سلسلہ کبائر [۱] کبائر سے کیوں بچیں ؟ / حديث نمبر: 298

بسم اللہ الرحمن الرحیم

298:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

سلسلہ کبائر [۱]

کبائر سے کیوں بچیں ؟

بتاریخ : 24/ محرم   1438 ھ، م  25، اکتوبر 2016 م

عَنْ جَابِرٍ رضي الله عنه ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا الْكَبَائِرَ، وَسَدِّدُوا، وَأَبْشِرُوا»

( مسند أحمد 3/394 ) سلسلة الأحاديث الصحيحة:885

ترجمہ : حضرت  جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کبیرہ گناہوں  سے بچو ، راہ راست  پر چلتے رہو اور [اجر و مغفرت  کی ] بشارت  سے خوش  ہوجاؤ ۔ { مسند احمد } ۔

تشریح :  رب کائنات کی نافرمانی اور اس کے احکام  سے عناد کو شریعت  میں”  معصیت  “، “ذنب” اور” اثم”  کہا گیا ہے ، جسے ہم  اپنی زبان میں گناہ ، نافرمانی  اور حکم  عدولی  سے تعبیر کرتے ہیں ، یہ گناہ  کبھی  اللہ تعالی کے فرامین  کو چھوڑنے  کی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی  اس کی منہیات  کے ارتکاب کی صورت میں، پھر  چونکہ اللہ تعالی  کا ہر حکم  بطور  عمل  کے ایک  درجے  کا نہیں  ہوتا اور نہ ہی اس کی  منع کردہ  تمام چیزیں  قبح میں یکساں درجہ  رکھتی  ہیں ، اس لئے یہ     گناہ  کبھی  کبیرہ  یعنی بہت  ہی سنگین  اور کبھی  صغیرہ  یعنی  ہلکی  نافرمانی ہوتی ہے ، جیساکہ  قرآن و حدیث  سے واضح ہے ، زیر بحث  حدیث سے  بھی یہی چیز واضح  ہوتی ہے ، چنانچہ  نبی ﷺنے ارشاد فرمایا کہ :اے لوگو ! کبیرہ  گناہوں سے بچتے  رہو ،کیونکہ  اللہ تعالی  کے فرمانبردار  بندے اس کی نافرمانی  نہیں کرتے  اور اگر بتقاضائے بشریت کوئی  بڑا گناہ  ہوجائے تو فورا  اللہ کےحضور توبہ کرلو، نیز حسب استطاعت افراط وتفریط سے بچتے ہوئے اللی تعالی کے احکام کو بجا لاؤ ، اگر تم نے ایسا کرلیا تو اللہ تعالی کی جانب سے  اجر و مغفرت اور اس کی  رضا مندی کی بشارت ہے ، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا (سورة النسا : 31)

جن بڑے بڑے  گناہوں سے تم لوگوں کو منع کیا گیا  ہے اگر تم  لوگ ان سے بچتے  رہے تو ہم تمہاری  چھوٹی  موٹی  برائیاں  تم سے  محو کردیں گے اور تمہیں  عزت کی جگہ  میں داخل کریں گے ۔

زیر بحث حدیث اور اس کی شرح میں مذکورہ آیت  سے دو اہم  باتیں  معلوم  ہوتیں اور دونوں کا اہتمام  ایک مسلمان  کے لئے ضروری ہے ۔

[۱] گناہ  دو قسم کے ہیں ، صغیرہ اور کبیرہ ۔ [۲] دونوں  کے الگ الگ  احکام ہیں ۔

[۱] گناہ صغیرہ اور گناہ کبیرہ کیا ہیں ؟ :

صغیرہ  گناہ : ہر وہ عمل جس سے شریعت  میں منع توکیا گیا ہے  لیکن نہ ہی اس پر کوئی  حد مقرر ہے اور نہ ہی  کوئی  وعید  وارد ہے ، جیسے غیر محرم عورت کی طرف بشہوت دیکھنا ، راستے میں گندگی مچانا  وغیرہ، لیکن شرط یہ ہے کہ  نہ تو اس گناہ کو ہلکا سمجھا  جائے اور نہ ہی اس پر اصرار  کیا جائے ۔

کبیرہ گناہ :  ہر وہ کام  جس سے  شریعت میں روکا گیا  ، اس کے مرتکب  پر شرعا ایک حد متعین  ہے ، یا  اللہ کی اس پر لعنت  ، غضب ، جہنم  یا دین اسلام سے خارج  ہوجانے کی دھمکی  دی گئی  ہے ، جیسے : شرک باللہ ، زنا  ، چوری ، نماز  کا چھوڑنا وغیرہ ۔

[۲] دونوں کے احکام  میں فرق اس طرح  کیا گیا ہے کہ :

  • نیک اعمال  سے صغیرہ گناہ بلا توبہ کے معاف ہوجاتے  ہیں جب کہ کبیرہ  گناہ  کے لئے  توبہ ضروری ہے ، : وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (سورة هود :114) نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: پنج وقتہ نمازیں اور ایک جمعہ دوسرے جمعہ کے درمیان اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک کے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے ، صحیح مسلم
  • جنت میں داخلہ کے لئے   کبیرہ  گناہ  بہت بڑی  رکاوٹ بنتے ہیں جب کہ  صغیرہ  گناہ نہیں ، جیسا کہ  مذکورہ  آیت سے واضح  ہے ، نیز  ارشاد  نبوی ہے : جو اللہ عزوجل  کے پاس  اس حال میں حاضر  ہوا کہ  وہ اللہ تعالی کی عبادت کرتا رہا ہو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا ہو ، نماز  کی پابندی  کی ہو ، زکاۃ  ادا کرتا رہا ہو اور کبیرہ  گناہوں  سے بچتا  رہا  ہو تو اس کے لئے جنت ہے ۔ {سنن النسائی  : 4041 ، بروایت  ابو ایوب } ۔
  • بہت سے کبیرہ گناہ  نیک اعمال  کی قبولیت  میں رکاوٹ  بنتے  ہیں جب کہ صغائر  کا معاملہ  ایسا نہیں ہے ،  چنانچہ  بنی کریم ﷺ  نے بہت  سے کبائر  کے مرتکبین   سے  متعلق فرمایا کہ اللہ تعالی ان کی فرض یا نفل  کوئی عبادت  قبول نہ فرمائے گا ، جیسا کہ  شرابی  وغیرہ سے متعلق  حدیثیں  وارد ہیں  ۔
  • حدیثوں میں کبیرہ گناہوں  کی ایک  قباحت  یہ بیان ہوئی ہے کہ بسا اوقات  ان کے  مرتکبین  کی تمام  نیکیاں  ضائع و برباد ہوجائیں گی ، چنانچہ  نبی ﷺ  نے فرمایا کہ میں اپنی  قوم کے ان لوگوں کو جانتا  ہوں جو قیامت  کے  دن تہامہ  پہاڑوں جیسی  سفید  و روشن  نیکیاں  لے کر  حاضر ہوں گے  لیکن  اللہ عزو جل  ان کی نیکیوں کو ریت کے بکھرے  ہوئے ذرات  کی طرح  کردے گا ، راوی  حدیث   حضرت ثوبان  رضی اللہ عنہ  نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ا ن کی صفات  بیان فرمادیجئے  ، ان کی خرابیوں  کو ہمارے  لئے واضح  کردیجئے  ، ایسا نہ  ہو کہ  ہم ان  میں شامل  ہوجائیں  اور ہمیں  پتہ بھی نہ چلے  ، آپ ﷺ  نےفرمایا  : وہ تمہارے  بھائی  ہیں ، تمہاری جنس سے ہیں  اور رات  میں تمہاری ہی طرح عبادت کرتے ہیں ، لیکن وہ ایسے لوگ  ہیں کہ جب تنہائی  میں اللہ تعالی کے حرام کردہ گناہوں کا موقعہ  ملتا ہے تو کر گزرتے ہیں ۔  { سنن ابن ماجہ : 4245 } ۔
  • کبیرہ گناہوں کی ایک بڑی  قباحت  یہ ہے کہ ان سے  بندوں کا دل  کالا اور اس قدر زنگ آلود ہوجاتا ہے کہ اس کی وجہ سے  برے انجام کا خوف ہوتا ہے ،كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (سورة المطففين :14) وجہ یہ ہے کہ ان کے  دلوں  پر ان کی  بد اعمالی کی وجہ سے زنگ  چڑھ  گیا ہے ۔

لہذا ہر شخص کو چاہئے کہ وہ کبیرہ  گناہوں  کو جانے اور ان سے حتی الامکان  بچنے کی کوشش کرے ۔

فوائد :

  1. کبیرہ گناہ رب کی ناراضگی  اور عذاب  کا سبب ہے ، گناہ سے بچو  کیونکہ   گناہوں کی وجہ سے اللہ تعالی کی ناراضگی  واقع ہوتی ہے ۔ {مسند احمد } ۔
  2. نیکیوں کی قبولیت اور چھوٹے گناہوں کی معافی  کے لئے  شرط ہے کہ بڑے بڑے  گناہوں سے  پرہیز کیا جائے ۔
  3. گناہ کبیر دو قسم کے ہیں : ۱- اللہ تعالی  کے فرائض کا ترک ۔ ۲- منہیات کا ارتکاب ۔