برائی کو بھلا جاننا/حديث نمبر :209

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :209

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :24/25/ جمادی الاول 1433 ھ، م 17/16،اپریل 2012م

برائی کو بھلا جاننا

عن أبي مَالِكٍ أَوْ أَبي عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ أنه سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ وَلَيَنْزِلَنَّ أَقْوَامٌ إِلَى جَنْبِ عَلَمٍ يَرُوحُ عَلَيْهِمْ بِسَارِحَةٍ لَهُمْ يَأْتِيهِمْ يَعْنِي الْفَقِيرَ لِحَاجَةٍ فَيَقُولُونَ ارْجِعْ إِلَيْنَا غَدًا فَيُبَيِّتُهُمْ اللَّهُ وَيَضَعُ الْعَلَمَ وَيَمْسَخُ آخَرِينَ قِرَدَةً وَخَنَازِيرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ

( صحيح البخاري : 5590، الأشربة – سنن ابو داود : 4039 ، اللباس )

ترجمہ :حضرت ابو مالک یا ابو حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے میری امت میں ایسے لوگ یقینا پیدا ہوں گے جو شرمگاہ [ زنا ] کو ، ریشم کو ، شراب کو ، ساز و موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے ، اور [ انہیں میں کی ] ایک جماعت کسی پہاڑ کے دامن میں ڈیرہ ڈالے گی جن کے پاس ان کا چرواہا شام کو ان کے ریوڑ لیکر آئے گا ، ان کے پاس ایک صاحب حاجت آئے گا تو وہ اس سے کہیں گے کل ہمارے پاس آنا [ تو تمہیں ہم دیں گے ] پھر اللہ تعالی رات ہی میں انہیں ہلاک کردیگا اور پہاڑ کو ان پر ڈھا دیگا اور کچھ دوسروں کی [ جو پہاڑ کے نیچے نہ دبیں گے ] شکلیں قیامت تک کے لئے بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ کردیگا ۔

{ صحیح بخاری ، سنن ابو داود } ۔

تشریح : اللہ کی معصیت ہر حال میں بری اور رحمان کی ناراضگی کا سبب ہے لیکن اگر اس معصیت کو معصیت سمجھا ہی نہ جائے بلکہ حیلے بہانے اور ناموں کو تبدیل کرکے اسے حلال سمجھ لیا جائے اور اللہ تعالی کی پکڑ سے بے خوف ہوکر علی الاعلان اسکا ارتکاب کیا جائے تو یہی جرم در جرم اوراللہ تعالی کے ساتھ بغاوت میں داخل ہے ، جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی ایسے لوگوں پر سے اپنی رحمت و عافیت کو اٹھا لیتا ہے ، برکتوں کو چھین لیتا ہے ، عقل و سمجھ پر پردہ ڈال دیتا ہے اور بسا اوقات ان میں سے بہت سوں کو بھیانک عذاب جیسے زلزلہ ، طوفان ، پتھروں کی بارش اور تباہ کن سیلاب کے ذریعہ ہلاک کردیتا ہے ، زیر بحث حدیث میں کچھ ایسے ہی لوگوں کا ذکر ہے کہ ان کی زندگی عیش وعشرت میں گزر رہی ہوگی ، اللہ تعالی نے انہیں لباس و خوراک ہر قسم کی نعمتوں سے نوازا ہوگا لیکن وہ لوگ اللہ تعالی کی دی ہوئی ان نعمتوں کا شکریہ ادا نہ کرکے اور جائز و حلال خوراک و پوشاک پر صبر نہ کرکے حرام خوراک و پوشاک استعمال کریں گے ، اپنی زندگی کے قیمتی لمحوں کو ذکر و اذکار ، تلاوت قرآن اور عبادت کے کاموں میں صرف کرنے کے بجائے ساز و سارنگی اور گانے و قوالی میں صرف کریں گے ، اپنے فرصت کے وقت کو مسجدوں اور عبادت گاہوں میں صرف کرنے کے بجائے شہر سے دور پہاڑوں اور پارکوں میں گزاریں گے ، مال کو زکاۃ و صدقہ کی شکل میں غریبوں کو دینے کے بجائے ناجائز عیش کوشی میں خرچ کریں گے جب کوئی محتاج ان کے پاس آئے گا تو ٹال مٹول سے کام لیں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالی ان میں سے کچھ پر پہاڑوں کو ڈھادے گا ، برف کے تودے ان پر آ پڑیں گے ، ان میں سے بعض کو بندروں اور سوروں کی شکل میں مسخ کردےگا اور کچھ کی عقل و سمجھ پر اس طرح پردہ ڈال دے گا کہ وہ بھلائی کو بھلائی اور برائی کو برائی نہ سمجھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زیر بحث حدیث میں خصوصی طور پر جن جرموں کا ذکر ہے وہ درج ذیل ہیں :

[۱] شرمگاہ کو حلال سمجھنا : اس سے مراد عام طور پر علماء نے زنا لیا ہے یعنی وہ لوگ زنا جیسی حرکت کا ارتکاب کریں گے اور اسے تفریح ، تہذیب اور دیگر خوبصورت ناموں سے یاد کریں گے ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شرمگاہ سےصرف زنا ہی نہیں بلکہ اجنبی عورتوں کی پوشیدہ زینتوں حتی کہ ان کی شرمگاہوں کو دیکھنا بھی مراد ہو جیساکہ آج میگزینوں ، ٹی وی چینلوں اور انٹرنیٹ کی سائٹوں پر بالکل عام ہے ، آج یہ چیز اس قدر عام ہوچکی ہے کہ اسے برا نہیں سمجھا جاتا ۔

[۲] ریشم : ریشم کو اللہ تعالی نے مردوں پر حرام قرار دیا ہے اور اس سے متعلق فرمایا کہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنے گا اللہ تعالی اسے جنت کے ریشم سے محروم رکھے گا ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم برایت عمر } ۔

[۳] شراب : اسلام نے شراب کو اس کے تمام انواع کے ساتھ حرام اور ہر برائی کی جڑ قرار دیا ہے خواہ وہ کسی بھی چیز سے بنی ہو اور اس کی مقدار کچھ بھی ہو وہ ہر حال میں حرام ہے بلکہ صرف شراب پینے والا ہی نہیں بلکہ شراب پلانے والا ، شراب بنانے والا ، شراب بیچنے والا ، شراب خریدنے والا ، شراب لانے والا اور اس کی قیمت کھانے والا سب کے سب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ملعون قرار دئے گئے ہیں

{ ابو داود ، الترمذی ، ابن ماجہ } ۔

بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ شرابی شرب پینے کی حالت میں مومن نہیں رہتا [ کتب ستہ ]- اللہ کی پناہ- اس کا معنی ہے کہ اگر اسی حالت میں اس کا نتقال ہوجائے تو اس کا انتقال حالت کفر میں ہوا ۔ ۔۔۔ان تمام وعیدوں کے باوجود آج مسلم معاشروں میں شراب پینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے اور اب اسے حرام اور کبیرہ سمجھنے کے بجائے تہذیب ، ترقی اور تقدم کی علامت سمجھا جارہا ہے ۔ الامان الحفیظ ۔ ۔۔

[۴] ساز وموسیقی : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی نے میرے اوپر شراب ، جوا ، طبلہ اور باجے کو حرام قرار دیا ہے ۔

{ مسند احمد ، سنن ابو داود ، سنن الترمذی ، بروایت ابن عمرو }

نیز فرمایا : میری امت کے کچھ لوگوں پر پتھروں کی بارش ہوگی ، ان کی صورتیں مسخ کردی جائیں گی ، اور انہیں زمین میں دھنسا دیا جائے گا ، پوچھا گیا : یا رسول اللہ ، ایسا کب ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جب ساز و موسیقی عام ہوں گے ، گانے والیوں کی کثرت ہوگی ، اور شراب بکثرت پی جائے گی ۔

{ سنن الترمذی ، بروایت عمران } ۔

۔۔۔۔ان تمام تاکیدات کے باوجود آج امت کا بہت بڑا طبقہ ساز و رنگ میںمست ہے ، حتی کہ امت کا ایک بہت بڑا طبقہ اسے حرام سمجھتا ہی نہیں بلکہ کچھ لوگ تو ایسے ملیں گے جو اسے دین سمجھ رہے ہیں ۔عیاذ باللہ ۔

فائدے :

۱- شراب ، زنا اور گانے باجے شریعت اسلامیہ میں حرام ہیں ۔

۲- قوالی حرام اور ذکر الہی سے دور کرنے والی چیز ہے ۔

۳- حیلہ بہانے سے کسی حرام چیز کو حلال کرنا بہت بڑا جرم ہے ۔

۴- بعض گنہگاروں پر اللہ تعالی بعض دنیاوی عذاب نازل کرتا ہے تاکہ لوگوں کے لئے باعث عبرت ہوں ۔

ختم شدہ