تکمیل رسالت 1/3

بسم الله الرحمن الرحيم

از : محمد عثمان خان [ برطانیہ ]

تکمیل رسالت

دینِ اسلام میں عقیدہ ختمِ نبوت

قرآن و احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں چند دلائل

ہادی اعظم خاتم النبیین والمرسلین ﷴرسول اللہ ﷺ کا آفتابِ رسالت، قیامت تک کے لئے پوری انسانیت کو نورِ نبوت سے منوّر کرتا رہے گا ۔ آخر الزماں پیغمبر ﷴرسول اللہ ﷺ ، ربِ کائنات کی طرف سے انسانیت کی رشد و ہدایت کیلئے مبعوث کردہ آخری نبی ہیں۔ آپﷺ کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیش کے لیے بند ہو چکاہے ، اور اب جو بھی نبوت کا دعوہ کرتاہے وہ جھوٹا و کذاب ہے۔مندرجہ ذیل مختصر مضمون میں ہم قرآن و صحیح احادیث سے ثابت کریں گے کہ نبوت اور رسالت کا سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل ہو چکا ہےاور اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا ۔

پہلی دلیل

اللہ رب العالمین نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا :

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيراً وَنَذِيراً وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ ۝

ترجمہ: ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبریاں سنانے والا اور دھمکا دینے والا

بنا کر بھیجا ہے ، ہاں مگر (یہ صحیح ہے) کہ لوگوں کی اکثریت بے علم ہے۔ (سورہ سبا ، آیہ 28)

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلاَّ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ ۝

ترجمہ : اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے۔ (سورہ الانبیا ء : آیہ 107)

قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً ۝

ترجمہ: آپ ﷺ کہ دیجئے کہ اے لوگوں ! میں تم سب کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ( بنا کر بھیجا گیا) ہوں ۔ (سورہ الآعراف : آیہ 158)

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الإِسْلامَ دِيناً۝

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ، اور تم پراپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے

بحیثیت دین ، اسلام کو پسند کیا ہے۔ (سورہ المائدہ : آیہ 3)

مندرجہ بالا آیاتِ قرانی میں اللہ رب العالمین ، اپنے پیارے نبی محمدﷺ کی نبوت کی فضیلت بیان کر تے ہوئے مختلف مقامات پر یہ ارشاد فرما رہا ہے کہ آپ ﷺ تمام انسانوں کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجے گئے ، کیونکہ پِچھلی اُمتوں پر اللہ تعالیٰ نے جو انبیاء کرام مبعوث کرے تھے وہ صرف ایک خاص وقت اور خاص علاقہ اور قوم کے لیے تھے ، اس کے بلکل بر عکس آپ ﷺ قیامت تک آنے والی بنی نوع انسانی کے لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں ، جو آپﷺ پر تکمیلِ رسالت کی ایک واضح دلیل ہے۔

جیسا کہ ان آیات کی تفسیر، شارح قرآن حضرت محمد رسول اللہ ﷺنے اپنی متعدد احادیثِ مبارکہ میں خود یوں بیان فرمائی ہے کہ :

1

” مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں ۔ (1) ایک مہینے کی مسافت پر دشمن کے دل میں میری دھاک بٹھانے کر میری مدد کی گئی ، (2) تمام روئے زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنائی گئ ،چنانچہ جہاں بھی نماز کا وقت آجائےِ میری امت وہاں نماز ادا کرے ،

(3) مالِ غنیمت کو میرے لیے حلال کر دیا گیا ، جو مجھ سے قبل کسی کے لیے حلال نہیں تھا ، (4) مجھے شفاعت کا حق دیا گیا (5)ہم سے پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا ، اور مجھے کائنات کے تمام انسانوں کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب التیمم )

2

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فضلت عی الانبیاءبست ، اعطیت جوامع الکلم ، ونصرت بالرعب ، واحلت لی المغانم ، وجعلت لی الارض طھورا ومسجدا وارسلت الی الخلق کافۃ وختم بی النبیون
” مجھے چھ چیزوں میں انبیاءعلیہم السلام پر فضیلت دی گئی ہے ۔ مجھے جامع کلمات عطا کےے گئے ہیں ، رعب و دبدبہ کے ساتھ میری نصرت کی گئی ہے ، مال غنیمت میرے لیے ( بشمول امت ) حلال قرار دیا گیا ہے ۔ میرے لیے ( بشمول امت ) ساری کی ساری زمین مسجد اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنا دی گئی ہے ۔ میں پوری دنیا کے لئے رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ، مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے

( صحیح مسلم ، اوائل کتاب المساجد)

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ سے پہلے جتنے بھی نبی اور رسول آئے وہ ایک محدود وقت اور ایک محدود قوم کے لیے آئے تھے ، لیکن آپ ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں جن کہ بعد قیامت تک کوئی نیا نبی اور رسول نہیں آئے گا اسی لیے آپ ﷺ کو اللہ رب العالمین نے کسی خاص قوم یا کسی خاص وقت کے لیے مبعوث نہیں کیا بلکہ قیا مت تک آنے والی تمام بنی نوع انسانی کے لیے اور پوری کائنات کے لئے نبی اور رسول بنا کر بھیجا۔

3

ایک اور روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاءکلما ھلک بہ ، خلفہ نبی وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاءفیکثرون
” بنی اسرائیل کی قیادت انبیاءعلیہم السلام کرتے تھے ، جب کوئی نبی فوت ہوتا ، تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا مگر ( سن لو ) میرے بعد کوئی نبی نہیں ، البتہ خلیفے ضرور ہوں گے ، اور بکثرت ہوں گے ۔ “( صحیح بخاری ، 3456 ، صحیح مسلم : 1842 )

دوسری دلیل

قرآن کی دوسری آیات سے اس امر کی مزید وضاحت ہو جاتی ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ :

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَآ أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً ۝

ترجمہ : (لوگوں!) محمد ﷺ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ، لیکن آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے

رسول ہیں اور تمام نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (بخوبی) جاننے والا ہے۔

(سورہ الاحزاب، آیہ 40)

قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ کی تفسیر بھی اللہ تعالیٰ کے آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی کئی احادیث میں فرمائی اور اس آیت میں موجود لفظ خاتم النبیین کو بڑی تفصیل کہ ساتھ واضح کیا تا کہ بعد میں امت کسی مفتری اور دھوکے باز کے دھوکے میں نہ آجائے۔ آپ ﷺ نے خاتم النبیین کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ :

1
انہ سیکون فی امتی کذابون ثلاثون کلھم یزعم انہ نبی اوانا خاتم النبیین لانبی بعدی
” میری امت میں تیس بڑے جھوٹے پیدا ہوں گے ، جن میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ ہو گا کہ وہ نبی ہے ۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ “ ( ابوداود : 4252 ، ترمذی ، 2219 ، ابن ماجہ : 3952 ، مستدرک حاکم ، 450/4 ، بروایت ثوبان )
(اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ” حسن صحیح “ امام حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور حافظ ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے )

2
ان بین یدی الساعۃ ثلاثین کذابا دجالا کلھم یزعم انہ نبی
” قیامت سے پہلے تیس کذاب دجال پیدا ہوں گے ، وہ سارے کے سارے نبوت کے دعویدار ہوں گے ۔ “ ( دلائل النبوۃ للبیہقی :ج۶ ، ص : ۴۸۰ بروایت جابر بن سمرہ / یہ حدیث صحیح مسلم اور مسند احمد ج : ۵ ص: ۸۶ ، پر بھی ہے لیکن الفاظ کچھ مختلف ہیں )

نیز فرمایا :
لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابا دجالا کلھم یکذب علی اللہ وعلی رسولہ
” قیامت قائم نہیں ہو گی ، جب تک تیس ( نامور ) کذاب دجال پیدا نہیں ہوں گے ، وہ سارے کے سارے اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھتے ہوں گے ( ابوداود : 4334 / ابو یعلی ، ج : 10 ، ص : ۳۵۰ بروایت ابو ہریرہ t 433 )

3
وانہ واللہ لا تقوم الساعۃ حتی یخرج ثلاثون کذابا آخرھم الاعور الدجال
” اللہ کی قسم ! اس وقت تک قیامت برپا نہیں ہو گی ، جب تک تیس ( نامور ) جھوٹے ( نبی ) پیدا نہیں ہوں گے ۔ ان میں آخری کانا دجال ہوگا ۔ “
( مسند الامام احمد : ج : ۵ ، ص : ۱۶ 16/5 ، طبرانی : ج : ۷ ، ص : ۲۲۸ 6/ مستدرک حاکم ، ج: ۱ ، ص: ۳۲۹ 329/1 ، 330وسندہ حسن ) اس حدیث کو امام ابن خزیمہ ( 1397 ) امام ابن حبان (2845856 ) نے ” صحیح “ اور امام حاکم نے بخاری و مسلم کی شرط پر ” صحیح “ کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے