سفارش کی قسمیں/حديث نمبر :221

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :221

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :19/20/ شعبان 1433 ھ، م 10/09،جولائی 2012م

سفارش کی قسمیں

عَنْ أَبِى مُوسَى قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا أَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَى جُلَسَائِهِ فَقَالَ « اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ ».

( صحيح البخاري :1432، الزكاة – صحيح مسلم :2627 ، البر والصلة ) .

ترجمہ :حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی حاجت مند آتا [ اور کسی چیز کا طالب ہوتا ] تو آپ اپنے اہل مجلس کی طرف متوجہ ہوکر فرماتے : [اس کے لئے ] شفارش کرو تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالی اپنے نبی کی زبان پر جو پسند فرماتا ہے فیصلہ کردیتا ہے ۔

[ صحیح بخاری و صحیح مسلم ] ۔

تشریح : شفارش کرنا ، کسی کے لئے واسطہ بننا اور کسی کی حاجت پوری کرنے کے لئے کسی سے درخواست کرنا ایک معاشرتی عمل ہے جو ہر قوم ، ہر علاقے اور ہر زمانے میں پایا جاتا ہے ، اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ کسی شخص کو فائدہ پہنچانے یا اس سے ضرر کو دور کرنے کی کسی سے درخواست کی جائے

یہ عمل بسا اوقات مشروع اور بسا اوقات ممنوع ہوتا ہے جس کا بیان فرمان الہی میں ہے : [مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا وَكَانَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا]{النساء:855} ” جو شخص بھلائی کی شفارش کرےگا تو اسے اس کا حصہ ملے گا اور جو برائی کی شفارش کرے گا اس سے بھی وہ حصہ پائے گا اور اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے ۔

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت کی دو قسمیں ہیں شفاعت حسنہ [ اچھے کام کی شفارش ] اور شفاعت سیئہ [ برے کام کی شفارش ] ۔

شفاعت حسنہ: یہ ہے کہ جس کے لئے شفارش کی جارہی ہے اس میں اس کا مادی اور معنوی فائدہ ہواور ساتھ ہی ساتھ اس میں کوئی شرعی قباحت نہ پائی جائے ، اسی شفاعت کا ذکر زیر بحث حدیث میں ہے ، چنانچہ حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : جب بھی کوئی صاحب حاجت اپنی حاجت لے کر میرے پاس آئے تو تم لوگ بھی کار خیر میں شریک ہوجاو، اسطرح کی اس کی شفارش کرو ،کیونکہ اس میں خیر کے کام پر اپنے بھائی کیمدد اور اس کے ساتھ خیرخواہی ہے جس پر اللہ تعالی تمہیں اجر سے نوازے گا ، تمہیں اس کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ تمہاری شفارش قبول کی جائے گی یا ر د کردی جائے گی ، کیونکہ کسی کو کوئی چیز ملنا یا نہ ملنا یہ قضائے الہی سے ہے ، اگر اس کی قسمت میں وہ چیز ہوئی اور ہم نے اس کی ضرورت پوری کردی تو اصل مقصد حاصل ہوگیا اور اگر اس کی قسمت میں وہ چیز نہ ہوئی اور اس کی ضرورت پوری نہ ہوسکی تو بھی تم اجر سے محروم نہیں رہوگے ۔

اس شفارش کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں :

[۱] ایک شخص کا کفیل یا ذمہ دار اسے نفلی عبادت کرنے یا دینی مجلسوں میں حاضری سے روکتا ہے اس صورت میں اگر کوئی شخص اس کے پاس جاکر اس سے شفارش کرے اور اس پر اسے اللہ تعالی سے اجر و ثواب کی امید دلائے ،بشرط یہ کہ کفیل یا ذمہ دار کا کوئی بڑا نقصان نہیں ہورہا ہے تو یہ شفاعت حسنہ کہلائے گی اور یہ ایک مستحب عمل ہوگا ۔

[۲] کسی کا کفیل اور ذمہ دار اسے فرائض کی ادائیگی کا وقت نہیں دیتا ، یا کسی کا واجبی حق دبائے ہوئے ہے تو بقدر استطاعت ایسے شخص کے لئے شفارش واجب ہوگی اور شفارش کرنے والا اجر کا مستحق ٹھہرے گا ۔

[۳] ایک شخص کوئی گھر یا گاڑی وغیرہ خریدنا چاہتا ہے اور بیچنے والا اس کی ایک قیمت متعین کرتا ہے لیکن خریدنے والا حاجت مند اور مادی طور پر کمزور ہے تو اس صورت میں بیچنے والے کے پاس جا کر اس سے قیمت کم کردینے کی درخواست کرنا شفاعت حسنہ اور مستحب عمل اور ایسا کرنے والا اجر کا مستحق ہے ، کسی محتاج ، سائل وغیرہ کو کچھ دینے کے لئے شفارش کرنا بھی اسی صورت میں داخل ہے ۔

[۴] جائز و مستحب شفارش کی ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آپ کے تئیں کسی نے بڑی نازیبا حرکت کی یا آپ کا حق دبا لیااور ساتھ ہی ساتھ وہ شخص محتاج بھی ہے ،اب اگر آپ اپنا حق ویسے ہی معاف کردیتے ہیں تو خطرہ ہے کہ اس شخص پر مستقبل میں اس کا غلط اثر پڑے گا ،لہذا آپ کسی سے کہیں کہ تم اس کے سامنے مجھ سے شفارش کرو کہ میں اس سے در گزر کردوں تا کہ آپ کا وزن باقی رہے، اس پر شفارش کرنے والا اجر کا مستحق ہے ۔

شفاعت سئیئہ : اس سے مراد وہ شفاعت ہے جس میں کسی شرعی حد کی پامالی ہوتی ہو۔ اس کی بھی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں ۔

۱- کسی شخص پر چوری و زنا جیسی کسی شرعی حد کا فیصلہ ہے جسے بچانے کے لئے حاکم وقاضی سے شفارش کی جائے ۔ یہ شفاعت سیئہ کی سب سے بری قسم ہے اور حدیث میں اس پر سخت وعید وارد ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ جس کی شفارش اللہ تعالی کی مقرر کردہ کسی حد میں رکاوٹ بن رہی ہے تو اس شخص نے اللہ تعالی کی مخالفت کی ۔

[ سنن ابو داود – مسند احمد ]

ایسے ہی ایک موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرے تو {اس کے بارے میں بھی کسی کی شفارش قبول نہ کروں گااور} اس کا ہاتھ بھی کاٹوں گا۔ صحیح بخاری۔

۲- حدود شرعیہ کے علاوہ کسی اور حرام کام یا ظلم پر شفارش کرنا، جیسے کوئی کسی کا حق دبا رہا ہے اور معلوم ہونے کے باوجود بھی کسی ظالم سے اس کے لئے شفارش کرنا ۔

۳- کوئی شخص کسی سے کسی گناہ یا مکروہ چیز کا طالب ہے ،لیکن جس سے طالب ہے وہ اسے وہ چیز دینا نہیں چاہتا ، ایسے شخص کی شفارش کرنا ، مثال کے طور پر ایک شخص کسی سے شراب خریدنے کے لئے یا فلم دیکھنے کے لئے کچھ مبلغ طلب کرتا ہے اور وہ دینا نہیں چاہتا ، اس پر اگر کوئی شخص ا س کی شفارش کرتا ہے تو یہ بھی شفاعت سیئہ میں داخل ہے ، کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے : [وَتَعَاوَنُوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الإِثْمِ وَالعُدْوَانِ] {المائدة:2} ” نیکی اور پرہیز گاری کے کام پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و ظلم کے کام میں مدد نہ کرو ۔

فوائد:

۱- جائز ومشروع شفارش کی ترغیب خواہ اس کا نتیجہ ظاہر ہو یا نہ ظاہر ہو ۔

۲- شفارش سے اگر چہ قضائے الہی میں رد و بدل واقع نہیں ہوتا البتہ شفاعت کرنے والے کو اجر ضرور ملتا ہے ۔

۳- جہاں اچھے اور مفید چیز کی شفارش باعث اجر ہے وہیں برے کا م کی شفارش گناہ اور اللہ کی ناراضگی کا باعث ہے ۔

۴- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر رحمت کی انہیں خیر کے ہر کام بتلادئے ہیں ۔

ختم شدہ