تھکاوٹ کا نبوی علاج/حديث نمبر :14

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :14

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :09/10/ رجب 1428 ھ، م 24/23، جولائی 2007م

تھکاوٹ کا نبوی علاج

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ قِيلَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ.

(صحيح البخاري3113 فرض الخمس، صحيح مسلم:2727 الذكر والدعاء.)

ترجمہ : حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار کسی خادم کی طلب میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتلاوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہو ، [ ایسا کرو کہ ] سونے سے قبل ۳۳ بار سبحان اللہ ، ۳۳ بار الحمد للہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو ۔

{ صحیح بخاری و مسلم } ۔

تشریح : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اہل وعیال کی تربیت کچھ اس کرتے تھے کہ ان کی توجہ آخرت کی طرف زیادہ رہے ، لہذا اس کے لئے کسی بھی فرصت کو ضائع نہیں ہونے دیتے تھے ، اور جب بھی کوئی ایسا موقعہ آتا جہاں دنیا کے مقابلہ میں ان کے لئے آخرت بہتر ہوتی تو فورا اس کی طرف رہنمائی فرماتے ، انہیں مواقع میں سے ایک موقعہ یہ بھی ہے جس کا ذکر زیر بحث حدیث میں ہوا ہے، اس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ جب حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کی شادی ہوئی تو ان کے پاس کوئی غلام یا لونڈی نہیں تھا جو گھریلو کاموں میں ان کی مدد کرتے ، چنانچہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا خودہی چکی پیستیں ، گھر کی صفائی کرتیں ، باہر سے اپنے کندھے پر رکھ کر پانی لاتیں ،جس سے ان کے کندھے ، ہاتھ وغیرہ پر نشان پڑ گئے ، گھر میں جھاڑو لگانے کی وجہ سے چہرے اور کپڑے گرد سے اٹ جاتے تھے ، ادھر مادی حالت ایسی نہ تھی کہ کوئی لونڈی خریدی جاسکے ، لہذا دونوں میاں بیوی اسی انتظار میں تھے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی قیدی وغیرہ آئے تو آپ اسے طلب کیا جائے ۔

چنانچہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی قیدی لائے گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب اس کی اطلاع ملی تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بھیجا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی لونڈی کا مطالبہ کریں ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی چادر لی اور خدمت نبوی میں حاضر ہوئیں ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بھیڑ میں تھے ، اور ضروتمندوں پر غلام و لونڈی تقسیم کرنے میں مصروف تھے ، حضرت فاطمہ نے اس بھیڑ میں کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا اور اندر جاکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اپنی آمد کا مقصد بتلایا ، اللہ کے رسولصلی اللہ علیہ وسلم شام کو جب گھر میں داخل ہوئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی آمد کا مقصد سنا تو آپ سیدھے حضرت علی و فاطمہ کے یہاں تشریف لے گئے ، یہ وقت عشا کے بعد کا وقت تھا اور حضرت علی و فاطمہ اپنے بستر پر جاچکے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازے پر دستک دی اور اندر آنے کی اجازت چاہی ، اجازت ملتے ہی اندر داخل ہوگئے ، حضرت فاطمہ اپنے بستر سے اٹھناچاہیں لیکن آپ نے انہیں روکا اور فرمایا : جیسی ہو ویسی ہی بیٹھی رہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اسی بستر پر حضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھ گئے ، بیٹھنے کے بعد آپ نے حضرت فاطمہ سے ان کے جانے کا مقصد دریافت فرمایا ، حضرت فاطمہ خاموش رہیں اور شرم سے بات نہ کرسکیں ، آپ نے یہی سوال دوبارہ دہرایا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسول اصل بات یہ ہے کہ پانی ڈھوتے ڈھوتے ان کے کندھے اور پہلو میں نشان پڑگئے ہیں ، چکی پیستے پیستے ہاتھوں میں گھٹے پڑگئے ہیں ، چنانچہ وہ چاہتی ہیں کہ انہیں بھی کوئی خادمہ مل جائے جوا ن کاموں میں ان کی مدد کرسکے ۔

یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اہل بدر کے یتیموں اور اہل صفہ کو چھوڑ کر تو تمہیں کچھ نہیں دے سکتا ، البتہ تمہیں وہ عمل بتلاتا ہوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے ، ایسا کرو کہ جب سونے کے لئے بستر پر جاو تو ۳۳ بار سبحان اللہ ، ۳۳ بار الحمد للہ ، اور ۳۴ بار اللہ اکبر پڑھ لیا کرو ، یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہوگا ۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس دن سے اس ذکر کو ہم نے کسی رات نہیں چھوڑا حتی کہ صفین کی رات میں بھی ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم و سنن ابو داود وغیرہ } ۔

فوائد :

۱- سونے سے قبل اس ذکر کے اہتمام کی فضیلت ۔

۲- آخرت کے لئے عمل دنیا کے لئے عمل سے افضل ہے ۔

۳- اولاد کی محبت تربیت پر غالب نہیں آنی چاہئے ۔

۴- اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے سے قبل کچھ آداب اور کچھ دعائیں بھی سکھلائی ہیں جن کا اہتمام بہت اہم ہے ، جیسے :

[۱] وضو کرکے سونا ۔

[۲] دائیں کروٹ سونا ۔

[۳] آگ وغیرہ بجھا کر سونا ۔ [۴] آیۃ الکرسی پڑھنا ۔

[۵] ” اللَّهُمَّ قِنِى عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ”، پڑھنا ۔

[۶] ” اللهم باسمك أموت وأحيا ” پڑھنا ۔

[۷] سوکر اٹھنےکے بعد یہ دعا پڑھنا : الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور.

ختم شدہ