جنت کی ٹکٹ/حديث نمبر :09

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :09

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :13/14/ ربیع الثانی 1428 ھ، م 01/30،اپریل، مئی 2007م

جنت کی ٹکٹ

عن أبي أمامة قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ آية الكرسي في دبر كل صلاة مكتوبة لم يمنعه من دخول الجنة الا ان يموت.

سنن النسائي الكبرى6/30، المعجم الكبير للطبراني8/134.

ترجمہ :حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے ہر فرض نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھا،تو اسے جنت میں داخل ہونے سے موت کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں روکتی ۔

(نسائی الکبری ۔الطبرانی الکبیر۔)

تشریح: پچھلے درس میں آیۃ الکرسی کے کچھ فضائل بیان ہو چکے ہیں آج ہم اس آیت کی مختصر سی تفسیر لکھتے ہیں ۔تاکہ اس کا اہتمام کرنے والے اسکے معنی مفہوم کو بھی دھیان میں رکھیں ۔یہ آیت دس جملوں پر مشتمل ہے،اور ان دس جملوں میں اللہ تبارک و تعالی کی شان وصفات بیا ن ہوئی ہیں ۔اس آیت میں اللہ تعالی کی توحید الو ہیت بھی ہے اور توحید ربوبیت بھی اس میں توحید اسماء وصفات بھی ہے اور اللہ کی عظمت وکبریائی بھی ،اس میں اسکی سلطنت کی بڑ ائی کا بھی بیان ہے اور اسکے علم کی وسعت کا بھی ،اس آیت میں اسکے مجدو کبریائی کا بھی ذکر ہے اور اسکے عظمت وجلال کا بھی ،چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتاہے۔

١ – “اللہ لاالہ الاھو ” اللہ ہی معبود بر حق ہے ۔۔لہذا ہر قسم کی عبادت واطاعت اسی کے لئے ہونی چاہے۔اسکے علاوہ جتنے معبود لوگوں نے بنارکھے ہیں وہ سب باطل ہیں ؛کسی پر اللہ تعالی کی طرف سے کوئی سند نازل نہیں ہوئی ہے لہذاانکی عبادت بھی باطل ہے ۔

٢- ” الحی القیوم ” وہ زندہے ، خود قائم اور سب کو تھامنے والاہے ۔ وہ زندہ ہے یعنی اسے حیات کاملہ حاصل ہے؛دنیا کے دیگر جانداروں کی زندگی اسی کی عطاکردہ ہے ؛اللہ تعالی کی زندگی دائمی ہے باقی جانداروں کی زندگیاں عارضی ہیں ؛اسکے زندہ رہنے کا تقاضا ہے کہ وہ سنتا ہے ،دیکھتاہے،جانتا ہے اور قدرت رکھتا ہے بلکہ ہر صفات ذاتیہ اسمیں موجود ہیں، وہ قیوم ہے یعنی وہ اپنے وجود میں کسی کا محتاج نہیں بلکہ دنیا اور دنیاکی ساری چیزیں اپنے وجود میں اس ذات کی محتاج ہیں ،زمین کو اسی نے تھام رکھا ہے کہ حرکت نہ کرے اور آسمانوں کو بھی اسی نے تھام رکھا ہے کہ لوگو ں پر گر نہ پڑیں “اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰاتِ وَالْأرْضُ اَنْ تَزُوْلَا وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسَکَھُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِ ہ”(فاطر٤١) یقینی بات ہے کہ اللہ تعالی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں اور اگر وہ ٹل جائیں تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی انکو تھام بھی نہیں سکتا۔

٣- ” لاتأ خذہ سنة ولا نوم” اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نید ۔کیونکہ اونگھ اور نید ایک نقص اور کمی ہے اوراللہ تعالی ہر قسم کی نقص وکمی سے پاک ہے، نید موت کی ایک قسم ہے اور اللہ تعا لی زندہ ہے اسے موت لاحق نہیں ہو سکتی اللہ تعالی آسمانوں وزمین اور دنیا کی ہر چیز کا محافظ ونگراں ہے اور نگراں وپہر ے دار جب سوئے گا تو وہ کسی چیز کی حفا ظت نہیں کر سکتا ۔

٤ – ” لہ ما فی السموات وما فی الأرض ” اسی کا ہے جو آسما نوں اور زمین میں ہے ۔یعنی دنیا ئے سماوی وار ضی کی ہر چیز اسی کی ملکیت میں ہے ،اسمیں کسی اور کو کوئی شرکت حاصل نہیں ہے ،وہ مختار کل ہے اسکے اختیار میں دخل دینے والا نہ کوئی فرشتہ ہے نہ کوئی نبی وولی۔

٥ – ” من ذا الذی یشفع عندہ الا با ذنہ ” کون ہے جو اسکی اجازت کے بغیر اسکے سامنے شفاعت کرسکے۔اللہ قادر مطلق اور متصرف کامل ہے ،ساری دنیا کے جن وانسان اسکے سامنے عاجز ومجبور ہیں ،اللہ کے سامنے انکی مجبوری وعاجزی کا یہ عالم ہے کہ اسکی اجازت کے بغیر کسی کو کسی کیلئے شفارش کا مجال نہ ہو گا،

ہاں! اپنے فضل وکرم سے اگر کسی پر مہر بان ہوکر کسی کوشفاعت کی اجازت مرحمت فرمائے گا اور وہ شفاعت کرے تو یہ اور بات ہے ۔

٦ – “یعلم مابین اید یھم وما خلفھم” وہ جانتا ہے جو کچھ لوگو ں کے سامنے ہے اور جو کچھ انکے پیچھے ہے ۔اللہ تعا لی اپنے علم میں اسقدر وسیع ہے کہ وہ لوگوں کے ماضی کے حالات سے بھی واقف ہے ،انکے حال کو بھی جانتا ہے اور انکے مستقبل کی بھی خبر رکھتاہے ،وہ تمام کائنات کے ظاہری امور کو بھی جانتا ہے پوشیدہ امور کو بھی جانتا ہے ،اس دنیا کے ذرے ذرے کا علم اللہ تعا لی کو ہے دنیا کی کوئی چیز اسکے علم سے باہر نہیں ہے ۔

٧- ” ولایحیطون بشیء من علمہ الا بماشا٫” وہ اسکے علم میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے،اللہ تعا لی نے غیب کا علم اپنے پاس رکھا ہے ،لوگ اسکے علم کی گہرائی وپہنائی کا انداز ہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی بغیر اسکے چا ہے ہوئے کسی چیز کا علم حاصل کر سکتے ہیں ،لوگوں کو اسکے علم میں سے کسی علم پر کوئی اختیار حاصل نہیں، وہ اپنی مرضی وخوشی سے جسے جتنا علم دینا چاہے اتنا ہی لوگوں کو ملنا ہے اور بس۔

٨ – ” وسع کرسیہ السموات والأرض”اسکی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیر رکھا ہے،اس سے اللہ کی عظمت کا کمال اور اسکی سلطنت کی وسعت کا پتہ چلتا ہے کہ جب کر سی کی یہ شان ہے کہ ساتوں آسمان اتنے بڑ ے ہونے کے باوجود کرسی کے مقابلہ میں انکی حیثیت یہ ہے کہ جیسے ایک لوہے کے حلقے کوکسی وسیع میدان میں ڈال دیا جائے اور کرسی کی حیثیت عرش کے مقابلے میں ایسی ہے جیسے اس حلقے کی حیثیت اس میدان کے مقابلہ میں ہے ۔ (الصحیحہ١٠٩) عرش وکرسی ایسی مخلوق ہیں کہ انسانی عقل انکا تصور کرنے سے عاجز ہے ،جب ان مخلوقات کا تصور کرنے سے عقلیں عاجز ہیں تو انکے خالق کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے جس نے انھیں وجود بخشا ہے۔

٩- ” ولا یئود ہ حفظھما ” ان دونوں کی حفاظت اس پر گراں نہیں ہے ، اللہ تعا لی کی قدرت کاملہ او رقوت باہرہ کا حال یہ ہےکہ آسمانوں و زمین جیسی مخلوق کی حفاظت سے وہ تھکتا نہیں ہے اور نہ ہی انکی حفاظت اللہ تعا لی پر دشوار ہے، بلکہ اسکے نزدیک یہ کام بہت ہی آسان ہیں وہی ہے جو انکے معاملات کو دیکھ رہا ہے اور ان میں تصرف کر رہا ہے۔

١٠- ” وھو ا لعلی العظیم” وہ بہت ہی بلند اور نہایت ہی عظمت والا ہے ،وہ اپنی ذات کے لحاظ سے بھی بہت بلند ہے، اپنی طاقت و قوت کے لحاظ سے بھی سب پر غالب و قاہر ہے ، وہ مستوی تو عرش بریں پر ہے جسکی بلندی کا اندازہ کر نا مشکل کام ہے لیکن اس بلندی کے باوجود وہ سمندر کی تہ میں چلنے والی مچھلی کی خبر رکھتا ہے ، وہ بہت بڑی عظمت والا ہے ،اسکے سامنے دنیا کے بڑے بڑے جبارومتکبر اور زبردست بادشاہوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے ،اسکی عظمت کا یہ حال ہے کہ دنیا کے تمام انبیا ء واولیاء بھی اسکی مرضی کے خلاف ایک لفظ بھی اپنی زبان سے نہیں نکال سکتے ” اِنْ کُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالأْرْضِِِِِِِِِِ اِلَّاآتِ الرَّحْمٰنِ عَبْدًا ؛ لَقَدْ اَحْصَاھُمْ وَعَدَّھُمْ عَدًّا ؛ وَکُلُّھُمْ آتِیْہِ یَوْمَ الْقِیَامَةِفَرْدًا “آسمان وزمین میں جو بھی ہے سب کے سب اللہ کے غلام بن کر ہی آنے والے ہیں ، ان سب کو اس نے گھیر رکھا ہے اور سب کو پوری طرح گن رکھا ہے . یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں . (مریم ٩٥-٩٤-٩٣)

فوائد

١ – ہر فرض نماز کے بعد آیۃالکر سی پڑھنے کی فضیلت۔

٢-عبادت صرف اللہ تعالی کا حق ہے۔

٣- اونگھ اور نید ایک کمزوری ہے جس سے اللہ تعالی مبرا ہے۔

٤- اللہ کی اجازت کے بغیر شفاعت ممکن نہیں ہے۔

٥- آسما ن و زمین کی ہر چیز پر صرف اللہ تعا لی کی ملکیت ہے ۔

ختم شدہ