فتنوں کا بازار / حديث نمبر: 296

بسم اللہ الرحمن الرحیم

296:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

فتنوں کا بازار

بتاریخ : 10/ شعبان   1437 ھ، م  17، مئی 2016 م

عَنْ عَبْد اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رضي الله عنه قَالَ:كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَمِنَّا مَنْ يُصْلِحُ خِبَاءَهُ وَمِنَّا مَنْ يَنْتَضِلُ وَمِنَّا مَنْ هُوَ فِي جَشَرِهِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ جَامِعَةً فَاجْتَمَعْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا كَانَ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ يَدُلَّ أُمَّتَهُ عَلَى خَيْرِ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَيُنْذِرَهُمْ شَرَّ مَا يَعْلَمُهُ لَهُمْ وَإِنَّ أُمَّتَكُمْ هَذِهِ جُعِلَ عَافِيَتُهَا فِي أَوَّلِهَا وَسَيُصِيبُ آخِرَهَا بَلَاءٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا وَتَجِيءُ فِتْنَةٌ فَيُرَقِّقُ بَعْضُهَا بَعْضًا وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ مُهْلِكَتِي ثُمَّ تَنْكَشِفُ وَتَجِيءُ الْفِتْنَةُ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ هَذِهِ هَذِهِ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُزَحْزَحَ عَنْ النَّارِ وَيُدْخَلَ الْجَنَّةَ فَلْتَأْتِهِ مَنِيَّتُهُ وَهُوَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلْيَأْتِ إِلَى النَّاسِ الَّذِي يُحِبُّ أَنْ يُؤْتَى إِلَيْهِ وَمَنْ بَايَعَ إِمَامًا فَأَعْطَاهُ صَفْقَةَ يَدِهِ وَثَمَرَةَ قَلْبِهِ فَلْيُطِعْهُ إِنْ اسْتَطَاعَ فَإِنْ جَاءَ آخَرُ يُنَازِعُهُ فَاضْرِبُوا عُنُقَ الْآخَرِ. صحیح مسلم:1844 ،الامارة، سنن النسائی:4196 البیعة، سنن ابن ماجہ:3956،الفتن

ترجمہ : حضرت عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺکے ساتھ ایک سفر میں تھے، ایک منزل پر ہم ٹھہرے، ہم میں سے کچھ لوگ خیمہ درست کرنے لگے، بعض لوگ تیراندازی میں مشغول ہوئے اور کچھ لوگ جانوروں کو چرانے میں مشغول ہوگئے، اس درمیان رسولﷺ کے منادی نے ندا دی، ”الصلاة جامعة”(یعنی نماز ہونے جارہی ہے)،یہ سن کر ہم سب لوگ اللہ کے رسول کے پاس جمع ہوگئے (اس موقع پر آپۖ نے ایک بلیغ خطبہ دیا جس میں) آپ نے فرمایا: ”ہم سے قبل جو نبی بھی گزرا ہے اس پر واجب تھا کہ جو بھلائی کی چیز جانتا ہوتا  اسے اپنی امت کو بتلائے اور جو برائی کی باتیں جانتا ہوتا ا س سے متنبہ کرے، واضح رہے کہ اس امت کی عافیت اس کے ابتدائی حصے میں ہے اور اس امت کے آخر میں آنے والوں کو ایسی بلائوں اور مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا جسے تم لوگ ناپسند کروگے اور( اس امت کے آخری دور میں)ایسے فتنے ظاہر ہوں گے کہ گزرا ہوافتنہ آنے والے فتنے کے مقابلے میں ہلکا محسوس ہوگا ۔چنانچہ جب کوئی فتنہ ظاہر ہوگا تو مومن کہے گا کہ بس یہی فتنہ میری ہلاکت کا سبب ہے، پھر وہ فتنہ گزر جائے گا اور جب دوسرا فتنہ ظاہر ہوگا تو مومن کہے گاکہ بس یہی فتنہ میری ہلاکت کا سبب ہے ۔ اس لیے (ایسی حالت میں) جسے یہ پسند ہو کہ وہ جہنم سے دور کردیا جائے اور جنت میں داخل ہو تو اس کی موت اس حال میں آنی چاہیے کہ وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا معاملہ کرے جیسا اسے پسند ہو کہ اس کے ساتھ کیا جائے”۔

تشریح : متعدد احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے قبل بہت سے فتنے اس روئے زمین پر ظاہر ہونگے ۔ وہ فتنے مالی بھی ہونگے اور جانی بھی ،سیاسی فتنے ہونگے اور معاشرتی بھی، مادی فتنے ہونگے اور معنوی بھی،اللہ کے رسول ﷺ نے امت کی خیرخواہی کرتے ہوئے  ان فتنوں سے متعلق بہت ساری معلومات امت کو دی ہیں، فتنوں کا مصدر ومنبع بتلایا ہے، بعض فتنوں کے نام اور بہت سے عام وخاص فتنوں کی نشاندہی بھی  کی ہے، اس کا اندازہ درج ذیل حدیث سے بخوبی ہو سکتا ہے۔

حضرت ابوزید عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لے گئے چنانچہ آپ نے ظہر تک خطبہ دیا، پھر منبر سے نیچے اترے اور نماز (ظہر) پڑھا کر منبر پر تشریف لے گئے اور

عصر کا وقت ہونے تک خطبہ دیا، پھر منبر سے نیچے آئے اور عصر کی نماز پڑھا کر منبر پر تشریف لے گئے اور سورج ڈوبنے تک خطبہ دیا، ان خطبوں میں آپ نے ہمیں وہ تمام حادثات وواقعات بتلائے جو گزرچکے اور قیامت تک پیش آنے والے ہیں، ہم میں سے جس شخص نے ان خطبوں کو زیادہ یاد رکھا وہ زیادہ علم والا ہے۔ صحیح مسلم ،صحیح ابن حبان ،مسند احمد١علماء نے اس حدیث کو عموما کتاب الفتن اور قیامت کی نشانیوں کے باب میں ذکر کیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے رسولﷺنے اپنے اس طویل اور غیر معمولی خطبہ میں جو باتیں بتلائی تھیں وہ عظیم حادثات وفتنے تھے جو آپ سے پہلے واقع ہوچکے تھے اور جو فتنے آپﷺ کے بعد واقع ہوں گے۔

زیر بحث حدیث میں بھی انہی فتنوں  کا ذکر ہے ، البتہ  اس حدیث  میں ایک  مومن کے لئے چند اہم  نصیحتیں  ہیں :

[۱] اس  امت کا ابتدائی  دور خاص کر عہد نبوی ، عہد صدیقی  ، عہد فاروقی اور عہد عثمانی خیر و بھلائی  کا دور تھا ، اسی  زمانے میں پوری امت  باہم متفق تھی ، دین کے معاملات  درست تھے، لیکن  خلیفہ  راشد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی  شہادت  کے بعد  اس امت  پر فتنوں کی بارش ہونے لگی اور برابر  اس میں اضافہ  ہورہا ہے حتی کہ  اس روئے زمین کا سب سے بڑا فتنہ  یعنی دجال کا ظہور ہوجائے ، لہذا جو شخص  فتنوں   سے بچنا  چاہتا ہے وہ سنت  نبوی اور صدر اول کے مسلمانوں کے نقش قدم پر چلے ۔

[۲]  اس امت  میں پیش آنے والا ہر فتنہ  اپنے بعد میں   پیش آئے فتنوں سے ہلکا  ہوگا  اور ان  تمام فتنوں سے وہی بچ پائے گا  جوا ن سے خائف  رہے گا ، انہیں فتنہ تصور کرتا رہے گا  اور ان سے  بچنے  کی کوشش کرتا رہے گا،  اور یہی  لوگ ہیں جو دجال کے فتنے  سے بھی  محفوظ رہیں گے  ،حضرت  حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک  با ر نبی ﷺ  کے  پاس دجال کا ذکر ہوا تو آپ نے ہم سے فرمایا : دجال کے فتنے کے مقابل میں تم  میں سے بعض   کےفتنے  سے مجھے زیادہ خوف ہے اور جو  شخص بھی  دجال کے پہلے کے  فتنوں سے بچا رہا  وہ دجال کے فتنے سے بھی  بچ جائے گا  ،اور جب  سے  دنیا قائم  ہے جو بھی  چھوٹا بڑا  فتنہ ظاہر ہوا ہے وہ دجال کے فتنے کا پیش خیمہ ہے ۔ {مسند احمد : 5/389} [۳] فتنوں  سے نجات  کے لئے ضروری ہے کہ بندہ اللہ تعالی  اور آخرت  کے دن  پر ایمان  پر جما رہے ، اسی پر زندہ رہے اور اسی پر اس کی موت آئے  ، اور جو شخص  ان دونوں  امر پر ایمان کی تصحیح کرلے گا وہ عمل صالح  کا حریص  اور برائیوں  سے دور رہے گا  ، کیونکہ اللہ تعالی  پر ایمان کا معنی ہے کہ اسکا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی ہماری ہر نقل و حرکت  کو دیکھ رہا ہے  اور اسے اپنے  فرشتوں  کے ذریعہ  نوٹ کررہا ہے  اور آخرت پر ایمان کا یہ ثمرہ ہوگا کہ  ایک دن ایسا آنے  والا ہے جب ہمارے تمام  اعمال  کا بدلہ  ملے گا ۔

[۴] مسلمانوں کی باہمی محبت ، ان کا  باہمی  اتفاق  اور ہر ایک کو حقوق  کا پاس  ولحاظ اسی طرح رکھنا جیسے  اپنے حقوق  کا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے ،یہ ان امور  ہیں جو فتنوں   میں پڑھنے سے ایک مومن  کو محفوظ  رکھتے ہیں ۔

فوائد :

  • اللہ تعالی نے تمام نبیوں  پر  یہ واجب  قرار دیا ہے کہ اپنی امت کی   خیر خواہی کا حق ادا کریں ،اب  ان کے بعد یہ ذمہ داری  اہل علم اور دعاۃ پر عائد ہوتی ہے ۔
  • نبی ﷺ نےاپنی امت کی خیر خواہی کا حق ادا کیا ، یہی وجہ  ہے کہ  قیامت  سے قبل  سابقہ  پڑنے والے امور  سے متعلق  انہیں  کافی معلومات دیں ۔
  • دنیا میں فتنوں سے بچنے اور آخرت  میں  نجات  کا واحد ذریعہ  اللہ تعالی اور آخرت پر ایمان ہے ۔