اجتماعی کھانا/حديث نمبر :213

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :213

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :23/24/ جمادی الآخر 1433 ھ، م 15/14،مئی 2012م

اجتماعی کھانا

عن وحشي بْنُ حَرْبٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلاَ نَشْبَعُ. قَالَ « فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ ». قَالُوا نَعَمْ. قَالَ « فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ ».

( سنن أبوداود : 3764 ، الأطعمة – مسند أحمد :3/501 – سنن ابن ماجه : 3286 ، الأطعمة )

ترجمہ : وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم کھاتے ہیں لیکن سیر نہیں ہوتے ؟ آپ

صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو ؟ انہوں نے جواب میں کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : پس تم کھانے پر ایک ساتھ بیٹھا کر و ، اور اللہ تعالی کا نام لے کر کھایا کرو ، تو تمہارے کھانے میں اللہ تعالی برکت دے گا ۔

{ سنن ابو داود ، سنن ابن ماجہ ، مسند احمد } ۔

تشریح : کھانا ، پانی ، وقت ، مال یا کسی بھی چیز میں برکت دینا صرف اللہ تعالی کا کام ہے، وہ جس چیز کو چاہتا ہے مبارک بنا دیتا ہے کہ مالک یا استعمال کرنے والے کے لئے اس چیز کو مقید بنا دیتا ہے ، اس پر اطمینان اور قناعت کی دولت سے نواز دیتا ہے اور بہت سی چیزوں کا بدل بنا دیتا ہے، اور اللہ تعالی جس چیز کو چاہتا ہے اس سے برکت کو چھین لیتا ہے ، پھر دنیا کی کوئی طاقت اس میں برکت کی نعمت داخل نہیں کرپاتی ، لہذا عاجز و مجبور بندے کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالی سے برکت کا طالب رہے اور ان وسائل کا استعمال کرے جنہیں اللہ تعالی نے اپنی برکت کے حصول کا ذریعہ و سبب بنایا ہے ، مثال کے طور پر ہر انسان کھانا کھاتا ہے لیکن ہر ایک کا کھانا اس کے لئے باعث برکت نہیں ہوتا جس کا سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں یا اپنے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی کھانا کھانے کے جو آداب اور حصول برکت کے جو اسباب بتلائے ہیں ان کا اہتمام نہیں کیا گیا ، پچھلی دو مجلسوں میں ان میں سے بعض آداب کا ذکر کیا گیا ہے ، آج کی مجلس میں بھی کھانے کے بعض آداب ذکر کئے جاتے ہیں ۔

[۱] کھانا اجتماعی طور پر کھایا جائے : اوپر مذکور حدیث میں ہے کہ بعض صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے کھانے میں بے برکتی اور سیر و آسودگی نہ ہونے کی شکایت حکیم امت نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلمسے کی کہ ہم کھاتے ضرور ہیں لیکن کتنا بھی کھا جائیں شکم سیری اور دلی آسودگی حاصل نہیں ہوتی ، لہذا کوئی علاج بتلائیں جو اس مرض کی دوا ہو ، نباض اعظم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ تم لوگ اکیلے اکیلے کھاتے ہو اور ہر ایک اپنے اہل خانہ یا ساتھیوں سے بے نیاز ہوکر الگ الگ کھاتا ہے جس کی وجہ سے بے برکتی ہے ، لہذا کھانے سے پہلے اللہ کا نام لے کر کھاو اور اجتماعی طور پر ایک ہی جگہ مجتمع ہو کر اور ایک ہی برتن میں کھاو ،تو اللہ تعالی برکت نازل فرمائے گا اور تمہیں شکم سیری حاصل ہوگی ۔

اس حدیث میں آج کل کے ان مسلمانوں کے لئے بڑی اہم ہدایت ہے جن کا دعوتوں وغیرہ میں مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنے ارد گرد کے ساتھیوں سے بے نیاز ہوکر صرف اپنی پلیٹ بھرنے سے دلچسپی رکھتا ہے اور پھر بعد میں جتنا کھانا خود نہیں کھاتا اپنے پلیٹ میں اس سے زیادہ کھانا شیطان کے لئے چھوڑ کر رکھ جاتا ہے ۔

[۲] کھانے کے لئے بیٹھنے کے ادب کو ملحوظ رہے : کھانے کا ایک ادب یہ ہے کہ انسان کسی جگہ پر اطمینان سے بیٹھ کر کھانا کھائے اور کھاتے وقت ٹیک نہ لگائے ، نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا { صحیح بخاری } علماء کہتے ہیں کہ کھانے والے کے لئے بیٹھنے کا سب سے مستحب انداز یہ ہے کہ اپنے گھٹنوں کے بل پیروں کے تلووں پر بیٹھے یا دایاں پاوں کھڑا رکھے اور بائیں پر بیٹھے [ فتح الباری ]روایات سے پتہ چلتا ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا اپنا معمول بھی یہی تھا ، چنانچہ عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک بڑا پیالہ تھا جسے غراء کہا جاتا تھا ، اسے چار آدمی اٹھاتے تھے ، جب چاشت کا وقت ہوتا اور صحابہ چاشت کی نماز پڑھ لیتے تو وہ پیالہ لایا جاتا اور اسمیں ثرید تیا ر کی جاتی [ ثرید ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی اور شوربے سے تیا رکیا جاتا ہے ] پس لوگ اس کے ارد گرد جمع ہوجاتے ، جب لوگ زیادہ ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتے ، آپ کی یہ بیٹھک دیکھ کر ایک بدوی نے کہا : یہ کیسی نشست ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : اللہ تعالی نے مجھے مہربان بندہ بنایا ہے ، مجھے تکبر اور عناد رکھنے والا نہیں بنایا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : بسم اللہ کہہ کرکھاو ، اس کے کنارے سے کھاو اور اوپر والا حصہ چھوڑ دو ، اس میں برکت دی جائے گی ۔

[ سنن ابو داود ، الحاکم ] ۔

[۳] کھانے میں عیب نہ لگائے : کھانا کسی قسم کا ہو اسے برا بھلا نہیں کہنا چاہئے ، اس میں عیب چینی نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ سوچنا چاہئے کہ یہ کھانا بھی اللہ کی نعمت ہے ، اگر مجھے پسند نہیں تو کسی اور کو پسند ہوگا ، اگر ہم اس کے محتاج نہیں تو دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں ایسا کھانا بھی نصیب نہیں ہے ، اسی لئے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت مبارکہ یہ تھی آپ نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکالا ، اگر وہ کھانا پسند ہوتا تو کھالیتے اور اگر ناپسند ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے ۔

[صحیح بخاری و صحیح مسلم ] ۔

[۴] کھانا زیادہ گرم نہ کھایا جائے : جلتا ہوا یا بہت زیادہ گرم کھانا کھانا بھی شرعی تعلیمات کے خلاف اور برکت سے خالی ہے ، اس کے استعمال سے بھی غذا کا صحیح مقصد حاصل نہیں ہوتا ، اصول طب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ کھانا زیادہ گرم نہ کھایا جائے ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : وہ کھانا جس کی گرمی کا جوش اور تیزی ختم ہوجائے وہ زیادہ برکت کا باعث ہوتا ہے ۔ [ سنن الدارمی ، صحیح ابن حبان ] ۔

[۵] کھانے کے بعد اللہ تعالی کی حمد اور اس کا شکر : کھانا اللہ تعالی کی نعمت اور اس کا عطا کردہ ہے لہذا ضروری ہے کہ کھانے کے بعد اس کی حمد و ثنا بجا لائی جائے اور اس نعمت پر اس کا شکر ادا کیا جائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے کھانا کھایا پھر یہ دعا پڑھی : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى َرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّى وَلاَ قُوَّةٍ.”تمام تعریفیں اس اللہ تعالی کے لئے ہیں جس نے مجھے یہ کھلایا اور یہ رزق مجھے دیا بغیر میری طاقت یا تدبیر و قوت کے ” تو اس کے اگلے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ۔

{ سنن ابو داود ، الترمذی } ۔

[۶] ہاتھ دھولینا نہ بھولے : کھانا اگر ایسا ہے جس میں چکناہٹ یا کھانے کے بعد ہاتھ میں کچھ ایسی چیزیں لگی رہتی ہیں جس سے جراثیم وغیرہ پھیلنے یا کسی چھوٹے بڑے جانور کے ضرر پہنچا دینے کا خطرہ ہے تو اسے ضرور دھولینا چاہئے ، اسی طرف متنبہ کرتے ہوئے ارشاد نبوی ہے : جو شخص اس حال میں رات گزارے کہ اس کے ہاتھ میں کچھ چکناہٹ وغیرہ لگی ہے اور اسے کوئی تکلیف پہنچ گئی تو وہ اپنے ہی کو ملامت کرے ۔

{ سنن ابو داود ، الترمذی } ۔

فوائد :

۱- اصل برکت اللہ تعالی کی طرف سے ہے ۔

2- کھانے کے سلسلے میں اسلامی آداب کو ملحوظ رکھنا حصول برکت کا سبب ہے ۔

3- اہل خانہ ، ساتھیوں اور باہم سکونت اختیار کرنے والوں کو ایک ساتھ کسی ایک جگہ جمع ہو کر کھانا برکت کا سبب ہے ۔

4 – اگر سارے لوگ حسب استطاعت ایک ہی برتن میں کھائیں تو زیادہ بہتر ہے ۔

ختم شدہ