بیماری و علاج/ حديث نمبر: 294

بسم اللہ الرحمن الرحیم

294:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بیماری و علاج

بتاریخ : 19/ رجب   1437 ھ، م  26، اپریل2016 م

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا أَتَى مَرِيضًا أَوْ أُتِيَ بِهِ، قَالَ: «أَذْهِبِ البَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا».صحيح البخاري:5675 المرضى، صحيح مسلم:2191 السلام

ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ جب کسی مریض کی عیادت کو جاتے ،  یا آپ کے پاس کوئی مریض لایا جاتا تو اس کے لئے یہ دعا کرتے :«أَذْهِبِ البَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ وَأَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا»

اے لوگوں کے پروردگار   تکلیف  کو دور فرما دے ، شفا عطا فرما ، تو ہی  شافی یعنی شفا دینے والا ہے ، تیری شفا کے علاوہ کوئی  اور شفا نہیں ہے ، تو  ایسی شفا عطا فرما کہ کوئی  بیماری نہ چھوڑے ۔ {صحیح بخاری وصحیح مسلم }۔

تشریح :  ارشاد باری تعالی ہے :وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا۔ الآیۃ الاعراف:180اچھے اچھے نام اللہ تعالی کے ہیں لہذا  ان ناموں سے اسے  ہی موسوم کرو ۔ یعنی  وہ اللہ تعالی ہی ہے جس کے تمام نام  اچھے اچھے ہیں لہذا  ان ناموں  سے اللہ تعالی  کے علاوہ  کسی کو موسوم نہ کرو  اور انہیں  ناموں  کے   وسیلے  سے اللہ تعالی سے دعا کرو  اللہ کے انہیں پیارے ناموں  میں ایک نام ” الشافی ” بھی ہے جس کے معنی ہے  ” شفا دینے والا ” یعنی  بندے کو جو بیماری  بھی لاحق ہوتی ہے خواہ وہ ظاہری بیماری ہے  جو محسوس کی جاتی  ہے اور انسانی کا جسم اس سے متاثر ہوتا ہے  اور اپنی صحیح کیفیت  کھو دیتا ہے  ، یا باطنی  بیماری  ہو جو اس کے دل کو لگتی ہے  اور اسے  محسوس نہیں کیا جاتا  جیسے شک ، شرک ، نفاق اور کفر وغیرہ ، ان دونوں  قسم کی بیماریوں   سے شفا دینے والا  صرف اور صرف اللہ تعالی ہے، چنانچہ  خلیل الرحمن  حضرت ابراہیم  السلام  نے   باطل  معبودوں سے براءت کا اظہار  کرتے ہوئے  اور توحید خالص  کا اعلان کرتے ہوئے  اپنی قوم  سے فرمایا تھا کہ ” واذا مرضت فھو یشفین ” یعنی میرا رب  وہ ہے کہ جب میں بیمار  پڑ جاوں  تو وہی مجھے شفا عطا فرماتا  ہے ۔

زیر بحث حدیث  جس میں نبی ﷺ کی ایک دعا کا ذکر ہے،  اس میں بھی  اللہ تعالی  کے مبارک نام” شافی” کا وسیلہ لے کر  مریض کے لئے  شفائے کاملہ کی دعا مانگی گئی ہے،  اے لوگوں  کے رب ہمارا ایمان  ہے کہ تکلیف  کا دور  کرنا اور بیماری سے شفا دینا  صرف تیرا کام ہے، لہذا تیری صفت  شفا کے وسیلے تجھ سے سوال ہے کہ اس بیماری کو ایسی شفا عطا فرما کہ بیماری کا نام و نشان باقی نہ رہے ۔ اللہ تعالی کے اس مبارک نام ” شافی ” پر ایمان  کا تقاضا ہے کہ ہم درج ذیل  امور پر ایمان رکھیں  اور اس کے مطابق  عمل کریں : [۱] انسان کو جو مرض  بھی لاحق ہو یا  اسے جو تکلیف  بھی پہنچے  اسے دور کرنے والا اور شفا دینے والا اللہ تعالی کے علاوہ کوئی دوسرا نہیں ہے  وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (17)الانعام

اور اگر  تجھ کو اللہ تعالی کوئی تکلیف  پہنچانا  چاہے تو اس  کا دور کرنے والا سوا اللہ کے اور کوئی نہیں اور اگر تجھ  کو اللہ تعالی کوئی  نفع  پہنچانا  چاہے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔

[۲] جب اللہ تعالی ہی ہر بیماری سے شفا دینے  والا ہے تو یقینا  اس نے  ہر بیماری  کا  علاج بھی پیدا فرمایا ہے، کیونکہ اللہ تعالی  اگر چہ ہر چیز  پر قادر  ہے لیکن اس دنیا میں کسی چیز کے  وجود کے لئے ایک نہ ایک سبب  رکھا ہے  ، لہذا  کسی بیماری  سے شفا کے لئے بھی  اس نے  متعدد اسباب بنائے ہیں ، ارشاد نبوی ہے :  اللہ تعالی نے کوئی  ایسی بیماری نہیں نازل فرمائی  جس کی  شفا نہ رکھی ہو ۔ {صحیح بخاری : 5678 ، بروایت ابو ہریرہ } ۔  وہ اسباب  متعدد ہیں ، بہت سے اسباب کے نشان دہی  اللہ تعالی نے وحی کے ذریعہ  فرما دی ہے اور بہت سے اسباب کو لوگوں کے تجربات  پر چھوڑ دیا ہے ، جیسے :

قرآن مجید :قرآن مجید  انسان کی ہر ظاہری و باطنی بیماری کے لئے شفا ہے ، ارشاد  باری تعالی ہے :وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا (82)الاسراءیہ قرآن  جو ہم  نازل کررہے ہیں مومنوں کے لئے  سراسر شفاء اور رحمت ہے ، ہاں ظالموں  کو بجز نقصان کے اورکوئی زیادتی  نہیں ہوتی ۔ نبی کریم ﷺ  معوذتین  و غیرہ  پڑھ کر  اپنے اوپر  اور اپنے  اہل و عیال  پر دم کیاکرتے تھے ۔ {صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

دعا : قرآن مجید کی  طرح  دعا بھی   شفا حاصل کرنے کا  بڑا اہم ذریعہ ہے، بلکہ  جہاں تمام  مادی  دوائیں   فیل ہوجاتی  ہیں وہاں  دعا اور  قرآن مجید کی آیات  ہی شفا کا کام دیتی ہیں ، ارشاد نبوی  ہے کہ جو شخص  کسی ایسے  مریض  کی عیادت کرے جس کی  موت کا وقت  نہ آیا  ہو پھر  اس کے پاس  سات بار یہ دعا پڑھے تو اللہ تعالی  اسے  یعنی مریض کو اس مرض سے شفا دے گا : أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ{سنن ابو داود : 3106 ، بروایت  ابن عباس } ۔

شہد اور حجامت :  قرآن  مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے  : يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ۔ اس کے پیٹ  سے رنگ برنگ کا مشروب نکلتا ہے ، جس کے رنگ مختلف ہیں اور جس میں لوگوں کے لئے شفا ہے۔

ایک اور حدیث میں نبی ﷺ کا ارشاد ہے :شفا  تین چیزوں میں ہے  : پچھنا لگانے  والے کے نشتر میں ، شہد پینے  اور آگ سے داغنے میں ، لیکن  میں اپنی امت کو داغنے سے منع کررہا ہوں ۔ { صحیح بخاری : 5681 ، بروایت  ابن عباس } ۔

کلونجی : ارشاد نبوی ہے : کالے دانے یعنی  کلونجی  میں  ہر بیماری کے لئے شفا ہے سوائے  موت کے ۔ {صحیح بخاری : 5688 ، صحیح مسلم : 2192 ، بروایت ابو ہریرہ }

زمزم کا پانی : جن چیزوں  میں اللہ تعالی نے شفا  رکھی ہے ان میں ایک چیز  زمزم کا پانی ہے ، ارشاد نبوی ہے  :زمزم کا پانی ہر اس مقصد کو پورا کرتا ہے جس  کی نیت سے پیا جائے ۔ {مسند احمد : 357/3 } ۔  حضرت عبد اللہ بن عباس جب زمزم کا پانی پیتے تو یہ دعا پڑھتے : «أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا، وَرِزْقًا وَاسِعًا، وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ»{ مصنف عبد الرزاق : 113/5} ۔

جڑی بوٹیاں :  اس زمین  کے پانی ، اس کی مٹی  اور اس کی جڑی بوٹیوں میں بھی اللہ تعالی  شفا رکھی ہے، جسے اپنے اپنے تجربے سے قومیں معلوم کرتی ہیں ۔

[۳] جب اللہ تعالی نے بیماریوں  سے ہماری شفا کے لئے  اس قدر دوائیں  نازل فرمائی ہیں تو اس  کا تقاضا  ہے کہ ہم اس  سے محبت کریں اور اس کا شکر بجالائیں ۔

[۴] بسا اوقات  کسی اہم مصلحت  کے پیش نظر  شفاء  میں اللہ تعالی کی طرف سے تاخیر  ہوتی ہے،  جیسے  انابت الی اللہ  ، گناہوں کی معافی اور درجات  کی بلندی وغیرہ ۔

ارشاد نبوی ہے کہ دنیا  میں مصائب   میں مبتلا  لوگوں کو قیامت کے دن جب  [بلا حساب ] ثواب دیا جائے گا  تو دنیا میں  عافیت سے رہنے والے لوگ تمنا کریں گے  کہ  کاشکہ  دنیا میں  ان  کے چمڑوں کو قینچیوں  سے کاٹا گیا ہوتا ۔ {سنن ترمذی ، بروایت جابر } ۔