تین نبوی نصیحتیں / حديث نمبر: 287

بسم اللہ الرحمن الرحیم

287:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

تین نبوی نصیحتیں

بتاریخ : 16/ ربیع الآخر  1437 ھ، م  26، جنوری2016 م

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عِظْنِي وَأَوْجِزْ، فَقَالَ: ” إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ، وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا، وَاجْمَعِ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيِ النَّاسِ “.

مسند احمد5/412،سنن ابن ماجة:4171 الزهد الطبراني الكبير:3987

ترجمہ  : حضرت  ابو ایوب انصاری  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی  کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا  اور عرض کیا کہ مجھے نصیحت  کیجئے  اور مختصر  نصیحت کیجئے  ، نبی ﷺ نے [ اسے نصیحت کرتے ہوئے ] فرمایا : جب تو نماز کے لئے  کھڑا ہو تو ایسی نماز پڑھ گویا تو دنیا کو الوداع  کہنے والا ہے ، اور کوئی  ایسی بات نہ کر جس سے کل معذرت کرنی پڑے ، اور لوگوں کے ہاتھوں  میں جو کچھ بھی  ہے اس سے بالکل  مایوس ہوجا ۔  {مسند احمد ، سنن ابن ماجہ } ۔

تشریح : نبی کریم ﷺ  کی  خدمت  میں دور سے حاضر ہونے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم   کی عادت مبارکہ تھی کہ  وہ نبی ﷺ سے نصیحت  طلب کرتے اور  ایسی باتوں کا سوال  کرتے جسے وہ حرز  جان بنائیں  تا کہ اس پر  عمل کرکے دنیا و آخرت  میں کامیابی  حاصل  کریں ، پھر چونکہ  نبی کریم ﷺ  کو اللہ تبارک و تعالی نے ” جوامع الکلم ”  عطا فرمایا  تھا  یعنی بات بڑی مختصر  ہوتی لیکن  اپنے اندر  علم و عرفان  کا ایک سمندر لئے ہوتی ، الفاظ گنے چنے ہوتے  لیکن  ان میں معانی کا ایک  بحر بے کراں  پنہاں  ہوتا  ،دوسرے لفظوں میں یہ کہئے کہ آپ کا یہ خاصہ  تھا کہ آپ سمندر کو کوزے میں بھر دیتے  تھے ، انہیں مواقع میں  سے ایک موقعہ پر ایک صحابی رسول آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے نصیحت  طلب کی اورکچھ دینی باتیں  معلوم کرنا چاہی  تا کہ اسے اپنی  زندگی  میں مشعل راہ  بنا سکیں  اور اسے  حرز جان بنا کر  کامیاب  ہوجائیں  لیکن  اس کے ساتھ  ساتھ  یہ بھی  طلب کیا کہ نصیحت مختصر ہو تاکہ اس کا یاد کرنا اور اس پر عمل کرنا مشکل نہ رہے، ان کے جواب میں نبیﷺ نے  انہیں ایک  نہایت ہی مختصر  مگر جامع  نصیحت  فرمائی  جس کا ذکر زیر بحث  حدیث میں ہے ، جو ایک طر ف کم الفاظ کی شکل میں ہے جس کو یاد  رکھنا بہت ہی آسان ہے اور معنی  کے لحاظ سے اس میں  ایسی جامعیت  ہے کہ انسانی زندگی  کے کامیابی کے سارے اصول جمع ہوگئے ہیں ، وہ صرف تین چھوٹے  چھوٹے جملے ہیں :

[۱] الوداعی نماز : “نماز کے لئے کھڑے ہو تو  نماز ایسی پڑھو گویا دنیا میں یہ تمہاری آخری نماز ہے “۔

اس وصیت  کا مطلب یہ ہے کہ بندہ نماز پڑھے  تو نماز  کو مکمل  طور پر ادا کرے ، اچھی صورت میں اسے  ادا کرنے کی کوشش کرے ، وہ اس طرح کہ ہر نماز  کے لئے  کھڑے ہوتے  وقت اپنا محاسبہ  کرے ، واجبات و ارکان  اور سنن مستحبات  کا پورا  اہتمام  کرے ، اس  کی کوشش رہے  کہ نماز میں  مقام احسان  پر کھڑا ہو ، یعنی  یہ سوچے  کہ اس وقت  وہ اللہ تعالی کے سامنے  کھڑا ہے ، جو ذکر  دعا اور  تلاوت  وغیرہ   اپنی زبان سے ادا کررہا ہے گویا  وہ اللہ تعالی سے ہم کلام ہے ، اسی طرح  اپنے  قیام  و رکوع  و سجود  میں خضوع  و عاجزی کو مد نظر رکھے ، اور ساتھ ساتھ  سب سے اہم  یہ کہ جو نماز  بھی پڑھے  وہ  یہ تصور میں بٹھائے  کہ شاید  یہ میری زندگی  کی آخری نماز ہو ، اور یہ  بات  معلوم ہے کہ جب آخری  نماز تصور کرےگا تو  ظاہری و باطنی  طور پر  اسے بہتر  سے بہتر  انداز میں ادا کرنے کی کوشش کرے گا ۔

جب بندے کی نماز اس طرح ہوگی  تو  یہی نماز اسے برائی سے بچائے گی  اور بدظنی سے دور رکھے گی ، کیونکہ یہ نماز اس سکے  ایمان میں اضافہ کا سبب ہوگی اسی سے اس کے دل کو سکون  حاصل ہوگا  اور عمل خیر پر   رغبت ہوگی ۔

[۲] زبان کی حفاظت : “اور اپنی زبان سے کوئی  ایسی  بات نہ کہہ  جس سے بعد میں معذرت کرنی پڑے ”

یہ دوسری  وصیت تھی جس کا  معنی  یہ ہے کہ بندہ اپنی زبان سے کوئی  بھی بات  نکالنے  سے پہلے اس پر غور  کرلے کہ یہ جملہ  میرے لئے مفید ہوگا یا پریشانیوں  اور بلاوں کا سبب بنے گا ، کیونکہ  زبان کی حفاظت  ہی ایسا عمل ہے  جس پر تمام معاملات  کا دارومدار  ہے  ،چنانچہ  جس شخص نے  اپنی زبان  پر قابو  پالیا  تو اس کے تمام  اعضا اس کے قبضے  میں آگئے  اور جس نے اپنی زبان کی حفاظت  نہیں کی اس  کے دین و دنیا  کے معاملات  درہم برہم  ہوگئے  ، لہذا بندے کو چاہئے کہ  اپنی زبان  سے وہی بات  ادا کرے  جو دین  ودنیا  میں اس کے لئے  باعث نفع ہو اور ہر ایسے کلام سے  پرہیز کرے جو ا س کے دین  و دنیا  میں ضرر کا سبب  بنیں حتی کہ کوئی ایسی بات بھی  نکالنے سے پرہیز کرے جس کی وجہ سے کل معذرت  کرنی پڑے  اور لوگوں کے  سامنے  شرمندگی ہو ۔

[۳] اللہ سے تعلق جوڑو : ” لوگوں کے ہاتھوں  میں جو کچھ  ہے  اس  سے بالکل ہی مایوس ہوجاو “۔

اس جملے میں اللہ تعالی کے ساتھ تعلق  خاطر کی ہدایت ہے کہ جب بندے کا ایمان  ہے کہ سب کچھ دینے والا  اللہ تعالی ہے ، وہ جسے دینا چاہے  کوئی روک نہیں سکتا اور جس چیز کو روک لے اسے کوئی  دے نہیں سکتا،  ایک مومن بندے  کا ایمان  ہے کہ اللہ تعالی  نے ہر چیز  کو مقدر  کردیا ہے لہذا  ہر انسان  کو وہی کچھ ملنے والا  ہے جو اس کے مالک نے اس کی تقدیر  میں لکھ دیا ہے ، لہذا اسے چاہئے کہ مانگے تو اللہ تعالی سے مانگے ، سوال کرے تو  اللہ تعالی کے سامنے دست سوال پھیلائے ، امید رکھے تو اللہ تعالی  سے امید رکھے اور جس طرح اپنی زبان سے صرف اللہ تعالی سے مانگتا ہے اسی طرح اپنا دل بھی اسی سے  جوڑے رکھے ،  ہر قسم کی امید اسی سے لگائے  ، اس کے علاوہ  جو کچھ  بھی کسی  مخلوق  کے پاس  ہے اس کے بارے میں یہ تصور رکھے کہ اس پر  اس کا کوئی حق نہیں ہے  ، اگر اللہ تعالی  ہمیں اس کا مستحق سمجھے گا  تو مجھے بھی  ضرور نوازے گا ، اگر لوگ مجھے  بہت دینا بھی چاہیں  گے اور اللہ تعالی  نہیں چاہے گا تو وہ مجھے  کبھی بھی نہیں دے سکتے ۔

فوائد :

  • نماز میں خشوع و خضوع اور انہماک کی اہمیت ۔
  • انسان کا اپنے ہر کلام پر محاسبہ  ہوگا ، لہذا زبان کی حفاظت  ضروری ہے ۔
  • صرف اللہ تعالی سے امیدیں باندھنا کامیابی کی علامت ہے ۔