بیماری کے باطنی اسباب؟/حديث نمبر :208

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :208

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بتاریخ :10/11/ جمادی الاول 1433 ھ، م 03/02،اپریل 2012م

بیماری کے باطنی اسباب؟

قسط : 1/2

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , قَالَ : أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : ” يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ , خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ , وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنَّ , لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ , حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا إِلَّا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالْأَوْجَاعُالَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلَافِهِمُ الَّذِينَ مَضَوْا , وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِلَّا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ , وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ , وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ , وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ إِلَّا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ , وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ إِلَّا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ , فَأَخَذُوا بَعْضَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ، وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ ” .

( سنن ابن ماجه :2019 الفتن – الطبراني الأوسط :4668 ،5 /320 – مستدرك الحاكم :4/540)

ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے مہاجروں کی جماعت ! پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جب تم ان میں مبتلا ہوگئے [ تو تمہارا اللہ ہی خیر کرے ] اور میں اللہ تعالی سے اس کی پناہ چاہتا ہوں کہ یہ چیزیں تم تک پہنچیں ، جب بھی کسی قوم میں بے حیائی و بدکاری عام ہوجائے اور لوگ اس کا ارتکاب علانیہ کرنے لگیں تو ان میں طاعون اور ایسی ایسی [ خطرناک ] بیماریاں پھیل جاتی ہیں جو ان کے گزرے ہوئے بزرگوں میں نہ تھیں ، اور جب [کوئی قوم ] ناپ تول میں کمی کرتی ہے تو قحط سالی ، روزی کی تنگی اور بادشاہوں کا ظلم ان پر مسلط ہوجاتا ہے ، اور جب [ کوئی قوم ] اپنے مالوں کی زکاۃ دینا بند کردے تو ان سے آسمان کی بارش روک لی جاتی ہے ، اگر جانور نہ ہوں تو ان پر بارش بالکل ہی نہ ہو ، اور جب [ کوئی قوم ] اللہ تعالی اور اس کے رسول علیہ الصلاۃ و السلام کے عہد کو توڑ دیتی ہے تو ان پر دوسری قوموں سے دشمن مسلط کردئے جاتے ہیں جو ان کے ہاتھوں میں جو کچھ ہے ان میں سے کچھ چھین لیتے ہیں ، اور جب کسی قوم کے حکام اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے اور جو کچھ اللہ تعالی نے اتارا ہے اسے اختیار نہیں کرتے تو اللہ تعالی انہیں آ پس میں لڑا دیتا ہے ۔

{ سنن ابن ماجہ ، الطبرانی الاوسط ، الحاکم } ۔

تشریح : ارشاد باری تعالی ہے : [وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ القُرَى آَمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ]{الأعراف:966} ” اور اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتیں کھول کر رکھ دیتے ، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی وجہ سے انکو پکڑ لیا ” ۔

اللہ تبارک وتعالی ہی ہر قسم کی نعمتوں کا مالک ، خالق اور اس میں تصرف کا حق رکھتا ہے خواہ وہ نعمت امن و امان کی صورت میں ہو ، مال و دولت کی صورت میں ہو یا باہمی پیار و محبت کی صورت میں، لہذا وہ جسے چاہتا ہے ان نعمتوں سے نوازتا اور جن سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے ، لیکن بظاہر اللہ تعالی نے ان نعمتوں کے وجود کے لئے کچھ اسباب رکھے ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق باطنی امور سے ہے

جسے مادیت پر نظر رکھنے والے لوگ نہیں سمجھتے اور کچھ کا تعلق ظاہری امور سے ہے جن پر مادہ پرست لوگ مکمل اعتماد کرتے ہیں، جب کہ اللہ تعالی نے ظاہری اسباب کو باطنی اسباب کے تابع بنایا ہے ، جب بندے باطنی اسباب جو ایمان وعمل صالح کی شکل میں ہے اختیار کرتے ہیں تو ظاہری اسباب خود بخود وجود میں آجاتے ہیں ، لہذا دنیا میں ہر اعتبار سے خیر عام ہوتا ہے، لوگ امن وامان اور عیش و عشرت سے مالا مال ہوتے ہیں لیکن اگر باطنی اسباب سے دور ہٹ کر صرف ظاہری اسباب پر توجہ دی جاتی ہے اور اس پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے ، تو دنیا کی اصلاح کا کام کبھی بھی مکمل نہیں ہوتا، بلکہ اہل دنیا کو ظاہری و باطنی ہر قسم کی پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑتا ہے جیسا کہ آج ہر صاحب بصیرت انسان اس کا مشاہدہ کررہا ہے کہ انہیں باطنی اسباب سے کنارہ کشی کی وجہ سے آج دنیا کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ، چنانچہ :

[۱] ظاہر وباطن کی پاکیزگی انسان کے صحت مند ہونے کی ضمانت ہے لیکن دنیا کے باسندے جب صرف ظاہری پاکی پر توجہ دیں اور ضرورت سے زیادہ توجہ دیں اور باطنی طہارت یعنی نفس شہوت اور اخلاق کی پاکیزگی سے انسان کنارہ کش ہوکر زنا ، لواطت اور سحاق جیسی گندگیوں میں مبتلا ہوجائیں تو اللہ تعالی ان سے صحت کی نعمت کو چھین کر انہیں ایسی ایسی لا علاج بیماریوں میں مبتلا کردیتا ہے جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتیں ۔

[۲] انسان انس سے اور مسلمان سلم سے بنا ہے اور ان دونوں لفظوں میں یہ معنی داخل ہے کہ ایک انسان اپنے بھائی کا خیر خواہ و مددگار رہے اور اس کے لئے وہی کچھ پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے لیکن جب انسان خود غرض ، مصلحت پسند ، دھوکہ باز اور اپنے بھائی کے ساتھ خیانت کرنے والا بن جائے اور ناپ تول میں کمی اور دھوکہ بازی سے کام لینے لگے تو اللہ تعالی بھی اس کے عوض اس سے روزی کی برکت یعنی تنگی عیش ،ا ور روزی کا اصل مصدر یعنی بارش کو اس سے روک دیتا ہے اور چونکہ وہ ناپ تول میں کمی کرکے اپنے بھائی کا ظلما حق لے لیتا ہے لہذا اللہ تعالی اس کے حاکم وبادشاہ کے دل کو اس کے بارے میں سخت کردیتا ہے ، نتیجۃ وہ بھی ہر طرح سے ان پر ظلم کرنا شروع کردیتے ہیں ۔

[۳] مال و دولت کا اصل مالک اللہ تعالی ہے اور انسان کو اس میں جائز تصرف کرنے کے لئے بطور نائب مقرر کیا ہے : [آَمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ] {الحديد:77} ” لہذا تم اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ اور اس مال سے خرچ کرو جس پر اللہ تعالی نے تمہیں جانشیں بنایا ہے ۔ [وَآَتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي آَتَاكُمْ] {النور:333} ” اور تم لوگ اللہ کے اس مال میں سے انہیں دو جو تمہیں اس نے دیا ہے” ، اس حکم الہی اور قانون ربانی کا تقاضا ہے کہ مالداروں کے مال میں غریبوں کا ایک لازمی اور مقرر شدہ حصہ ہو لیکن جب مالدار انسان غریبوں کے اس حق میں خود مختار ہو کر بیٹھ جاتا ہے تو رزق کے اصل مصدر یعنی بارش کو اللہ تعالی انسانوں سے روک لیتا ، لیکن چونکہ اس دنیا میں کچھ ایسی مخلوقات بھی ہیں جو انسانوں کے اس جرم میں شریک نہیں ہیں لہذا ان پر رحم کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی کچھ بارش نازل کردیتا ہے ، ورنہ زمین پر بارش کا ایک خطرہ بھی نہ گرے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلسلہ جاری ہے ۔۔۔۔۔۔