آداب وضو/حديث نمبر :19

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :19

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :02/03/ذو القعدہ 1428 ھ، م 13/12، نومبر 2007م

آداب وضو

عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما قال : تخلف عنا النبی ﷺ فی سفرة سافرنا ھا ، فأدرکنا وقدارھقتنا الصلاة ونحن نتوضأ فجعلنا نمسح علی أرجلنا فنادی بأعلی صوتہ ویل للأعقاب من النار مرتین أو ثلاثا ۔

( صحیح البخاری : ٦٠ العلم ،صحیح مسلم : ٢٤١ الطہارة )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے روایت ہے ایک بار کسی سفر میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے پیچھے رہ گئے ، چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز ( عصر ) کا وقت ہوچکا تھا ( بلکہ دیری ہورہی تھی ) ہم( جلدی جلدی ) وضو کرنے لگے اور اپنے پیروں کو مسح کرنے لگے یہ دیکھکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند دو یا تین بار

فرمایا : برا ہے ایڑیوں کا آگ ( میں جلنے کی وجہ ) سے ۔

تشریح : نماز کیلئے وضو کو شرط قرار دیا گیا ہے او راچھی طرح سے وضو کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اس طرح کہ وضو میں دھوئے جانے والے اعضاء مکمل طور پر اور بڑے ہی اہتمام کے ساتھ دھوئے جائیں ، کہیں بھی کوئی جگہ خشک نہ رہنے پائے

لیکن چونکہ اس سلسلے میں لوگوں سے کوتاہیاں ہوتی ہیں ، کبھی جلد بازی میں وضو کرنے کی وجہ سے اعضائے وضو مکمل تر نہیں ہوپاتے ، کبھی سخت سردی میں پانی گرم ہونے کی وجہ سے تمام اعضائے وضو تک پانی نہیں پہنچ پاتا ، اس لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو اس امر کی طرف توجہ دلائی اور اس بار ے میں کوتاہی پر سختی سے متنبہ کیا ہے ، چنانچہ کبھی تو اور اسکی اہمیت کو اپنے بیان سے اجاگر کیا ہے اور کبھی وضو اور اچھی طرح وضو کرنے کے فضائل امت کے سامنے رکھے ہیں اور کبھی وضو میں کوتاہی ولاپرواہی پر عذاب الہی کی دھمکی دی ہے ، کیونکہ وضو جہاں مستقل ایک عبادت ہے وہیں ایک بہت ہی اہم

عبادت یعنی نماز کی صحت ومقبولیت کیلئے بنیادی شرط بھی ہے، چنانچہ وضو کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : « لاَ صَلاَةَ لِمَنْ لاَ وُضُوءَ لَهُ، ».جس کا وضو نہیں اسکی نماز نہیں ہوگی ،

( مسند أحمد سنن ابودائود ، بروایت ابوہریرہ ) ۔

نیز فرمایا: “لا تقبل صلاة بغير طهور” بغیر وضو کے پڑھی گئی نماز قبول نہیں ہوتی ،

( صحیح مسلم ، سنن الترمذی ، بروایت ابن عمر )

حضرت انس ابن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ اسکے پیر میں ناخن کے برابر جگہ خوشک رہ گئی ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : « ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ »جاؤ اور اچھی طرح سے وضو کرکے آؤ

( سنن ابوداؤد )

وضو کے فضائل بیان کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے تو جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اسکے چہرے سے وہ تمام خطائیں نکل جاتی ہیں جنکی طرف اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ، پھر جب وہ اپنے ہاتھوں کو دھوتاہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کےآخری قطرے کے ساتھ اسکے ہاتھوں سے وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جنکو اس کے ہاتھوں نے پکڑا تھا

او رجب اپنے پیروں کو دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ نکل جاتے ہیں جنکی طرف اسکے پیر چل کرگئے تھے ، یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک ہوکر نکل آتاہے ۔

( صحیح مسلم : بروایت ابوہریرہ )

اس طرح سے اس موضوع پر بہت سی حدیثیں کتب حدیث میں ہیں ، اسی طرح وضو میں کوتاہی کرنے سے متعلق بھی بہت سی حدیثیں وارد ہیں ، زیربحث حدیث میں وضو میں کوتاہی کرنے اور اسے مکمل نہ کرنے پر جہنم کے آگ کی دھمکی دی گئی ہے نیز فرمایا :”وضو کرتے وقت انگلیوں کا خلال اچھی طرح کرو ورنہ اللہ تبارک وتعالی ان اچھی طرح آگ بھر یگا “۔

( الطبرانی الاوسط : بروایت عبد اللہ بن مسعود )

نیزفرمایا:”قبر میں ایک بندے سے متعلق یہ حکم ہوا کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں ، وہ شخض برابر معافی اور تخفیف طلب کرتا رہا یہاں تک کہ فیصلہ ایک کوڑے پر آکر رک گیا ، چنانچہ اسے ایک کوڑا مارا گیا جس سے اسکی قبر آگ سے بھر گئی ، جب اسے افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا کہ آخر کس جرم پر مجھے یہ سزا دی گئی ، فرشتے نے کہا کہ تم نے ایک نماز بغیر طہارت کے پڑھی ہے او ر ایک مظلوم پرسے تمہارا گزر ہوا او رتم نے اسکی مدد نہیں کی” ۔

( صحیح الترغیب والترھیب ، بروایت ابن مسعود )

فوائد :

١) مسلمان کو چاہئے کہ اپنے تمام کام خصوصا وضو کو اچھی طرح مکمل طریقے پر انجام دے ۔

٢) اعضائے وضو میں وہ جگہیں جہاں پانی مشکل سے پہنچتا ہے جیسے ایڑی ، کہنی اور انگلیوں کے درمیان انکے دھونے کا خصوصی اہتمام کیا جائے ۔

٣) درمیان نماز اگر وضو ٹوٹ جائے تو نماز چھوڑکر وضو کرلیں پھر اس نماز کو جاری اور مکمل کرلیں ۔

ختم شدہ