س : میرے کئی بچے ہیں ، اور عام طور پر میں انکو قسم دلاتی ہوں کہ فلاں کام نہ کریں ۔ لیکن وہ میری بات نہیں مانتے ، اس صورت میں کیا مجھے قسم کاکفارہ اداکرنا ہو گا ؟

س : میرے کئی بچے ہیں ، اور عام طور پر میں انکو قسم دلاتی ہوں کہ فلاں کام نہ کریں ۔ لیکن وہ میری بات نہیں مانتے ، اس صورت میں کیا مجھے قسم کاکفارہ اداکرنا ہو گا ؟
جواب السؤال
بسم اللہ الرحمن الرحیم

ج : آپ اپنی اولاد یا کسی دوسرے کے لئے قسم کھا ئیں ، جس کا مقصد یہ ہو کہ وہ فلاں کام کریں یا فلاں کام نہ کریں ۔ اور وہ آپ کی بات نہ مانیں تو آپ اس قسم کا کفارہ اداکریں ۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے : { لایوءاخذ کم اللہ با الغو فی ایمانکم } اللہ تعالی تمہاری لغو قسموں کا مواخذہ نہیں کرے گا ۔ لیکن جو صحیح قسم تم نے کھا ئی ہے اس کا مواخذہ کرے گا ۔ اس کا کفارہ یہ کہ اپ نے گہر والوں کو جو کھا نا عام طور پر تم کھلا تے ہو اس کھا نے میں سے دس فقیروں کو کھا نا کھلانا ہے ، یا انکو کپڑا پہانانا ہے ، یا ایک گردن ازاد کرنا ہے ، جو اس کو نہ پائے وہ تین دن روزہ رکھے ، یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو ، اور اپنی قسموں کا خیال رکھا کرو ” ۔ { المائدہ : 89} اسی طرح اگر آپ نے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھا لی اور بعد میں یہ سوچا کہ مصلحت اس قسم کو پورہ نہ کرنے میں ہے ، تو اس قسم کو توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور آپ اس کے لئے مذکورہ بالا کفارہ اداکریں ، اس لئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
: ” تم نے کوئی قسم کھائی اور یہ دیکھا کہ بھلائی اس کے علاوہ میں ہے ، تو اپنی قسم کا کفارہ اداکردو ، جو کام بہتر ہے اس کو کرو ” ۔

{مرسل : قیصر محمود، ماخوذ : فتاوی شیخ ابن باز رحمہ اللہ ، ص :341 ، مطبوعہ : دارالداعی }