ايمان کا اتار چڑھاو

بسم الله الرحمن الرحيم

ايمان کا اتار چڑھاو

ایک مومن کا ایمان کب بڑھتا ہے اور کب گھٹتاہے مطالعہ کریں ۔۔۔۔

ایک مومن مرد وعورت کیلئے انتہائی ضروری ہیکہ وہ ہمیشہ اپنے ایمان کو کتاب و سنت کے ترازو میں تولتا رہے اور یہ دیکھتا رہے کہ اسکا ایمان اس دنیا کی خطرناک مارکٹ میں کس قدر گراوٹ کا شکار ہورہا ہے ، وہ اپنے ایمان کو کتنے وائرس سے بچا پارہا ہے ، یقینا آج ہماری نظریں شئیر مارکٹ میں لگے اپنے شیئرس پر ٹکٹکی تو باندھی تو ہوئی ہیں کہ جانے کب اور کس لمحہ ہمارے شیئرس کمزور ہوجائیں اور ہمیں یہ فکر تو لاحق ہوتی ہے کہ ہم اپنے گرتے حصوں کو کیسے کھڑا کریں ، لیکن عجیب سی بات ہے کہ ہمیں اپنے سب سے قیمتی سرمایہ اپنے ایمان کے کمی و زیادتی کی فکر نہیں ہوتی جبکہ سیرت رسول r کے ذریعہ یہ بتایا گیا کہ خبردار ایمان یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے ایک مرتبہ خرید لیا جائے اور اسے اپنے کھاتے میں خاندان در خاندان فکس کردیا جائے ، بلکہ ایمان کیلئےضروری ہیکہ ایک مسلمان ہمیشہ اپنی توجہ اسکی طرف مائل رکھے ، اور اس بات کا علم رکھے کہ کونسی چیزیں اسے نقصان پہنچاتی ہیں اور کن چیزوں سے اسے قوت ملتی ہے اس علم کے ساتھ وہ ان چیزوں کو اختیار کرے جن سے ایمان کو جلا ملتی ہے اور ان چیزوں سے کنارہ کشی اختیار کرلے جن سے ایمان پارہ پارہ ہوجاتا ہے ، لہذا اس مضمون میں قرآن وسنت سے اسی بات کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ کونسے اسباب ہیں جو ایمان میں اضافہ کا باعث بنتے ہیں اور کونسے ایسے اسباب جو ایمان کیلئے خطرہ اور اس میں کمی کا باعث بنتے ہیں :

سب سے پہلے ہم مطالعہ کرتے ہیں ان اسباب کا جن سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں :

زیادتی کے اسباب :

پہلا سبب : اللہ تعالی کے اسماء وصفات کی معرفت ، بلا شک انسان کو اللہ تعالی کے اسماء وصفات کی معرفت جتنی زیادہ ہو گی اتنا ہی اس کا ایمان زیادہ ہو گا اسی لئے آپ اہل علم کو جنہیں اللہ تعالی کے اسماء و صفات کا علم دوسروں سے زیادہ ہوتا ہے انہیںایمان میں دوسروں سے قوی الایمان پائیں گے ۔

دوسرا سبب : اللہ تعالی کی کونی اور شرعی نشانیوں میں غور وفکر تو انسان جتنا زیادہ جہان کے اندر مخلوقات میں غور وفکر کرے گا اتنا ہی اس کا ایمان زیادہ ہو گا ۔

فرمان باری تعالی ہے :” وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِلْمُوقِنِينَ )20)وَفِي أَنْفُسِكُمْ أَفَلا تُبْصِرُونَ )21)

اور یقین والوں کے لئے تو زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ) الذاریات / 20 – 21 )

تیسرا سبب : کثرت اطاعت : کیونکہ انسان جتنی اطاعت زیادہ کرے گا اس کا اتنا ہی ایمان بھی زیادہ ہو گا چاہے یہ اطاعت قولی ہو یا فعلی تو اللہ کا ذکر ایمان کی کیفیت اور کمیت کو بھی زیادہ کرتا ہے نماز روزہ اور حج بھی ایمان کی کیفیت اور کمیت کو زیادہ کرتا ہے ۔

یہ تھے وہ اسباب جو ایک مومن کے ایمان کو قوی و مضبوط کرتے ہیں جنہیں ہم نے اختصار کے ساتھ پیش کیا ، آگے ان اسباب کا ذکر کیا جارہا ہے جن سے ایمان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ، جو ایمان کی کمی کا باعث بنتے ہیں اور وہ یہ ہیں :

ایمان میں کمی کے اسباب :

پہلا سبب : اللہ تعالی کے اسماء وصفات سے جہالت کی بنا پر ایمان میں نقص پیدا ہوتا ہے کیونکہ جب اللہ تعالی کے اسماء وصفات میں انسان کی معرفت کم ہوتی ہے تو اس کا ایمان بھی ناقص ہو جاتا ہے ۔

دوسرا سبب : اللہ تعالی کی کونی اور شرعی نشانیوں میں غور و فکر اور تدبر سے اعراض کیونکہ یہ نقص ایمان کا سبب بنتا ہے یا پھر کم از کم اسے وہیں ٹھرا دیتا اور اسے بڑھنے نہیں دیتا ۔

تیسرا سبب : معصیت اور گناہ کا ارتکاب کیونکہ گناہ کا دل اور ایمان پر بہت بڑا اثر ہے اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے : ) زانی جب زنا کر رہا ہوتا ہے تو وہ اس وقت مومن نہیں ہوتا)

چوتھا سبب : اتباع واطاعت نہ کرنا ترک اطاعت یقینی طور پر نقص ایمان کا سبب ہے لیکن اگر اطاعت واجب ہو اور اسے بغیر کسی عذر کے ترک کیا جائے تو وہ ایسا نقص ہے جس پر سزا اور ملامت بھی ہو گی اور اگر اطاعت واجب نہیں یا پھر واجب تھی لیکن اسے کسی عذر کی بنا پر ترک کیا گیا تو وہ ایسا نقص ہے جس پر سزا اور ملامت بھی ہو گی اور اگر اطاعت واجب نہیں یا پھر واجب تھی لیکن اسے کسی عذر کی بنا پر ترک کیا گیا تو وہ ایسا نقص ہے جو کہ ملامت والا نہیں تو اسی لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ناقص العقل اور دین قرار دیا او اس کے نقص دین کی علت یہ بیان فرمائی کہ جب اسے حیض آتا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھتی اور نہ ہی روزہ رکھتی ہے حالانکہ حالت حیض میں نماز اور روزہ چھوڑنا ملامت کا کام نہیں بلکہ اسی کا حکم ہے لیکن وہ فعل جو کہ مرد کرتا ہےجب اس سے وہ چھوٹ گیا تو اسی وجہ سے وہ ناقص العقل ہوئی .

) مجموع فتاوی ورسائل الشیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ)

**** مذکورہ تفصیل کو اگر اختصار کےساتھ آپ اپنے ذہن نشین کرلینا چاہتے ہیں تو کبار مشائخ کی دو مفید نصیحتیں ہیں جن کے ذریعہ ہم اپنے دینی مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔

111221[ 1 ] ہم آپ کو نصیحت کرتے ہیں کہ قرآن کریم کثرت سے تلاوت اور اس کی سماعت کیا کریں اور جو پڑھیں اور سنیں اس کے معانی پر حسب استطاعت غور وفکر کیا کریں تو جو چیز آپ کو مشکل لگے اسے اپنے ملک میں اہل علم سے پوچھ لیں یا پھر علماۓ اہل سنت سے لکھ کر معلوم کر لیا کریں –

مثلا لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر وغیرہ

اور اس کے متعلق ابن تیمیہ کی کتاب ) ‏الکلم الطیب (اور ابن قیم کی ) الوابل الصیب( اور امام نووی کی )ریاض الصالحین ( اور ) الاذکار النوویۃ ( اور اس طرح کی کتابیں پڑھیں –

کیونکہ اللہ تعالی کا ذکر ایمان میں زیادتی اور دل کے اطمینان کا سبب ہے –

فرمان باری تعالی ہے ” : أَلا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ” سورة الرعد (28)

” خبردار اللہ تعالی کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں ”

اور نماز اور روزوں اور باقی ارکان اسلام کی پابندی کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی رحمت کی امید اور اپنے معاملات میں اس پر توکل کریں –

فرمان باری تعالی ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَاناً وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3)أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4) سورة الأنفال

” ایمان والے تو وہ ہیں کہ جب اللہ تعالی کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب اللہ تعالی کی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمانکو اور زیادہ کر دیتی ہیں اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں جو کہ نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے ان کو جو کچھ دیا ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں یہی لوگ سچے ایمان والے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے پاس بڑے درجے اور مغفرت اور عزت کی روزی ہے”

مستقل فتوی کمیٹی ) اللجنۃ الدائمۃ 3/ 185 – 186 )

2 [ 2 ] اللہ تعالی کی اطاعت سے ایمان زیادہ اور معصیت سے اس میں کمی واقع ہوتی ہے تو آپ پر جو اللہ تعالی نے نماز کی ادائیگی بروقت اور مسجد میں واجب کی اس کی حفاظت کریں اور اسی طرح دلی لگاؤ سے زکوۃ کی ادائیگی آپ کے گناہوں سے پاکی اور فقراء اور مساکین کے لے رحمت کا باعث ہو گی –

آپ اہل خیر اور اچھے لوگوں کی مجلس اختیار کریں جو کہ آپ کے لئے شریعت کی تطبیق میں معاون ثابت ہو گی اور وہ دنیا وآخرت کی سعادت کی طرف آپ کی رہنمائی کریں گے –

اور برے بدعتی اور گناہ گار لوگوں سے دور رہیں تا کہ وہ آپ کو کہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں اور آپ میں خیر و بھلائی کے عزم کو کمزور نہ کر دیں –

اور کثرت سے نوافل اور خیر وبھلائی کے کام کرتے رہیں اور اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتے رہو اور اس سے توفیق طلب کرتے رہو–

اگر آپ نے یہ کام سر انجام دئے تو اللہ تعالی آپ کے ایمان کو زیادہ کر دے گا اور جو آپ سے بھلائی کے کام چھوٹ گۓ ہیں آپ انہیں حاصل کر سکیں گے اور اللہ تعالی اسلام کی راہ پر آپ کے احسان اور استقامت میں زیادتی فرمائے –

اللجنۃ الدائمۃ للافتاء ) 3/ 187 (

*** يا مقلب القلوب ثبت قلبي على دينك ***