سونے کے آداب/حديث نمبر :13

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حديث نمبر :13

خلاصہء درس : شیخ ابوکلیم فیضی حفظہ اللہ

بتاریخ :10/11/ جمادی الثانی 1428 ھ، م 26/25، جون 2007م

سونے کے آداب

عَنْ جَا بِرِ بن عبد اللہ قال. قال رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم . اَطْفِئُوْا اَلْمَصَابِیْحَ بِا للَّیْل اِذَا رَقَدْ تُمْ وَاَغْلِقُوْ الْاَبْوَابَ وَاَوْکِئُوْا اَلْاَسْقِیَة وَخَمِّرِوْا الطَّعَام وَالشَّرَاب ُقال ھَمَّام . وَاُ حسبہ قال .ولوبعود یعرضہ.

(البخاری ؛٦٢٩٦الاستیذان مسلم ٢٠١٢الاشربة)

ترجمہ : حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : رات میں جب سونے لگو تو چراغ بھجادیا کرو ،دروازے بند کردیا کرو ، مشکیزے کا منھ باندھ د یاکرو ،کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو ، اگرڈھکنے کیلئے کوئی چیز نہ ملے تو (بسم اللہ کہکر )کوئی لکڑی ہی چوڑائی میں رکھ دو۔

{صحیح بخاری ومسلم}

تشریح: اس دنیا میں ہر چیز پر اللہ تعالی کا حکم نافذ ہے ،اسکے علاوہ کوئی اور ذات نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتی، اللہ ہی ہے جو جسکو چاہتا ہے بیمار کرتا ہے ،جسے چاہتا ہے شفادیتاہے ، جسے چاہتا ہے نفع دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے خسارے سے دوچار کرتا ہے ، البتہ ان تمام چیزوں کے لئے اس نے کچھ اسباب پیدا کئے ہیں جب کسی کو فائدہ پہنچا نا چاہتا ہے تو اسکے لئے اسباب نفع پیدا کردیتاہے ،اور اگر کسی کو نقصان میں رکھنا چا ہتا ہے تو اسکے لئے خسارے کے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔ یہ سای چیزیں اسکے ارادے اور اسکی پید ا کردہ تقدیر سے وجود میں آتی ہیں ، اسلئے ایک بندے سے سب سےمطالبہ ہے کہ اولا وہ یہ ایمان رکھے کہ اس دنیا میں جو کام بھی ہو تا ہے وہ مشیت الہی کے بغیر نہیں ہے اسکا ایمان “ماشاء کان ومالم یشاء لم یکن” پر ہونا چاہئے ، یعنی جوکچھ ہوا وہ اللہ کے چاہنے سے ہوا اور جو کچھ نہیں ہوا وہ بھی اللہ کے نہ چا ہنے ہی سے نہیں ہوا۔

ثانیا: بندے کو چاہئے کہ حصول نفع اور دفع ضرر کے لئے ان وسائل کو تلا ش کرے اور ان کے حصول پر حریص رہے جو اللہ تعا لی نے پیدا فرمائے ہیں خاصکر ایسے موقعوں پر جہاں انسان اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھتا ہے ، جیسے نید کا موقعہ یا اپنے گھر غائب رہنے کا موقعہ۔ زیر بحث حدیث میں ایسے ہی ایک موقعہ یعنی سونے سے قبل دفع ضرر کیلئے ایسے ہی بعض وسائل کے استعمال کا حکم ہے . مثلاً

[١] آگ جہاں ایک طرف انسان کیلئے نہایت ہی مفید چیز ہے وہیں بسا اوقات اسکے لئے اور اسکے اموال واولاد کیلئےبڑےخسارے کا سبب بھی بن جاتی ہے ، خاص کر ایسے وقت میں جب کہ انسان اس سے غفلت برتے ، مثلا گھر میں موجود نہ ہو اور گھر میں آگ جل رہی ہو ، بندہ سورہا ہو اور آگ جل رہی ہو ،

جیسا کہ ہم اسکا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایسے موقعہ پر معمولی سی کوتا ہی جان ومال کے لئے بڑے نقصان کا سبب بن جاتی ہے۔اسی لئے اللہ کے رسوال صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ سو نے سے قبل آگ بجھادیا کرو اور چراغ کو گل کردیا کرو تا کہ تمہاری بے خبری میں تمہا ری تباہی کا سبب نہ بن جائے۔

[٢] گھر میں دروازے اس لئے لگائے جا تے ہیں کہ جہاں ایک طرف پردہ اور سترر ہے وہیں چوروں اور نقصان دہ جانوروں سے حفاظت بھی اور چونکہ رات کے سناٹے میں چوروں اور نقصان دہ جانوروں کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے اسلئے خصوصی طور پر رات میں سوتے وقت دروازے کو بند کرنے کی تا کید کی گئی ہے، اور بالأخص شیطان لعین اور اسکے چیلوں کے شر سے محفوظ رہنے کیلئے تو دروازوں کا بند کرنا بہت ہی اہم ہے، اور یہ بھی ضروری ہے کہ دروازہ بند کرتے ہوئے “بسم اللہ” کہہ لیا جائے کیونکہ شیطان اس دروازے کو نہیں کھول پاتا جو بسم اللہ کہکر بند کیا گیا ہو۔

[٣] ہر گھر میں کھانے اور پینے کا کچھ نہ کچھ سان ضرور رہتا ہے ، اگر اسے ایسے ہی کھلا چھوڑ دیا جائے تو کوئی بھی نقصان دہ مادہ اسمیں پڑ سکتا ہے اور کوئی بھی زہریلا جانور اسمیں منھ ڈال سکتا ہے، لہذا اسے بند کردینا بھی انسان کی صحت کیلئے بہت ضروری ہے حتی کہ اس امر کی اسقدرتا کید ہے کہ اگر کھانے اور پانی کے پرتنوں کو ڈھکنے کیلئے کوئی چیز نہ ملے تو اس پر اللہ کا نام لیکر کوئی لکڑی وغیرہ رکھ دی جائے جو بحکم الہی حفاظت کا کام دیگی۔

فائدے:

١- حفاظتی اسباب کا استعمال ایک شرعی حکم ہے ۔

٢- رات کو سوتے وقت ہیٹر،انگیٹھی اورسوئی گیس وغیرہ بجھا دینا چاہئے۔

٣- بجلی کے بلب یا لالٹین وغیرہ کو جلتا چھوڑ نا اس حکم میں داخل نہیں ہے ۔

٤- گھر کا دروزہ بند کرتے ، کھانے اور پانی کے برتنوں کو ڈکھتے وقت بسم اللہ کہنا سنت ہے ۔

ختم شدہ