اصول دین اسلام / حديث نمبر: 256

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :255

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

اصول دین  اسلام

بتاریخ : 3/ صفر  1436 ھ، م  25،نومبر  2014م

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا , وَحَرَّمَ حُرُمَاتٍ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا , وَحَّدَ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا , وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ مِنْ غَيْرِ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا».( سنن الدار قطني : 4/185 )

ترجمہ  : حضرت  ابو ثعلبہ  الخشنی  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالی نے  بہت سے امور فرض کئے ہیں ، انہیں ضائع نہ کرو اور بہت سی حدیں قائم کی ہیں ان  سے تجاوز نہ کرو ، اور بہت سی چیزوں کو حرام ٹھہرایا  ہے انکا ارتکاب نہ کرو ، اور تمہارے اوپر  بطور رحمت  کے بہت سی چیزوں  کے بارے میں خاموشی اختیار  کی ہے ، لہذا ان کے  پیچھے نہ پڑو ۔ { سنن الدار قطنی } ۔

تشریح : ارشاد باری تعالی ہے : أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ (الأعراف : 54) یاد رکھو  : اللہ تعالی  ہی نے  پیدا کیا ہے اور حکم دینے کا اختیار بھی اسی کو ہے ۔ یعنی جس طرح اس کائنات  کی ہر چیز کا  خالق  اللہ تعالی  ہے اسی طرح ہر  چیز کے بارے میں  حکم  بھی اسی کا چلے گا، یہ  نہیں ہوسکتا کہ پیدا تو اللہ تعالی  کرے اور پرورش کا انتظام  تو اللہ تعالی  چلائے لیکن حکم دینے کا اختیار کسی اور کو دیا جائے  ، ایسا ہرگز نہیں ہے  بلکہ  اس عالم میں وہی اکیلی ذات  ہے جو کسی چیز کو حلال و حرام  قرار دینے کا حق رکھتی  ہے وہی  ہے جو کسی چیز کو واجب و فرض  قرار دینے کا مجال رکھتی ہے اور وہی اکیلی ذات جس کی اجازت سے اللہ کی نبیﷺ کو یہ حق حاصل ہے ۔ درج ذیل حدیث نبوی میں اسی  طرف رہنمائی ملتی ہے ، اس حدیث  میں حلال  وحرام  سے متعلق چار ہدایات ہیں :

[۱] فرائض کی پابندی : بہت سے امور کو اللہ تعالی نے فرض کیا ہے  جیسے نماز و روزہ  حج  و زکاۃ ، والدین کے ساتھ حسن سلوک اور صلہ رحمی وغیرہ،  ان فرائض کا  اہتمام تمام امور پر مقدم ہے اور کسی بہانے سے انکا ترک جائز نہیں ہے ،  اب اگر کوئی اللہ کے فرائض کو ترک کرتا ہے توہ وہ مجرم ہے  ، اس سلسلے میں لوگ  دو ناحیے  سے بڑی کوتاہی کے شکار ہیں ، ایک تو  یہ کہ کچھ لوگ دنیا کی ڈیوٹی اور دنیاوی فرائض کو بڑی دلچسپی اور حسن و خوبی سے انجام دیتے ہیں برخلاف اس کے اللہ تعالی کے فرائض میں  یکسر کوتاہ نظر آتے  ہیں، اور ان سے برے وہ لوگ ہیں جو دنیاوی کام اور مخلوق کی ڈیوٹی  کا بہانہ بنا کر فرض  نماز و  روزہ چھوڑتے نظر آتے ہیں ۔ دوسرے وہ لوگ جو فرائض  کا اہتمام  نہ کرکے نوافل  کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جیسے  کچھ لوگ نماز   وغیرہ کو چھوڑتے رہتے ہیں  اور جب کبھی مسجد میں  آگئے تو بکثرت نوافل پڑھتے نظر آئیں گے  ، وہ لوگ فرض زکاۃ تو  نہ دیں گے البتہ نفلی صدقات بکثرت کریں گے ، وہ لوگ جماعت سے بلکہ  سرے سے نماز پڑھیں گے ہی نہیں  اور نفلی عمرے کے لئے ہر ماہ دیار مقدسہ کا رخ کریں گے ۔ اور ان سے برے وہ لوگ ہیں جو فرض نماز و روزہ اور  زکاۃ کی ادائیگی پر یکسر کوتاہ نظر آتے ہیں البتہ پیروں  و فقیروں  کا نذرانہ  اور جمعرات  کی روٹی  دینے میں ان سے کوئی کوتاہی نہ ہوگی ۔

[۲] حرام چیزوں سے پچنا : جس طرح اللہ تعالی نے کچھ امور کو بندوں پر فرض قرار دیا ہے اسی طرح بہت سی چیزیں بندوں پر حرام ٹھہرائی ہیں جیسے شرک باللہ  ، سود ، زنا ، چوری ، قطع رحمی اور والدین کے ساتھ بدسلوکی وغیرہ ، لہذا جس طرح  بندے پر فرائض  کی پابندی واجب ہے اسی طرح محرمات سے اجتناب بھی ضروری ہے ، قرآن مجید  کی اس آیت کا یہی مفہوم  ہے کہ : وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا. رسول اللہ ﷺ تمہیں جو کچھ دیں اسے لے لو  اور جس چیز  سے روک دیں اس سے رک جاو ۔

بہت سے لوگ فرائض کی پابندی   توحتی المقدور کرلیتے ہیں  لیکن محرمات سے نہیں بچتے، جو نہایت ہی خطرناک اور ایمان و عمل کی بربادی کا سبب ہے ۔

[۳] حدود سے آگے نہ بڑھیں : اللہ تعالی نے جو چیزیں فرض کی ہیں ان کی بھی ایک حد ہے اور جو چیزیں حرام کی ہیں ان کی بھی ایک حد ہے ، ایک بندے سے مطالبہ ہے کہ  وہ اسی حد میں  رہکر  اپنے رب کی عبادت کرے اور اس  سے آگے نہ بڑھے ، چنانچہ جن چیزوں  کو اللہ تعالی نے  بندے کے لئے حلال کیا ہے اسے اپنے  اوپر حرام کرلینا اور جن چیزوں کو  حرام کیا ہے اسے اپنے لئے حلال کرلینا ، جن چیزوں کو  فرائض  میں داخل نہیں کیا ہے اسے فرائض کا حصہ  بنالینا ،جن چیزوں کو سنت و مستحب نہیں بنایا ہے اسے اپنے اوپر مستحب کرلینا ، جس چیز کو مطلق رکھا ہے اس مقید کردینا اور جس چیز کی رخصت دی ہے اس بارے میں  رخصت کو قبول نہ کرنا ، کسی چیز کا جو اجر اللہ تعالی نے نہیں رکھا ہے اس کا کوئی خاص اجر بیان کرنا اور جس گناہ پر کوئی خاص  عذاب نہیں بتلایا ہے اس پر عذاب  متعین کرنا وغیرہ یہ سب حدود اللہ سے تجاوز میں داخل ہے ۔ اسی طرح جن گناہوں پر جو حدیں اللہ تعالی  نے مقرر کی ہیں انہیں  نافذ نہ کرنا اور انہیں  چھوڑ کر ان میں  اپنی طرف سے حدیں اور سزائیں مقرر کرنا وغیرہ یہ ساری  چیزیں  اللہ تعالی کی حدود کو پامال کرنے میں داخل ہیں ۔

[۴] جن چیزوں  کے بارے میں  تفصیل  نہیں بتلائی یا ان کا حکم نہیں بتلایا  ان کے بارے میں کریدنا : چنانچہ بہت سی غیبیات ہیں جن کے بارے میں  شریعت  نے کوئی تفصیل یا ان کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی ہے، لہذا ان کی تفصیلات کے پیچھے  پڑنا اور ان کی کیفیات  اپنے مزاج سے متعین کرنا جائز نہیں ہے ، اسی طرح جن چیزوں کا کوئی  حکم شریعت میں بیان نہیں ہے گویا وہ حلال ہیں اس لئے کہ اگر وہ واجب و مشروع ہوتیں تو شریعت   اس کا حکم  ضرور بیان کرتی اور اگر حرام اور ممنوع ہوتی تو اس  کا ذکر  ضرور آتا  کیونکہ  اللہ تعالی کو بھول اور غفلت لاحق نہیں ہوتی : “لا یضل ربی و لا ینسی ” نہ ہی  میرا رب بھٹکتا ہے  اور نہ ہی  بھولتا ہے ۔ لہذا ایسی چیزوں  سے فائدہ اٹھاو اور ان کو جائز سمجھو ، الا یہ کہ وہ امر عبادات  سے متعلق  ہوتو  اس کے بارے میں  شریعت  نے یہ  اصول دیا ہے کہ : مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ “جس نے ہمارے اس دین میں وہ کام ایجاد کیا جو اس میں نہیں  ہے تو  وہ مردو ہے  { بخاری و مسلم } ۔

فائدے :

  • کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا یہ صرف اللہ تعالی یا اس کی اجازت  سے رسول ﷺ کا کام ہے ۔
  • جس طرح فرائض  کی پابندی  ضروری ہے بعینہ  اسی طرح محرمات  سے اجتناب بھی ضروری ہے ۔
  • اللہ تعالی کی مقرر کردہ  حدوں کو ترک کرنا یا ان سے تجاوز کرنا حرام ہے ۔