تما م مساجد میں اعتکاف جائز ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تما م مساجد میں اعتکاف جائز ہے

از قلم : شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ

{ پیشکش : مکتب توعیۃ الجالیات الغاط www.islamidawah.com }

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ تین مساجد ، مسجد حرام ، مسجد نبوی اور مسجد اقصی کے علاوہ دوسری مساجد میں اعتکاف بیٹھنا نا جائز ہے ، قرآن مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

[ولا تباشروھن وَأَنْتُمْ عَاكِفُونَ فِي المَسَاجِدِ] {البقرة:187}

” اور عورتوں کے ساتھ اس وقت مباشرت نہ کرو جب تم مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے ہو ”

جمہور علماء نے اس آیت کریمہ سے استدلال کرکے ہر مسجد میں اعتکاف کو جائز قرار دیا ہے ، دیکھئے شرح السنہ ، للبغوی ،ج:۶،ص:394 ، مرعاۃ المفاتیح ،ج:۳،ص: 319 ، اس کے مقابلہ میں جن لوگوں کا یہ موقف ہے کہ صرف تین مساجد ہی میں اعتکاف جائز ہے ، ۱-مسجد حرام ، ۲- مسجد نبوی ، ۳- مسجد اقصی ، دیگر مساجد میں جائز نہیں ہے ، وہ اپنے دعوی پر ایک روایت پیش کرتے ہیں ” سفیان بن عیینہ عن جامع بن ابی راشد عن ابی وائل عن حذیفۃ عن رسول اللہ ﷺ قال : لا اعتکاف الا فی المساجد الثلاثۃ ”

{ المعجم للاسماعیلی /2، 3 /720 ، ح :336 ، سیر اعلام النبلاء للذہبی ،ج:15 ، ص: 81 ، وقال : صحیح غریب عال / السنن الکبری للبیہقی ، ج: ۴ ،ص: 316 / مشکل الآثار للطحاوی ،ج:۴،ص: 30 / المحلی لابن حزم ،ج:5 ،ص: 195 ، مسئلہ : 633 }

آپ ﷺ نے فرمایا ” اعتکاف نہیں ہے صرف تین مسجدوں میں ہے ”

یہ روایت بلحاظ سند ضعیف ہے ، اس لئے کہ اس کی تمام اسانید میں سفیان بن عیینہ راوی موجود ہیں ، جو عن سے روایت کررہے ہیں ، کسی ایک سند میں بھی ان کے سماع کی تصریح موجود نہیں ہے ، جب کہ ان کی اسانید روایت میں سمع کی تصریح ہونا محدثیں کے ہاں ہونا ضروری ہے ، کیونکہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ ثقہ اور حافظ ہونے کے ساتھ ساتھ مشہور مدلس تھے ، حافظ ابن حبان لکھتے ہیں :

” وھذا لیس فی الدنیا الا سفیان بن عیینہ وحدہ فانہ کان یدلس ولا یدلس الا عن ثقہ متقن ”

{ الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،ج: ۱،ص: 90 }

” دنیا میں اس کی مثال سفیان بن عیینہ اکیلے ہی ہیں ، کیونکہ آپ تدلیس تو کرتے تھے مگر ثقہ متقن کے علاوہ کسی دوسرے سے تدلیس نہیں کرتے تھے ۔

امام ابن حبان کے شاگرد امام دارقطنی وغیرہ کا بھی یہی خیال ہے { سوالات الحاکم للدارقطنی ،ص: 175 وغیرہ } امام سفیان بن عیینہ درج ذیل ثقات سے بھی تدلیس کرتے تھے :

Ûعلی بن المدینی Û ابو عاصم Û ابو جریج الکفایہ فی علم الروایہ للخطیب ،ص: 362 ، نعمۃ الاثاثۃ لتخصیص الاعتکاف فی المساجد الثلاثۃ ،ص: 79 وغیرہ ۔

تدلیس کی دومثالیں :

Û ایک دفعہ سفیان رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے حدیث بیان کی بعد میں پوچھنے والوں کو بتایا کہ :

“لم اسمعہ من الزہری ولا ممن سمعہ من الزہری حدثنی عبد الرزاق عن معمر عن الزھری ”

” میں نے یہ زہری سے نہیں سنا اور نہ اس سے سنا ہے ، جس نے زہری رحمہ اللہ سے سنا ہے { بلکہ } مجھے عبد الزاق نے عن معمر عن الزھری یہ حدیث سنائی ” ۔

{ علوم الحدیث للحاکم ص: 105 ، الکفایۃ ،ص: 359، مقدمہ ابن الصلاح ،ص:95، 96 / اختصار علوم الحدیث ،ص: 51 / تدریب الراوی ،ج:1 ،ص: 224 / فتح المغیث ،ج:۱،ص: 183 ،وغیرہ }

Û ایک دفعہ آپ نے عمرو بن دینار {ثقہ } سے ایک حدیث بیان کی پوچھنے پر بتایا :

“حدثنی علی بن المدینی عن الضحاک بن مخلد عن ابن جریج عن عمرو بن دینار ”

{ فتح المغیث ،ج:۱ ،ص: 185 ، وغیرہ }

” مجھے علی بن مدینی نے عن الضحاک بن مخلد عن ابی جریج عن عمرو بن دینا ر کی سند سے یہ حدیث سنائی ” ۔

حدیث اور اصول حدیث کے عام طالب علموں کو بھی معلوم ہے کہ ابن جریج کے ” عنعنہ ” کی وجہ سے ضعیف ہے ، ابن جریج کا ضعفا سے تدلیس کرنا بہت زیادہ مشہور ہے ۔

{ دیکھئے طبقات المدلسین لابن حجر رحمہ اللہ ،ص: 95 وغیرہ }

نتیجہ :

اس سے معلوم ہوا کہ ابن عیینہ جن ثقہ شیوخ سے تدلیس کرتے تھے ان میں سے بعض بذات خود مدلس تھے مثلا ابن جریج وغیرہ ، ابن عیینہ کے اساتذہ میں سے امام زہری رحمہ اللہ امام عجلان رحمہ اللہ الاعمش اور وغیرھم تدلیس کرتے تھے ، لہذا سفیان بن عیینہ کا عنعنہ بھی مشکوک ہے ، رہا یہ مسئلہ کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ صرف ثقہ ہی سے تدلیس کرتے تھے ، محل نظر ہے ۔

سفیان رحمہ اللہ نے بن محمد اسحاق کے بارے میں امام زہری رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ : ” اما انہ لا یزال فی الناس علم مابقی ھذا ”

” لوگوں میں اس وقت تک علم باقی رہے گا جب تک یہ { محمد بن اسحاق } زندہ ہے “۔

{ تاریخ یحی بن معین ،ج:۲،ص: 504 ،ت : 979 ، من زوائد عباس الدوری الکامل للبخاری ،ج:۲،ص:2119 ، میزان الاعتدال ،ج:۳،ص:472 }

اس روایت میں سفیان کے سماع کی تصریح نہیں ہے ، اور حقیقت یہ ہے کہ سفیان نے یہ قول ابو بکر الھذلی سے سنا تھا { الجرح والتعدیل ،ج:۷،ص:191 } وغیرہ

اس سے بھی یہ ثابت ہوا کہ سفیان نے الہذلی سے تدلیس کی ہے ، یہ الہذلی متروک الحدیث ہے ، { تقریب ،ص:397 ،وغیرہ } ۔

سفیان نے حسن بن عمارہ {متروک /تقریب التھذیب ،ص:71 } سے بھی تدلیس کی ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے ۔

خلاصہ یہ کہ سفیان کا صرف ثقہ سے تدلیس کرنا محل نظر ہے ، یہ اکثریتی قاعدہ تو ہوسکتا ہے ، کلی قاعدہ نہیں ہوسکتا ۔

محدثین کرام نے ثقہ تابعی کی مرسل روایت اس خدشہ کی وجہ سے رد کردی ہے کہ ہوسکتا ہے اس نے صحابی سےسنا ہو یا غیر صحابی سے سنا ہو ، اگر غیرہ صحابی { یعنی تابعی وغیرہ } سے سنا ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ راوی ثقہ ہو یا ضعیف ، لہذا مرسل روایت ضعیف ہوسکتی ہے ، بعینہ ” لااعتکاف — الخ ” والی روایت دو وجہوں سے ضعیف ہے :

۱—ہوسکتا ہے کہ سفیان بن عیینہ نے یہ روایت ثقہ سے سنی ہو یا غیر ثقہ سے اگر غیر ثقہ سے سنی ہے تو مردود ہے ۔

۲—اگر ثقہ سے سنی ہے تو ہوسکتا ہے کہ یہ ثقہ بھی مدلس ہو ، جیساکہ اوپر واضح کردیا گیا ہے ، جب سفیان کا استاذ بذات خود مدلس ہے تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ اس نے ضرور بضرور یہ روایت اپنے استاذ سے ہی سنی ہے ؟ جب اس کے سماع کی تصریح کرنا ناممکن ہے تو یہ خدشہ قوی ہے کہ اس کی بیان کردہ روایت اس کے ضعیف استاذ کی وجہ سے ضعیف ہو، لہذا اس روایت کو شیخ ابو عمر عبد العزیز نورستانی حفظہ اللہ کا امام ذہبی رحمہ اللہ کی پیروی کرتے ہوئے ” صحیح عندی ” کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ اصول حدیث کے سراسر خلاف ہے ۔

مختصرا سفیان بن عیینہ بیان کردہ حدیث ” لا اعتکاف الا فی المساجد الثلاثۃ” بلحاظ سند ضعیف ہے اس میں اور بھی بہت سی علتیں ہیں ، مثلا اس کے متن میں اختلاف و تعارض ہے ، موقوف و مرفوع ہونے بھی اختلاف ہے ، اس اختلاف کی بنیاد وہ نا معلوم شخص ہے جس نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو یہ حدیث سنائی ہے ، جمہور علمائے اسلام کے بعض اعتراضات ” نعمت الاثاثۃ ” نامی کتاب میں بھی موجود ہیں ، فاضل مولف نے ان اعتراضات کے ناکام جوابات دینے کی کوشش کی ہے ، لیکن حق وہی ہے جو جمہور علمائے اسلام نے قرآن مجید کی آیت کریمہ ” وانتم عاکفون فی المساجد “سے سمجھا ہے ۔

یہاں پر بطور نکتہ عرض ہے کہ ” المساجد ” کی تخصیص تین مساجد { مسجد حرام ، مسجدنبوی ، اور مسجد اقصی } کے ساتھ کرنا تاریخی طور پر بھی غلط ہے ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمانوں میں سے کسی کا مسجد اقصی میں اعتکاف کرنا کسی دلیل سے ثابت نہیں بلکہ بیت المقدس {جہاں مسجد اقصی موجود ہے } اس زمانے میں صلیبی پولسی عیسائیوں کے قبضے میں تھااسے امیر المومنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سن 15 ہجری میں فتح کیا { البدایۃ و النھایۃ ،ج:7،ص: 56 وغیرہ } لہذا اس آیت کریمہ کی شان نزول میں مسجد حرام ،مسجد نبوی کے ساتھ وہ تمام مساجد شامل ہیں جو عہد نبوی میں موجود تھیں ، مساجد کا لفظ کم از کم تین {اور زیادہ } مسجدوں پر مشتمل ہے ،شان نزول کے وقت مسجد اقصی کے خروج سے یہ خود بخود ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی تمام مساجد بشمول مساجد ثلاثہ میں اعتکاف بیٹھنا جائز ہے ۔

{ ماخوذ از : ہفت روزہ الاعتصام ، پاکستان }

ختم شدہ