حزن و غم کے آداب / حديث نمبر: 263

بسم اللہ الرحمن الرحیم

263:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

حزن و غم کے آداب

بتاریخ : 5/ جمادی الاول 1436 ھ، م  24،فروی  2015 م

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ” مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللهُ:إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا “،  (  صحيح مسلم:918 الجنائز، سنن ابي داود:3119، سنن الترمذي:3511)

ترجمہ  : حضرت  ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ  جس مسلمان کو کوئی مصیبت  پہنچے  پھر وہ وہی کلمات دہرائے  جس کا  حکم اللہ تعالی نے دیا ہے  یعنی : إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا [ ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ میری اس مصیبت  میں مجھے  اجر دے اور اس کا اچھا بدل عطا فرما ] پڑھ لے تو اللہ  تعالی اسے  [ اس کی مصیبت  میں اجر  عطا فرماتا ہے اور ]  اس کے  نعم البدل سے بھی  نوازتا ہے ۔ { صحیح مسلم ، سنن ابو داود ، سنن الترمذی } ۔

تشریح : اس دنیا میں انسان مختلف  قسم کے مصائب سے  دوچار ہوتا ہے ، متعدد قسم کی مشکلات  اسے پیش آتی ہیں ، کبھی  مال میں  ، کبھی اولاد میں اور کبھی اعزہ وا قارب  میں ناپسندیدہ  حالات سے سابقہ پڑتا ہے  ، کبھی  تو یہی  مصیبتیں اور پریشانیاں  قابل برداشت  ہوتی ہیں  اور کبھی  ایسے مصائب سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ فلک بوس  پہاڑ  بھی اس کے  بوجھ  اٹھانے سے عاجز نظر آتے ہیں ،  ایسا سب کچھ صرف  اس لئے ہوتا ہے کہ اللہ تعالی   اپنے بندے کو آزماتاہے تاکہ مومن و منافق اور شاکر و کافر میں فرق ہوسکے ، ارشاد باری تعالی ہے  : الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا. الملك.

جس نے موت  و زندگی  کو اس لئے  پیدا کیا کہ  تمہیں آزمائے  کہ تم میں سے اچھا عمل کون کرتا ہے ۔  نیز فرمایا :  وَنَبْلُوكُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً. الأنبياء

اور تمہارے  امتحان لینے کے لئے  ہم تمہیں  برائی  و بھلائی  میں مبتلا  کرتے ہیں ۔۔۔ایسے موقعہ  پر ایک  مومن کو چاہئے  کہ وہ معلوم کرے کہ  مصائب  و پریشانیوں سے دو چار  ہونے کی صورت   میں اسے  کیا کرنا چاہئے ، ان مصائب  پریشانیوں  میں مبتلا کرنے والے نے  اسے اس موقعہ  پر کیا  آداب  سکھلائے ہیں ۔ ذیل میں نبوی تعلیمات  کی روشنی میں مصائب  و پریشانیوں  میں گھرے بندوں کے لئے چند آداب کا ذکر ہے :

[۱] مصیبت  کی نسبت اللہ تعالی کی طرف نہ کی جائے : ارشاد باری تعالی ہے :  مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ۔ النساء:79  تجھے  جو بھلائی ملتی ہے  وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچتی ہے  وہ تیرے  اپنے نفس کی طرف سے ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : و الشر لیس الیک  { صحیح مسلم : 771 ،عن علی } ۔ اور شر تیری طرف نہیں ہے ۔ [۲] صبر سے کام لے : ارشاد باری تعالی ہے :وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) البقرۃ۔۲اور ہم  کسی نہ  کسی  طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے ، دشمن  کے ڈر سے ، بھوک پیاس سے ، مال و جان میں کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری ہے ۔ حضرت انس  بن مالک  بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا گزر ایک عورت کے پاس سے ہوا  جو ایک قبر  کے پاس بیٹھی  رو رہی تھی ، نبی ﷺ  نے اس سے فرمایا : اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو ، چونکہ  وہ آپ  کو نہیں  پہنچانتی تھی اس لئے  مڑ کر کہتی ہے  ہمار ے  پاس سے جائیں آپ کو میری مصیبت  نہیں  پہنچی  ہے ۔ جب اس عورت کو بتلایا گیا  کہ یہ اللہ کے رسول ﷺ تھے، تو  آپ کے گھر بھاگتی  ہوئی آئی  اور معذرت  کرتے ہوئے  کہا کہ میں نے  آپ کو نہیں پہنچانا ، آپ ﷺ  نے فرمایا : صبر وہی ہوتا ہے جو پہلے  صدمہ  کے وقت  ہو ۔ { صحیح بخاری : 1283 – صحیح مسلم : 926 } ۔ [۳] اللہ کا ذکر  نہ بھولے : یعنی انا للہ  ۔۔۔ پڑھنا نہ بھولے ۔ اللہ تعالی کافرمان ہے :  الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156)البقرۃ۔  [ ایسے صبر کرنے والوں کو خوشخبری  ہے ] جنہیں  جب کوئی  مصیبت  پہنچتی ہے تو فورا کہتے ہیں : انا للہ ۔۔۔۔ ۔اور بہتر  یہ ہے کہ وہ بھی دعا پڑھ لے  جس کا  ذکر  زیر بحث  حدیث میں ہے ۔ نیز  ایک حدیث  میں وارد ہے جس بندے کو بھی  کوئی غم  ، الجھن  ، بیماری اور پریشانی لاحق  ہو اور وہ  ” اللہ ربی لا شریک لہ ”  کہہ لے تو اس کی  یہ پریشانیاں دور کردی جاتی ہیں ۔ { الطبرانی  الکبیر  عن اسما ء} [۴] احتساب  کو مد نظر رکھے : یعنی مصیبت  پر صبر  اور ذکر  پر جو اجر ہے  اس کو سامنے رکھے، اللہ تعالی فرماتا ہے : وَالَّذِينَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ۔ الرعد:22۲ {جنت ان لوگوں کے لئے ہے } جو اپنے  رب  کی رضا مندی  کے طلب میں صبر کرتے ہیں ۔ حدیث قدسی میں ہے : مَا لِعَبْدِي المُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ، إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احْتَسَبَهُ، إِلَّا الجَنَّةُ “ٍ(صحيح البخاري:6424]جب میں اپنے  کسی مومن بندے کے کسی عزیز  کو اٹھا لوں اور وہ  احتساب  سے کام تو اس کا  ٹھکانا  جنت کے  علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ [۵] تقدیر پر ایمان : اللہ تعالی کا فرمان ہے : مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ (22) لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (23) الحدید: ۳ نہ کوئی   مصیبت  دنیا  میں آتی ہے ، نہ خاص  تمہاری جانوں پر   مگر اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں وہ ایک  خاص کتا ب میں لکھی ہوئی ہے ، یہ کام اللہ پر بالکل آسان ہے  تاکہ  تم اپنے  فوت شدہ  کسی چیز  پر  رنجیدہ  نہ ہوجایا کرو اور نہ عطا کردہ چیز پر اتراو، اور اترانے والے  شیخی خور کو اللہ تعالی پسند نہیں فرماتا ۔ ارشاد نبوی ہے :  نفع بخش  کام پر حریص  رہو ، اللہ تعالی  سے مدد طلب کرو اور عاجزی  ظاہر مت کرو  ، اور اگر تمہیں کوئی  مصیبت لاحق ہو تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو  ایسا ہوتا   بلکہ  یہ کہو کہ ” قدر اللہ  ما شاء فعل ”  اللہ تعالی کی تقدیر  ہے جو چاہا کیا ۔  { صحیح مسلم : 2664 ، عن ابی ہریرہ } ۔ [۶] ہر وہ کام جو رب کی ناراضگی  کا ہو ، اس سے پرہیز : جیسے شکایت کرتے پھرنا ، واویلا مچانا ، شور و شرابا سے کام لینا ،  گریبان پھاڑنا ، سر اور چہرہ  پیٹ لینا اور سب  سے اہم یہ کہ دل سے رب کی تقدیر پر ناراضگی کا جذبہ رکھنا  وغیرہ ۔ جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے : وہ شخص  ہم میں سے نہیں  ہے جو منھ پیٹے ، گریبان پھاڑے اور جاہلیت  کی پکارے ۔ {صحیح بخاری : 1296 – صحیح مسلم :104}۔  اور فرمایا : دو ایسی آوازیں  ہیں جو دنیا و آخرت میں ملعون  قرار دی گئی ہیں ، خوشی کے وقت  کا گانا بجانا اور مصیبت  کے وقت  کی چیخ و پکار ۔{مسند بزار} [۷] یعنی بندہ یہ سوچے اور غور کرے کہ  اس  مصیبت  کے عوض  ہمیں  ہمار ے رب کی طرف کوئی نہ کوئی  نعمت  ضرور ملنے والی ہے ، خصوصا  گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی ، ارشاد نبوی ہے : مومن  کا معاملہ عجیب ہے ، اس کا  ہر معاملہ  اس کے لئے  بھلائی  کا ہے  اور یہ بات مومن کے سوا کسی اور کو میسر نہیں ،  اسےخوشی اور خوشحالی  ملی تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لئے  اچھا ہوتا ہے اور اگر  اسے کوئی نقصان  پہنچے تو  { اللہ کی رضا کے لئے } صبر کرتا ہے ، یہ بھی  اسکے  لئے بھلائی ہوتی ہے ۔ { صحیح مسلم : 2999} ۔