استغفار کے اوقات / حديث نمبر: 254

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :254

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

استغفار کے اوقات

بتاریخ : 27/ ذو الحجہ   1435 ھ، م  21،اکٹوبر  2014م

عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي، وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللهَ، فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ».

( صحيح مسلم: 2703 الذكر مسند احمد 4/211 سنن ابي داود:1515 الصلاة)

ترجمہ  : حضرت  اغر المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے دل پر بھی  { بعض دفعہ } پردہ سا آجاتا ہے اور میں دن میں سو مرتبہ اللہ تعالی سے استغفار کرتا ہوں ۔ { صحیح مسلم – سنن ابو داود – مسند احمد }

تشریح : پیارے حبیب حضرت محمد ﷺ ہر وقت ذکر الہی میں مشغول رہتے اور آپ کی زبان ہمہ وقت  یاد الہی  سے تر رہتی تھی ، خصوصا تسبیح   وا ستغفار کے الفاظ  تو نبی ﷺ کی زندگی کا ایک حصہ بنے ہوئے  تھے ، یہی وجہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ  ایک مجلس میں میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا  اس مجلس میں  میں نے نبی ﷺ کو سو بار یہ کلمات دہراتے سنا :

اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ، إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ{ مسند احمد :2/67 }

حتی کہ اگر کسی وقت کثرت ہجوم یا عوارض  بشری کے تحت  دل میں سہو و غفلت کا پردہ پڑ جاتا یہ کیفیت اگرچہ بالکل  عارض ہوتی اور لمحہ گراں کی طرح  ہوتی لیکن پھر بھی  آپ جس  مقام رفیع  پر فائز  تھے  اتنی سی غفلت  بھی آپ کو بہت بڑی  محسوس ہوتی اور اسے  کوتاہی  گردان کر اللہ تعالی  سے استغفار  کرتے { ریاض الصالحین  اردو :2/627 }

اور یہ بھی  ہوسکتا ہے کہ اس امت کو سبق  دینا  ہو کہ جب تمہارا نبی  جس کے اگلے پچھلے  تمام گناہ بخش  دئے گئے  ہیں اس کا یہ حال تھا تو تمہیں تو چاہئے کہ اپنے گناہوں اور کوتاہیوں  کے عوض اپنے رب سے بکثرت استغفار کرو ۔

لہذا ہمیں  یہ خصوصی توجہ دینی چاہئے کہ وہ کون کون سے مقام ہیں جہاں  استغفار  کی زیادہ اہمیت ہے ، تاکہ  اگر  ہر وقت ہم استغفار  میں مشغول نہ رہ سکیں تو ان خاص  اوقات میں استغفار کرنا نہ بھولیں  وہ چند اہم مقام یہ ہیں :

[۱] سحر کے وقت : ارشاد نبوی ہے کہ ہر رات جب اس کا آخری حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالی  سمائے  دنیا پر ناز ل ہوتا ہے اور فرماتا ہے کون دعا کررہا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں ، کون کچھ مانگ رہا ہے کہ میں اس کی مانگ پوری کردوں اور کون استغفار  کررہا ہے کہ میں اسے بخش دوں ۔ { صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

[۲] نماز میں : نبی ﷺ کی پوری نماز ہی دعا و استغفار تھی :

تکبیر تحریمہ کے بعد : اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ، كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ المَشْرِقِ وَالمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالبَرَدِ “{ صحیح بخاری  وصحیح مسلم }

رکوع وسجدہ  میں : رکوع و سجد میں یہی دعا آپ بکثرت پڑھتے تھے: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي “{ صحیح بخاری و مسلم }

دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھتے : اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي “

تشہد کے آخر میں  یہ دعا پڑھتے : اللهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلا أَنْتَ{ صحیح مسلم }

سلام پھیرنے کے بعد : کوئی اور ذکر پڑھنے سے قبل تین بار ” استغفراللہ ” کہتے ۔ { صحیح مسلم }

[۳] بیت الخلاء سے نکلنے پر : جب آپ ﷺ بیت  الخلاء سے باہر آتے تو فرماتے  : ” غفرانک ” { مسند احمد } ۔

[۴] مجلس کے برخواست  ہونے پر : جب نبی ﷺ کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو کہتے : سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ،   “اور اسے کفارۃ المجلس کا نام دیتے  ۔ { سنن ابو داود }

[۵] رات میں بیدار یا کروٹ بدلتے وقت : ارشاد نبوی ہے کہ جو شخص  رات میں بیدار ہو اور یہ ذکر پڑھ  لے  : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. سُبْحَانَ اللهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ،  ،

پھر اگر کہے اللھم اغفرلی   یا دعا کرے تو اس کی دعا قبول کی جائے گی ۔ الحدیث  ۔ { صحیح بخاری  صحیح مسلم }

[۶] کسی بھی گناہ یا عمل خیر میں کوتاہی کے وقت : ارشاد باری تعالی ہے : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا {110النساء }جس سے کوئی گناہ کا کام  ہوجائے یا  اپنے  آپ پر ظلم کرے پھر اللہ تعالی سے استغفار  کرلے تو اللہ تعالی کو  بخشنے والا اور رحم کرنے والا پائے گا ۔

[۷] چاند و سورج گرہن یا ایسی کسی ناگہانی حالت میں : نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : سورج اور چاند { اور ان میں گرہن لگنا } اللہ تعالی  کی نشانیوں میں سے ہیں لہذا جب ایسی کوئی صورت حال دیکھو تو اللہ تعالی  کے ذکر ، دعا اور استغفار  کی طرف بڑھو ۔ { صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔