارتگری بڑھ جائے گی ، اور حتی کہ تمہارے درمیان مال  ودولت کی بہتات ہو جائے گی اور مال بہت عام ہوجائے گا۔ صحیح البخاری، مسند احمد۔

تشریح: اوپر مذکور حدیث میں قیامت کی ان چند نشانیوں کا ذکر ہے جن کی ابتدا تو آج سے بہت پہلے ہو چکی ہےالبتہ  ہر آنے والے سالوں میں ان  میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، فتنوں کا ظاہر ہونا ، قتل وغارتگری کا عام ہو جانا اور اہل علم کا اٹھ جانا ایسے امور ہیں جو انسانی زندگی کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔ یہ ایسی چیز ہے جس کا مشاہدہ ہر شخص کر رہا ہے،البتہ جہاں تک قیامت کی نشانی زلزلوں کی کثرت کا تعلق ہے تو یہ امر بھی چند سالوں سےمشاہدہ میں ہے کہ ہر سال بلکہ بسا اوقات ایک ہی سال میں وقفہ وقفہ سے تباہی مچادینے والا  زلزلہ دنیا کے کسی نہ کسی علاقے میں ظہور پذیر ہو رہا ہے، اور –اللہ کی پناہ– یہ سلسلہ اس وقت تک رکنے والا نہیں ہے جب تک قرب وقوع قیامت کے طور پر تین بڑے اور ہولناک زلزلے اس دنیا میں نہ آجائیں، جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے: قیامت نہ آئے گی جب تک کہ اس سے قبل دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں،1- مغرب سے سورج کا طلوع ہونا، 2- دجال کا خروج، 3- عام دھواں کا ظہور، 4- دابۃ الارض کا خروج،5- یاجوج وماجوج کا خروج،6- عیسی بن مریم کا نزول، 7، 8، 9- اور تین جگہوں سے زمیں کا دھنس جانا[ زلزلے آنا]، ایک مشرق میں ،دوسرا مغرب میں ، تیسرا جزیرہ عرب میں، 10- اور آخری نشانی وہ آگ جو قعر عدن سے نکلے گی اور لوگوں کو ارض محشر کی طرف ہانک کر لے جائے گی۔ صحیح مسلم۔پھر اس کے بعد وہ عظیم زلزلہ آئے گا جو ساری کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیگا۔يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ (1) يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ (2) الحج 1، 2۔۔۔ائے لوگو اپنے پرورگار سے ڈرو،بلا شنہ قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے، جس دن تم اسے دیکھ لوگے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور تمام حمل والیوں کے حمل گر جائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے،حالانکہ وہ حقیقت میں مدہوش نہ ہونگے، لیکن اللہ تعالی کا عذاب بڑاہی سخت ہے۔سچ فرمایا نبیﷺ نے کہ قیامت سے پہلے بڑے پیمانے پر موت واقع ہوگی ،پھر اس کے بعد تباہ کن زلزلوں کا سلسلہ شروع ہو جائےگا۔ مسند احمد۔

ایسے حالات میں ایک مسلمان کو چاہئے اپنے سامنے چند امور کو رکھے۔

1– اسلام کی حقانیت اورنبیﷺ کی نبوت کی سچائی پر مزید اطمینان قلب کہ آپﷺ کی بیان کردہ نشانیاں ایک ایک کرکے ظاہر ہو رہی  ہیں جو آپ کے نبی صادق ہونے کی واضح دلیل ہیں۔

2– ان ناگہانی آفتوں اور زلزلوں کی آمدکے سب سے بڑے ذمہ دار خود انسان اور ان کے کرتوت ہیں، ورنہ اللہ تعالی کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔

وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ (30) وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ (31) الشوری۔نبیﷺ نے ارشاد فرمایا:لوگوں کو اس وقت تک ہلاک نہیں یا جاتاجب تک کہ ان کے گناہون کی کثرت نہ ہوجائے،یا لوگ اس کے لئے جواز نہ پیدا کردیں۔ سنن ابوداود۔

3– اللہ تعالی کی طرف رجوع کریں اور دین اسلام کو مضبوطی سے تھام لیں، کیونکہ زلزلوں اور مصائب کاسببلوگوں کا احکام الہی سے بغاوت  ہے۔ایک بار کوفہ میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوئے تو صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن مسعودؓنے فرمایا: يأيها الناس إن ربكم يستعتبكم فأعتبوه.تفسیر الطبری۔ لوگو اللہ تعالی تم سے چاہتا کہ تم اس سے معافی مانگو، لہذا اس کے حضور توبہ کرو۔چنانچہ ایسے موقعوں پر ایک مسلمان کو صدقہ وخیرات ، توبہ واستغفار اورذکر واذکار کا خصوصی اہتمام کرنا چاہئے۔

4– زلزلوں اور اس قسم کی ناگہانی آفتوں میں جو موتیں ہو رہی ہیں وہ کافروں کے لئے تو عذاب کا سبب ہیں، البتہ اہل ایمان کے لئے ان کے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی ذریعہ ہیں۔ارشاد نبوی ہے: إذا ظَهَرَ السُّوءُ في الأرضِ ؛ أنزلَ الله بأهلِ الأرضِ بأسَهُ. قالت [عائشة ]: وفيهم أهل طاعة الله عزَّ وجلَّ؟! قال: نعمْ، ثمَّ يصيرون إلى رحمة الله تعالى).    مسند أحمد 6/ 41عن عائشة.

خصوصا اس پر فتن دور میں جبکہ عموما اعمال خیر میں کمی اور دین سے دوری ہے۔أمتي أمة مرحومة ليس عليها عذاب في الآخرة عذابها في الدنيا الفتن و الزلازل و القتل ” . سنن أبو داود:4278، مستدرک الحاكم ( 4 / 444 ) ،مسند أحمد ( 4 / 410 و 418 ) عن أبي موسى.

میری امت  امت مرحومہ ہے ، اس پر آخرت میں عذاب نہیں ہے ، اس کا عذاب اسی دنیا میں فتنوں زلزلے اور قتل وخونریزی میں ہے۔

5– اللہ تعالی کا عذاب جب  کسی قوم پر آتا ہے تو اسے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی، نہ کسی قوم کی علمی ترقی اس سے انہیں بچا سکتی ہے، اور نہ کسی قوم کے جدید آلات اس سلسلے میں ان کی کوئی مدد کرسکتے ہیں۔

فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَهُمْ مِنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِمْ مَا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ (83)المومن۔

وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102)هود.