جنتی راستہ/حديث نمبر :10

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :10

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :20/21/ ربیع الثانی 1428 ھ، م 08/07، مئی 2007م

جنتی راستہ

عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَة رَضِیَ اللّٰہ عَنْہ أنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَلْتَمِسُ فِیْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہ لَہ بہِ طَرَیْقًا اِلَی الْجَنَّة

(مسلم :٢٦٩٩ الذکر :سنن ابو داود: ٣٦٤٣:العلم)

ترجمہ : حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جوشخص علم دین کی تلاش میں کسی راستے پر چلتا ہے تو اسکے بدلے اللہ تعالی اسکے لئے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے

( صحیح مسلم وسنن ابو داود)

تشریح : جس طرح گونگے بہرے اور بولنے و سننے والے برابر نہیں ہوسکتے ، بینا ونا بینابرابر نہیں ہوسکتے ، دھوپ اور سایہ برابر نہیں ہوسکتے اسی طرح نہ علم اور جہالت برابر ہو سکتے ہیں اور نہ ہی عالم اور جاہل . ارشاد باری تعالی ہے : قل ھل یستوی الذین یعلمون وا لذی لا یعلمون [الزمر٩] “لوگوں سے کہدو کہ کیا علم والے اور بے علم برابرہو سکتے ہیں ”

کیونکہ علم اللہ کانور ہے جس کی روشنی میں چل کر ایک بندہ جنت کا صحیح راستہ معلوم کر لیتا ہے ، علم ہی کے ذریعہ ہدایت وگمراہی میں فر ق کیا جاتا ہے ، علم ہی کے ذریعہ حرام وحلال میں تمیز ہوتی ہے ، علم ہی کے ذریعہ حقوق الہی کو پہچا نا جا تا ہے ، علم ہی کے ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق تک رسائی ہوتی ہے ، علم ہی کے ذریعہ اللہ تعالی کی حقیقی عبادت کی جاتی ہے . علم کی اسی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثوں میں ایک طرف علم واہل علم کی فضیلت بیان فرمائی ہے ،تحصیل علم پر بہت بڑے اجر وثواب کا وعدہ کیا ہے ، علم حاصل کرنے کا وجوبی حکم دیا ہے، طلب علم کو عبادت اور مطالعہ کو تسبیح وتہلیل اور اسکے لئے سعی کرنے کو جہاد قرار دیا ہے : یَرْ فَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ اُوْتُوالْعِلْمَ دَرَجَات ؛ [المجادلة] تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انہیں علم سے نوازا گیا اللہ تعالی انکے درجا ت کو بلند کرتا ہے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو علم حاصل کر نے سے ملتا ہے ، دین کی سمجھ سمجھنے کی کوشش کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالی جسکے ساتھ خیرو بھلائی کا ارادہ فرماتاہے اسے دین کی سمجھ عطافرماتا ہے اور اللہ تعالی سے زیادہ ڈرنے والے اسکے اہل علم بندے ہی ہیں ۔

( طبرانی کبیر بروایت معاویہ :الصحیحہ٣٤٢)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جسے اللہ تعا لی دین کی سمجھ سے محروم کردے اسمیں کوئی خیر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی بندہ بغیر صحیح علم کے اللہ تعالی سے ڈرنے کا حق اداکر سکتا ہے . زیر بحث حدیث میں بھی علم کے حاصل کرنے ، اسکے لئے کوشش کرنے اور اسکے لئے سفرکرنے کی تر غیب دی گئی ہے گویا کہ طالب علم کا ہر قدم جو مجلس علم میں حاضری کیلئے اٹھ رہا ہے ، اسکا ہر وقت جو علم دین حاصل کرنے کیلئے صرف ہو رہاہے، اسکی ہر کوشش جوعلم دین کے حصول اور اسمیں مہارت حاصل کرنے کیلئے ہورہی ہے وہ حقیقت میں جنت کی طرف اپنا قدم اٹھا رہاہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کررہاہے ، سچ فرمایا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو شخص علم کرنے کیلئے اپنے گھر سے نکلا وہ اللہ تعالی کے راستے میں چل رہاہے یہاں تک کہ واپس آجائے . [سنن تر مذی بروایت انس] دوسری طرف لاعلمی کواندھا پن اور خسارے کا بہت بڑا سبب قراردیا ہے، چنانچہ قیامت کے دن اہل جہنم کہیں گے : لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فیِ اَصْحَابِ السَّعِیْر [الملک]

اگر ہم سنے ہوتے اور سمجھنے کی کوشش کئے ہوتے تو آج ہم جہنمی نہ ہوتے . یعنی اہل علم کی بات سنے ہوتے اسے سیکھنے اور اسکے مطابق عمل کرنے کی کوشش کر کئے ہوتے تو آج ہمارا یہ حشر نہ ہوتا ۔

ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اس ہدایت اور علم کی مثال جو دیکر اللہ تعالی نے مجھے بھیجا ہے اس بارش کی ماند ہے جو کسی زمین پر بر سی اس زمین کا ایک حصہ زرخیز تھا اس نے پانی کو اپنے اندر جذب کرلیا جسکے سبب گھاس اور جڑی بوٹیاں اگائیں ؛ اس زمین کا ایک حصہ سخت تھا (یعنی زمین پتھریلی تھی جس نے پانی کو جذب تو نہیں کیا البتہ ) اس نے پانی کو اکٹھا کرلیا، اس جمع شدہ پانی کے ذریعہ اللہ تعا لی نے لوگوں کو نفع دیا کہ لوگو ں نے خود بھی پیا ، اپنے جانوروں کوپلایا اور اپنی کھیتی کو بھی سیراب کیا . وہ بارش زمین کے ایک اور (تیسرے ) حصے کو بھی پہنچی جو بالکل چٹیل ہموار تھی جہاں نہ پانی ٹھہر سکا اور (نہ زمین میں جذب ہوسکا اور ) نہ کوئی گھاس اگائی ، بس یہی مثال ہے اس شخص کی جس نے دین میں سمجھ حاصل کی اورمیری لا ئی ہوئی اس ہدایت سے اللہ تعا لی نے اسے فا ئدہ دیا ، چنانچہ اس نے خود بھی علم حاصل کیا اور دوسروں کو بھی سکھایا ، اور اس شخص کی مثال جس نے اس کی طرف سر اٹھا کر بھی نہ دیکھا اور نہ اللہ تعا لی كي اس ہدایت کو قبول کیا جس کے ساتھ اللہ تعا لی نے مجھے رسول بنا کر بھیجا۔

[بخاری و مسلم بروایت ابو موسی ]

فوائد :

١ – علم دین کی فضیلت واہمیت ۔

٢- دینی علم کا حصول جنت میں لے جا نے والا عمل ہے ۔

٣- ہر مسلمان کے اوپر فرض ہے کہ وہ نفع بخش علم حاصل کر نے کی کو شش کرے ۔

٤ – لاعلمی انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتی ہے.

ختم شدہ