بے عقل فتنے / حديث نمبر: 251

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :251

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

بے عقل فتنے

بتاریخ : / ذو القعدہ  1435 ھ، م  9،ستمبر  2014م

ترجمہ : حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت سے قبل ھرج واقع ہوگا ، میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ھرج کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا قتل و غارت ، کچھ مسلمانوں نے کہا : اللہ کے رسول ، اب بھی تو ہم مشرکوں کو ایک سال میں اتنا اتنا قتل کردیتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مشرکوں کا قتل مراد نہیں ہے بلکہ تم لوگ ایک دوسرے کو قتل کروگے حتی کہ آدمی اپنے پڑوسی اپنے چچا زاد بھائی اور اوراپنے رشتہ دار کو قتل کردےگا ، بعض افراد نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! کیا ان دنوں میں ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ، آپ نے فرمایا : نہیں اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور بعد میں ایسے لوگ آئیں گے جو گرد وغبار کی طرح [ بےوزن ] ہونگے ، ان کےپاس عقلیں نہیں ہونگی ۔
{ سنن ابن ماجہ – مسند احمد – صحیح ابن حبان }
تشریح : قیامت سے قبل بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے ، ان میں سے ایک ہم فتنہ مسلمانوں کا باہمی قتل وقتال ہے ، جس کا ذکر زیر بحث حدیث اور اس طرح کہ متعدد حدیثوں میں وارد ہیں ، انہیں سامنے رکھ کر درج ذیل امور پر توجہ دینی چاہئے :
[۱] اس امت میں فتنوں کی کثرت ہوگی جن کے اثر سے لوگوں کے اندر سے عدل و انصاف ، حق و ناحق حتی کہ معقول و غیر معقول کی تمیز ختم ہوجائے گی ، جیسا کہ زیربحث حدیث میں ہے کہ اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی ، اس کی مزید وضاحت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فرمان سے ہوتی ہے : اس امت پر پانچ اہم فتنے پیدا ہوں گے ایک عام فتنہ ، ایک خاص فتنہ ، پھر ایک فتنہ پھر ایک خاص فتنہ پھر اندھا ، بہرا اور تہ بتہ فتنہ ظاہر ہوگا ، جس میں لوگ حیوانوں کے مانند [ بے عقل ، بے حیا اور بدخلق ] ہوجائیں گے ۔ { مستدرک الحاکم : 4/437 – مصنف عبد الرزاق :11/356 – مصنف ابن ابی شیبہ :15/24 ، عن ابی طالب }۔
ان فتنوں کی خطرناکی کو نبی ﷺ نے اپنی درج ذیل حدیث میں اس طرح واضح فرمایا ہے :
قیامت سے قبل دھواں کے ٹکٹروں کی طرح فتنے ظاہر ہوں گے ، جس کے اثر سے آدمی کا دل اسی طرح مردہ ہوجائے گا جس طرح اس کا جسم مردہ ہوجاتا ہے ، نتیجۃ آدمی صبح کو مومن رہے گا اور شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مومن ہوگا تو صبح کو کافر ہوجائے گا ، ایسے موقعہ پر کچھ لوگ اپنے اخلاق و دین کو دنیا کے معمولی فائدے کے عوض بیچ دیں گے ۔

[2] انہیں فتنوں میں ایک اہم فتنہ مسلمانوں کے درمیان خونریزی اور قتل و غارتگری ہے ، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ۔
[۳] باہمی قتال قیامت کی ان نشانیوں میں سے ہے جو شروع ہوچکی ہے اور برابر جاری ہے :
اس کی ابتدا قتل عثمان ، پھر جنگ جمل اور صفین سے ہوئی اور برابر جاری ہے ، جس کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان قتل ہوچکے ہیں اور ہورہے ہیں ، اللہ تعالی اس قتل کو ان کے لئے رحمت کا سبب بنائے ۔
[۴] باہمی قتل وقتال کے فتنوں سے بچنے کی سب سے آسان راہ یہ ہے کہ ان سے دور رہا جائے :
حضرت کرز بن علقمہ الخزاعی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ کیا اسلام کے لئے کوئی انتہا بھی ہے ؟ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : عرب و عجم کے جن اہل خانہ کے بارے میں اللہ تعالی نے خیر لکھا ہوگا وہ اس دین میں داخل ہوں گے ، اسی صحابی نے مزید سوال کیا کہ پھر اس کے بعد کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : پھر تو بدلی کے ٹکڑوں کی طرح فتنے ظاہر ہوں گے ، اس شخص نے گھبرا کر کہا : ان شاء اللہ ایسا کبھی نہ ہوگا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ایسا ہی ہوگا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، پھر تم لوگ [ اس فتنے کے اثر سے ] بڑے کالے ناگ کی طرح ایک دوسرے کو ڈھنسنا شروع کردو گے اور ایک دوسرے کی گردن مارنا شروع کردو گے ، پھر تو اس وقت سب سے اچھا مومن وہ ہوگا جس کسی گھاٹی میں کنارہ کشی اختیار کرلے گا ، اللہ تعالی سے ڈرتا ہوگا ، اور لوگوں کو اپنے شر سے دور رکھے گا ۔ { مسند احمد : 3/477 – صحیح ابن حبان : 5956 } ۔
ایک اور حدیث میں ارشاد نبوی ہے : قیامت سے پہلے اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح فتنے اٹھیں گے ، جن کے اثر سے آدمی صبح کو مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا ، ان فتنوں سے بیٹھا ہوا [ اس میں شرکت نہ کرنے والا ] کھڑے ہوئے سے بہتر ہے ، ان میں کھڑا ہو اچلتے ہوئے سے بہتر ہے اور چلتا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہے ، صحابہ نے عرض کیا : ایسے موقعہ پر آپ ہمیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اپنے گھروں کی چٹائی بن جاو [ یعنی اپنے گھروں میں ٹک جاو ] ۔ { سنن ابو داود : 4262 ، عن ابی موسی } ۔
[۵] اس فتنے کا سبب بننے والے لوگ اور اسے ہوا دینے والے لوگ گمراہ اور صراط قویم سے ہٹے ہوئے ہیں ، خواہ وہ کتنی ہی عمدہ باتیں کریں ، چنانچہ اس حدیث کے بعض روایتوں میں یہ الفاظ نبوی موجود ہیں : اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھیں لی جائیں گی اور ان کے جانشیں ایسے لوگ بنیں گے جو بالکل بے وزن ہوں گے ، ان میں کے اکثر لوگ یہ سمجھیں گے کہ وہ کسی صحیح منہج پر ہیں حالانکہ وہ کسی بھی منہج پر نہ ہونگے ۔