امانت بمقابلہ خیانت / حديث نمبر: 255

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :255

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

امانت بمقابلہ خیانت

بتاریخ : 25/ محرم   1436 ھ، م  18،نومبر  2014م

عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله – صلَّى الله عليه وسلم -: “أدِّ الأمانةَ إلى مَنِ ائْتمَنكَ، ولا تَخُن مَنْ خَانَك
( سنن أبي داود: 3537 – سنن الترمذي :1264 – مسند أحمد :24/150 )
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: جس نے تمہیں امانت سونپی ہے اسے مکمل ادا کرواور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت مت کرو ۔ { سنن ابو داود – سنن ترمذی – مسند احمد } ۔
تشریح : اللہ تعالی فرماتا ہے : إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا (الأحزاب:72)ہم نے امانت کو آسمانوں اور زمین پر اور پہاڑوں پر پیش کیا، لیکن سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے مگر انسان نے اسے اٹھالیا ،وہ بڑا ہی ظالم و جاہل ہے ۔ اس آیت میں لفظ” امانت” بڑا ہی وسیع اورجامع معنی میں استعمال ہوا ہے، اور اس میں پورادین اور تمام تکالیف شرعیہ داخل ہیں، چنانچہ اس امانت اور اس کی مکمل ادائیگی کا تعلق بندے اور اس کے خالق سے بھی ہے جیسے توحید ، نماز اور روزہ وغیرہ جن کا ادا کرنا ضروری ہے، اور اس امانت کا تعلق بندے اور اس کے نفس سے بھی ہے کہ وہ اپنے نفس کو ان اعمال کی ادائیگی پر مجبور کر ے جو اس کے خالق کے نزدیک باعث اجر ہیں اور ان اعمال کے ارتکاب سے روکے جو خالق کی ناراضگی کا سبب بنیں ، اسی طرح اس امانت کا تعلق بندے اور اللہ تعالی کی مخلوق سے بھی ہے ۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک لمبی حدیث میں فرماتے ہیں :نماز امانت ہے ، وضو امانت ہے ،وزن امانت ، ناپ و کیل امانت ہے ، اس کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں شمار کیں اور پھر فرمایا : اس معاملے میں سب سے سخت معاملہ و دیعت { امانت میں رکھی ہوئی چیز } کا ہے ۔ { شعب الایمان :7/207 } ۔
زیر بحث حدیث میں یہی آخری امر مراد ہے یعنی جو امانت بندے اور اللہ تعالی کی مخلوق کے درمیان ہے ،یہی چیز ہے جس سے متعلق اللہ تعالی فرماتا ہے : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا ( النساء :58)
اللہ تعالی تمہیں حکم دے دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں انہیں پہنچادو اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا :”لا ایمان لمن لا امانۃ لہ ” { مسند احمد بروایت انس } جو امانت کا پاس و لحاظ نہیں رکھتا وہ ایمان والا نہیں ہے ۔ اس آیت و حدیث میں امانت سے مراد ہر وہ چیز ہے جو کسی کے سپرد بطور حفاظت کے ہو، خواہ وہ ودیعت کی شکل میں ہو یا کسی کے پاس بطور اتفاق کے ہو ،جیسے وہ مال جو شریک تجارت کے پاس بطور مضاربت موجود ہو ، یا کسی کے ہاتھ کوئی پڑی ہوئی
چیز لگ جائے یا اڑتی ہوئی اور بھٹکتی ہوئی کوئی چیز کسی کی ملکیت تک پہنچ ، بلکہ اگر کسی کا کوئی حق کسی پر باقی ہے توہ وہ بھی امانت ہے ، اگر کسی کا کوئی راز کسی کے پاس ہے تو وہ بھی امانت ہے، اگر کوئی کسی مجلس میں ہے اور اس میں
کوئی راز کی بات ہورہی ہے تو وہ بھی امانت ہے ، نبی ﷺ کا ارشاد ہے : المجالس بالامانۃ { سنن ابو داود – مسنداحمد ، بروایت جابر } ۔ مجلسوں میں جو باتیں ہوتی ہیں وہ امانت ہیں ۔حتی کہ اگر کوئی کسی جگہ پر نوکر ہے تو وہاں بھی وقت کی پابندی امانت ہے، کام کو اچھے ڈھنگ سے ادا کرنا امانت ہے ، کام سے متعلقہ چیزوں کی حفاظت امانت ہے وغیرہ وغیرہ ، نیز اگر کسی کو کوئی بھلی بات معلوم ہے تو اس کا بتانا امانت ہے ، اپنے بھائیوں کو صحیح مشورہ دینا بھی امانت ہے ۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو امانت کا معاملہ بہت وسیع ہے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن کی تعلیمات کی روشنی میں کامیابی کی ایک علامت امانت کا پاس و لحاظ رکھنا بھی ہے ۔ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (المؤمنون :8)نیز نبی ﷺ نے نفاق کی ایک نشانی امانت میں خیانت بھی بتلائی ہے، چنانچہ ارشاد ہے کہ منافق کی تین علامتیں ہیں : ۱- بات کرے تو جھوٹ بولے ۔ ۲- وعدہ کرے تو اس کے خلاف چلے ۔ ۳- اور اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے ۔ { بخاری و مسلم } ۔ ۔۔۔زیر بحث حدیث میں اسی امانت سے متعلق دو حکم بیان ہوئےہیں :
[۱] امانت کو مکمل طور پر ادا کیا جائے ۔ یہ حکم واجب ہے بلکہ ایسے ہی واجب ہے جیسا دیگر تکالیف شرعیہ کی پابندی واجب ہے اور اس کا ترک گناہ کبیرہ ہے ، بلکہ جو امانت میں خیانت کرے اس سے ایمان کی نفی کی گئی ہے اور ایسے شخص کو منافق کہا گیا ہے ۔
[۲] اس حدیث میں دوسرا حکم یہ بیان ہوا ہے کہ خیانت کا بدلہ خیانت سے نہ دیا جائے ، یعنی خیانت جس طرح ابتداء حرام ہے اور اس کا مرتکب اگر اللہ تعالی کے راستے میں شہید بھی ہوجائے تو بھی اس کی بخشش نہیں ہے ، اس طرح بدلے میں بھی کسی کے ساتھ خیانت جائز نہیں ہے ، جیسے کسی نے آپ کا مال چوری کیا تو آپ اس کے عوض اس کا مال بھی چرالیں ، کسی نے آپ کے بیٹے کو مارا تو آپ اس کے بیٹے کو ماریں ، اگر کسی نے آپ کی عزت پر حملہ کیا تو آپ اس کی بھی عزت پر حملہ کریں ، اگر کسی نے آپ کے مال کو ہٹرپ کیا تو آپ بھی اس کا مال ہڑپ کریں وغیر ،اس کی وضاحت اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے، چنانچہ مشہور تابعی یعنی یوسف بن ماہک المکی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ فلاں شخص کئی یتیموں کے سرپرست تھے اور میں ان کا خرچ لکھا کرتا تھا ، یتیموں نے انہیں ایک ہزار درہم کا مغالطہ دیا تو اسے انہوں نے ادا کردیا ، پھر ایک بار ایسا ہوا کہ یتیموں کے مال کا دوہزار میرے پاس آیا جس کا کوئی حساب نہیں تھا ، میں نے ان صحابی سے کہا کہ آپ اپنا حق لے لیجئے، انہوں نے جواب دیا :نہیں میں ایسا نہیں کرسکتا، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : جو تجھے امین بنائے اسے اس کی امانت واپس کردو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرےتو بدلے میں اس کے ساتھ خیانت نہ کرو ۔
فوائد :
1) امانت کی اہمیت کہ وہ دین کا ایک حصہ بلکہ پورا دین ہے ۔
2) بدلے میں خیانت کرنا بھی ویسے ہی حرام ہے جیسے ابتداء خیانت کرنا حرام ہے ۔
3) خیانت کرنا نفاق کی نشانی ہے ۔