نشان قبر/ حديث نمبر: 288

بسم اللہ الرحمن الرحیم

288:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

نشان قبر

بتاریخ : 23/ ربیع الآخر  1437 ھ، م  02، فروری2016 م

عَنِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، أُخْرِجَ بِجَنَازَتِهِ فَدُفِنَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا أَنْ يَأْتِيَهُ بِحَجَرٍ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ حَمْلَهُ، فَقَامَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ كَثِيرٌ: قَالَ الْمُطَّلِبُ: قَالَ الَّذِي يُخْبِرُنِي ذَلِكَ: عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ ذِرَاعَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ حَسَرَ عَنْهُمَا ثُمَّ حَمَلَهَا فَوَضَعَهَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَقَالَ: «أَتَعَلَّمُ بِهَا قَبْرَ أَخِي، وَأَدْفِنُ إِلَيْهِ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِي».

 سنن ابي داود:3206 الجنائز. السنن الكبرى 3/412.

 ترجمہ  : حضرت  مطلب بن  عبد اللہ  رحمہ اللہ  بیان کرتے ہیں  کہ جب حضرت عثمان  بن مظعون رضی اللہ عنہ  کی وفات ہوئی اور ان کا جنازہ لایا گیا  اور انہیں  دفن کیا گیا تو  نبی ﷺ نے ایک شخص  کو حکم دیا کہ پتھر  لاو  ،مگر وہ شخص  اس پتھر کو اٹھا نہ سکا  تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف بڑھے اور اپنے بازو سے کپڑا سمیٹا  —  راوی  حدیث  کثیر بن زید کہتے ہیں کہ مطلب نے بیان کیا کہ  جس شخص  نے نبی ﷺ  کی یہ حدیث مجھ سے بیان  کی  اس نے کہا —  گویا  میں رسول ﷺ کے بازوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں ، جب آپ نے  کپڑا ہٹایا  ، پھر آپ ﷺ نے اسے اٹھایا  اور میت کی سر کی طرف رکھ دیا اور فرمایا : اس سے میں اپنے  بھائی کی قبر کو پہچان سکوں گا اور میرے  اہل میں سے  جو فوت ہوگا اسے یہاں دفن کردوں گا ۔ {سنن ابو داود ، سنن کبری } ۔

تشریح : حضرت عثمان  بن مظعون  رضی اللہ عنہ ایک مشہور مہاجر صحابی  ہیں ، سابقین اولین میں ان کا شمار ہے ، بڑے ہی صاحب فضل اور خدا رسیدہ  صحابی تھے  ، غزوہ  بدر کے  بعد انتقال  فرمائے  اور نبی  رحمت ﷺ  کے دست مبارک سے دفن ہونے کی نعمت سے  سرفراز ہوئے ، نبی ﷺ کو ان سے ایک  خاص تعلق  خاطر تھا بلکہ  کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کے رضاعی یعنی دودھ شریک بھائی تھے ،  اور یہ  بھی کہا جاتا ہے کہ  وہ  پہلے  صحابی ہیں بالاخص  مہاجرین میں سے  جنہیں  بقیع  میں دفن کیا گیا ، اسی تعلق  خاطر  کا نتیجہ تھا کہ  ان کی وفات پر نبی ﷺ کو بڑا غم لاحق ہوا اور دفن  کے وقت  آپ کی آنکھیں  اشک بار ہوگئی  تھیں ، اسی تعلق  خاطر کا ایک دوسرا اثر یہ تھا کہ  جب ان کی  تدفین  عمل میں آگئی  تو نبی ﷺ نے علامت  کے طور پر  ان کی قبر  کے سراہنے  ایک بڑا پتھر  رکھا تاکہ  قبر کا نشان مٹ بھی جائے تو قبر کی جگہ  معلوم رہے ، یا قبروں کی کثرت  کی وجہ سے ان کی قبر  کی جگہ  بھولی نہ جائے ۔ اس کی وجہ نبی ﷺیہ بیان فرمائی  کہ  انہیں  کے بازو میں  اپنے دیگر اقربا کو دفن کرونگا ۔

عہد  نبوی کے اس  واقعہ سے کئی فقہی  مسائل معلوم ہوتے ہیں جو  عام مسلمانوں کے لئے  مفید اور ان کی معلومات کے لئے  ضروری ہیں ۔

[۱] کسی کی وفات  پر بغیر چیخ  و پکار  کے رونا یا آنکھوں  سے بلا اختیار  آنسو کا جاری ہوجانا  ایک فطری چیز ہے  اور شرعا اس پر مواخذہ نہیں ہے ، بلکہ  اگر یہ  کہا جائے  تو شاید  غلط نہ ہو کہ  یہ سنت نبوی ہے  کیونکہ  نبی ﷺ سے اپنے عزیزوں  پر ایک سے زائد  بار ایسا  کرنا ثابت  ہے ، جیسے  آپ کے بیٹے ابراہیم  اور   ایک  نواسے  کی وفات  پر آپ کی آنکھوں سے آنسوکا جاری ہوجانا ،اسی طرح اپنے ایک عزیز صحابی حضرت سعد بن عبادہ کی بیماری پر جب نبی ﷺ یہ سمجھے کہ ان کا انتقال  ہوگیا تو آپ  رو دئے اور آپ کا رونا دیکھ کر صحابہ کرام بھی رونے لگے  ،اس وقت آپ ﷺ نے کسی میت  پر  رونے اور نہ رونے کی جائز و ناجائز صورتیں  بتاتے ہوئے  فرمایا : اللہ تعالی  آنکھوں  کے اشک بار ہونے اور دلوں  کے غمگین  ہونے پر  کوئی عذاب نہیں دیتا  ،البتہ زبان کے  چیکھنے  چلانے اور  واویلا مچانے پر عذاب بھی دے سکتا ہے اور رحم بھی کرسکتا ہے ۔ {صحیح بخاری : 1304 – صحیح مسلم : 924 بروایت عبد اللہ بن عمر } ۔

[۲] انبیاء علیہم السلام  { جو اپنی جائے وفات پر دفن کئے جاتے ہیں } ا ور شہداء {جو اپنی جائے شہادت  پر دفن کئے جاتے ہیں } کے علاوہ اگر کوئی خاص شرعی مصلحت  نہیں ہے تو  ہر شخص کو خواہ عالم  یا جاہل  ، مالدار  ہو غریب،  کوئی بزرگ ہو یا عام آدمی  اسےعام  قبرستان ہی میں دفن کیا جائے گا ، عہد نبوی  سے صراط مستقیم  پر قائم مسلمانوں کا یہی طریقہ رہا ہے ۔

[۳] بطور علامت   قبر  پر کوئی پتھر  وغیرہ  رکھا جاسکتا ہے  ، جیسا کہ نبی ﷺ نے حضرت عثمان بن مظعون  رضی اللہ  عنہ  کی قبر کے سراہنے  ایک بڑا پتھر رکھا اور اس کی وجہ بھی بتلائی کہ  : تاکہ  میں اپنے  بھائی کی قبر پہچان سکوں ” اس کا مقصد  علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ تاکہ زیارت  کے لئے قبر کی جگہ  معلوم رہے ، اس کے کسی عزیز کو اس جگہ  دفن کرنا ہے تو وہ جگہ معلوم رہے ، ایک مدت  گزر جانے کے بعد  اگر زمین  برابر بھی ہوجاتی ہے تو جگہ  معلوم رہے تاکہ  اس پر  بیٹھا نہ جائے اور اسے  روندا نہ جائے ۔ البتہ  قبر پر کتبہ  لگانا  یا سمینٹ  اور گچ وغیرہ  کے دیوار  کھڑی کرنا اس پر عمارت بنانا وغیرہ  جائز نہیں ہے ، جیساکہ  صحیح حدیث  میں ہے،  حضرت جابر بن  عبد اللہ  رضی اللہ عنہما   بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ  نے قبر پر بیٹھنے  ، اسے چونا گچ  کرنے یعنی پختہ  بنانے اور  اس پر عمارت  تعمیر  کرنےسے منع فرمایا : {صحیح مسلم : 97 ، سنن ابو داود : 3225 } ۔

ایک دوسری روایت  میں ہے کہ اس پر  زیادہ  کرنے یعنی بہت اونچی بنانے اور اس کتبہ لگانے سے  منع فرمایا ہے  ۔ {سنن ابو داود : 3226 } ۔

[۴] ایک ہی خاندان کے لوگوں کو ایک دوسرے  کے پہلو میں دفن کرنا جائز   ہے،  بشرط یہ کہ  اس سے کسی کا حق نہ مارا  جارہا ہو، کیونکہ  آپ ﷺ نے فرمایا  کہ” اور میرے اہل میں  جو  فوت ہو اسے  اس کے قریب  دفن کروں “اور بعض روایات  میں ہے کہ اپنے بیٹے  حضرت ابراہیم  کو نبی ﷺ نے حضرت عثمان  بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا تھا ۔

[۵] نیک اور صالح لوگوں  کا قرب  قبرستان  میں اختیار  کرنا باعث  برکت ہوسکتا ہے ، بشر ط یہ کہ  مغفرت کے عمومی اسباب پائے جاتے ہوں ۔

[۶] نبی کریم ﷺ کا تواضع  کہ جب صحابی سے پتھر نہ اٹھ سکا  تو آپ خود ہی اپنی آستین  کو سمیٹ  کر آگے بڑھے اور پتھر  کو لا کر قبر کے سراہنے  رکھ دیا ۔

[۷] اللہ تعالی نے نبی ﷺ کو بہت قوت و طاقت سے نوازا تھا  ، یہ قوت معنوی بھی اور  مادی بھی ، اور یہ  ایک مومن کے لئے باعث  سعادت ہے ، ارشاد نبوی  ہے : اللہ تعالی کے نزدیک  قوی مسلمان کمزور مسلمان سے بہتر اور پیارا ہے ۔ {صحیح مسلم : 2664 } ۔

[۸]  قبروں کی زیارت  عموما  ،اور اپنے عزیز  و اقارب  کے قبروں  کی زیارت  خصوصا مشروع اور باعث ثواب ہے ، نبی ﷺ کی سنت  یہ امر بالکل واضح ہے ۔