جمعرات اور شب معراج/حديث نمبر :217

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :217

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :21/22/ رجب 1433 ھ، م 12/11،جون 2012م

جمعرات اور شب معراج

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لاَ تَخُصُّوا لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ بِقِيَامٍ مِنْ بَيْنِ اللَّيَالِي ، وَلاَ تَخُصُّوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ بِصِيَامٍ مِنْ بَيْنِ الأَيَّامِ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ فِي صَوْمٍ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ.

( صحيح مسلم : 1144، الصيام – صحيح ابن خزيمه : 1176 ، الصيام – صحيح ابن حبان : 3612، الصيام ) .

ترجمہ :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جمعہ کی رات کو دیگر راتوں کے درمیان سے قیام کے لئے خاص اور نہ جمعہ کے دن کو دیگر دنوں کے درمیان سے روزے کے لئے خاص کرو ، مگر یہ کہ جمعہ کا دن اس مدت میں آجائے جس میں تم میں سے کوئی روزے رکھتا ہو ۔

{ صحیح مسلم ، صحیح ابن خزیمہ ، ابن حبان } ۔

تشریح : جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار اور سال کے افضل ترین دنوں میں ہے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں اسے سب سے افضل دن قرار دیا ہے چنانچہ ارشاد ہے ” سب سے بہتر دن جس پر سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے اسی میں حضرت آدم کو پیدا کیاگیا ، اسی میں وہ جنت میں داخل کئے گئے اور اس میں انہیں جنت سے نکالا گیا ”

{ صحیح مسلم :854 } ۔

پھر چونکہ خطرہ تھا کہ کوئی بھی جو عمل خیر پر حریص اور نیکیوں کی طرف راغب شخص ہوگا کہیں اس دن کی افضیلت کے پیش نظر اس دن کا روزہ رکھنا اور اس کی شب کو تہجد پڑھنا شروع نہ کردے کیونکہ جس طرح جمعہ کا دن افضل ترین دنوں میں ہے اسی طرح روزہ افضل ترین عبادتوں میں اور تہجد کی نماز سب سے افضل نمازوں میں ہے ، لیکن چونکہ کسی د ن یا رات کاافضل ہونا اور بات ہے اور انہیں عبادت کے لئے خاص کرلینا الگ مسئلہ ہے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ی اصول کو بتلانے اور بدعت کا دروازہ بند کرنے کے لئے جمعہ کی شب و روز کو کسی عبادت کے ساتھ خاص کرنے سے صراحت کے ساتھ منع فرمادیا ، اس امر کی وضاحت عہد نبوی کے درج ذیل واقعہ سے مزید ہوتی ہے ، چنانچہ طبقات ابن سعد میں حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بروز جمعہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو معلوم ہوا کہ حضرت ابو درداء روزے سے ہیں ،پوچھا : کیوں ؟ اہل خانہ نے بتلایا کہ جب شب جمعہ ہوتی ہے تو وہ پوری رات جاگ کر عبادت کرتے ہیں اور جمعہ کے دن روزہ رکھ لیتے ہیں ، یہ دیکھ کر حضرت سلمان نے اہل خانہ کو کسی جمعہ کے دن کھانا تیار کرنے کا حکم دیا پھر ان کے یہاں تشریف لے گئے اور حضرت ابو درداء سے کھانا کھاو، ابودرداء جواب دیا میں روزے سے ہوں ،لیکن حضرت سلمان کھانا کھلانے پر بضد رہے یہاں تک کہ حضرت ابدرداء نے ان کے اصرار پر روزہ توڑدیا ، پھر دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عویمر ! [ ابو درداء کا نام ] سلمان کا علم تم سے زیادہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو درداء کی ران پر اپنے ہاتھ مار رہے تھے اورکہتے جارہے تھے کہ عویمر سلمان تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں ، ایسا ہی تین بار کیا ۔

{ طبقات ابن سعد :4/85 }

اسی لئے علماء کہتے ہیں کہ کسی د ن کے افضل ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اس دن کوئی ایسے نیکی کے کام بھی کئے جائیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہ ہوں ۔ یہیں سے ہمارے ان مسلمانوں کی غلطی کا اندازہ ہوتا ہے جو شب معراج کو جشن مناتے ، اور اس تاریخ کو بعض خاص قسم کی نمازوں اور شب بیداری کے لئے خاص کرتے ہیں اور اس کے بعد آنے والے دن کو روزہ رکھتے ہیں، حالانکہ ان کا ایسا کرنا کئی اعتبار سے قابل ملاحظہ ہے :

[۱] چونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ائمہ سلف میں سے کسی نے شب معراج میں قیام و احتفال اور اس دن کا روزہ نہیں رکھا ہے ، اور اتباع کے لئے ضروری ہے سبب میں اتباع ہو یعنی جس سبب سے کوئی کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا یا چھوڑا ہے اس سبب کے بغیر اگر ہم کوئی کام کرتے یا چھوڑتے ہیں تو وہ بدعت ہوگا ، اب چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کی مناسبت سے اس رات کا قیام کیا ہے اور نہ اس دن کا روزہ رکھا ہے لہذا ایسا کرنا بدعت ہوگا ۔

[۲] شب معراج کی افضلیت معروف ، اس کی اہمیت مسلم ہے اور یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے اہم معجزات میں سے ہے ، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اس دن جشن منائیں اور اس شب کو زندہ کرنے کا وہ طریقہ اختیار کریں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے ، کیونکہ کسی دن یا رات کا افضل ہونا اور بات ہے اور اسے عبادت کے لئے خاص کرنا اور بات ہے جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے ۔

[۳] اسراء اور معراج قرآن و حدیث سے ثابت ہے اور اس کا منکر گمراہ بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسراء و معراج کا واقعہ کس سال ، کس مہینہ اور کس تاریخ کو پیش آیا اس سلسلے میں سخت اختلاف ہے ، امام ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ سدی کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ شہر ذی القعدہ کا ہے ، زہری اور عروہ رحمہم اللہ کا کہنا ہے کہ واقعہ اسراء ربیع الاول کے مہینہ میں پیش آیا بعض روایت میں ستائیس رجب کا ذکر ہے اور بعض نے رجب کی پہلے جمعرات کو بتلایا ہے ۔

{ السیرۃ النبویہ :2/93،94 } ۔

نیز یہ واقعہ اوائل بعثت کا یا اواخر بعثت کا ہے ، اس بارے میں سخت اختلاف ہے ، لہذا جس واقعہ کی تاریخ متعین نہ ہو اس کا جشن کس طرح منایا جاسکتا ہے ۔

[۴] واقعہ اسراء و معراج سے متعلق زمانہ ، مہینہ اور تاریخوں کے اختلافات سے اس بات کی اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے کہ اس رات کی عظمت کے باوجود لیلۃ القدر کی طرح اس میں عبادت اور شب بیداری کی کوئی اہمیت نہیں ہے شاید اسی وجہ سے اللہ تعالی نے اس رات کی تعیین کو باقی نہیں رکھا ۔

فوائد :

۱- جمعہ کی افضلیت کے پیش نظر اس دن کا روزہ رکھنا منع ہے ۔

۲- اگر کوئی شخص کسی خاص دن کا مشروع روزہ رکھتا ہے جیسے ایام بیض کے روزے ، ایک دن روزہ اور ایک دن افطار کی مناسبت سے روزہ ، عرفہ یا نذر کا روزہ ، ان تمام صورتوں میں جمعہ کے دن کا روزہ جائز ہے ۔

۳- جمعہ کے ساتھ ایک دن آگے یا پیچھے ملا لیا جائے تو ممانعت باقی نہیں رہتی ، ایک اور حدیث میں ہے تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن کا روزہ نہ رکھے ، ہاں اس کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا ملالے تو کوئی حرج نہیں ۔

{ صحیح بخاری و صحیح مسلم } ۔

ختم شدہ