تلاوت اور مشقت/حديث نمبر :07

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :07

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :28/29/ ربیع الاول 1428 ھ، م 17/16،اپریل 2007م

تلاوت اور مشقت

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ وَالَّذِى يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ لَهُ أَجْرَانِ ».

صحيح البخاري:4937التفسير، صحيح مسلم: 798 المسافرين.

ترجمہ : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جوشخص قرآن پڑھتا ہے اور وہ اس کا حافظ ہے [ یا اس میں مہارت رکھتا ہے ] تو وہ [ قیامت والے دن ] بزرگ ، نیکو کار فرشتوں کے ساتھ ہوگا ، اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے ، اس کا اہتمام کرتا اور مشقت سے پڑھتا ہے، اسے دگنا اجر ہے ۔

{ بخاری و مسلم } ۔

تشریح : قرآن مجید اللہ تعالی کی مقدس کتاب اور اس کی طرف سے بندوں کے لئے ایک قیمتی تحفہ ہے ، اللہ تعالی نے اس کی حفاظت ،اس کا سیکھنا سکھانا اور اس کے مطابق عمل کرنا بندوں پر فرض قرار دیا ہے اور اس کی تعلیم و تعلم پر بہترین اجر کا وعدہ کیا ہے ، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ : ( خيركم من تعلم القرآن وعلمه )

{ صحیح بخاری : 5027 } ۔

” تم میں سے بہتر وہ ہے جو قرآن پڑھنے پڑھانے کا اہتمام کرتا ہے ” ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے کتاب الہی [ قرآن مجید ] کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے ایک نیکی ہے اور نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے ، میں نہیں کہتا کہ ” الم ” ایک حرف ہے ، بلکہ ” الف ” ایک حرف ہے ، ” لام ” ایک حرف ہے اور ” میم ” ایک حرف ہ ۔ [ یعنی “الم ” پڑھنے پر تیس نیکیاں ملتی ہیں ]۔

{ سنن الترمذی :2910 }۔

اس لئے ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اولا : و ہ قرآن مجید کو پڑھے ، اس کے حروف و حرکات کو درست کرے ۔ ثانیا : جس قدر میسر ہو قرآن مجید کو یاد کرے، اس لئے کہ اہل علم کہتے ہیں کہ جنت کی سیڑھیاں قرآن مجید کی آیات کے مقدار ہیں ، لہذا جو شخص جس قدر زیادہ مقدار میں قرآں کو یاد کرے گا اسکا مقام اتنا ہی اونچا ہوگا۔

صحیح الترغیب والترہیب۔

ثالثا : اس کے مطابق عمل کرے ، اس لئے کہ قرآن کے نزول کا اصل مقصد ہی عمل کرنا ہے ، اور احادیث میں وارد اجر وثواب کا حقیقی مستحق وہی شخص ہے جو قرآن مجیدکے اس حق کو پورا کرتا ہے، ایسے ہی صاحب قرآن سے متعلق ارشاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: قیامت کے دن قرآن کو اور ان لوگوں کو جو دنیا میں اسپر عمل کرتے رہے ہیں بارگاہ الہی میں حاضر کیا جائے گا ،سورہ بقرہ اور آل عمران ان کے آگے آگے ہوں گی ،اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔

[صحیح مسلم]۔

اوپر مذکور حدیث میں تقریبا انہیں باتوں پر ترغیب اور ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے ، یعنی جو شخص قرآن پڑھتا ہے ، صحت کے ساتھ قرآن مجید کو پڑھنے میں مہارت حاصل کرتا ہے،

اسے یادکرتا ہے تو ایسا شخص قیامت کے دن بڑے اونچے مقام پر فائز ہوگا ، اللہ تعالی اسے نیکوکار بلند مقام فرشتوں کی صف میں کھڑا کرے گا ، کیونکہ اس نے قرآن پڑھنے اور اسے یاد کرنے میں مہارت حاصل کرکے اس کی حفاظت کی ہے تو گویا وہ ان بزرگ فرشتوں کے مشابہ ہے جو قرآن مجید کولوح محفوظ سے نقل کرتے اور اسے اللہ کے رسولوں تک پہنچاتے ہیں ،جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے : فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ (13) مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ (14) بِأَيْدِي سَفَرَةٍ (15) كِرَامٍ بَرَرَةٍ (16)عبس.

” یہ تو پر عظمت صحیفوں میں ہے ، جو بلند و بالا اور پاک صاف ہیں ، ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہے جو بزرگ اور پاک باز ہیں ” ۔

لیکن وہ لوگ جوقرآن مجید کے حافظ نہیں ہیں وہ قرآن کو آسانی سے نہیں پڑھ سکتے، انہوں نے اسے پڑھنے میں مہارت حاصل نہیں کی تو انہیں پریشان نہیں ہونا چاہئے بلکہ انہیں قرآن پڑھنے ،سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اس بارے میں جو پریشانی ہو اسےبرداشت کرنا چاہئے اور خوشخبری سن لینی چاہئے کہ اللہ تعالی ان کی اس مشقت کی وجہ سے انہیں دہرے اجر سے نوازے گا ،یعنی گویا انہیں ایک حرف پر دس نیکیوں کے بجائے بیس نیکیاں ملنے والی ہیں ، اللہ ہم میں سے ہر شخص کو توفیق بخشے ، آمین ، قرآن مجید کو پڑھنے ، اس کو سیکھنے اور اسپر عمل کرنے میں اگر مشقت وپریشانی اور رکاوٹیں درپیش ہوں تو اسے مایوس اور شرم وحیا سے کام نہیں لینا چاہئے کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن قرآن مجید ایسے آدمی کی شکل میں آئے گا جس کا رنگ بدلا ہوا ہوگا، اپنے پڑھنے والے سے کہے گا ، کیا تو مجھے پہچانتا ہے ؟ میں وہی [ قرآن ] ہوں جس نے تمہیں بیدار رکھا اور دوپہر میں پیاسا رکھا ، ہر تاجر اپنی تجارت کے فائدے کی امید رکھتا ہے اور میں آج تیرے لئے ہر تجارت سے بڑھ کر ہوں ، چنانچہ ملک اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا جنت یا دوام و بقا اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، اس کے سر پر وقار و عزت کا تاج رکھا جائے گا اور اس کے والدین کو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے کہ اہل دنیا اس کی قیمت کا اندازہ نہیں کرسکتے ، چنانچہ وہ دونوں کہیں گے کہ اے اللہ یہ جوڑے مجھے کس وجہ سے پہنچائے جارہے ہیں ؟ جو اب دیا جائے گا اس وجہ سے کہ تم دونوں نے اپنے بچے کو قرآن کی تعلیم دی ہے اور صاحب قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتا جا اور جنت کی سیڑھیوں پر چڑھتا جا تو قرآن کو ٹھہرٹھہر کر اسی طرح پڑھ جس طرح دنیا میں پڑھتا رہا ہے کیونکہ تیری منزل وہی پر ہے جہاں تو آخری آیت پڑھتے ہوئے رکے گا ۔

{ مسند احمد : ج:5، ص: 348 – الطبرانی :6/357 }

فوائد :

۱- قرآن مجید کی عظمت و فضیلت اور اس کی اہمیت ۔

۲- حافظ قرآن اور قرآن میں مہارت رکھنے والے کی فضیلت ۔

۳- اجر مشقت وپریشانی کے برابر ملتا ہے ۔

۴- ایک مسلمان کا سب سے بہتر وقت وہ ہے جس میں وہ قرآن کو پڑھے پڑھائے ۔

ختم شدہ