تکمیل رسالت 3/3

بسم اللہ الرحمن الرحیم

[ قسط نمبر : 3]

از : محمد عثمان خان [ برطانیہ ]

تکمیل رسالت

دینِ اسلام میں عقیدہ ختمِ نبوت

قرآن و احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں چند دلائل

سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؟ :
ذھبت النبوۃ فلا نبوۃ بعدی الا المبشرات قیل : وما المبشرات ؟ قال الرویا الصالحۃ یراھا الرجل او تری لہ
” نبوت ختم ہو گئی ہے ، میرے بعد کوئی نبوت نہیں ، سوائے مبشرات کے ، کہا گیا مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا نیک خواب جو آدمی دیکھتا ہے ، یا اس کیلئے دیکھا جاتا ہے ۔ “ ( البزار ( کشف الاستار : 2121 ، المعجم الکبیر للطبرانی : 3051 وسندہ صحیح )

سیدہ ام کرز رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذھبت النبوۃ وبقیت المبشرات
” نبوت ختم ہو گئی ہے ، اب صرف مبشرات باقی ہیں ۔ “
( مسند احمد : ج : ۶ ، ص : ۳۸۱ 381/6 ، مسند حمیدی : 348 348 ، ابن ماجہ :3896 3896 وسندہ حسن )
اس حدیث کو امام ابن حبان (ج : ۸ ، ص : 426 ) نے ” صحیح “ کہا ہے ، ابویزید المکی حسن الحدیث ہے ، امام ابن حبان رحمہ اللہ اور امام عجلی نے اس کی توثیق کر رکھی ہے ۔

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر کے بعد فرمایا کرتے تھے ، کیا آپ میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اور فرمایا کرتے تھے :
انہ لا یبقی بعدی من النبوۃ الا الرویا الصالحۃ
” یقینا میرے بعد نبوت میں سے کچھ باقی نہیں ( یعنی نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے ) البتہ نیک خواب باقی ہیں ۔ “
( موطا امام مالک : 956/2 ، مسند احمد : 325/2 ، ابوداؤد : 5017 ، مستدرک حاکم : 390/4 ، وسندہ صحیح )
اس حدیث کو امام ابن حبان ( 6048 ) اور امام حاکم نے ” صحیح “ کہا ہے ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے ۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے ، مبشرات یعنی مسلمان آدمی کے نیک خواب جو اجزائے نبوت میں سے ہیں ، باقی رہیں گے ۔

شیخ المعلمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
اتفق اھل العلم علی ان الرویا لا تصلح للحجۃ وانما ھی تبشیر وتنبیہ ، وتصلح للاستئناس بھا اذا وافقت حجۃ شرعیۃ صحیحۃ
اہل علم اس بات پر متفق اللسان ہیں کہ ( امتی ) کا خواب حجت (شرعی ) کی صلاحیت نہیں رکھتا ، وہ محض بشارت اور تنبیہ کا کام دیتا ہے ، البتہ جب صحیح شرعی حجت کے مطابق و موافق ہو ، تو مانوسیت و طمانیت کا فائدہ دیتا ہے ۔ ( التنکیل : 242/2 للشیخ عبدالرحمن المعلمی )

7

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :
لو کان نبی بعدی لکان عمر بن الخطاب
” اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا ، تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہوتے ۔ “
( ترمذی : 3886 ، مسند الامام احمد : 154/4 ، المعجم الکبیر للطبرانی : 180/17 ، 298 ، مستدرک حاکم : 85/3 ح 4495 ، وسندہ حسن )
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ” حسن غریب “ ، امام حاکم نے ” صحیح الاسناد “ اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ” صحیح “ کہا ہے ۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی تشریعی یا غیر تشریعی

نہیں آئے گا ، اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی نہ ہوئے ، تو اور کون ہو سکتا ہے ؟

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لقد کان فیمن کان قبلکم من بنی اسرائیل رجال یکلمون من غیر ان یکونوا انبیاء ، فان یکن فی امتی منھم احد فعمر
” تم لوگوں سے پہلے جو بنی اسرائیل گزرے ہیں ، ان میں کچھ ایسے لوگ بھی تھے ، جن سے کلام کی جاتی تھی ، جبکہ وہ نبی نہیں تھے ، اگر میری امت سے کوئی ہوا ، تو عمر ہوں گے ۔ “ ( صحیح البخاری : 3689 )

صحابہ کرام اور سلف صالحین کا عقیدہ

1 اسماعیل بن عبدالرحمن السدی کہتے ہیں :
سالت انس بن مالک قلت : صلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی ابنہ ابراھیم ؟ قال : لا ادری ، رحمۃ اللہ علی ابراھیم لو عاش کان صدیقا نبیا
” میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم پر نماز جنازہ پڑھی تھی ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ، میں نہیں جانتا ( پڑھی تھی یا نہیں پڑھی تھی ) ابراہیم پر اللہ کی رحمت ہو اگر وہ زندہ ہوتے تو سچے نبی ہوتے ۔ “
( مسند الامام احمد : ج : ۳ ، ص : 281 / طبقات ابن سعد ، ج : ۱ ، ص : 140 140/1 وسندہ حسن )

اسماعیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی اوفی سے کہا :
رایت ابراھیم ابن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال : مات صغیرا ، ولو قضی ان یکون بعد محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی عاش ابنہ ، ولکن لانبی بعدہ
” کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو دیکھا ہے ؟ فرمایا وہ بچپن میں ہی فوت ہوگئے ، اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے زندہ رہتے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا ۔ “ ( صحیح بخاری : 61946194 ، ابن ماجہ : 1510 1510 ، المعجم الاوسط للطبرانی : 6638 ، تاریخ ابن عساکر : 135/3 )
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہو سکتا ، اسی لئے تو آپ کے بیٹے ابراھیم زندہ نہ رہے ۔

2 سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگ روزِ قیامت شفاعت کبریٰ کے لئے جہاں دیگر انبیاءعلیہم السلام کے پاس جائیں گے ، وہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس بھی جائیں گے اور کہیں گے ، ” اے عیسیٰ ( علیہ السلام ) اپنے رب کے ہاں ہمارے فیصلے کی سفارش کیجئے ، وہ فرمائیں گے کہ اس وقت میں آپ کے کام نہیں آ سکتا ، ” ولکن ائتوا محمداً صلی اللہ علیہ وسلم فانہ خاتم النبیین “ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں ، وہ آخری نبی ہیں ۔ “ وہ آج موجود ہیں ، ان کے پہلے اور بعد کے گناہ معاف کر دئیے گئے ہیں ، عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ، بھلا آپ مجھے یہ بتائیں کہ اگر کسی برتن میں سامان رکھ کر مہر لگا دی گئی ہو ، کیا وہ مہر توڑے بغیر اس سامان تک رسائی ممکن ہے ؟ لوگ کہیں گے ، نہیں ، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے :
” فان محمدا صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین “
” یقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں ۔ “ ( مسند الامام احمد : 248/3 وسندہ صحیح )

لوگ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے کہنے کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر کہیں گے :
یا محمد ، انت رسول اللہ وخاتم الانبیاء

” اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں ۔ “ ( صحیح بخاری : 7412 ، صحیح مسلم : 194 )

الحمدللہ ، بیان کردہ قرآنی آیات ، احایثِ مبارکہ اور عقائدِ صحابہ کرام و اسلاف صالحین ؟؟ سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہادی اعظم خاتم النبیین والمرسلین ﷴرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں ، نبوت اور رسالت آپ ﷺ پر مکمل ہو گئی ہے اور وہ کامل ہدایت ہمارے پاس بغیر کسی تحریف کے کتاب اللہ کی صورت میں موجود ہے جس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ رب العالمین نے خود لی ہے۔ اب قیامت تک کوئی نیا نبی اور رسول نہیں آئے گا ، اور جس نے یہ دعوہ کیا کہ وہ ﷴرسول اللہ ﷺ کے بعد تشریعی یا غیر تشریعی نبی بنا کر بھیجا گیا ہے تو وہ جھوٹا ، مفتری اور کذاب ہے ۔

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الإِسْلامَ دِيناً۝

ترجمہ : آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا ، اور تم پراپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے

بحیثیت دین ، اسلام کو پسند کیا ہے۔ (سورہ المائدہ : آیہ 3)