آمین کا خلاصہ / حديث نمبر: 274

بسم اللہ الرحمن الرحیم

274:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

آمین کا خلاصہ

بتاریخ : 03/ ذو القعدہ 1436 ھ، م  18، اگست 2015 م

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ، فَأَمِّنُوا، فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ المَلاَئِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ – وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ – وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: آمِينَ . صحيح البخاري:780 الأذان، صحيح مسلم: 410 الصلاة.

ترجمہ  : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  نبی  ﷺ  نےفرمایا : جب امام آمین  کہے تو  تم آمین کہو ، کیونکہ  جس کی آمین  فرشتوں  کے آمین  کے موافق ہوگئی  اس کے پچھلے  گناہ  معاف  کردیئے گئے ، حضرت ابن شہاب زہری رحمہ اللہ  بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بھی آمین کہتے ۔ {صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

تشریح : نبی کریم ﷺ کی سنت  رہی ہے کہ آپ  جب سورہ فاتحہ  سے فارغ ہوتے تو “آمین ”  کہتے،  جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہے ۔ آمین  کا معنی  ہے کہ ” اے اللہ تعالی تو قبول فرما ” یا  ” اے اللہ تعالی تو ایسا ہی کردے “،  کیونکہ سورہ فاتحہ  خاص کر  اس  کا آخری  حصہ اہم  دعاوں پر مشتمل  ہے جس میں بندہ ایک طرف  اللہ تعالی  سے صراط مستقیم  پر گامزن  اور ثابت  قدم رہنے  اور صراط مستقیم  پر گامزن لوگوں  کی صحبت  کی دعا  کرتا ہے  اور دوسری  طرف  صراط مستقیم  سے بھٹکے ہوئے  لوگوں  کے طریقے  اور اس سے بچے  رہنے کی  التجا  کرتاہے ، لہذا  اس دعا کے بعد اللہ تعالی سے مقرر  التجا کرتا  ہے  کہ اے اللہ تعالی  میری  اس دعا کو شرف قبولیت  بخش ، یہ وقت  اس قدر اہم  ہوتا ہے کہ آسمان پر اللہ تعالی  کے فرشتے  بھی آمین کہتے ہیں،  لہذا  مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ بھی آمین  کہیں  کیونکہ  اگر کسی  کا آمین  کا کہنا وقت ، اخلاص اور توجہ کے لحاظ سے فرشتوں  کے آمین کہنے کے موافق  ہوگیا  تو اس کے تمام پچھلے  گناہ معاف کردیئے گئے ۔

آمین نماز کے کاموں  میں سے ایک بڑا اہم عمل ہے  ، نبی ﷺ نے اس کی بڑی اہمیت  بیان فرمائی  ہے لہذا ہر نمازی کو اس سے متعلقہ  چند مسائل کو اچھی طرح  سے سمجھ لینا چاہئے :

[۱] آمین  کا حکم  : آمین بولنا نبی ﷺ کی سنت اور آپ کا تاکیدی حکم  ہے اور اگریہ کہا جائے کہ مقتدیوں کا   امام کے پیچھے  آمین  بولنا  واجب ہے تو شاید بے جا نہ ہو ، کیونکہ  ایک سے زائد  حدیثوں  میں  نبی ﷺ نے اس کا صریحی حکم دیا ہے ، اور اللہ و رسول کا حکم   وجوب  کا درجہ رکھتا ہے ، جیسے  زیر بحث حدیث ،  نیز ایک حدیث  میں ہے کہ امام سے سبقت  نہ لے جاو ، جب امام اللہ اکبر  کہے تو تم اللہ اکبر  کہو اور جب  وہ ولا الضالین  کہے تو تم آمین  کہو ۔ {صحیح مسلم : 415 }۔

[۲] فضیلت : آمین کہنے کی متعدد فضیلتیں  حدیثوں میں وارد ہیں :

  • أ‌- آمین دعا کی قبولیت  کا سبب ہے ، ارشا د  نبوی ہے ، جب امام غیر المغضوب  علیہم ولا الضالین  کہے تو تم آمین کہو ، اللہ تعالی  تمہاری  دعا کو قبول فرمائے گا ۔ {صحیح مسلم، بروایت ابو موسی }  ۔
  • ب‌- امام کے “ولا الضالین ” کہنے پر آسمان میں فرشتے بھی آمین کہتے ہیں ، ارشاد نبوی ہے  :جب تم آمین  بولتے  ہو تو  فرشتے  بھی   آسمان  میں آمین  بولتے ہیں ، اگر دونوں  کی آمین  ایک دوسرے سے مل جائے تو ما سبق  تمام گناہ بخش  دیئے جاتے ہیں ۔ {صحیح بخاری : 781 } ۔
  • ت‌- گناہوں کی معافی : اگر بندوں  کا آمین بولنا  فرشتوں  کے آمین  سے موافقت  کھایا تو  اسکے  تمام پچھلے  گناہ معاف کردیئے  جائیں گے ،  جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ۔
  • ث‌- یہود کو آمین سے چڑھ ہے : نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا یہود حسد کرنے والی قوم ہے  وہ جس قدر تم سے درج ذیل چیزوں پر حسد کرتے ہیں کسی اور چیز پر نہیں کرتے ،۱- اللہ تعالی  نے ہمیں جمعہ  کے دن کی توفیق  بخشی اور وہ اس سے محروم  رہ گئے ، ۔۲- اللہ تعالی  نے ہمیں  قبلہ [ابراہیمی ] کی توفیق بخشی  اور وہ اس سے محروم  رہ گئے ۔ ۳- اور اس  پر کہ ہم  امام کے پیچھے  آمین بولتے ہیں ۔ {مسند احمد :6/135  ، صحیح ابن خزیمہ :574 – سنن ابن ماجہ :856}۔

آمین آہستہ یا آواز سے : نبی کریم ﷺ  اور آپ کے پیچھے  صحابہ کرام کا  آواز سے آمین  کہنا ثابت ہے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث میں بھی  ہے کہ نبی ﷺ  نے فرمایا  : جب  امام آمین کہے تو  تم آمین  کہو ، نیز اس حدیث  میں یہ بھی ہے کہ نبی ﷺ  آمین کہتے تھے ، اسی طرح سنن میں حضرت وائل بن حجر سے مروی ہے کہ  وہ کہتے ہیں  میں نے  سنا کہ نبی ﷺ  نے” غیر المغضوب علیہم  ولا الضالین”  پڑھی اور  آمین کہتے ہوئے  اپنی آواز کو بلند  کیا ، مشہور تابعی  حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ  اس مسجد  یعنی  مسجد حرام میں میں نے دو سو صحابہ کو دیکھا کہ جب امام ولا الضالین  کہتا  تو ان کے آمین  کہنے  کی وجہ سے ایک گونج اٹھتی ۔ {السنن الکبری }۔

آمین کب کہی جائے : زیر بحث حدیث سے واضح  ہوتا ہے کہ مقتدی آمین  امام کے  بعد یا امام  کے ساتھ کہے، اس سے پہلے  کہنے سے بچنا چاہئے  ، کیونکہ  اصل یہ ہے کہ مقتدی  کے تمام اعمال امام  کے تابع ہیں ، نیز فرشتوں  کے آمین کہنے کا وقت  امام کے آمین  کہنے  کے ساتھ  یا اس کے بعد ہے ، لہذا امام سےپہلے  یا” و لا الضالین” پورا کرنے سے قبل آمین  کہنا غیر شرعی فعل ہے ۔

آمین کے بارے میں بعض غلطیاں : بہت سے نماز  آمین کے سلسلے میں بعض غلطیوں کا بھی ارتکاب کرتے ہیں جو قطعا نا مناسب ہے  ، جیسے : بہت  زور سے آمین  بولنا ، یا آمین کے  الف کو بہت  کھینچنا ، یا امام کے ولا الضالین  پورا کرنے سے قبل ہی آمین  بولنا  وغیرہ ۔

فوائد :

  • آمین کی فضیلت و اہمیت اور یہ کہ امام کے پیچھے  اسے آواز سے کہنا سنت ہے ۔
  • بندہ قلب  و قالب سے نماز کی طرف متوجہ رہے  اورامام جو کچھ پڑھ رہا ہے  اس پر دھیان  دے تاکہ  آمین کہنے میں ان فضیلتوں کا حقدار بنے جو اس حدیث میں وارد ہیں ۔
  • آسمان  کے فرشتے بھی زمین  میں موجود  اللہ کے نیک بندوں کے لئے  دعا کرتے ہیں ۔