حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ / حديث نمبر: 278

بسم اللہ الرحمن الرحیم

278:حديث نمبر

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی الغاط

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  

بتاریخ : 13/ ذو الحجہ 1436 ھ، م  27، اکٹوبر 2015 م

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُمَيْرَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ.

 ( سنن الترمذي : 3842 ، المناقب – مسند أحمد : 4/216 )

ترجمہ  : حضرت عبد الرحمن بن ابی عمیرہ الازدی رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی ہیں ان سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے معاویہ کے بارے میں  فرمایا : اے اللہ  اسے ہدایت  یافتہ بنا ، ہدایت دینے والا بنا اور اس کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے ۔

تشریح : امیر المومنین  حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیا ن رضی اللہ عنہ ، ابو عبدالرحمان کنیت اور خال المومنین یعنی مسلمانوں کے ماموں   ان کا لقب ہے ، فتح مکہ سے قبل مسلمان ہوئے اور فتح مکہ کے بعد مدینہ منورہ چلے آئےجہاں حیاۃ نبوی کے باقی ایام  نبی ﷺ کے صحبت میں گزاردی ،نبی ﷺ سے  بہت سی  حدیثوں کوروایت  کیا ، بخاری  ومسلم  میں  ان سے تیرہ حدیثیں  مروی ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ نے انہیں دمشق کا امیر بنایا  ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان کے اندر جب امارت  کی بھرپور صلاحیت دیکھی تو پورے شام  کا گورنر بنا دیا ، حضرت عثمان کی وفات  تک وہ اسی منصب  پر فائز  رہے ،  یہ سلسلہ حضرت علی و حسن کی دور خلافت میں بھی  جاری رہا البتہ حضرت علی و حسن سے ان کی  سیاسی مخالفت ضرور رہی ، پھر سن 41 ھ میں جب حضرت حسن رضی اللہ  عنہما نے حضرت معاویہ  کے لئے خلافت سے دست برداری  کا اعلان کیا تو  پورے مملکت  اسلامیہ کے خلیفہ  بن گئے  اور اس منصب پر  بیس سال تک فائز رہے  ، ان کے زمانے میں  اسلامی فتوحات کا سلسلہ عالم میں چاروں طرف پھیلا  حتی  کہ اس وقت کے دنیا کے سب سے بڑی  طاقت روم  کے مشرقی دار السلطنت قسطنطنیہ  پر حملہ  کیا، تاریخ  شاہد ہے کہ وہ اپنے  عہد امارت میں ایک کامیاب امیر اور دور خلافت میں ایک کامیاب خلیفہ رہے ، ان کے چالیس سالہ دور امارت وخلافت  میں کوئی  بھی ان کے خلاف سر نہ اٹھا سکا ۔  نبی کریم ﷺ نے اپنی متعدد حدیثوں میں حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ کے بڑے فضائل بیان فرمائے ہیں، جیسا کہ زیر بحث حدیث سے واضح ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ ان کے لئے  یہ دعا فرمائی  کہ1– اے اللہ معاویہ  کو ہدایت  یافتہ بنا کہ وہ ضلالت و گمراہی سے بچے رہیں ،2–  انہیں حق و عدل کی طرف دعوت دینے والا اور بلانے والا بنا، 3–اورمزید یہ کہ  ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت  پر لا اور ان سے لوگوں کو نفع بھی پہنچا ۔

ایک دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ہے :    ” اللهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ ”      

{ مسندا حمد : 4/127 – صحیح ابن خزیمہ :1938 – صحیح ابن حبان :7166 ، بروایت عرباض بن ساریہ } ۔

اے اللہ معاویہ کو کتاب و حساب کا علم دے اور اسے عذاب سے بچا ۔

واضح رہے کہ ان  دونوں حدیثوں کو  علامہ  البانی نے صحیح قرار دیا ہے ، دیکھئے  سلسلہ الصحیحہ : 1969 اور  3227 ۔

مزید برآں کبار صحابہ سے بھی ثابت ہے کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  کو  اہمیت دیتے اور ان کی فضیلت کے قائل تھے  کبار صحابہ میں کوئی ایسا نہ تھا جو حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ پر نفاق یا بے دینی کا عیب لگاتا   رہا ہو ، چنانچہ  حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسا مردم شناس انسان حضرت معاویہ کو دمشق کا امیر بناتا ہے ، صحیح بخاری میں ہے  حضرت ابن ابی ملیکہ  بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ  بن عباس   رضی اللہ  عنہماکے ایک غلام  نے دیکھا کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ نے ایک ہی رکعت پر اکتفا  کیا تو اس کا ذکر  حضرت عبد اللہ بن عباس سے کیا معاویہ تو صرف ایک ہی رکعت وتر پڑھتے ہیں ، یہ سن کر حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما نے فرمایا  کہ انہیں چھوڑ دو وہ اللہ کے رسول ﷺ کے صحبت میں رہے ہیں اور فقیہ ہیں ۔ {صحیح بخاری } ۔

ان دلائل  اور مشہور صحابی حضرت ابو درداء  رضی اللہ عنہ نے ایک بار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے  نماز پڑھی تو  لوگوں سے کہنے لگے  تمہارے اس امیر  کی نماز جس قدر نبی ﷺ کی نماز سے مشابہ ہے کسی  اور شخص کی نماز  اس قدر  نبی کی نماز کے مشابہ نہیں ہے ۔ {سیرا علام النبلاء : 3/135 } ۔

ان دلائل کی بنیاد  پر اہل سنت  و جماعت  کا عقیدہ  رہا ہے کہ حضرت امیر معاویہ  ایک نیک نیت اور خالص الایمان  صحابی ہیں ، ان سے بغض رکھنا اہل بدعت و ضلالت  کا شیوہ ہے ، حضرت علی رضی ا للہ عنہ  سے ا ن کا اختلاف کسی ذاتی مصلحت  اور خواہش نفس کی پیروی  پر مبنی  نہیں تھا  ،بلکہ  نیک نیتی  اور اجتہاد  پر مبنی  تھا جس پر حضرت علی  رضی اللہ عنہ  حق بجانب تھے اور حضرت معاویہ  اور ان کے ساتھیوں کی یہ اجتہادی غلطی تھی ، جیسا کہ خود نبی ﷺ کا فرمان ہے  کہ مسلمانوں میں اختلاف  کے وقت ایک فتنہ  انگیز  جماعت نکلے گی  جسے مسلمانوں  کا وہ گروہ  قتل کرے گا جو حق  کے زیادہ  قریب ہوگا ۔ {صحیح مسلم ، سنن ابو داود بروایت  ابو سعید }۔

اس حدیث  میں فتنہ  انگیز جماعت سے مراد خوارج ہیں جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا ، اس حدیث سے جہاں یہ ثابت  ہورہا ہے کہ حضرت  علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما کے اختلاف  میں حق حضرت علی  کے ساتھ  وہیں یہ بھی ثابت  ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ  بالکل ہی  باطل پر نہیں تھے  کیونکہ نبی ﷺ نے یہ فرمایا کہ جو جماعت حق کے زیادہ قریب ہوگی ، یہ نہیں فرمایا کہ جو جماعت حق پر ہوگی ۔ و اللہ اعلم ۔

خلاصہ یہ کہ  اہل سنت و جماعت حضرت معاویہ  سے موالات کے قائل ہیں ، ان کے جو فضائل نبی ﷺ اور صحابہ کی زبانی مروی ہیں اس بنیاد پر انہیں ایک سچا مسلمان اور مخلص صحابی  سمجھتے ہیں  ، حضرت علی سے جو ان کا اختلاف تھا  اس بارے میں گفتگو کو پسند نہیں کرتے  اور  نہ ہی امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی عیب چینی کو پسند کرتے  ہیں بلکہ  ان کی عیب چینی   ان کے نزدیک اس قدر مبغوض  فعل  ہے کہ ایسا  شخص  سز ا کا مستحق ہے ، چنانچہ امام اللالکائی اپنی  کتاب  شرح اعتقاد اہل السنہ و الجماعہ :4/1266 میں بسند صحیح نقل کرتے ہیں حضرت ابراہیم  بن میسرہ  روایت کرتے ہیں کہ  میں نے عمر بن عبد العزیز  کو نہیں دیکھا  کہ وہ کسی  کو سزا دیتے  ہوں ، ہاں ! ایک بار ایک شخص کو جس نے حضرت معاویہ کو برا بھلا کہا تھا تو اس کے  کوڑے برسائے ۔

فوائد :

  • صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جناب اس  سے  محفوظ ہے کہ انہیں برا بھلا کہا جائے ۔
  • حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ  ایک نیک نیت مخلص  اور صاحب فضل صحابی تھے ۔

صحابہ کا احترام اور ان سے موالات دین کا حصہ اور ہمارے  عقیدے  کا یاک جزء ہے