بات قوم ماضی کی / حديث نمبر: 257

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :257

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بات قوم ماضی کی

بتاریخ : 10/ صفر  1436 ھ، م  02،ڈسمبر  2014م

عَنْ أَبي مَسْعُودٍ الأنصاري رضي الله عنه قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ” إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ “

.( صحيح البخاري : 3484، الأنبياء – سنن أبوداؤد:4797، الأدب – سنن ابن ماجة :4183 ، الزهد )

ترجمہ  : حضرت  ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ نے فرمایا : پہلے انبیاء علیہم السلام  کے کلام میں سے جو باتیں لوگوں نے حاصل کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے : جب تو شرم نہ کرے تو جو چاہے کر ۔ { صحیح بخاری – سنن ابو داود – سنن ابن ماجہ } ۔

تشریح : بنی نوع انسان  میں  جو عمدہ خصلتیں  اللہ تعالی نے ودیعت کی ہیں اور ان کے ساتھ وہ خود بھی متصف ہے ان میں سے ایک حیا و شرم بھی ہے ،حیا  “انسانی فطرت کا وہ وصف ہے جس سے  اس کی بہت سی اخلاقی خوبیوں کی پرورش ہوتی ہے ، عفت و پاکبازی کا دامن اس کی بدولت  ہر داغ سے پاک رہتا ہے ، درخواست  کرنے والوں کو محروم نہ پھیرنا اسی وصف کا خاصہ ہے ، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مروت اور چشم پوشی اسی کا اثر ہے اوربہت سے گناہوں سے پرہیز اسی وصف کی برکت ہے ” {سیرۃ النبی ﷺ:6/214 }

یہی وجہ ہے کہ حدیثوں میں حیا کی بڑی فضیلت ، اہمیت اور اس سے متصف ہونے کی ترغیب وارد ہے ۔ نبی ﷺ نے فرمایا : ایمان کی ستر سے زائد شاخیں ہیں اور حیا بھی  ایمان کی ایک شاخ ہے ۔ { بخاری و مسلم } ۔  ایک اور حدیث میں ہے “حیا سے صرف  بھلائی ہی پہنچتی ہے” ۔ { بخاری  و مسلم } ۔

ایک اور روایت میں ہے کہ : حیا تو سب خیر ہی خیر ہے ۔ { بخاری } ۔

حیا کی اہمیت  بیان کرتے ہوئے  فرمایا : حیا ایمان کا ایک حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کا سبب ہے اور بے حیائی بدسلوکی  ہےا ور بدسلوکی جہنم میں جانے کا سبب ہے ۔ { ترمذی } ۔

ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا : ہر دین کا ایک خلق ہے اور اسلام کا خلق  حیا ہے ۔ {ابن ماجہ } ۔

یعنی اسلام سے متصف بندے کی یہ صفت ہوتی ہے وہ حیا سے متصف ہونا ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بے حیائی  اور فحاشی  کے کاموں   سے منع فرمایا ہے ، چنانچہ نبی ﷺ نے بے شرمی اور بدکلامی کو نفاق کی علامت بتلائی ہے ۔ { ترمذی } ایک صحابی سے آپ نے فرمایا : اپنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ ہر ایک سے اپنی شرمگاہ چھپاو ۔ {ابوداود}

اور حقیقت بھی ہے کہ جب انسان کی آنکھ سے شرم  کا پانی اتر جائے اور  عورت کے سرپر سے حیا کی چادر گر جائے تو وہ کوئی بھی کام کرسکتا ہے اور اسے کسی بھی غلط کام کے کرنے میں  ذرہ سا تامل نہیں ہوتا ،یہی معنی ہے زیربحث حدیث کا ،

لہذا ایک مسلمان کو اپنے اندر سے حیا کی صفت کو ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔

واضح رہے کہ یہ حیا خالق سے بھی ہونی چاہئے اور مخلوق سے بھی  ، خالق سے حیا یہ ہے کہ  بندہ ہر چھوٹے بڑے گناہوں سے پرہیز کرے  ،نبی ﷺ نے ایک بار صحابہ  سے فرمایا : اللہ تعالی سے ویسے ہی شرم کرو جیسا اس سے شرم کرنے کا حق ہے ،  –پھر اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ–  جو اللہ تعالی سے شرم کا حق ادا کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے سر اور سر کے اردگرد جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرے ، یعنی  کان ، ہاتھ اور زبان وغیرہ،   پیٹ اور اس کے اردگرد جو چیزیں ہیں ان کی حفاظت کرے، جیسے ہاتھ پیر اور شرمگاہ وغیرہ ، موت اور موت کے بعد  سڑگل جانے کو یاد رکھے اور جو آخرت چاہتا ہے اسے چاہئے کہ دنیا کی زینت ترک کردے، تو جس نے ایسا کیا اس نے اللہ تعالی سے شرم کا حق ادا کردیا ۔ { سنن ترمذی } ۔

اسی طرح اللہ تعالی سے حیا میں ہر وہ امر بھی داخل ہے جس کی وجہ سے وہ مخلوق سے شرم کرتا ہے ، اسی لئے جب نبی ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی تنہا ہے تو برہنہ  رہ سکتا ہے؟  تو آپ نے فرمایا : اللہ تعالی اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۔ { ابوداود ، ترمذی } ۔

مخلوق سے حیا  یہ ہے کہ جس کام کے ارتکاب سے اسے عیب دلایا جائے اس کا ارتکاب نہ کرے خواہ اس کا تعلق خالق سے ہو یا مخلوق سے ، جیسے بے پردہ  ہونا ،  فحش کلامی کرنا ، کسی کا مال چھین  لینا وغیرہ ، چنانچہ حدیث میں  وارد ہے کہ” گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے  اور لوگوں کا دیکھ لینا تجھے پسند نہ ہو” ۔ نیز یہ بھی واضح رہے کہ  شرم ایک اچھی چیز ہے لیکن اگر اس کے ساتھ بزدلی پائی گئی یا شرم  کرنے سے کوئی شرعی مصلحت فوت ہورہی ہو تو وہاں شرم اچھی چیز نہیں ہے  بلکہ وہاں شرم  کا دامن چھوڑ دینا ہی اصل عقلمندی ہے ، جیسے اگر شرم کسی شرعی کام کے اظہار و ارتکاب میں  رکاوٹ  بن رہی ہے تو وہاں  شرم  نہ کی جائے  گی بلکہ حق کے اظہار کا موقعہ ہو یا وعظ ونصیحت  اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا معاملہ ہو یا کسی کی اصلاح یا کسی عبادت کی ادائیگی  کی بات ہو تو  وہاں شرم کرنا جہاں  شرع کے خلاف ہے وہیں عقل سلیم کے بھی خلاف ہے ، اسی لئے اللہ تعالی فرماتا ہے : إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي أَنْ يَضْرِبَ مَثَلًا مَا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا  اللہ تعالی کو اس میں کوئی عار نہیں ہے کہ وہ مچھر یا  اس سے بھی حقیر کسی چیز کی مثال دے ۔

کیونکہ  اگر اس میں مخلوق  کا فائدہ ہے اور بندوں کو اس سے عبرت حاصل  ہوتی ہے تو ایسے حقیر چیزوں کی مثال سے عار نہیں کرنا چاہئے ۔

فوائد :

  • شرم و حیا کی اہمیت کہ وہ ایمان کا ایک حصہ ہے ۔
  • اگر کوئی عمل لوگوں کی نظر میں باعث شرم ہے لیکن اس میں کوئی شرعی مصلحت ہے تو اس کے ارتکاب میں کوئی گناہ  نہیں ہے ۔

لوگوں سے شرم کی وجہ سے کوئی شرعی کام ترک کرنا یہ حیا نہیں بلکہ بزدلی ہے ۔