کام آسان مگر ناکام انسان/حديث نمبر :24

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :24

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :18/19/صفر 1429 ھ، م 26/25، فروی 2008م

کام آسان مگر ناکام انسان

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « خَصْلَتَانِ أَوْ خَلَّتَانِ لاَ يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلاَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ يُسَبِّحُ فِى دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُكَبِّرُ عَشْرًا فَذَلِكَ خَمْسُونَ وَمِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ وَخَمْسُمِائَةٍ فِى الْمِيزَانِ وَيُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلاَثِينَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ وَيَحْمَدُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ وَيُسَبِّحُ ثَلاَثًا وَثَلاَثِينَ فَذَلِكَ مِائَةٌ بِاللِّسَانِ وَأَلْفٌ فِى الْمِيزَانِ ». فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ قَالَ « يَأْتِى أَحَدَكُمْ – يَعْنِى الشَّيْطَانَ – فِى مَنَامِهِ فَيُنَوِّمُهُ قَبْلَ أَنْ يَقُولَهُ وَيَأْتِيهِ فِى صَلاَتِهِ فَيُذَكِّرُهُ حَاجَةً قَبْلَ أَنْ يَقُولَهَا ».

( سنن التزمذی : ٣٤١٠ ، الدعوات ، سنن أبودائود : ٥٠٦٥ ، الأدب ، مسند أحمد : ج: ٢ ، ص: ١٦١ ، ١٦٢ )

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو مسلمان بھی دو کام پر مداومت کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا ، وہ دونوں کام ہیں تو بہت آسان لیکن اس پر عمل کرنے والے لوگ کم ہی ہیں ( پہلا کام ) ہر نماز کے بعد دس بار سبحان اللہ دس بار الحمد للہ اور دس بار اللہ اکبر کہنا، راوی کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بتلاتے جارہے تھے اور اپنے ہاتھوں پر شمار کراتے جارہے تھے ، آپ نے فرمایا : یہ شمار میں تو دیڑھ سو (150 )ہیں البتہ ترازو میں دیڑھ ہزار ( 1500) ہیں، ( دوسرا کام ) اور جب اپنے بستر پر سونے کیلئے جاؤ تو سبحان اللہ ، الحمد للہ اور اللہ اکبر سوبار کہو یہ شمار میں تو سو ہی ہیں البتہ ترازو میں ایک ہزار ہیں، پھر تم میں کون شخص ایسا ہوگا جو دو ہزار پانچ سوگنا کرتا ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم اس ذکر کا اہتمام کیوں نہیں کرسکتے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک شخص نماز میں ہوتا ہے اور شیطان اسکے پاس آکر کہتا ہے : فلاں چیز یاد کرو ، فلاں چیز یاد کرو ، چنانچہ وہ شخص نماز سے فارغ ہوکر ( اس کام میں مشغول ہوجاتا ہے اور ) اس ذکر کا اہتمام نہیں کرپاتا ، اسی طرح جب وہ اپنے بستر پر سونے کیلئے جاتا ہے تو شیطان اسے برابر تھپکیاں دیتا رہتا ہے یہاں تک وہ ( اس ذکر کا اہتمام کئے بغیر ) سوجاتا ہے ۔

( ابودائود ، ترمذی ، أحمد )

تشریح : رب کریم کا یہ بہت بڑا فضل عظیم ہے کہ اس نے اپنے ضعیف وکمزور بندوں کى ہر قسم کے خیر پر رہنمائی کی ہے اور ہر قسم کے شر سے متنبہ کیا ہے ،اسکا ایک بہت بڑا فضل یہ بھی ہے کہ اس نے ایک نیکی پر کم از کم دس گنا اجر دینے کا وعدہ فرمایا ہے ، زیر بحث حدیث میں اللہ تعالی کے ایسے ہی ایک فضل کا بیان ہے ، چنانچہ اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ایسے عمل بتلائے ہیں جن پر عمل کرنا تو بہت ہی آسان ہے البتہ اسکا اہتمام کرلینا جنت میں داخلہ کے سبب ہیں ۔

٭پہلا عمل یہ ہے کہ بندہ مومن جب اپنی نماز سے فارغ ہو تو کسی دوسرے کام میں مشغول ہونے سے قبل ( تین بار ) استغفر اللہ ، پھر ایک بار اللھم أنت السلام ومنک السلام ، تبارکت یا ذالجلال والکرام

( صحیح مسلم )

اسکے بعد ایک بار: لا لہ لا اللہ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر ،اللھم لا مانع لما أعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد

( صحیح بخاری ومسلم )

کے بعد دس دس بار سبحان اللہ ، الحمد للہ ، اللہ اکبر ، کہہ لے، بظاہر تو یہ بہت ہی معمولی كام ہے لیکن اس معمولی عمل پر اسے تین سو نیکیاں ملتی ہیں اسطرح پانچ نمازوں میں ملا کر یہ کلمات کل 150 بار ہونگے ، جنکا اجر 1500 کے برابر ہوگا ۔

٭دوسرا عمل یہ کہ جب بندہ اپنے بستر پر جائے تو دائیں کروٹ لیٹ کر تسبیح فاطمی یعنی ٣٣ بار سبحان اللہ ،٣٣ بار الحمد للہ ،٣٤ بار اللہ اکبر ، کہہ لے ، اسطرح یہ کلمات گنتی میں تو سو ہیں لیکن اجر میں ایک ہزار کے برابر ہیں ،گویا بغیر کسی مشقت اور وقت کے بندہ مومن چند منٹ میں ڈھائی ہزار نیکیاں اپنے نامہء اعمال میں جمع کرسکتا ہے ،کیونکہ اللہ تعالی کے نزدیک ایک نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے ۔

اس کام کی اہمیت کے پیش نظر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ابھارنے کا ایک اور اسلوب اختیار کیا کہ نیکیوں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس سے بندوں کے گناہ خصوصا صغائر معاف کردئے جاتے ہیں ، “ان الحسنات یذھبن السیئات ” نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں ،اور چونکہ ہر شخص گناہ کرتا ہے پھر عادتاً ایک سچے مسلمان سے یہ بعید ہے کہ چوبیس گھنٹے میں اس سے ڈھائی ہزار گناہ سرزد ہوں ، اسطرح یہ نیکیاں اسکے لئے درجات کی بلندی کا بھی سبب بنتی ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب یہ نیکیاں اسکے گناہوں سے زیادہ ہیں تو بہت ہی غیر معقول بات ہے کہ تم لوگ اسکا اہتمام نہ کرو، بلکہ چاہئے کہ اس نیک عمل کو ہر گز نہ چھوڑو ، بلکہ اسکا اہتمام کرو ۔

اب ہر شخص کو اس پر تعجب ہوگا کہ جب عمل اس قدر آسان ہے اور اس پر اجر اس قدر عظیم ہے تو پھر کوتاہی کیوں ہوگی اسی لئے صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اس عمل کا ثواب اتنا بڑا ہے تو اس پر عمل کرنے والے لوگ کم کیوں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہوتایوں ہے کہ بندہ ابھی نماز ہی میں ہوتا ہے کہ شیطان اسکے پاس آکر متعدد کا م یا د دلاتا ہے ، اس کا م کی اہمیت پر توجہ دلاتا ہے ، اسکے فوت ہونے کا خوف دل میں ڈالتا ہے ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نمازی سلام پھیرنے کے فورا بعد اس کام میں مشغول ہوجاتا ہے اور یہ ذکر کئے بغیر اٹھکر چلا جاتا ہے ، یہی حربہ شیطان سونے کے وقت بھی استعمال کرتا ہے ، نتیجہ سونے والا دوسرے خیالات میں مشغول ہوکر سوجاتا ہے اور اس ذکر کا اہتمام نہیں کرتا ۔

فوائد.

(١) نماز کے بعد ذکر و اذکار کی اہمیت ۔

(٢) تسبیح فاطمی کی اہمیت ۔

(٣) قیامت کے دن بندوں کے اعمال کا تولہ جانا برحق ہے ۔

(٤) شیطان انسان کو ہر نیک کام سے روکتا ہے ۔

ختم شدہ