صدقہ، تواضع ، معافی / حديث نمبر: 295

بسم اللہ الرحمن الرحیم

295:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

صدقہ، تواضع ، معافی

بتاریخ :26 رجب 1437 ھ، م  03،مئی2016 م

  عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَمَا زَادَ اللهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ، إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ» صحیح مسلم:2588 البر والصلة، سنن الترمذی:2030 البر و الصلة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدقہ نے کبھی مال نہیں گھٹایا ، اور عفو و درگزر کی وجہ سے اللہ تعالی بندے کی عزت بڑھاتا ہے ، اور جو شخص اللہ تعالی کے لِے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالی اسکو اونچا کرتا ہے ۔  صحیح مسلم ، و سنن الترمذی

تشریح– اللہ تعالی محسن ہے ، احسان کو پسند کرتا ہے اور اپنے بندوں کو بھی احسان کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، وہ اپنے بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ خالق کائنات مالک الملک ان پر احسان کرے تو وہ بھی اسکی مخلوقات کے ساتھ احسان سے پیش آئیں اور ہر ایک کے لیے احسان کا جذبہ رکھیں ، “واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین” البقرۃ : 195 ۔ اور تم لوگ احسان کرو اللہ تعالی محسنین سے محبت رکھتا ہے۔ ایک اور جگہ متقیوں اور جنت کی طرف لپکنے والوں کی صفات اللہ تعالی ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے کہ “الذین ینفقون فی السراء والضراء والکاظمین الغیظ والعافین عن الناس ، واللہ یحب المحسنین” ۔ آل عمران 134 ۔جو آسانی اور تنگی کے موقعہ پر بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ، غصہ پی جانے والے ہیں اور لوگوں سے درگزر کرنے والے ہیں ، اللہ تعالی محسنین یعنی نیک کاروں سے محبت کرتا ہے ۔ یہ احسان کبھی مال کے ذریعہ ہوتا ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کی مالی حاجت کو پورا کردیا جائے جیسے صدقہ دے کراحسان کیا جائے اور کبھی مقام و منصب کے ذریعہ ہوتا ہے کہ اسکی کوئی مدد کر کے یا اسکے لیے سفارش کر کے اسکی کوئی حاجت پوری کردی جائے جیسے اپنے منصب و مقام پر اترایا جائے بلکہ اپنے بھائی کے لیے تواضع سے کام لیکر اسکی حاجت پوری کر دی جائے ، پھر یہی احسان کبھی اسکی کسی غلطی اور کوتائی کو معاف کرکے بھی ہوتا ہے ، یہ بھی احسان کی ایک قسم ہے کہ اس سے اپنا بدلہ نہ لیا جائے، جبکہ اپنا بدلہ لینا چاہے تو لے سکتا ہے ، یہ تینوں صورتیں احسان کی بڑی اہم قسمیں ہیں جنکا ذکر زیر بحث حدیث میں ہے اور اس پر بڑے ہی اجر کا وعدہ کیا گیا ہے ۔

1–صدقہ کرنے سے مال میں کمی نہیں واقع ہوتی ۔ شیطان اور نفس امارہ کے وسوسے سے انسان یہ سمجھتا ہے کہ اگر ہم نے اپنے مال سے ڈھائی فیصد زکاۃ نکال دی تو سو میں ڈھائی روپے کم ہو جائیں گے ، یا اگر میں نے اپنے مال میں سے  بطور صدقہ کے کسی کو دیا تو میرے مال میں کمی واقع ہو جائیگی ، جبکہ اللہ تعالی اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان اسکے بر عکس ہے کہ اللہ کی رضاکیلے مال خرچ کرنے سے اسمیں کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ اسمیں اضافہ ہوتا ہے ، حدیث میں مال کی کمی نہ ہونے کا کیا معنی ہے ؟ اس سلسلے میں علماء کہتے ہیں کہ صدقہ دینے سے مال میں اضافہ کی تین صورتیں ہوتی ہیں جو شرعا اور مشاھدہ سے ثابت ہیں ، – صدقہ کرنے سے اللہ تعالی مال میں برکت عطافرماتا ہے، تھوڑے سے مال سے ضروریات پوری ہوجاتی ہیں ، اسکے اوپر سے ایسے مصائب کو اللہ تعالی  دور کرتا ہے کہ اگر وہ پیش آجائیں تو اسکا مال خرچ ہوجائے ، یا یہ مال ہی اسکے لئے کسی مصیبت کا سبب بن جائے ۔  – صدقہ کرنے سے اللہ تعالی ظاہر میں بھی مال بڑھادیتا ہے، جیسے اسکے لئے کسب کے دوسرے دروازے کھول دیتا ہے ،” وماانفقتم من شیئ فھو یخلفہ وھو خیر الرازقین “،   سبا : 39  ؛ اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اللہ تعالی تمھیں اسکا بدلہ دیگا اور اللہ تعالی سب سے بہتر روزی دینے والا ہے ۔ اور سب سے اہم یہ کہ صدقہ کرنے سے جو ثواب اور اجر حاصل ہوتا ہے اسکا تو کوئی عوض ہی نہیں ، یہی کیا کم ہے کہ اللہ تعالی ایک درہم کے عوض سو درہم بلکہ 700 درہم بلکہ بے حساب دینے کا وعدہ کیا ہے  2– معاف کرنے سے اللہ تعالی عزت دیتا ہے :  لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اپنے بھائی کو معاف کردینا اور اسکی لغزش سے درگزرکرجانے میں ذلت اور رسوائی ہے ،لیکن اسی حدیث میں اسکے برعکس یہ حقیقت بیان ہورہی ہے کہ اس سے اللہ تعالی عزت میں اضافہ ہی فرماتا ہے  کمی نہیں کرتا، کیونکہ معاف کرنے سے لوگوں کے دلوں میں احترام بڑھ جاتا ہے ۔ اور عزت میں اضافہ کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جو شخص اس دنیا میں اپنے بھائی کو معاف کرکے بظاہر تھوڑی سی ذلت برداشت کرلیتا ہے اسکے عوض اللہ تعالی قیامت کے دن اسے بہت بڑے اجر سے نوازکر اسکی عزت میں اضافہ فرمادیگا ،” فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ” ، الشوری 40 ،تو جو شخص معاف کر دے اور معاملہ درست کر لے تو اسکا اجر اللہ تعالی کے ذمے ہے ۔

3– جو اللہ تعالی کیلئے تواضع اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالی اسکا مقام اونچا کر دیتا ہے ۔ تواضع کی دو صورتیں ہیں ایک تواضع اللہ تعالی کے لئے کہ اسکےاحکام کے سامنے اپنے آپکو جھکادے اور جہاں اسکا حکم آجائے وہاں اگر چہ کوئی  فروتنی ظاہر ہورہی ہو لیکن وہ اپنے آپکو مکمل احکام الہی کے تابع کردے ۔ ظاہر بات ہے کہ اس سے اسکا مقام دنیا میں بھی بلند ہوگا اور آخرت میں بھی اسے اونچا مقام حاصل ہوگا ۔ دوسری صورت اللہ کے بندوں کے سامنے تواضع   وفروتنی سے کام لے ، اپنے کو انکے سامنے بڑا اور عظیم ظاہر نہ کرے اورنہ کبر و غرور کا مظاہرہ کرے ، مشاھدہ ہے کہ ایسے لوگوں کی عزت اللہ تبارک و تعالی لوگوں کے دلوں مین ڈال دیتا ہے اور آخرت میں جو بلند مقام حاصل ہوگا وہ مزید اضافہ ہے ، جسکا علم اللہ ہی کو ہے ۔

فائدے ۔                                                                                      1–اللہ تعالی کی مخلوق کے ساتھ احسان سے پیش آنا اللہ تعالی کے نزدیک محبوب ہونے کا ذریعہ ہے۔2– صدقہ و خیرات سے مال میں اضافہ ہی ہوتا ہے ۔   3–  مومن کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کے سامنے متواضع ہوتا ہے ۔