اسلامی آداب/حديث نمبر :18

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :18

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :24/25/ شوال 1428 ھ، م 06/05، نومبر 2007م

اسلامی آداب

عن أبی قتادة رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ذا شرب أحدکم فلا یتنفس فی الناء وذا أتی الخلاء فلا یمس ذکرہ بیمینہ ولا یتمسح بیمینہ ۔

( صحیح البخاری : ١٥٣ ، الوضوء ، صحیح مسلم : ٢٦٧ ، الطہارة )

ترجمہ : حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں کا کوئی شخص کوئی چیز پئے تو برتن میں سانس نہ لے اور جب بیت الخلاء جائے تو اپنے ذَکَر ( آلہء تناسل ) کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرے ۔

( صحیح البخاری – صحیح مسلم )

تشریح : اسلام ایک جامع کمالات اور ہرقسم کی خوبیوں کا حامل مذہب ہے ، اسلام اپنے متبعین کو اچھے اخلاق کی تعلیم دیتا اور برے اخلاق سے روکتا ہے ، عمدہ آداب سکھاتا اور بدخوئی سے دور رکھتا ہے ، صفائی کا حکم دیتا اور گندگی وناپاکی سے منع کرتا ہے ، طہارت ونظافت کے اہتمام پر ابھارتا اور ہر اس چیز کی طرف رہنمائی کرتاہے جس سے صفائی وستھرائی کا دور دورہ ہو۔ زیر بحث حدیث ایسے ہی کچھ عمدہ آداب واخلاق پر مشتمل ہے ۔

(١) پینے والی چیز میں سانس نہ لیا جائے :

یہ چیز ہر شخص کے ملاحظہ میں ہے کہ بعض لوگ خا ص کر بعض عورتیں کبھی کسی گرم مادہ کو ٹھنڈا کرنے کیلئے ، کبھی کسی تنکا وغیرہ کو دور کرنے کیلئے اور کبھی کسی دوسرے مقصد کے تحت پینے کی چیزوں پر پھونک مارتی ہیں اور کبھی کچھ لوگ کسی چیز کو جلدی سے پی ڈالنے کیلئے برتن ہی میں سانس لیتے ہیں،حالانکہ یہ دونوں ہی کام تہذیب سے دور اور پینے والی چیز میں مضر جراثیم کے شامل ہوجانے کا سبب ہیں، بلکہ بسا اوقات اس طرح برتن میں تھوک یا ناک کے ذریعہ غیرمرغوب مادے کا برتن میں پڑجانے کا خطرہ ہے جس سے اوّلا تو انسان کراہت محسوس کرتا ہے،ثانیاً بعد میں پینے والے کی صحت کیلئے نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، اس لئے شریعت نے پینے والے برتن میں سانس لینے یا اس میں پھونک مارنے سے سختی سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے اس ادب نظیف کا ذکر کیا تو کسی صحابی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں بعض دفعہ برتن میں تنکے وغیرہ دیکھتا ہوں تو ایسی صورت میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس میں سے ( کچھ ) پانی انڈیل دو ،اس صحابی نے پھر عرض کیا میں ایک سانس میں سیراب نہیں ہوتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پس اس وقت تم اپنا منھ برتن سے ہٹالو { اور دوسری یا تیسری سانس میں حسب حاجت پیو } ۔

( سنن الترمذی : ١٨٨٧ ، الأشربہ ، عن أبی سعید الخدری )

ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے کہ تم لوگ اونٹ کی مانند ایک ہی سانس میں پانی نہ پیو بلکہ ( رک رک کر ) دو اور تین سانس میں پیا کرو اور جب پینے لگو تو اللہ کا نام لو ( بسم اللہ پڑھو ) اور جب ( فارغ ہوکر ) برتن اٹھائو تو اللہ کی حمد کرو ( الحمد للہ پڑھو )

( سنن الترمذی : ١٨٨٥ ، الأشربہ ، عن ابن عباس )

(٢) دائیں ہاتھ سے شرمگا ہ کونہ چھوئے :

چونکہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ کے مقابلہ میں شریعت کی نظرمیں قابل احترام واکرام ہے ،اس لئے اس سے وہی کا م انجام دئے جائیں جو قابل وقار واحترام ہوں تاکہ دائیں ہاتھ کا وقار قائم رہے، اس لئے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے خاص کر پیشاب کرتے وقت منع کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول بھی یہی تھا کہ آپ کا دایاں ہاتھ آپ کے وضو اور کھانے کیلئے اور بایاں ہاتھ استنجا ء اور دوسرے گندے کاموں کیلئے استعمال ہوتا تھا ۔

( سنن ابو دائود : ٣٣ ، بروایت عائشہ )

(٣) دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کرے :

البتہ استنجاء کرنے میں اگر پانی وغیرہ ڈالنے کیلئے دائیں ہاتھ سے مدد لینے کی ضرورت ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس طرح کہ دائیں ہاتھ سے پانی ڈالے اور بائیں ہاتھ سے صفائی کرے، دائیں ہاتھ سے ڈھیلا پکڑے اور بائیں ہاتھ سے صاف کرے او ر جس جگہ دائیں ہاتھ سے مدد کی ضرورت نہ ہو تو صرف بائیں ہاتھ کا استعمال کرے ۔

البتہ وہ شخص جس کادایاں ہاتھ نہ ہو یا مشلول ہو لو اسکے لئے یہ ممانعت نہیں ہے ،کیونکہ اس صورت میں وہ مجبور ہے کہ دایاں ہاتھ ہی استعمال کرے ۔ واللہ أعلم ۔

فوائد:

1—اسلام طہارت پسند مذہب ہے اور ہر طرح کی صفائی کی ترغیب دیتاہے۔

2—دائیں جانب کا احترام مشروع ہے۔

3—کھانے اور پینے کے برتن میں سانس لینا مکروہ ہے۔

ختم شدہ