اللہ کا واسطہ/حديث نمبر :214

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :214

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :30/01/ جمادی الآخر،رجب 1433 ھ، م 22/21،مئی 2012م

اللہ کا واسطہ

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ وَمَنْ سَأَلَ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ ».

( سنن أبوداؤد :1672 ، الزكاة – سنن النسائي: 2568 ، الزكاة – صحيح ابن حبان : 3400 ، الزكاة )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص [ تم سے ] اللہ تعالی کے واسطے سے پناہ مانگے اسے پناہ دو ، اور جو کوئی اللہ تعالی کےنام سے سوال کرے اس کو دو ، اور جو تمہیں دعوت دے اس کی دعوت کو قبول کرو ، اور جو تمہارے ساتھ کوئی احسان کرے اس کا بدلہ دو ، اور اگر کوئی ایسی چیز نہ ملے جس سے بدلہ دو تو اس کے لئے دعا کرتے رہو ، یہاں تک کہ تم سمجھ لو کہ اس کے احسان کا بدلہ پورا دے دیا ہے ۔

{ سنن ابو داود ، سنن النسائی ، صحیح ابن حبان } ۔

تشریح : اللہ تبارک وتعالی بڑا عظیم ہے ، اس کی صفاتیں بڑی اعلی ہیں اور اس کی قدرت و ربوبیت ہر چیز کو محیط ہے لہذا اس کی عظمت کودھیان میں رکھنا ، اس کی صفات کمال سے غافل نہ رہنا اور اس کی قدرت و ربوبیت پر توجہ دینا توحید کا تقاضا ہے ، اسی لئے مومن بندوں کی صفت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالی فرماتا ہے کہ : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ(الانفال)۔

” بس ایمان والے تو ایسے ہی ہوتے ہیں کہ جب [ ان کے سامنے ] اللہ کا ذکر آتا ہے تو کانپ اٹھتے ہیں، اور جب انہیں اللہ تعالی کی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان میں اضافہ کردیتی ہیں اور اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں ”

گویا حقیقی مومن کی صفت یہ ہے کہ جس جگہ جس موقعہ پر اور جس معاملہ میں اللہ تعالی کا نام لیا جائے وہاں وہ ٹھہر کر یہ سوچے کہ یہاںہم سے کس چیز کا مطالبہ ہے اور ہمیں کس چیز سے روکا جارہا ہے ، بر خلاف اسکے اگر کسی کے نزدیک اللہ تعالی کا حکم اور اس کی آیات کوئی اہمیت نہیں رکھتیں تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دل جلال و عظمت الہی سے خالی ہے ، زیر بحث حدیث ہمیں اسی چیز پر متنبہ کیا جارہا ہے :

[۱] اللہ کے نام کی پناہ : اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ میں تمہارے شر سے اللہ تعالی کی پناہ چاہتا ہوں ، یا میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ، یا تمہیں میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے اس کام سے معذور رکھو ، یا فلاں نے مجھے بہت تنگ کردیا ہے اور آپ کو اللہ تعالی کا واسطہ دیکر کہتا ہوں میری مدد کریں ، ان تمام صورتوں میں اگر اس کا مطالبہ حق بجانب ہے اور مظلوم ہے تو اللہ تعالی کی عظمت و جلال اور اس کے نام کی تعظیم میں اس سے شر کو روکنا اور اس کی مدد کرنا واجب ہوگا اور اس کی مدد سے کنارہ کشی اختیار کرنا توحید میں نقص کی دلیل ہوگی ۔

[۲] اللہ کے نا م سے سوال : جو اللہ کے نام کا وسیلہ دیکر مانگے اسے دو، یعنی جو اگر کوئی شخص اللہ تعالی کا حوالہ دیکر، یا اللہ تعالی کا وسیلہ دیکر، یا یہ کہہ کر مانگتا ہے کہ اللہ تعالی کے مبارک چہرے کا واسطہ ہے تو اسے ضرور دو اور اسکی ضرورت پوری کرو ، اسے واپس کرنا جائز نہ ہوگا بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا : ملعون ہے وہ شخص جو اللہ تعالی کے چہرے کے واسطے سے مانگتا ہے اور وہ بھی ملعون ہے جس سے اللہ تعالی کے چہرے کے حوالے سے مانگا جائے اور وہ نہ دے

{ الطبرانی المجع :3/103 }

لیکن شرط یہ ہے کہ اولا : ایسے سائل کا سوال حق بجانب ہو ۔ ثانیا :جس سے مانگا جارہا ہے اسے خاص کیا جائے ۔ ثالثا : دینے والے کو اس سے کوئی ضرر لاحق نہ ہو ۔ رابعا : کسی ناجائز چیز کا سوال نہ ہو ۔ یہ شرطیں پائی گئیں تو اللہ تعالی کے نام کا واسطہ دیکر مانگنے والے کی مانگ کو اللہ سبحانہ وتعالی کی عظمت و جلال کوسامنے رکھ کر پورا کرناواجب ہوگا اور اس میں کوتاہی کرنا توحید میں خلل کی علامت ہوگی ۔

[۳] دعوت قبول کی جائے : جو تمہیں دعوت دے اس کی دعوت قبول کرو ،، مسلمانوں کے باہمی حقوق میں ایک حق یہ بھی ہے کہ اگر ایک مسلمان دعوت دیتا ہے تو اس کی دعوت قبول کی جائے کیونکہ اس کی دعوت قبول کرنے سے باہمی الفت و محبت بڑھتی ہے اور دعوت قبول نہ کرنے سے اختلاف اور نفرت کا گندہ پھل پنپتا ہے ۔ علماء کہتے ہیں کہ دعوت ولیمہ کا قبول کرنا تو واجب ہے البتہ دوسری دعوت کا قبول کرنا مستحب ہے ، اور عوت ولیمہ کے قبول کے لئے بھی درج ذیل شرطیں ہیں : ۱- دعوت دینے والا ایسا شخص نہ ہو جس سے قطع تعلق شرعا واجب ہے ۔ ۔ ۲- دعوت کی جگہ منکر اور غیر شرعی کاموں کا ارتکاب نہ ہورہا ہو، اور اگر وہاں غیر شرعی امور کا ارتکاب ہے اور اس کا ازالہ ممکن ہے تو بھی حاضری واجب ہوگی ورنہ حاضر ہونا ، ناجائز ہوگا ۔۔ ۳- دعوت میں حاضر ہونے کی وجہ سے کسی نقصان کا خطرہ نہ ہو ۔۔

[۴] احسان کا بدلہ احسان : جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کا بدلہ دو،یعنی بھلائی کا بدلہ چکایا جائے خواہ یہ بھلائِی مادہ یا سامان کی شکل میں ہو جیسے کسی نے ہمیں ہدیہ و تحفہ دیا تو ہم بھی اسے ہدیہ و تحفہ دیں یا کسی نے جسمانی یا زبانی طور پر ہماری مدد کی ہے ، کسی سے ہماری شفارش کی ہے تو ہم بھی موقعہ کی تلاش میں رہیں اور جس طرح بھی ہوسکے ہم اس کی مدد کریں ، اور اگر ہم مادی یا معنوی طور پر اس کا بدلہ نہیں چکا سکتے جیسے وہ حاکم وقت ہے یا اس مقام پر ہے کہ ہم اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتے ، یاہم جیسے لوگوں کا اسے ہدیہ دینا بھی مشکل کام ہے تو اس کے لئے کثرت سے دعا کریں اور اس وقت تک دعا کرتے رہیں کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ اس کے احسان کا بدلہ ادا ہوچکا ہے ، ایسا اس لئے کہ حقیقی توحید یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور کے سامنے ذلت و کمتری کا اظہار نہ کرے اور فطری طور پر انسان جس شخص کے احسان تلے دبا رہتا ہے اس کے سامنے اپنے کو ذلیل محسوس کرتا ہے اور اپنے کو اس کے مقابلے میں ایک گونہ حقیر اور کمتر سمجھتا ہے جو توحید حقیقی کے خلاف ہے ، لہذا بندے سے کہا جارہا ہے کہ وہ محسن کے احسان کا بدلہ حتی الامکان دینے کی کوشش کرے خواہ دعا کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو ۔

فوائد :

۱- اللہ تبارک و تعالی کی عظمت و جلال اور اس پر ایمان تقاضا یہ ہے کہ جس جگہ اور جس موقعہ پر بھی اس کا نام آئے بندہ اس کا لحاظ رکھے ۔

۲- اللہ تعالی کا نام لے کر سوال کرنا منع ہے ، خاص کر ایسے لوگوں کے سامنے جن کے نزدیک اللہ کی کوئی قدر نہیں ہے ۔

۳- اللہ تعالی کے حوالے سے مانگنے والے کی ضرورت پوری کرنی چاہئے ، تاہم اگر کسی کی بابت یقین ہو کہ وہ پیشہ ور گداگر ہے اور حقیقت میں ضرورت مند نہیں ہے ، تو اس کو دینا ضروری نہیں ہے ۔

۴- مسلمان کی دعوت قبول کرنا ضروری ہے بشرط یہ کہ وہاں کسی منکر کام کا ارتکاب نہ ہورہا ہو ۔

ختم شدہ