15

اصول عذاب / حديث نمبر: 271

بسم اللہ الرحمن الرحیم

271:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

اصول عذاب

بتاریخ : 16/ رجب 1436 ھ، م  05، مئی 2015 م

عَنْ ابْن عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَراد اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا، أَصَابَ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ»

( صحيح البخاري : 7108 ، الفتن – صحيح مسلم : 2879 ، الجنة )

ترجمہ  : حضرت عبد اللہ بن  عمر رضی اللہ عنہما سے  روایت ہے کہ جب  اللہ تعالی  کسی قوم  پر عذاب  نازل  کرتا ہے تو یہ عذاب  اس قوم میں موجود  تمام لوگوں کو پہنچتا ہے ، پھر وہ  لوگ قیامت کے دن  اپنے اپنے  اعمال کے مطابق  زندہ کئے  جائیں گے ۔ {صحیح بخاری  و صحیح مسلم } ۔

تشریح : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی  ایک اور حدیث میں ہے جب کسی قوم  میں  برائیاں  عام ہوجائیں  تو اللہ تعالی  اہل زمین  میں  اپنا عذاب نازل کرتا ہے اور اگر  ان میں نیک لوگ  بھی ہوں  تو انہیں  بھی لوگوں کے ساتھ عذاب   سے دو چار  ہونا پڑتا ہے پھر وہ اللہ تعالی  کی رحمت کی  طرف  لوٹائے جاتے ہیں ۔ {مسند احمد :41/6 – شعب الایمان :7194 } ۔

ان دونوں  حدیثوں کا مفہوم یہ ہے کہ  جب کسی قوم  پر ان کی بد اعمالی  کی وجہ سے عذاب  آتا ہے تو اس عذاب سے آبادی  میں موجود  لوگ متاثر  ہوتے ہیں وہ لوگ بھی جو گناہ کا ارتکاب  کرتے ہیں  ، اور وہ لوگ بھی  جو گناہوں  کے مرتکب  نہیں ہوتے ،  لیکن اس دنیا میں عذاب  میں مبتلا ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ آخرت  میں بھی  ہر ایک کا انجام ایک  ہوگا ، نہیں بلکہ جو برے  لوگ  ہیں ان کا انجام  اخروی  بھی برا ہوگا البتہ  جو نیک  لوگ ہیں  آخرت میں ان  پر اللہ تعالی  کی رحمت  ہوگی اور یہ عذاب  ان کے لئے  گناہوں کی معافی  اور رب  کی رضامندی کا سبب بنے گا ، گویا اس  دنیا میں برے  حشر  کا  معنی یہ نہیں ہے کہ آخرت  میں بھی   اس کا حشر ویسا ہی ہو ، ان حدیثوں سے درج ذیل امور پر  روشنی پڑتی ہے :

[۱]  ہر انسان  کو قیامت  کے دن  اسی حال میں اٹھایا  جائے گا جس حال میں اس کی موت  واقع ہوگی {صحیح مسلم } یعنی  اگر انسان کی موت نیکیاں کرتے ہوئے آئے گی تو  اس کا حشر بھی نیک  ہوگا اور اس کے برعکس  اگر کسی  کی موت  برائیاں  کرتے ہوئے  ہوگی تو اس کا حشر بھی  بری حالت میں ہے ، لہذا  ہر مسلمان کو برائی  اور رب  کی نافرمانی  کے کاموں سے دور رہنا چاہئے کیونکہ  کسی کو اپنی   موت کا وقت معلوم نہیں ہے ، خاص کر وہ لوگ  جو اپنی  عمر کے اس مرحلے  کو پہنچ  چکے ہیں  جس کے بعد صرف قبر  ہی  مرحلہ رہ جاتا ہے ۔

[۲] اس دنیا میں اللہ تعالی  کے عذاب  کا سبب اس کی نافرمانی ہے ، خصوصا  جب نافرمانی  اور خواہش و منکرات  کا ارتکاب  علی الاعلان  کیا  جانے لگے تو اللہ تعالی  کو غیرت آتی ہے اور اہل زمین  پر اپنا عذاب  نازل کرتا ہے ، ارشاد نبوی ہے : اللہ تعالی کو غیرت آتی ہے  اور اس کی غیرت یہ ہے  یعنی  اسے غیرت  اس وقت آتی ہے جب کہ آدمی  وہ کام کرے  جو اللہ تعالی نے اس کے اوپر  حرام کردیا ہے ۔ {بخاری  ومسلم بروایت  ابو ہریرہ } ۔

لہذا  اللہ تعالی کے غضب سے بچنے  کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی  کی نافرمانیوں  سے بچے تاکہ  اس کے عذاب سے بچ سکے ۔  ارشاد باری تعالی :” فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا ” سو تو جب  ان کو میری سزا پہنچی  تو انہوں نے عاجزی  کیوں نہ اختیار کی ۔

[۳] اللہ تعالی فرماتا ہے : وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (الأنفال :25)

اور تم  ایسے وبال سے بچو کہ جو خاص کر  صرف ان ہی لوگوں  پر واقع  نہ ہوگا  جو تم  میں سے ان گناہوں  کے مرتکب  ہوتے ، اور یہ  جان رکھو کہ اللہ تعالی سخت  سزا دینے والا ہے ۔

اس آیت  مبارکہ  میں اجتماعی  عذاب  سے بچاو  کے لئے  نہی عن المنکر  کے فریضہ  کی اہمیت   بیان ہوتی ہے کہ اگر کسی قوم  میں برائی  عام ہوجاتی ہے اور  لوگ ہر وقت اس کا نوٹس نہیں لیتے  تو عام لوگوں  کے ساتھ خاص  لوگ بھی اس   عذاب  کی زد میں آتے  ہیں ، اسی لئے نبی ﷺ نےا رشاد فرمایا : اللہ تعالی  چند لوگوں   کے گناہوں کی وجہ سے عام لوگوں  کو ہلاک نہیں کرتا  لیکن  جب لوگ اپنے  درمیان برائی ہوتے دیکھیں  اور  وہ اسے روکنے پر قادر ہوں اور اسے  نہ روکیں  تو اللہ تعالی  تمام  لوگوں کو عذاب دیتا ہے ۔ {مسند احمد : 192/4 } ۔ ایک اور  حدیث میں ہے  کہ جب  کسی قوم  میں اللہ تعالی  کی نافرمانی  ہوتی رہے اور اس میں ایسے  لوگ موجود ہوں جو  اس برائی کو روک سکتے ہوں  اور نہ  روکیں  تو بہت جلد اللہ تعالی ان تمام  لوگوں  میں عذاب بھیج دیتا ہے ۔ { سنن ابو داود } ۔

[۴]  یہ اللہ تعالی  کے ان عذابوں کی بات  ہے جو بطور تنبیہ  اور ارد گرد کے لوگوں کے لئے  بطور  تحذیر  کے آتا ہے ، اس سے  اللہ تعالی کا مقصد  یہ   ہوتا ہے کہ باقی  ماندہ لوگوں  اور ان کے ارد گرد کے علاقے کے لوگوں  کو اللہ تعالی  جھنجھوڑے  اور لوگ  خواب غفلت  سے بیدار ہوں ،  ایسے عذاب  کافروں  ،  فاسقوں  اور ان کے ساتھ  مداہنت  و مصاحبت  کرنے والوں کے لئے  تو عذاب ہوتا ہے ، البتہ  نیک لوگوں  کے لئے  اور جو لوگ  اس جرم  میں شریک   نہیں  ہیں  بلکہ اس  حالت کو بدلنا تو چاہتے  ہیں  لیکن  لوگ  ان کی نہیں سنتے  تو ایسے  تمام  لوگ  اگرچہ  عذا ب سے دو چار  ہوتے ہیں  لیکن یہ عذاب  ان کے لئے  گناہوں کا کفارہ اور رب رحمان و رحیم کی رضا کا سبب بنتا ہے ، اور اگر  یہی عذاب  کسی قوم  میں  کلیۃ  آرہا  ہو ، جن کے کارنامے  اس لائق نہیں ہیں کہ انہیں  اس روئے  زمین  پر باقی رکھا جائے کیونکہ  انہوں نے  اللہ کے رسول کے ساتھ  عناد  کا برتاو کیا اور خود عذاب  الہی  کو دعوت  دی ہے ، ایسے عذاب میں  صرف برائی کرنے والے  اور بروں  کی حالت پر تنقید  نہ کرنے  والے لوگ تو ہلاک کئے جاتے ہیں ، البتہ  نیک لوگوں  اور برائی  سے روکنے  والوں کو  بچا لیا جاتا ہے ، قرآن مجید  میں جن  قوموں کی ہلاکت  کا ذکر ہے  ان کے بارے میں اللہ تعالی  کا یہی دستور رہا ہے ، چنانچہ  قوم ثمود  کی ہلاکت  کے تذکرے  میں فرماتا ہے : وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ (النمل: 53)

ہم نے  ان لوگوں  کو جو  ایمان لائے تھے اور پرہیز گار تھے  بال بال بچا لیا ۔

فوائد :

  • بروں اور بد خماش لوگوں کی صحبت  سے پرہیز ۔
  • دنیا کا عذاب مومن و کافر اور نیک و بد ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے  لیتا ہے ۔
  • دنیا میں لوگوں  کا انجام  ایک ہے تو اس کا معنی  یہ نہیں ہے کہ آخرت میں بھی سب برابر ہیں ۔